Ad
مضامین

الشیخ محمد حسنؒ ۔ علم، اخلاص اور شفقت کا ایک روشن باب

✍️ :. عادل حسین راتھر /    پلوامہ کشمیر



مرحوم و مغفور کا اصلی نام محمد حسن تھا جبکہ "الشیخ" لقب محترم مرشد کو امام کعبہ نے علمِ قرآن و حدیث پر گہری اور مدبرانہ نظر کے عوض میں اعزاز کے طور پر دیا ہے۔ موصوف کا تعلق جنوبی کشمیر کے تاریکام کولگام کے علاقے سے تھا۔عین جوانی کی عمر میں تحریک اسلامی کے آفاقی  نظریہ سے متاثر ہوئے۔ تعلیمی سفر انتہائی شاندار اور امتیازی درجے پر رہا۔ سرکاری نوکری ملنے کے  بعد ہی تحریک کے تقاضوں پر اسے نچھاور کیا اور سرکاری سکولوں کے بجائے نجی اداروں میں درس و تدریس کے عمل میں اپنی صلاحیتیں وقف کی۔ عین شباب کے ادوار میں ہی سلف و صالحین جن میں تحریک اسلامی جموں و کشمیر کے بانی سعدین تاربلیؒ اور قاری سیف الدین صاحب رح شامل ہیں انکی صحبت اختیار کی تاہم جن ارواح کا اثرانگیز ہونا آپکی متحرک و بے لوث شخصیت کا راز ہے وہ ہیں مولانا حکیم غلام نبیؒ اور خصوصاً مولانا احرارؒ۔ انکے ساتھ قدم سے قدم ملاتے گئے اور یوں ذمہ داریوں کا بوجھ بھی نصف عمری میں ہی نبھانا پڑا۔ امیر تحصیل ، قیم ضلع اسلام آباد (اس وقت کا جنوبی کشمیر) اور بعد میں امیر ضلع جنوبی کشمیر منتخب ہوئے جو آج چار اضلاع میں ترتیب دیا گیا ہے۔ بعد میں مرکز میں بھی چند مناصب پر فائض رہے جن میں دو مرتبہ عمارت کی امامت انکا خاص تحریکی تعارف منظر عام پر معلوم ہوتا ہے۔آپکی شخصیت ہر فن مولا (dynamic) تھی۔ عزم و استقلال اور ‌غیر متزلزل ‌یقین و پختہ اعتقاد ان کی ایمانی اسپرٹ کی عکاس تھی۔ قوتِ گویاںٔی و سماعت میں اگرچہ تھوڑی مشکلات کا سامنا آخری عمر میں نمایاں تھا مگر قوتِ بیناںٔی میں ابھی بھی تیر نشانے پر جیسے بصارت سے سرشار تھے اسکا بین ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے کبھی بھی مطالعے سے جی نہیں چرایا۔ وہ آنکھوں کی بینائی میں کمی کے باوجود بھی مطالعے کے خوگر رہے۔ پیر مریدی سے زیادہ خود دین اسلام کے علم حاصل کرنے پر زور دیتے تھے۔ اپنے کچھ خدائی عطا کردہ معجزات کے سہارے دنیا نہیں کمائی بلکہ راحت کی نیت باندھ کر مجبوراً دوسروں کا دل رکھ لیتے تھے۔ ہر ایک مہمان کو عین حضور ﷺ کی سنت اور سیرت کی نگاہ سے اتنی محبت اور شفقت کی نگاہ سے دیکھتے تھے کہ ہر کوئی سمجھ بیٹھتا ہے کہ "میں ہی آپکی نظروں میں بہت عزیز ہوں جبکہ وہ محض عالم ربّانی ہونے کی نشانی جھلکتی تھی۔ خندہ پیشانی اور مسکراتے ہوئے خوبصورت چہرے سے ہر ایک کا استقبال اِن کا گرویدہ بنا دیتی،بغیر کسی تفریق کے ہر ایک کو نصیحت،علمی تشفی،اور دین و دنیا کی دعاؤں سے جھولی بھرنے کی پرخلوص کوشش کرتے تھے۔ ملت کے نوجوانوں سے عموماً اور تحریک اسلامی کے جیالوں سے خصوصاً بےلوث محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ ہر ایک کو بلا تفریق بوسے  ( A smiling kiss )سے وداع کرنا انکی مہرو محبت کی نشانی تھی کہ جسکی تراوٹ اور تازگی انسان کے قلب و نگاہ میں سکون واطمینان (relaxed therapy ) کی دوا بن کر بہت دیر تک اثرانگیز رہتی تھی۔خوبصورت عادات میں سے ایک!وداع کرتے وقت گلے لگانا اور دور تک نظریں بچھانا جب تک کہ مہمان انکی نظروں سے اوجھل نہ ہوجاتے ، آج بھی رونے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ایسے شخصیات کا تذکرہ وہی کرسکتے ہیں یا انہی کا حق ہیں جنہوں آپکے ساتھ مسافرت کی، آپکے ساتھ قدم اٹھائیں، آپکے ہمراہ راتیں اور شب بیداریاں کی، ان شبوں کا گداز ہی آپکی تعریف لکھنے کا حق رکھتے ہیں۔ لحد میں سو گیا وہ قافلہ سالارِ علم و فن  یتیم ہو گئے سینکڑوں، ہزاروں اہلِ سخن عالم باعمل تھا، مرشد کامل تھا، خدا کا نیک بندا تھا      آج لب خاموش ہے، دعائیں رو رہی ہے    انا للہ وانا الیہ راجعون              



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!