جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کابینہ کی توسیع متوقع

✍️ :. رضوان سلطان / نوکِ قلم نیوز جموں و کشمیر کونسل آف منسٹرز کی مجوزہ توسیع کی تاریخ پر بات چیت کے درمیان لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا آج سرینگر واپس پہنچنے والے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کابینہ کی توسیع کے لیے اتوار کی تاریخ تجویز کی تھی۔ تاہم، ابھی تک تاریخ کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ توقع ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے آج لوک بھون پہنچنے کے بعد توسیع کا شیڈول طے کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق، موجودہ کونسل آف منسٹرز سے بعض وزراء کو ہٹایا جا سکتا ہے، جبکہ نئے چہروں کو کابینہ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ جموں و کشمیر تنظیمِ نو ایکٹ 2019 کے تحت کونسل آف منسٹرز کی تعداد قانون ساز اسمبلی کی کل رکنیت کے 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں 90 اراکین ہونے کے باعث کونسل آف منسٹرز میں وزیر اعلیٰ سمیت زیادہ سے زیادہ نو اراکین ہو سکتے ہیں۔ فی الحال کونسل آف منسٹرز میں چھ اراکین شامل ہیں۔ اگر موجودہ تمام وزراء کو برقرار رکھا جاتا ہے تو عمر عبداللہ تین مزید وزراء کو کابینہ میں شامل کر سکتے ہیں، جس کے بعد کونسل آف منسٹرز کی تعداد مقررہ زیادہ سے زیادہ حد، یعنی نو، تک پہنچ جائے گی۔ کابینہ کی توسیع گزشتہ کئی ماہ سے متوقع ہے۔ نئے وزراء کے انتخاب اور محکموں کی ممکنہ ازسرِنو تقسیم کو اس عمل کے اہم پہلوؤں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، توسیع کے وقت اور کابینہ کی حتمی ساخت کا فیصلہ سرکاری اعلان کے بعد ہی واضح ہوگا۔ دوسری جانب، کانگریس، جس نے اسمبلی انتخابات نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد میں لڑے تھے، اب تک حکومت میں شامل نہیں ہوئی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرانا اس کی اولین ترجیح ہے۔ وزارت کے لیے نیشنل کانفرنس کے پانچ سینئر رہنماؤں کے نام زیرِ غور.... رپورٹس کے مطابق، نیشنل کانفرنس کے پانچ سینئر رہنماؤں کے نام وزارت کے لیے زیرِ غور بتائے جا رہے ہیں۔ ان میں عبدالرحیم راتھر، علی محمد ساگر، نذیر احمد گوریزی، الطاف احمد کالو اور اعجاز جان شامل ہیں۔ عبدالرحیم راتھر اور خانیار کے رکن اسمبلی علی محمد ساگر ساتویں مرتبہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ گریز کے رکن اسمبلی نذیر احمد گوریزی چوتھی مرتبہ کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ پہلگام کے الطاف احمد کالو اور پونچھ کے اعجاز جان دوسری مرتبہ اسمبلی پہنچے ہیں۔ ان پانچ رہنماؤں میں سے چار کا تعلق وادیٔ کشمیر سے ہے، جبکہ اعجاز جان خطۂ پیر پنچال کی نمائندگی کرتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، وزراء کے ممکنہ انتخاب میں سینئرٹی، قانون سازی کا تجربہ اور مختلف علاقوں کو سیاسی نمائندگی دینا اہم عوامل سمجھے جا رہے ہیں۔ کابینہ کی توسیع سے متعلق حتمی فیصلہ اور نئے وزراء کے ناموں کا اعلان آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔