سفر نامہ
سفرِ محمود:... قسط نمبر 27

✍️ :.. عبدالرشید سرشار وقوفِ مزدلفہ کے روح پرور لمحات کے بعد، ہم نے اپنی چٹائیاں لپیٹ لیں، احرام جھاڑے، ہلکے پھلکے بیگز کو یکجا کیا اور وادیٔ منیٰ کی طرف کوچ کے لیے رختِ سفر باندھ لیا۔ آج دس ذوالحجہ، بدھ کا مبارک دن تھا۔ پورا عالمِ اسلام عید الاضحیٰ کی مسرتوں میں ڈوبا ہوا تھا تکبیر و تحمید کی صدائیں تھیں، نمازیں اور خطبے جاری تھے، اور سنتِ ابراہیمی کی پیروی میں قربانیاں پیش کی جا رہی تھیں۔ عرب و عجم میں کیسا حسنِ اتفاق تھا کہ دونوں خطے ایک ہی روز عید کا جشن منا رہے تھے۔ مگر اس روئے زمین کا مرکز و محور ،وہ مقدس سرزمین جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پروردگار کے حکم سے اس عظیم فریضے کی بنیاد رکھی تھی ، وہاں بندگی اور فنائیت کا ایک بے پایاں جمِ غفیر امنڈ آیا تھا۔ پچیس لاکھ احرام پوش حجاج کا سمندر، نہ عید کی رسمی نماز، نہ خطبے کا انتظار، نہ زرق برق نئے ملبوسات اور نہ ہی کھیل تماشے۔ فقیرانہ اور قلندرانہ لباس میں ملبوس، شانِ بے نیازی کا پیکر بنے یہ متوالے صرف اور صرف جمرات کی سمت محوِ سفر تھے۔ عرفات کے پرشکوہ انتظامات کے اختتام پر جو ہو کا عالم اور ویرانی کا احساس ہوا تھا، مزدلفہ میں بھی رخصتی کے وقت ٹھیک ویسا ہی منظر دیکھنے کو ملا۔ فرق بس اتنا تھا کہ عرفات میں کشادہ و ایئر کنڈیشنڈ خیمے اور آراستہ و پیراستہ قیام گاہیں میسر تھیں، جبکہ مزدلفہ میں تپتے ریتلے میدانوں، قدرتی بچھونوں، قالینوں اور معمولی چٹائیوں پر ربِ ذوالجلال کے کھلے آسمان اور عرشِ الٰہی کے مبارک سائے تلے ہم سب نے شب گزاری کی تھی۔ لاکھوں حجاج کے اچانک انخلا پر مزدلفہ کی سرزمین حسرت بھری نگاہوں سے ان رواں دواں قافلوں کو تکنے لگی۔ زبانِ حال سے گویا پکار رہی ہو ’سینکڑوں، ہزاروں برسوں سے میں بندگی اور فنائیت کے اس آمد و رفت کی گواہ ہوں۔ ان گنت قافلے آئے اور گزر گئے، مگر میں یہیں استادہ ہوں۔ نہ معلوم تا بہ کے یہ سلسلہ جاری رہے گا، میں پھر بھی یہیں رہوں گی ، آپ ہوں گے نہ ہوں گے، یقیناً نہ ہوں گے، غنیمت جانو ان نایاب ساعتوں کو، اپنی کمائی، اپنی صحت اور اس زندگانی کو کہ تمہیں میری یہ قربت نصیب ہو گئی۔‘ کچھ دیر قبل تک یہاں کیسی رونق، چہل پہل اور بہار کا سماں تھا۔ مرد و زن ساتھ ساتھ قیام، سجود، رکوع، وقوف اور عاجزانہ دعاؤں میں محو تھے۔ طہارت خانوں کے سامنے لمبی قطاریں، ایک عجیب شور و ہنگامہ، اور دلِ ناصبور کے ولولوں سے گرمایا ہوا پرکیف ماحول تھا۔ ایک طرف اللہ کی کبریائی کا غلغلہ تھا تو دوسری طرف ابلیسِ لعین اپنی رسوائی پر خاک اڑاتا سرپٹ بھاگا جا رہا تھا۔ مگر اب آن کی آن میں سب کچھ سمیٹا جا رہا تھا ، یہی دنیا کی بے ثباتی ہے اور شاید حیاتِ مستعار کی اصل حقیقت بھی بس اتنی ہی ہے۔ سفید کفن نما احرام میں لپٹے عشاق کی اگلی منزل منیٰ کا جمرات کمپلیکس تھا۔ جہاں جمرہ عقبہ (بڑے شیطان) کو سات کنکریاں مار کر ابلیسی قوتوں سے اعلانِ برأت کرنا تھا۔ اس شوق میں اکثر زائرین پا پیادہ تیزی سے دوڑ رہے تھے، کچھ خراماں خراماں با وقار چال چل رہے تھے، کچھ معذور ویل چیئرز پر سوار تھے، اور کچھ خوش بخت حجاج جدید میٹرو ٹرین میں سوار ہو کر لمحوں میں اپنی منزل پر جا پہنچے۔ ہندوستانی حجاج میں مکتب نمبر 1 سے 17 تک اور مکتب نمبر 35 کے لیے میٹرو ٹرین کی سہولت فراہم تھی، جبکہ مکتب نمبر 18 سے 34 تک کے حجاج کو یہ سفر پیدل ہی طے کرنا تھا۔ ہمارے رفیقِ سفر سوپور کے مشتاق صاحب میدانِ عرفات سے مزدلفہ تک اپنی ضعیف العمر والدہ کو پیدل ساتھ لائے تھے۔ وہ کیا دل آویز اور قابلِ رشک منظر رہا ہوگا، وہ عظیم ماں جس کے قدموں تلے رب نے جنت سجائی ہے، مشتاق صاحب فرطِ محبت سے کبھی انہیں اپنے کاندھوں پر بٹھا کر فرض کی ادائیگی کی طرف خوشی خوشی گامزن ہوتے، کبھی نیچے اتارتے، ان کے پاؤں دباتے، سر سہلاتے، پانی کے گھونٹ پلاتے اور نوالے بنا کر کھلاتے۔ بالکل اسی شفقّت کے ساتھ جیسے شیر خوارگی کے عالم میں ہر ماں اپنے نازک نونہال کی پرورش کرتی ہے۔ مشتاق صاحب کا یہ جذبۂ فرماں برداری بلاشبہ لائقِ ستائش اور قابلِ صد مبارک باد تھا۔ ہم اس وقت شاہراہ القصر الملکی (شارع نمبر 44) پر محوِ سفر تھے۔ تھوڑا ہی آگے بڑھے ہوں گے کہ سامنے ایک مہیب اور پراسرار وادی آ گئی۔ دل دہل گیا اور ہم سب نے غیر ارادی طور پر قدم تیز کر دیے کہ مبادا کہیں ہم بھی کسی غضبِ الٰہی کی زد میں نہ آ جائیں۔ یہ وہی تاریخی وادی ہے جہاں ایک متکبر اور جبار قوم کا نام و نشان مٹا دیا گیا تھا۔ وہ نادان کعبۃ اللہ کو منہدم کرنے کی ناپاک جسارت لے کر آئے تھے ، ان کے پاس دیو قامت ہاتھیوں کی فوج، جنگی ساز و سامان اور تکبر کا نشہ تھا، لیکن اللہ بہترین تدبیر فرمانے والا ہے۔ ربِ ذوالجلال نے ان کا ایسا عبرتناک حشر کیا کہ صدیاں گزرنے کے باوجود لوگ اس سرزمین پر قیام تو درکنار، چند لمحے سستانا یا دھیمی رفتار سے چلنا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے چچا سام (امریکہ) نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر استعماری جبر کی علامت بن کر جوہری بموں کی ہولناک تباہی مسلط کی تھی، جس کے تابکار اثرات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی محسوس کیے جاتے ہیں ، اس سے کہیں بڑھ کر قہرِ الٰہی کے اثرات کو وادیٔ محسر میں عالمِ اسلام اپنے وجود پر محسوس کرتا ہے۔ آپ نے یقیناً ابرہہ کا نام سنا ہوگا! قرآنِ حکیم کی سورۃ الفیل نے اس تاریخی سانحے کی کیا پرتاثیر تصویر کشی فرمائی ہے ’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کیا اس نے ان کی چالوں اور منصوبوں کو خاک میں نہیں ملا دیا؟ اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے (ابابیل) بھیج دیے، جو ان پر سنگریزے گراتے تھے، پھر اللہ نے انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح (پامال) کر دیا۔‘ وادیٔ محسر کی لمبائی اور چوڑائی تقریباً چھ سو میٹر پر محیط ہے، جس کے فوراً بعد منیٰ کے باقاعدہ حدود کا آغاز ہو جاتا ہے۔ چونکہ اس مقام پر پہنچ کر ابرہہ کے ہاتھی یکلخت رک گئے تھے اور سارا لشکر حسرت، ندامت اور ذلت کے ساتھ غارت ہوا، اس لیے اس وادی کو ’وادیٔ محسر‘ (حسرت و ہلاکت کی وادی) کے نام سے موسوم کیا گیا۔ حجۃ الوداع کے تاریخ ساز موقع پر سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب اس وادی کے وسط میں پہنچے تو آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی ’قصواء‘ کی رفتار تیز فرما دی تاکہ یہ منحوس مقام جلد سے جلد عبور ہو جائے۔ موجودہ انتظامیہ نے حجاج کی آگاہی کے لیے اس وادی کے آغاز اور اختتام پر دونوں جانب جلی حروف میں ’وادی محسر‘ کے بڑے بڑے سائن بورڈ نصب کر رکھے ہیں۔ لاکھوں زائرینِ کرام کی باسہولت نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکومت نے مزدلفہ سے جمرات تک چھ چوڑی شاہرائیں اور ایک خودکار میٹرو ٹرین کی پٹری بچھا رکھی ہے شارع شاہ عبدالعزیز (نمبر 38) شارع القصر الملکی (نمبر 44) شارع شاہ فیصل (نمبر 50) شارع الجوہرہ (نمبر 56) شارع سوق العرب (نمبر 62) شارع شاہ فہد (نمبر 68) یہ تمام شاہرائیں مزدلفہ سے براہِ راست جمرات تک رسائی دیتی ہیں، بلکہ ان میں سے بعض تو میدانِ عرفات سے ہی نکلتی ہیں اور کہیں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوتی۔ شارع شاہ فیصل (نمبر 50) خاصی کشادہ اور عالی شان ہے۔ اس شاہراہ پر مزدلفہ سے جمرات تک حجاج کو دھوپ سے بچانے کے لیے سایہ دار چھت نصب کی گئی ہے۔ جگہ جگہ جدید اور صاف ستھرے طہارت خانے، وضو گاہیں اور غسل خانے موجود ہیں، جہاں مرد و زن کے لیے علاحدہ علاحدہ بہترین انتظامات ہیں۔ سڑک کے دونوں اطراف ٹھنڈے پانی کے نلکے لگے ہیں اور معلق بڑے بڑے پنکھے مسلسل ٹھنڈی ہوائیں بکھیر رہے ہیں۔ تاہم اس راستے پر یکطرفہ نقل و حرکت اور سخت ضابطہ لاگو تھا۔ لاکھوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر رواں دواں تھا اور ہم آٹھ حجاج پر مشتمل ایک مختصر سا کارواں تھے۔ ہماری دلی خواہش تھی کہ اسی پرسکون شاہراہ پر سفر جاری رکھیں۔ صبح کے سات بج رہے تھے اور قدرتی موسم میں زیادہ گرمی نہیں تھی، لیکن لاکھوں انسانوں کے بیک وقت وجود اور حرکت نے گرد و پیش کی فضا کو گرما دیا تھا۔ منتظمین نے ہمیں شارع ملک عبدالعزیز (نمبر 38) کی طرف موڑ دیا۔ دونوں اطراف لگے فواروں سے مصنوعی پھوار برس رہی تھی، مگر جسم پسینے سے شرابور تھا۔ میں نے دونوں ہلکے پھلکے بیگز اہلیہ کے سپرد کر دیے اور خود اعتدال کے ساتھ ویل چیئر کو دھکیلنے لگا۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا، سورج کے تیور تیکھے اور تپش تیز تر ہو رہی تھی، جبکہ راستے میں سیکیورٹی اہلکار خوش اخلاقی سے مسکرا کر ’حج مبرور‘ کی دلنواز صدائیں لگا رہے تھے۔ تقریباً دو کلومیٹر تک میں نے اپنی تمام تر ہمت جٹا کر ویل چیئر سنبھالی، لیکن اب جسمانی قوت جواب دینے لگی تھی۔ اہلیہ نے میری مشقت دیکھ کر بارہا نیچے اتر کر پیدل چلنے پر اصرار کیا، لیکن آگے کے کٹھن مراحل کے پیشِ نظر میں نے سختی سے انکار کر دیا۔ چاروں طرف حجاج کا ایک موجزن ٹھاٹھیں مارتا دریا تھا اور ویل چیئرز کی ایک طویل قطار بن چکی تھی۔ کبھی کبھار کوئی بے صبر اور منچلا نوجوان اتنی تیزی سے ویل چیئر دوڑاتا کہ اس کے پہیے ہمارے ٹخنوں پر چڑھ جاتے اور ٹخنے لہولہان ہو جاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی افراتفری میں ہماری بے احتیاطی سے بھی کسی نہ کسی حاجی کو چوٹ لگی ہوگی، جس کے لیے ربِ کریم سے دست بستہ معافی کا طلبگار ہوں۔ میں قدم آگے بڑھا رہا تھا، مگر دل کے اطمینان کی خاطر بار بار گردن گھما کر پیچھے دیکھتا کہ ہمارے دیگر ہم سفر ساتھ ہیں یا کہیں بچھڑ گئے کیونکہ یہاں ایسے ہجوم میں اپنوں سے بچھڑ جانا معمول کی بات ہے۔ اتنے میں میرے باوفا رفیقِ سفر غلام محی الدین آگے بڑھے اور مجھ سے ویل چیئر کا دستہ لے لیا۔ شارع شاہ عبدالعزیز کی صفائی اور چمک دمک کا کیا کہنا، سڑک اتنی ہموار اور شیشے کی طرح شفاف کہ دور سے پڑا تنکا بھی صاف دکھائی دے۔ اس شفاف راستے پر ویل چیئر کی رفتار ازخود تیز ہو جاتی تھی۔ اگر ویل چیئرز کا اژدھام رکاوٹ نہ بنے تو پانچ چھ کلومیٹر کی یہ مسافت بمشکل ایک گھنٹے میں طے ہو سکتی ہے۔ غلام محی الدین صاحب کی عمر ستر برس کے لگ بھگ تھی، مگر سبحان اللہ! اس عمر میں وہ اس مینول سواری کو ایسی برق رفتاری سے دوڑا رہے تھے کہ مت پوچھیے۔ ان کی رفتار تیز ہو گئی، جبکہ پیچھے رہ جانے والے ہمارے دیگر ساتھیوں کی چال سست پڑ گئی۔ میں ایک عجیب مخمصے میں پھنس گیا کبھی تیزی سے آگے بھاگتا تو کبھی رک کر پیچھے مڑتا تاکہ دونوں کے درمیان رابطے کا پُل قائم رکھ سکوں۔ ادھر غلام محی الدین صاحب نے جیسے قسم کھا رکھی تھی کہ اب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔ وہ ایک مخلص معاون ضرور تھے، مگر جن لاچار ساتھیوں کی خدمت اور رہنمائی کا بیڑا احقر نے رضاکارانہ طور پر اٹھایا تھا، ان کی جدائی نے مجھے شش و پنج میں مبتلا کر دیا۔ آگے بڑھوں یا پیچھے لوٹوں؟ نتیجہ وہی نکلا جس کا اندیشہ تھا پانچ نفوس کا ہمارا قافلہ ہجوم میں بچھڑ گیا اور میں بے بسی سے ہاتھ ملتا رہ گیا۔ چونکہ ہر طرف اجالا تھا، اس لیے دل کو کسی حد تک تسلی ہوئی کہ دن کی روشنی میں راستہ نہیں بھولیں گے۔ چلتے چلتے ہم تاریخی مسجدِ خیف کی پشت تک پہنچ گئے۔ وہاں درجنوں مخیر اور پرخلوص رضاکار حجاج کی تواضع میں مصروف تھے، انہی میں سے ایک نوجوان ٹھنڈے مشروبات پیش کر رہا تھا۔ میں نے جوس کے دو پیکٹ اور ٹھنڈے پانی کی ایک بوتل لے لی۔ وہ اصرار کر رہا تھا کہ مزید لے لیں، مگر میں نے شکریے کے ساتھ معذرت کر لی۔ پانی کی بوتل اہلیہ کو تھمائی اور جوس کا ڈبہ غلام محی الدین کی خدمت میں پیش کیا۔ چاروں طرف حجاج طواف کے رمل کی مانند شان و تمکنت سے تیز قدم اٹھاتے چلے جا رہے تھے۔ اچانک میری نظر دائیں جانب پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے محترم استاد جناب نذیر احمد نجار صاحب تشریف لا رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ چالیس حجاج کا قافلہ تھا اور ان کی اہلیہ محترمہ قدرے سکون سے چل رہی تھیں۔ ہم باہم بغل گیر ہوئے، خیریت دریافت کی اور خوشگوار علیک سلیک ہوئی۔ ان کا کارواں آگے بڑھنے کو بے چین تھا، چنانچہ استادِ محترم نے رخصت چاہی اور میں ویل چیئر تھامے اپنے بچھڑے ہوئے رفقا کے انتظار میں وہیں رک گیا۔ مجھے اپنی کوئی پروا نہ تھی دل کی کیفیت ایسی تھی جیسے اپنے ہی گاؤں کی جانی پہچانی گلیوں میں مٹر گشت کر رہا ہوں۔ میں نے عبدالسلام ٹھوکر صاحب کو فون ملایا اور کہا ’ہم مسجدِ خیف کے پیچھے آپ کے منتظر ہیں، آپ بالکل اطمینان سے تشریف لائیے۔‘ دس پندرہ منٹ کا وقفہ گزرا اور گھڑی نے ساڑھے نو بجا دیے۔ ہماری ویل چیئر راستے کی ایک تنگی میں پھنس گئی تھی کہ اچانک دو سعودی پولیس اہلکار ہمارے پاس آ گئے۔ عام طور پر پولیس کی وردی اور رعب دیکھ کر انسان کے ہوش اڑ جاتے ہیں، مگر حرمین شریفین کی پولیس تو خدمتِ خلق کا بے مثال نمونہ بن کر ہر وقت چاک و چوبند اور مسرور دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ سعودی قوانین نہایت سخت ہیں اور وہاں شاہی نظام قائم ہے، جبکہ ہمارا تعلق دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سے ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پولیس کی مدد کا مقصد قانون توڑنا تھا۔ وہاں توقف کی قطعی ممانعت تھی، مگر ہماری زبوں حالی دیکھ کر انہوں نے چشم پوشی فرمائی۔ چلچلاتی دھوپ تھی، سر پر کوئی سائبان نہ تھا اور چھتریاں بیگز کے اندر بند پڑی تھیں۔ اچانک کیا دیکھا کہ وہ دونوں درد دل رکھنے والے پولیس اہلکار کہیں سے دو بڑی چھتریاں لائے اور ہمارے سروں پر تان دیں، اور پھر مسکرا کر تیسری چھتری لینے پلٹ گئے۔ لاکھوں کا مجمع تھا، ہم سے زیادہ کئی ضرورت مند موجود تھے، اس لیے میں نے دست بستہ شکریہ کے ساتھ تیسری چھتری واپس کرنا چاہی، مگر وہ خلوص کے مارے کسی قیمت پر ماننے کو تیار نہ ہوئے۔ اتنے میں ہمارے بچھڑے ہوئے رفقا بھی ہانپتے کانپتے آ پہنچے۔ چہروں پر ہلکی سی خفگی تھی کہ ہم انہیں چھوڑ کر آگے نکل گئے تھے، اور میں اپنے دل میں مسکرا رہا تھا۔ آنٹی نے شکوہ کناں لہجے میں کہا: ’ماسٹر جی! آپ نے تو ہمیں خوب دوڑایا!‘ میں خاموش رہا اور شرمندگی کی مسکراہٹ کے سوا کوئی جواب نہ بن پڑا۔ عبدالسلام صاحب نے آنٹی کی بات کاٹتے ہوئے فوری صفائی دی: ’ارے بہن! ماسٹر جی بھی تو ہماری ہی طرح ہانپ رہے تھے، اصل دوڑ تو غلام محی الدین صاحب نے لگائی تھی!‘ گفتگو کے دوران ہی ہم جمرات کمپلیکس کے عین قریب پہنچ گئے۔ یہ جدید جمرات کمپلیکس انجینئرنگ کا ایک شاندار شاہکار ہے۔ یہ عمارت 80 میٹر کشادہ اور ایک کلومیٹر طویل ہے، جو پانچ وسیع و عریض منزلوں پر مشتمل ہے۔ بیک وقت ان پانچوں منزلوں میں تین لاکھ حجاج کرام رمیِ جمار (کنکریاں مارنے) کا واجب ادا کر سکتے ہیں۔ اب یہ جمرات محض پتھر کے گول ستون نہیں رہے، بلکہ بیضوی شکل کی لمبی، مضبوط دیواریں بنا دی گئی ہیں، جن میں سے ہر دیوار کی لمبائی تقریباً 26 میٹر ہے۔ جمرہ اولیٰ سے جمرہ وسطیٰ کے درمیان 155 میٹر اور جمرہ وسطیٰ سے جمرہ عقبہ کے درمیان 225 میٹر کا فاصلہ ہے۔ حجاج کی آسانی کے لیے جدید ترین ڈھلوان راستے (Ramps)، خودکار برقی زینے (Escalators) اور کشادہ لفٹیں نصب کی گئی ہیں۔ کمپلیکس کی چھت پر ایک وسیع ہیلی پیڈ بھی تعمیر کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی ہنگامی صورتِ حال میں فوری امداد پہنچائی جا سکے، جبکہ دوسری منزل سے ایمبولینس گاڑیوں کے لیے براہِ راست گزرگاہ موجود ہے۔ اوپر آسمان پر مسلسل چوکنا ہیلی کاپٹرز اور نگران طیارے فضا میں چکر کاٹ رہے تھے، جبکہ نیچے زمین پر چھ کی چھ شاہراؤں پر کسی بھی عام یا خاص ٹرانسپورٹ کے داخلے پر کڑی پابندی تھی۔ اب ہم جمرات کے دہانے پر کھڑے تھے۔ چونکہ ہمارے پاس ایک ویل چیئر تھی، اس لیے منتظمین نے صرف ہم تین نفوس (میں، میری اہلیہ اور غلام محی الدین) کو زمینی منزل (Ground Floor) سے اندر جانے کی اجازت دی، جبکہ باقی قافلے کو برقی زینوں کے ذریعے پہلی منزل کی طرف موڑ دیا گیا۔ ہم میٹرو اسٹیشن کے قریب کھڑے تھے۔ غلام محی الدین اور میں نے ویل چیئر کو تہہ کر کے سمیٹ لیا اور نیچے اترنے لگے۔ دل میں حسرت ہوئی کہ کاش ہم بھی پہلی منزل ہی پر چلے گئے ہوتے گراؤنڈ فلور پر نگاہ پڑی تو قدم لرز گئے۔ وہاں تو انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ، بے قابو سمندر بہہ رہا تھا۔ ہم تینوں کا تمام تر سامان ویل چیئر پر لدا ہوا تھا۔ طے یہ پایا کہ پہلے غلام محی الدین سامان اور ویل چیئر سنبھالیں گے تاکہ میں اور اہلیہ جمرہ عقبہ کی رمی کر لیں، پھر میں سامان تھاموں گا اور غلام محی الدین جا کر اپنے واجب سے فارغ ہوں گے۔ وہاں کتنا خوفناک ہجوم تھا؟ بس یوں سمجھ لیجیے کہ طواف کے دوران حجرِ اسود کو چومنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، لیکن جمرات کے اس زمینی ہجوم کے مقابلے میں حجرِ اسود کا بوسہ لینا کہیں آسان معلوم ہوتا ہے۔ ہم جمرہ اولیٰ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھے، پھر جمرہ وسطیٰ کو عبور کیا اور جمرہ عقبہ کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ کنکریاں پلاسٹک کی بوتلوں میں بند تھیں اور میں نے اہلیہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا کہ اچانک... اچانک انسانوں کا ایک ریلا آیا! ایسا ریلا جو بپھرے ہوئے طوفانی سیلاب کی مانند تھا۔ نہ آسمان پر بارش تھی، نہ بادلوں کا سایہ، آسمان بالکل صاف اور شفاف تھا، اور ہم کمپلیکس کی زمینی چھت تلے محصور تھے مگر انسانی سیلاب کی طغیانی ایسی تھی کہ ہم دونوں تنکوں کی طرح خس و خاشاک بن کر بہہ گئے۔ میرے ماتھے سے پسینہ پھوٹ پڑا، گھبراہٹ سے آنکھوں تلے اندھیرا چھانے لگا، مگر میں نے آخری سانس تک اہلیہ کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔ کیا یہ گرفت اپنے بچاؤ کی تھی یا رفیقۂ حیات کو ہلاکت سے بچانے کی؟ دونوں احساس یکساں تھے! ہم تین منٹ تک اس خوفناک ریلے میں خس و خاشاک کی طرح بہتے رہے وہ تین منٹ ایسے جان لیوا تھے جیسے سر پر صدیاں بیت گئی ہوں۔ رفتہ رفتہ اس ریلے کی شدت میں کچھ کمی آئی تو میں نے اپنی تمام تر جسمانی توانائی جھونک کر بائیں جانب کنارے کی طرف نکلنے کی کوشش کی اور بالآخر بحفاظت کنارے پر پہنچ گیا۔ میں کس چیز میں کامیاب ہوا تھا؟ کیا سنتِ ابراہیمی ادا کرنے میں؟ یا مردود شیطان پر کنکریاں برسانے میں؟ نہیں... ہرگز نہیں! سنگریزے تو بدستور بوتلوں کے اندر بند تھے۔ ہم فی الوقت محض اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ’اے میرے پروردگار! اب کیا کیا جائے؟‘ رمی تو واجب ہے! میں نے دل ہی دل میں خود سے سوال کیا، اہلیہ کے چہرے پر خوف دیکھ کر اس سے لب کشائی نہ کی۔ بیچاری عرق النساء (Sciatica) کی دائمی مریضہ، اوپر سے چھ سات برسوں سے شوگر کی سخت ادویات کی پابند، چار بڑے آپریشنوں (Surgeries) کے زخم جھیلے ہوئے، اور سینتالیس سال کی عمر نہ مکمل جوانی، نہ پورا بڑھاپا! میرے حواس رفتہ رفتہ بحال ہوئے، مگر اس ہجوم میں رمی کرنے کا کوئی سرا نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں بائیں طرف بہہ گیا تھا حالانکہ مجھے دائیں طرف جانا چاہیے تھا، لیکن اب واپس دائیں طرف مڑنا تو خود کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف تھا۔ میں ابھی ابھی اس بپھرے طوفان کی لہروں سے زندگی چھین کر نکلا تھا۔ میں نے دل میں سوچا: ’کوئی بات نہیں، اگر واجب چھوٹ گیا تو میں دم (قربانی کا فدیہ) دے دوں گا۔ 720 ریال فی کس، یعنی دونوں کا 1440 ریال جو ہندوستانی کرنسی میں تقریباً ساڑھے اڑتیس ہزار روپے بنتے ہیں۔ جان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔‘ اب میں ہجوم کی رسائی سے دور، بائیں طرف الگ تھلگ کھڑا پانچ منٹ تک اپنے پھولے ہوئے سانس درست کرتا رہا۔ جب اوسان بحال ہوئے تو میں نے دوبارہ اہلیہ کا ہاتھ تھاما اور بالکل سیدھ میں آگے بڑھا۔ چلتے چلتے اچانک ہم جمرہ عقبہ کے آخری کونے اور کنارے کے بالکل بالمقابل پہنچ گئے۔ میری آنکھوں میں امید کی چمک پیدا ہوئی ارے! یہاں تو نام کو بھی بھیڑ نہیں ہے! سارا دباؤ اور کھینچاتانی تو جمرہ کے ابتدائی حصے پر تھی۔ میں نے پلاسٹک کی بوتل نکالی اور اہلیہ نے بھی میری تقلید کی۔ یہ وہی معمولی بوتلیں تھیں جنہیں ہم میدانِ عرفات کے ایک کوڑے دان (Dustbin) سے اٹھا کر لائے تھے، اور پھر گزشتہ رات مزدلفہ کے کھلے آسمان تلے ریت پر بیٹھ کر ایک ایک کر کے، گن گن کر ہم نے ستر (70) واجب سنگریزے اور احتیاطاً بیس پچیس اضافی کنکریاں چنی تھیں۔ ہم نے بوتل کا ڈھکن کھول کر ٹھیک سات سات کنکریاں باہر نکالیں اور بوتل بند کر کے سنبھال لی۔ ابھی نیت کے لیے ہاتھ اٹھائے ہی تھے کہ میرا تخیل بجلی کی سی رفتار سے چار ہزار سال پیچھے دوڑ گیا۔ وہ دور جب آزر نامی مشہور بت تراش اور نمرود کے دربار کا مذہبی وزیر موجود تھا، جس کے گھر حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے جنم لیا۔ وہی خلیل اللہ جنہیں ضعیفی اور پیری کے عالم میں رب نے اسماعیل جیسا چاند سا بیٹا عطا فرمایا، اور پھر اسی لختِ جگر کو حکمِ خداوندی کے تحت حضرت ہاجرہ کے ہمراہ مکہ کے بے آب و گیاہ ریگزار میں تن تنہا چھوڑ دیا۔ پھر جب یہ معصوم بچہ باپ کے ساتھ دوڑن دھوپ کی عمر کو پہنچا، تو خلیل اللہ کو حکم ہوا کہ اپنے پیارے اسماعیل کو ذبح کر کے ذبیح اللہ بنا دو ضعیف باپ اور سعادت مند بیٹا بیت اللہ سے دس بارہ کلومیٹر دور اسی وادیٔ منیٰ کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان پہنچے تاکہ اپنے مالک کے حکم کے آگے سر تسلیمِ خم کر دیں۔ ابلیسِ لعین نے باپ کے دل میں وسوسے اور شکوک ڈالنے کی ناپاک کوشش کی، تو خلیل اللہ نے اس ازلی دشمن کو مار بھگانے کے لیے اسی جگہ پر یکے بعد دیگرے سات کنکریاں مار کر اسے ذلیل و رسوا کر دیا، اور اپنے لختِ جگر کے گلے پر چھری چلانے کے لیے تیار ہو گئے۔ میرا بھی تو ایک نوخیز بیٹا ہے... مگر کہاں میرا لختِ جگر اور کہاں سیدنا اسماعیل علیہ السلام؟ کہاں میرا یہ عاجز وجود اور کہاں سیدنا ابراہیم خلیل اللہ کا مقامِ بلند؟! استغفراللہ! استغفراللہ! استغفراللہ! اس تصور سے ہی میرا کلیجہ کانپ اٹھا اور آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہہ نکلے۔ میں نے اشکبار آنکھوں سے اہلیہ کی طرف دیکھا اور عمل کا اشارہ کیا۔ زبان پر جاری تکبیرات کا ورد تھم گیا۔ میں نے دل کی گہرائیوں سے دعا مانگی ’بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، رَغْمًا لِلشَّيْطَانِ وَرِضًا لِلرَّحْمَنِ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا، وَسَعْيًا مَشْكُورًا، وَذَنْبًا مَغْفُورًا۔‘ (اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ شیطان کی رسوائی اور رحمٰن کی خوشنودی کے لیے۔ اے اللہ! اس حج کو مقبول، اس سعی کو مشکور اور گناہوں کو بخشا ہوا بنا دے۔) ہم دونوں نے اپنے ہاتھ بلند کیے۔ شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان ایک سنگریزہ دبایا، بغلیں کھولیں اور جمرہ عقبہ کی اس بیضوی دیوار پر نشانہ باندھ کر پہلی کنکری ماری... پھر دوسری... تیسری... اور یوں ساتویں کنکری بھی جا لگی۔ الحمد للہ! فالحمد للہ علیٰ احسانہٖ! ابھی رمی سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر دیکھا تو غلام محی الدین صاحب کی کال تھی۔ میں نے فون اٹھایا تو وہ ہانپتی ہوئی آواز میں بولے ’بھائی! میں ستون نمبر 32 کے پاس آپ کا انتظار کر رہا ہوں، جلدی آئیے، پولیس یہاں رکنے نہیں دے رہی!‘ میں جب پلٹ کر اس خوفناک مقام کی طرف گیا جہاں کچھ دیر پہلے ہم موت کے ریلے میں پھنس گئے تھے، تو وہاں کا منظر دیکھ کر دل لرز اٹھا۔ زمین پر جا بجا مردانہ چپلیں زنانہ جوتے، ٹوٹی چھتریاں، لاوارث ویل چیئرز، حجاج کے گرے ہوئے بیگز، پانی کی بکھری بوتلیں، سرہانے، میدانِ عرفات کے قالین اور فوم کے نرم و نازک گدھے بکھرے پڑے تھے۔ ستون نمبر 32 کے پاس پہنچا تو ایک روح فرسا منظر دیکھا وہاں حج کی دعاؤں کی درجنوں مطبوعہ کتابیں پیروں تلے بکھری ہوئی تھیں اور انہی کے درمیان ایک نسخہ مصحفِ شریف (قرآنِ پاک) بھی گرا ہوا تھا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے فوراً دعاؤں کی وہ تمام کتابیں اٹھا کر عزت کے ساتھ ایک بیریکیڈ کے اوپر رکھ دیں اور مصحفِ پاک کو اٹھا کر اپنے سینے اور آنکھوں سے لگا لیا۔ اب غلام محی الدین نظر آئے۔ انہیں دیکھ کر مجھے عرفات میں کہی گئی ان کی بات یاد آ گئی، جس کی اصل گہرائی کا ادراک مجھے اب جا کر ہوا تھا۔ اس ستر سالہ بزرگ نے نہ صرف خود شاندار انداز میں رمی کر لی تھی، بلکہ اس طوفان میں اپنی ویل چیئر اور اس پر بندھے ہم تینوں کے پورے سامان کو بھی بحفاظت بچا لائے تھے۔ یوں اللہ کے فضل و کرم سے دس ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی کا یہ کٹھن اور پرکیف مرحلہ بخیر و خوبی پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ عبدالرشید سرشار حالسیڈار ویریناگ 7006146071