Ad
سفر نامہ

سفرِ محمود (قسط نمبر 25)

✍️ :. عبدالرشید سرشار 



​فضا میں ہلکی تمازت تھی اور وادیِ منیٰ کے سنگلاخ پہاڑ غروبِ آفتاب کے سنہری پرتو میں عجب نورانی منظر پیش کر رہے تھے۔ مغرب کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد نگاہ سامنے لگے ایک کھمبے پر پڑی جس پر مکتب کا شناختی نمبر 42/68 درج تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں مطبخ کے کارندوں نے ہر ایک خیمے میں شام کے کھانے کی تقسیم شروع کر دی۔ گرما گرم بریانی، پانی کی بوتلیں اور ڈسپوزل چمچے لیے خدام خیموں میں داخل ہوئے، حجاج نے بھی فراخدلی سے عملے کا ہاتھ بٹایا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک گھنٹے کے اندر اندر پورا مکتب کھانے سے فارغ ہو گیا۔

​ کھانے سے فراغت ہوئی ہی تھی کہ ’اِثراء الخیر‘ کے اہلکار قربانی کے کوپن لے کر پہنچے۔ ہمارے ملک کے آدھار کارڈ کی طرح اس اضاحیٰ کوپن پر بھی بارہ ہندسوں پر مشتمل ایک منفرد کوڈ درج تھا، جس پر حاجی صاحب کا نام، عزیزیہ کی رہائش گاہ کا پتہ، کور نمبر اور قربانی کی رقم یعنی 720 ریال  درج تھی۔ کوپن پر ایک بارکوڈ اسکینر بھی چھپا تھا اور یہ وضاحت بھی کہ قربانی کا یہ گوشت مکہ مکرمہ کے مساکین کے ساتھ ساتھ دیگر ضرورت مند مسلم ممالک میں بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اسی دوران حجاج کے اعزاز میں خوش ذائقہ کینو بھی بانٹے گئے۔

​رات کے ٹھیک نو بجے اعلان ہوا کہ خیمہ نمبر ایک کے حجاج اپنی اپنی مستورات کے ہمراہ ایک ہی گاڑی میں سوار ہو جائیں۔  چنانچہ سب نے ہلکے ہلکے بیگ تھام لیے جن میں مصحفِ شریف، دعاؤں کے مجموعے، ڈائریاں، پاور بینک، چارجر، کچھ خشک میوہ جات اور ضروری ادویات رکھی تھیں۔

سوا ​نو بجے ہم نے منیٰ کیمپ کو الوداع کہا۔ شمسی تقویم کے مطابق یہ 25 مئی 2026ء کی تاریخ تھی، جبکہ اسلامی کیلنڈر کے اعتبار سے  نو ذوالحجہ کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہمارا سفر بسوں کے ذریعے طے پایا تھا، اس لیے میٹرو ٹرین کی بھیڑ اور ٹکٹوں کے جھنجھٹ سے ہم بچ گئے۔ مکتب نمبر 22 سے میدانِ عرفات تک کا بارہ کلومیٹر کا فاصلہ ہماری بس نے فراٹے بھرتے ہوئے بمشکل آدھے گھنٹے میں طے کر لیا۔

​عرفات، جو حدودِ حرم سے باہر مسجدِ حرام سے تقریباً 22 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، حج کا اصل اور سب سے عظیم مرکز ہے۔ ’الحج عرفہ‘ حج کا سب سے بڑا رکن، یعنی وقوفِ عرفہ، نو ذوالحجہ کو اسی میدان میں ادا کیا جاتا ہے۔ بارہ مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ میدان بیک وقت تیس لاکھ سے زائد حجاج کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی وسعت رکھتا ہے۔ چاروں طرف سے چھوٹی بڑی پہاڑیوں میں گھری اس وادی کی شرعی حدود واضح کرنے کے لیے جا بجا زرد رنگ کے بڑے بڑے سائن بورڈ نصب ہیں، جن پر عربی، انگریزی اور اردو کے جلی حروف میں ’بدایتِ عرفات‘ (عرفات کی شروعات) اور ’نہایتِ عرفات‘ (عرفات کا اختتام) درج ہے، کیونکہ وقوف کے دوران ان حدود کے اندر رہنا شرط ہے۔ عرفات کی مغربی سمت وادیِ نمرہ واقع ہے۔ چونکہ اس وادی کا مغربی حصہ حدودِ عرفات سے باہر ہے، اس لیے وہاں قائم تاریخی مسجدِ نمرہ کا کچھ حصہ عرفات میں اور کچھ حصہ حدود سے باہر آتا ہے۔ میدان کے مشرقی دامن میں تقریباً 65 میٹر بلند تاریخی پہاڑی ’جبلِ رحمت‘ بھی جلوہ افروز ہے۔

​عرفات کی زمین پر حجاج کی راحت کے لیے نیم کے درخت،  پھوار برساتے اونچے فوارے اور چوڑی شاہراہیں تعمیر کی گئی ہیں۔ ایامِ حج میں یہاں وسیع و عریض ائیر کنڈیشنڈ خیموں کا ایک لامحدود شہر آباد ہو جاتا ہے، جہاں ہزاروں کی تعداد میں پختہ وضو خانے اور بیت الخلاء موجود ہیں۔

​لفظ ’عرفات‘، عرفہ  سے ماخوذ ہے جس کے معنی ’پہچاننے‘ کے ہیں۔ روایت ہے کہ جب سیدنا آدم علیہ السلام اور اماں حوا علیہا السلام جنت سے زمین پر اتارے گئے، تو ایک طویل جدائی کے بعد اسی سرزمین پر ان کی دوبارہ ملاقات ہوئی اور انہوں نے ایک دوسرے کو پہچانا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو احکامِ حج سکھائے اور یہاں پہنچ کر پوچھا ”ھل عرفت؟“

 (کیا آپ نے جان لیا؟)

 تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔

 ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ اس پاک میدان میں بندہ اپنے گناہوں کا سچے دل سے اعتراف کر کے اپنے رب کو پہچانتا ہے، اس لیے یہ عرفات کہلایا۔

​بس سے اتر کر ہم اپنے جہازی سائز خیمے کی جانب بڑھے۔ منیٰ کی طرح یہاں بھی ہمارے خیمے کا نمبر  114 ہی تھا۔ خیمے کے سامنے راہداری میں مصنوعی سبز گھاس کا فرش بچھا ہوا تھا۔ مستورات کے لیے ساتھ ہی علیحدہ خیمہ مختص تھا۔ تقریباً پانچ سو افراد کی گنجائش والے اس وسیع و عریض خیمے میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں ہم دو درجن کے قریب حجاج تھے۔ فرش پر قالین اور ان پر فوم کے نرم و گداز میٹرس بچھے ہوئے تھے، اور چہار سو قدِ آدم پنکھے حرکت کر رہے  تھے، حالانکہ پورا خیمہ پہلے ہی جدید ائیر کنڈیشنڈ تھا۔ جگہ جگہ موبائل چارجنگ پوائنٹس موجود تھے۔ میں نے ایک مناسب گوشہ تلاش کر کے اپنا درویشانہ ڈیرا ڈال دیا۔ باہر کی لو کے برعکس اندر ایسی ٹھنڈک تھی کہ بدن کانپنے لگا، چنانچہ آگے بڑھ کر اے سی کا درجہ حرارت معتدل کیا اور پنکھا بند کر دیا۔ خیمے کے رہنما نے نشاندہی کی کہ برابر والا خیمہ نماز باجماعت کے لیے مسجد کے طور پر مختص کیا گیا ہے۔ وہیں قریب ہی نہانے اور وضو کے انتظامات  تھے۔ ہم نے وضو کیا، کپکپاہٹ کچھ کم ہوئی، اور باجماعت نمازِ عشاء ادا کر کے اپنے بستر پر آ کر دراز ہو گئے۔

​اپنی اہلیہ کی سہولت کے لیے میں ساتھ جو وھیل چیئر لایا تھا، اسے بغیر کسی قفل کے خیمے کے باہر ہی رکھ دیا۔ 

عرفات میں داخلے کا مسنون وقت تو نو ذوالحجہ کے زوالِ آفتاب کے آس پاس کا ہے، لیکن انتظامی سہولت کے پیش نظر کچھ حجاج کو پندرہ سولہ گھنٹے پہلے ہی رات کے وقت یہاں پہنچا دیا گیا تھا۔

​لیٹتے ہی آنکھ کیا لگی کہ ظاہری بصارت کے پردے ہٹ گئے اور ذہن کے نہاں خانوں میں سن 10 ہجری (632ء) کا وہ تابناک منظر کسی فلم کی طرح گھومنے لگا

نو ذوالحجہ کی صبح رحمۃ للعالمین ﷺ نے منیٰ سے کوچ فرمایا۔ عرفات کی سرحد سے متصل وادیِ نمرہ میں آپ ﷺ کے لیے کمبل کا خیمہ نصب کیا گیا جہاں آپ نے زوالِ آفتاب تک قیام فرمایا۔ زوال کے بعد آپ ﷺ اپنی اونٹنی ’قصواء‘ پر سوار ہو کر بطنِ وادی (عرنہ) میں تشریف لائے اور وہ تاریخی خطبہ دیا جو رہتی دنیا تک انسانی حقوق کا منشورِ اعظم بن گیا۔ خطبے کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان  پر ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع کے ساتھ ادا کی گئیں۔ اس کے بعد حضور اکرم ﷺ باقاعدہ میدانِ عرفات کی حدود میں داخل ہوئے اور جبلِ رحمت کے دامن میں سیاہ چٹانوں (الصخرات) کے پاس وقوف فرمایا۔ اونٹنی کا رخ قبلہ رخ کیا اور اپنے گرد موجود سوا لاکھ قدسی صفات صحابہ کو تلقین کرتے ہوئے فرمایا: ”میں نے یہاں وقوف کیا ہے، مگر پورا عرفات ہی وقوف کی جگہ ہے۔“

پھر غروبِ آفتاب تک آپ ﷺ مسلسل اونٹنی پر سوار وقوف فرماتے رہے۔ دونوں دستِ مبارک سینۂ اقدس تک اٹھے ہوئے تھے اور دربارِ الٰہی میں عاجزی و انکساری کے ساتھ امت کی بخشش کے لیے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے "لا إله إلا الله وحده لا شريك له لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر "

 اسی اثنا میں حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے  دودھ کا پیالہ بھیجا جسے آپ ﷺ نے سواری ہی پر تشریف فرما ہو کر تمام صحابہ کے روبرو نوش فرمایا۔ اور پھر سورج کی زردی اور گولا پوری طرح روپوش ہونے تک میدانِ عرفات میں ہی وقوف قائم رکھا۔

​چونک کر میری آنکھ کھلی تو احساس ہوا کہ یہ کوئی عام نیند نہیں بلکہ دل کے نہاں خانے میں تاریخِ اسلام کی پاکیزہ ترین حقیقت جاگ رہی تھی۔ رات کے ایک بجے تک ہمارا پورا خیمہ زائرین سے بھر چکا تھا، حتیٰ کہ فجر کے وقت مسجد نما خیمہ بھی کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ میں نے پرسکون دل کے ساتھ وضو کیا اور اپنے ہی خیمے میں اپنی جگہ پر فجر کی نماز باجماعت ادا کی۔ صبح چھ بجے عملے نے مستعدی کے ساتھ ناشتہ پیش کیا۔ سات بجے میں خیمے سے باہر نکلا، ابھی دھوپ تیز نہیں ہوئی تھی البتہ فضا میں گرد آلود ہوائیں چل رہی تھیں۔ دل میں تڑپ تھی کہ مسجدِ نمرہ اور جبلِ رحمت پر حاضری دی جائے۔ ’حج سویدھا‘  ایپ پر دیکھا تو مسجدِ نمرہ ہمارے خیمے سے تقریباً تین کلومیٹر دور تھی اور جبلِ رحمت اس سے بھی آگے تھا۔ ساتھی حجاج نے ہاتھ جوڑ کر منت کی، ”ماسٹر جی! اس شدید بھیڑ اور دھوپ میں ہمارا پیدل چلنا خطرے سے خالی نہیں۔ کہیں کوئی بچھڑ گیا تو وقوف جیسا اعظم رکن مشقت کی نذر ہو جائے گا۔“

 عقل نے جذبات پر قابو پایا اور میں نے اپنے خیمے ہی میں مقیم رہنے کا فیصلہ کیا۔

​گیارہ بجے کے قریب میں نے مرکزی سڑک کی طرف ہلکی سی چہل قدمی کی۔ دیکھا کہ ایک ٹرک حجاج میں تحائف کے ہلکے بیگز تقسیم کر رہا تھا۔ میں نے بھی دو سفید بیگ لیے اور واپس لوٹ آیا۔ اہلیہ کی خیریت معلوم کرنے ان کے خیمے میں گیا تو دیکھا کہ انہوں نے بڑی دانائی کا ثبوت دیا تھا اور رش سے بچنے کے لیے خیمے کے دہانے ہی پر جائے نماز بچھا کر وقوف شروع کر رکھا تھا۔ روانگی سے قبل تجربہ کار حاجیوں نے نصیحت کی تھی کہ میدانِ عرفات میں فلاحی ادارے اور مخیر حضرات کثرت سے آئس کریم، جوس، ڈرائی فروٹ اور بریانی تقسیم کرتے ہیں، لوگ حرص میں کریٹ اٹھا لاتے ہیں جو بعد میں ضائع ہوتے ہیں، اس لیے احتیاط اور قناعت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔

​ساڑھے بارہ بجے لاؤڈ اسپیکر پر خطبۂ حج نشر ہونا شروع ہوا، لیکن آواز میں خرابی کے باعث الفاظ واضح سنائی نہ دیے۔ ہم نے ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں،  مگر قصر نہیں کیں کیونکہ فقہی اعتبار سے ہم وہاں مقیم کے حکم میں تھے۔ اس پر نہ ہم نے کسی سے مناظرہ کیا نہ بحث، جس مسلک پر جس کا عمل تھا، اس نے اسی کے مطابق اطمینان سے عبادت کی۔

​اب دل پر یہ کیفیت طاری تھی کہ زندگی میں نہ جانے دوبارہ یہ ساعتیں میسر آئیں یا نہ آئیں،

 کیوں نہ اس لمحمۂ جاوید کو اپنی زندگی کی کایا پلٹنے کا ذریعہ بنا لیا جائے؟

 میں نے ڈائری، دعاؤں کے مجموعے، مصحفِ شریف اور وہ نورانی ورق نکالا جس پر خاص اذکار درج تھے جو ہمارے بزرگ اور سابق ڈپٹی کمشنر محترم محمد رمضان ٹھوکر صاحب نے میرے لیے بطور تحفہ بھیجے تھے۔ اب زاری و مناجات کا سلسلہ شروع ہوا۔ دوپہر کا کھانا خیمے میں تقسیم ہوا، مگر کھانے کے بعد بار بار وضو اور رفعِ حاجت کے مرحلے سے بچنے کے لیے میں نے فاقہ کشی کو ہی عبادت کا معاون جانا اور کھانا ترک کر دیا۔

​کبھی کھڑے ہو کر، کبھی گھٹنوں کے بل بیٹھ کر، اور کبھی تھک کر لیٹتے ہوئے اپنے گناہوں کی ندامت لیے ربِ رحیم کی چوکھٹ پر گریہ و زاری کرتا رہا۔ ڈائری کھول کر ایک ایک عزیز، دوست اور التماسِ دعا کرنے والے کا نام لے لے کر فریاد کی، اورادِ فتحیہ کے اوراق پلٹتا اور التجائیں دہراتا رہا۔ جب نقاہت طاری ہوتی تو بستر پر دراز ہو کر اپنی آلودہ زبان سے کلمۂ چہارم کا ورد جاری رکھتا۔ ادھر ازلی دشمن ابلیس دل میں بار بار وسوسہ ڈالتا کہ ”دیکھو! سب لوگ باہر سے آئس کریم اور میوے لا رہے ہیں، تم بھی باہر چکر لگاؤ۔“ 

لیکن اللہ کے فضل سے ہر بار معوذتین پڑھ کر اس دیرینہ دشمن کا وار خالی کر دیتا۔

​اسی دوران ایک تشویشناک واقعہ پیش آیا۔ ہمارے قافلے کے محترم بزرگ حاجی محمد سلطان وڈو صاحب کی اہلیہ جو شوگر کی مریضہ ہونے کے باوجود پورے سفر میں کمال استقامت سے عبادات میں مصروف تھیں

وضو کے لیے باہر نکلیں اور بھیڑ میں راستہ بھول گئیں۔ میری اہلیہ ان کے ہمراہ تھیں، مگر وہ اپنا شناختی کارڈ میری اہلیہ کے ہاتھ میں تھما کر پلک جھپکتے ہی ہجوم میں اوجھل ہو گئیں۔ ہمارے خیمے سے چار پانچ افراد ان کی تلاش میں دوڑ پڑے۔ اگرچہ میں ان سب میں جوان اور توانا تھا، مگر نہ معلوم ساتھیوں نے مجھے تلاش کے لیے کیوں نہ ساتھ لیا۔ 

مغرب کا وقت قریب تھا اور ہم دعاؤں میں محو تھے کہ ساتھی عبدالسلام نے آ کر مایوسی سے بتایا کہ وہ ہر طرف ڈھونڈ کر تھک چکے ہیں مگر حاجن کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ لیکن پھر اللہ کی مدد اور جدید سعودی ٹیکنالوجی کام آئی، وہ ہجوم میں نیم بے ہوشی کے عالم میں ملی تھیں جہاں ’ہلالِ احمر‘ (ریڈ کریسنٹ) کے خدام نے انہیں فوری طبی امداد دی، ان کی انگلیوں کے نشانات (بائیو میٹرک) اسکین کیے اور ڈیٹا کی مدد سے بحفاظت ہمارے خیمے کے دروازے تک پہنچا دیا۔ شکرانے کا ایک لمبا سانس فضا میں تیر گیا۔

​وقوفِ عرفہ کی سعادت تو مکمل ہو چکی تھی، مگر صبح جو دودھ پینے کی سنتِ نبوی کا خیال دل میں ابھرا تھا، وہ حسرت تشنہ ہی تھی۔ شام ہوتے ہی لاکھوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سڑکوں پر امڈ آیا۔ ہر طرف بسوں کی طویل قطاریں تھیں، لیکن سوار ہونے کے لیے قیامت خیز دھکم پیل تھی۔ کچھ نوجوان قافلے پیدل ہی مزدلفہ کی سمت چل پڑے، لیکن میرے ساتھ ضعیف حجاج تھے اور سب سے بڑھ کر میری اہلیہ کے لیے پیدل چلنا دشوار تھا۔ ایک گھنٹہ سڑک کی دھول اور افراتفری میں کھڑے رہنے کے بعد میں نے ساتھیوں سے کہا

 ”اس کھینچ تان سے بہتر ہے کہ ہم خیموں میں واپس لوٹ چلیں۔“

​ہم واپس پہنچے تو دیکھا کہ میدان خالی ہو چکا تھا اور سارے غسل خانے بالکل پرسکون تھے۔ ہم نے اطمینان سے حوائجِ ضروریہ سے فراغت پائی، وضو کیا اور احرام کی نزاکت کا خیال رکھتے ہوئے بدن پر ہلکا سا پانی بہایا تاکہ کوئی بال ٹوٹنے نہ پائے۔ اس کے بعد سڑک کے قریب ہی واقع ایک خالی خیمے میں داخل ہوئے۔ خیمے کے اندر کا منظر عجیب بے ترتیبی کا نمونہ تھا، قالین بکھرے پڑے تھے، چادریں الٹی پلٹی تھیں اور سارا سامان ادھر ادھر پڑا تھا، گویا کوئی بستی اجڑ کر گئی ہو۔

​میں ایک خالی بستر دیکھ کر اس پر دراز ہو گیا۔ سامنے گتے کا ایک کھلا ہوا کارٹن نظر آیا۔ اٹھ کر اندر جھانکا تو آنکھیں فرطِ حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

 اس ڈبے میں پاؤ پاؤ کے بارہ پیکٹ دودھ، پھلوں کے جوس، سنگترے، مالٹے، بسکٹ اور دالوں کے پیکٹ رکھے ہوئے تھے۔ انسان بھی کیسا بے صبرا ہے، کوئی حاجی صاحب یہ کارٹن سمیٹ کر لائے ہوں گے مگر بس کے ہنگامے میں یہیں چھوڑ گئے۔ میرا دل سجدۂ شکر میں گر پڑا۔ ایک گھنٹہ قبل دل کی گہرائیوں میں رسولِ پاک ﷺ کی جس سنت (دودھ نوشی) کی خواہش مچلی تھی، میرے رب نے ویران خیمے میں اس کا خوانِ کرم سجا دیا تھا! میں نے وہ پیکٹ نکالے، ساتھیوں کو پیش کیے اور خود بھی پیا۔ دودھ سے میری قلبی نسبت پرانی ہے؛ دوپہر سے پیٹ خالی تھا، بسکٹ اور دودھ حلق سے اترے تو جسم میں نئی توانائی دوڑ گئی۔

​رات کے دس بج چکے تھے۔ اب فرض وقوف کے بعد واجب وقوف (مزدلفہ) کی طرف کوچ کا وقت تھا۔ چلتے چلتے ہمارے رفیقِ سفر حاجی غلام محی الدین صاحب نے خیمے کی بے ترتیبی اور وہاں پڑے لاوارث سامانوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے ایک جملہ اچھالا

”ماسٹر جی! اگر حجاج کے پاس اپنی ٹیکسیاں ہوتیں، تو یہ سارے بستر، قالین اور تکیے اٹھا اٹھا کر انہوں نے ٹیکسیوں میں لاد لیے ہوتے!“

​اس وقت تو میں حاجی صاحب کی اس طنز آمیز بات کی تہہ تک نہ پہنچ سکا اور خاموش رہا، مگر اگلی صبح جب انسانی فطرت کا ایک اور روپ سامنے آیا، تو ان کے اس جملے کا سارا فلسفہ مجھ پر پوری طرح آشکار ہو گیا۔

عبدالرشید سرشار 

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!