سفر نامہ
سفرِ محمود...... (قسط نمبر 26)

✍️ :. عبدالرشید سرشار عرفات میں ہی رات کے دس بج گئے تھے جب ایک بار پھر ہم سڑک پر آ گئے۔ بلا مبالغہ ہزاروں احرام پوش مرد حجاج اور معمول کے لباس میں مستور خواتین بے صبری کے ساتھ گاڑیوں کی راہ تک رہے تھے۔ ٢٦ مئی، منگل کی شام تھی۔ نفسا نفسی کے اس عالم میں ہم نو حجاج تھے، جن میں چھ مرد اور تین خواتین شامل تھیں۔ گرمی کی شدت بے پناہ تھی، مگر غنیمت تھا کہ مچھر کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ کچھ لوگ بیچ سڑک پر کارڈ بورڈ کے ٹکڑے بچھا کر بیٹھ گئے۔ گاڑیاں انسانوں کی پروا کیے بغیر چلی آ رہی تھیں اور حجاج لپک لپک کر گاڑیوں کے پائیدان اور دروازے پکڑ رہے تھے۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ مکتب نمبر ۲۲ کی انتظامیہ کے پاس چھ سات گاڑیاں تھیں۔ منیٰ سے عرفات آتے وقت بار بار ہماری گنتی کی گئی تھی، پچاس سے اوپر ایک بھی حاجی کو سوار کرنے کی اجازت نہ تھی، مگر چوبیس گھنٹے کیا گزرے کہ سارے ضابطے ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس، یا جس میں طاقت، اسی کی گاڑی، بزرگ حجاج میں تو گاڑی میں چڑھنے کی سکت ہی نہ تھی، اور خوش قسمتی سے اگر کوئی بزرگ دروازے کے قریب پہنچ بھی جاتا تو جوان حجاج آگے لپک کر راستہ مسدود کر دیتے۔ ہر شخص اپنے ہی ساتھیوں کو پہلے چڑھانے پر تلا ہوا تھا۔ ہمارے مکتب کے زیرِ انتظام تین ہزار حجاج تھے۔ تربیت کے دوران تو بار بار صبر و ضبط اور بزرگوں، خواتین اور معذوروں کو اوّلیت دینے کا وعظ سنایا جاتا تھا، مگر میدانِ عرفات کی سڑکوں پر ہم نے اس خوبصورت خطبے کی دھجیاں بکھیرتے دیکھیں۔ گاڑی نے پچاس کے بجائے سو حجاج اندر ٹھونس لیے اور کچھوے کی چال رینگنے لگی۔ مزدلفہ میں مسافروں کو اتار کر واپس اسی ٹریفک جام سے نکل کر آنا ، دونوں طرف کا یہ محض چودہ کلومیٹر کا معمولی سا سفر تھا، مگر گھنٹوں کا انتظار مقدر بن گیا۔ اس مقام پر انتظامیہ کی بے حسی اور لاپروائی کھل کر سامنے آ رہی تھی۔ کاش اتنا انتظام کیا گیا ہوتا کہ کون سا خیمہ کس وقت کوچ کرے گا، تو اس افراتفری میں قدرے کمی آسکتی تھی۔ بہرحال، یہاں ہر کوئی برہم تھا اور معلم و مکتب والوں کو کوس رہا تھا۔ امن و امان کی بحالی کے لیے کچھ پولیس اہلکار مامور تو تھے، مگر اس ہجوم میں انہیں خود اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ اوپر سے سرکاری اور پرائیویٹ کوٹے کے حجاج کی ریل پیل۔ ایک گاڑی کو روکا ساتھ کلومیٹر کے کو ریال فی حاجی مانگ رہا تھا۔ ہمارے مکتب کے زائرین عید کے چاند کی طرح بس نمبر ۲۲ کو ڈھونڈ رہے تھے۔وہ دیکھیں گاڑی آ گئی میں نے اپنی اہلیہ کی مدد کی، مگر خود سیڑھی کی طرف نہیں لپکا۔ ضرور لپک جاتا، لیکن میرے ساتھ وھیل چیئر تھی۔ کتنی آرام دہ چیز ہے، مگر اس وقت وبالِ جان بن چکی تھی۔ اتنے میں کولگام کا ایک نوجوان بس میں چڑھا اور اپنے کسی بزرگ رشتے دار کو اوپر کھینچنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔ میری اہلیہ نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ماں کا وہ لال دل ہی دل میں خوش تھا کہ اپنے پیارے کو سوار کرا بیٹھا ہے، مگر جب تھرتھراتے ہاتھوں کی جگہ گرفت مضبوط دیکھی اور چہرے پر نظر ڈالی، تو ناگواری کے عالم میں منہ پھیر لیا، لیکن تب تک میری اہلیہ سوار ہو چکی تھیں۔ ان کے پیچھے پیچھے غلام محی الدین راولو، ان کے ساتھ عبد السلام ٹھوکر اور ان کی اہلیہ، اور مٹن کی ہماری ساتھی شمشاد بیگم دیکھتے ہی دیکھتے سوار ہو گئے۔ میں عجیب حسرت و حیرت سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ میں نے شیشے کے پار سے کولگام والے حاجی صاحب کا چہرہ دیکھنے کی بڑی کوشش کی، مگر وہ نظر نہ آئے۔ پائیدان تک حجاج سے بھرے پڑے تھے۔ غضب یہ ہوا کہ میں نے وہیل چیئر بھی گاڑی میں چڑھانے کی حماقت کر ڈالی تھی۔ گاڑی چل پڑی اور میں اس کے پیچھے دوڑنے لگا۔ کاش گاڑی پوری رفتار سے نکل جاتی تو آئندہ کی پریشانی سے پہلے ہی نجات مل جاتی، مگر آگے سڑک بند تھی اور ڈرائیور نے بریک ماری۔ میں نے اردو اور عربی کے جتنے الفاظ مناسب سمجھے، اسی رفتار سے اگل دیے۔ ویسے بھی شدید غصے میں گرامر اور زبان دانی کا حساب کون رکھتا ہے، کنڈکٹر باہر نکل آیا۔ میں نے اسے وہیل چیئر کی کہانی سنائی تو وہ اسے اتارنے پر راضی ہو گیا، مگر اب میں راضی نہ تھا۔ میں تاوان مانگ رہا تھا کوئی نقدی نہیں، بس اتنی عنایت کہ مجھے بھی پچاس سیٹوں والی اس بس میں ۱۴۱ واں مسافر سمجھ کر چڑھنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن گاڑی میں تو تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ کنڈکٹر بوکھلا گیا اس نے پریشر دبا کر گاڑی کا سینہ چاک کیا اور میری وہیل چیئر اتارنے لگا۔ میں سامان کی طرح نچلے چیمبر میں ہی سوار ہونے لگا تو اس نے مجھے دھکا دے دیا، وہیل چیئر وہ پہلے ہی باہر پھینک چکا تھا۔ میں نے برا نہیں منایا میرا کوئی قیمتی سوٹ گندا نہیں ہوا تھا، فقیرانہ لباسِ احرام زیبِ تن تھا، اور احرام باندھنے میں مجھے خاصی مہارت ہے۔ پیچھے مڑ کر سو گز کے فاصلے پر دیکھا تو بکروال حاجی محمد رفیق میرے پیچھے کھڑے تھے، اور انہی کے ساتھ اسی سال سے زائد عمر کے محمد سلطان وڈو بھی موجود تھے۔ میرا آدھا قافلہ روانہ ہو چکا تھا، اور اب میں، میرے یہ دو بزرگ ساتھی اور وہ بے جان وہیل چیئر باقی تھے۔ ہم تینوں پھر سے گاڑی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ماسٹر جی وہ دیکھیے، ۲۲ نمبر بس محمد سلطان نے چلا کر کہا۔ میں نے ان دونوں کو گاڑی میں کسی بے جان بورے کی طرح ٹھونس دیا۔ وہیل چیئر نچلے چیمبر میں پھینکی اس بے جان چیز پر اس وقت سخت غصہ آ رہا تھا۔ پھر کسی حاجی کی ٹانگ کا سہارا لے کر، اپنے کندھے دائیں بائیں ہلاتا ہوا، میں بھی گاڑی کے اندر گھسنے میں کامیاب ہو گیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ بس کی چند سیٹیں اب بھی خالی پڑی تھیں۔ کچھ حجاج نے وہ اپنی مستورات کے لیے روک رکھی تھیں، جنہیں شاید اس گاڑی میں سوار ہونا نصیب ہی نہیں ہو سکا تھا۔ گاڑی میں کچھ کشمیری خواتین کو روتے بلکتے دیکھا تو دل کٹ کر رہ گیا۔ ان کے محرم اور عزیز اگلی گاڑیوں میں سوار ہو کر جا چکے تھے، اور وہ بے بسی کے عالم میں دوسروں کو طعنے دے رہی تھیں، التجائیں کر رہی تھیں۔ یقیناً محشر کا سماں تھا۔ میں نے ان خالی سیٹوں کی طرف نگاہ اٹھانا بھی گوارا نہ کیا۔ آخر سات آٹھ کلومیٹر کا ہی تو فاصلہ تھا کیا ضرورت تھی ان حجاج کی دکھتی رگوں پر انگلی رکھنے کی جو اپنوں کی جدائی میں نڈھال تھے۔ بس آہستہ آہستہ رینگنے لگی۔ میں نے حاجی عبد السلام کو فون ملایا۔ وہ ہوٹل کے کاروبار سے وابستہ ہیں، بڑے با اخلاق انسان ہیں اور ان کے ہوٹل پر ڈرائیوروں کی خاصی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ کہنے لگے کہ ان کے ڈرائیور نے انہیں مزدلفہ اور منیٰ کی سرحد پر ہی اتار دیا ہے، کیونکہ بیشتر ڈرائیور اس سے آگے جانے کا رسک نہیں لیتے۔ میں نے عبدالسلام سے لوکیشن مانگی تو انہوں نے کسی ساتھی حاجی کی مدد سے لوکیشن بھیج دی۔ دس پندرہ منٹ بعد ہماری گاڑی نے بھی ہمیں نیچے اتار دیا۔ اب ہم تین حجاج اور ایک وہیل چیئر پانچ انچ کے اس اینڈرائڈ فون کی رہنمائی میں آگے بڑھنے لگے۔ نہ معلوم گوگل میپ نے کیسا چکر دیا کہ ہم دائیں طرف چلتے ہی چلے گئے۔ فلائی اوور پار کیا، منیٰ کی حدود میں بھی داخل ہو گئے، مگر ہمارا بچھڑا ہوا قافلہ کہیں دکھائی نہ دیا۔ میدان میں لاکھوں حجاج کا سمندر تھا کچھ قدم بڑھا رہے تھے، کچھ نے قالینوں پر ڈیرا جما رکھا تھا، بعض نے ساتھ لائی ہوئی چٹائیاں بچھا رکھی تھیں، اور کئی نفوس ریت پر لیٹ کر اس بے سروسامانی کا لطف لے رہے تھے۔ میں نے دوبارہ عبدالسلام سے رابطہ کر کے لوکیشن مانگی، جو انہوں نے کسی پولیس اہلکار کی مدد سے بھیج دی۔ اب عالم یہ تھا کہ میرے ہاتھ میں موبائل تھا، رفیق بکروال وہیل چیئر کو اتنی نزاکت اور احتیاط سے دھکیل رہے تھے جیسے نیکسا کی کوئی قیمتی کار چلا رہے ہوں، اور محمد سلطان وڈو صاحب ہمارے پیچھے پیچھے قدم بڑھا رہے تھے۔ اب کی بار میں نے لوکیشن کا تعاقب کیا پولیس اسٹیشن آیا، پھر اسپتال گزرا، مگر تین چار کلومیٹر چلنے کے بعد مجھے شدت سے احساس ہوا کہ سائنس کے مطابق زمین چاہے گول ہو یا چپٹی، ہمارا سفر بہرحال گولائی کا ہی مرہونِ منت رہا جس جگہ گاڑی نے ہمیں اتارا تھا، اگر وہاں سے بائیں ہاتھ محض سو قدم چل پڑتے تو آدھا گھنٹہ پہلے ہی اپنے قافلے تک پہنچ چکے ہوتے۔ منزل پانے کی خوشی میں رفیق بکروال نے وہیل چیئر کی رفتار اتنی بڑھا دی جیسے کوئی ریس جیتنی ہو، حالانکہ اس پر کوئی سوار نہیں تھا۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے جب ہمارا بکھرا ہوا قافلہ ایک بار پھر باہم ملا۔ دل کو اتنی بے پایاں خوشی نصیب ہوئی کہ شاید تقسیمِ ہند کے المیے میں بچھڑنے والے برسوں بعد مل کر بھی اتنے مسرور نہ ہوئے ہوں گے۔ عبد السلام صاحب نے پہلے ہی چٹائیاں بچھا رکھی تھیں، مگر نیچے سنگریزے چبھ رہے تھے۔ میں نے ادب سے عرض کیا کہ رات یہیں کاٹنی ہے، لہٰذا کسی ہموار جگہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہم وہاں سے اٹھ کر کچھ آگے بڑھے اور اپنا ڈیرا جما دیا۔ میرے علاوہ باقی سبھی ساتھیوں نے عرفات سے ہی بسکٹ اور میوہ جات لے لیے تھے، چنانچہ جوس کے گھونٹوں کے ساتھ ہم نے پیٹ کی آگ بجھائی۔ بیت الخلاء بالکل قریب ہی واقع تھے، البتہ مسجد مشعر الحرام کہیں دکھائی نہ دی۔ نلکوں سے کھولتا ہوا گرم پانی ابل رہا تھا۔ جیسے تیسے وضو کیا، اذان دی گئی، اور میں نے آٹھ دس حجاج جن میں خواتین بھی شامل تھیں کی امامت کی۔ پہلے مغرب کی نماز ادا کی، پھر فوراً ہی عشاء کی نماز پڑھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مرد اور خواتین بالکل آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ عورتوں کا لباس تو مکمل تھا، مگر مرد حضرات محض دو غیر سلی چادروں میں ملبوس تھے، اس لیے پریشانی محسوس ہو رہی تھی۔ اوپر سے کھلے آسمان کا شامیانہ اور ایک ہی وسیع و عریض میدان، روشنی کا کچھ مت پوچھو رات میں دن کا گمان ہوتا تھا مگر سچ پوچھیے تو اس مقام پر نہ کوئی مرد مرد تھا اور نہ کوئی عورت عورت، سب کے سب فقط عاجز اور بے بس بندے تھے۔ اللہ کا نام لے کر ہم نے پلاسٹک کی خالی بوتلوں میں تقریباً سو سو کنکریاں چن کر جمع کیں۔ اس کے بعد اس خاک اور گرد و غبار میں اپنی انا، اپنا رتبہ، اپنی ذات، جنس اور خاندانی نام و نمود، الغرض ہر شے کو دفن کر کے آرام کے لیے لیٹ گئے، کیونکہ آنے والا دن یعنی ۱۰ ذوالحجہ سفر حج کا مصروف ترین اور کٹھن دن تھا۔ مزدلفہ، عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع ہے۔ اس کا نام مزدلفہ اس لیے پڑا کہ حجاج یہاں رات کی تاریکی میں پہنچتے ہیں (ازدلاف کے معنی رات کے وقت قریب ہونے کے ہیں)، یا اس لیے کہ حجاج یہاں ایک ساتھ جمع ہو کر کوچ کرتے ہیں، یا پھر اس تاریخی نسبت سے کہ زمین پر اتارے جانے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام اسی وادی میں ایک دوسرے کے قریب آئے تھے۔ اس کی لمبائی تقریباً چار کلومیٹر اور کل رقبہ بارہ سے تیرہ مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے مبارک موقع پر اسی مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا فرمائی تھیں۔ آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے ’میں نے یہاں وقوف فرمایا، مگر سارا مزدلفہ ہی جائے وقوف ہے۔‘ یہاں دعاؤں کے اہتمام کی خاص فضیلت آئی ہے۔ یہاں کی مرکزی مسجد ’مشعر الحرام‘ ہے، جس کی لمبائی اور چوڑائی ۹۰ ضرب ٥٦ میٹر اور کل رقبہ پانچ ہزار مربع میٹر سے زائد ہے، جہاں بیک وقت بارہ ہزار حجاج نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مزدلفہ میں حجاج کے آرام اور ضرورت کے پیشِ نظر جگہ جگہ غسل خانے، بیت الخلاء اور ہموار ریتلے میدان تیار کیے گئے ہیں۔ ۱۰ ذوالحجہ کی صبح، تہجد کے وقت ہماری آنکھ کھلی۔ ریت اور کنکریوں کے اس بستر پر معمولی سی جھپکی ہی نصیب ہوئی تھی، اور جگہ کی بھی تنگی تھی۔ جاگتے ہی سو میٹر دور بنے غسل خانوں کا رخ کیا، وضو کر کے واپس آئے، کچھ نوافل اور تہجد ادا کی، اذان کی صدا گونجی تو فجر کی سنتیں پڑھیں۔ مڑ کر دیکھا تو محمد سلطان وڈو صاحب غائب تھے۔ غلام محی الدین راولو بچھڑے ہوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے فن میں خاص مہارت رکھتے تھے وہ فوراً لپکے اور قریبی اسپتال کے آس پاس سے انہیں تلاش کرکے لائے۔ ہم نے باجماعت نمازِ فجر ادا کی۔ جتنی ٹولیاں تھیں اتنی ہی جماعتیں بن رہی تھیں، لاکھوں کا مجمع اللہ کے حضور سجدہ ریز تھا۔ ابھی پو پھٹنے میں کچھ دیر باقی تھی تو میں نے اپنے رفقاء کو وقوفِ مزدلفہ کی اہمیت سے آگاہ کیا، کیونکہ یہ بات سنی تھی کہ جو دعائیں عرفات میں قبولیت سے رہ جائیں، وہ مزدلفہ کے اس وقوف میں شرفِ قبولیت پا لیتی ہیں۔ وقوفِ مزدلفہ واجب ہے اور اس کے ترک پر دم لازم آتا ہے۔ ہم سب تسبیح و تہلیل اور ذکر و تکبیر میں محو تھے، اور حجاج کی ٹولیاں آہستہ آہستہ مزدلفہ سے کوچ کرنے لگی تھیں۔ طلوعِ آفتاب کے وقت، تقریباً چھ بجے، ہم نے اپنا مختصر سا زادِ راہ سمیٹا۔ احکم الحاکمین کی بارگاہ میں بچے کھچے آنسو بہائے، کنکریوں کی بوتلیں ایک بار پھر جانچ کر تھیلوں میں محفوظ کیں۔ احرام کا رنگ خاک آلود اور بھورا ہو چکا تھا، اسے زیب تن کیے ہوئے پچاس گھنٹوں سے زیادہ کا وقت بیت چکا تھا اور احرام کی تمام پابندیاں بدستور نافذ تھیں۔ خدا کا نام لے کر اہلیہ کو وہیل چیئر پر بٹھایا اور وادیِ منیٰ کی طرف لاکھوں زائرین کے کارواں کے ساتھ رواں دواں ہو گئے۔ اہلیہ نے پہلے پہل اس پر بیٹھنے سے انکار کیا تھا، مگر میں نے یہ سواری بھارتی حج ڈسپنسری سے ڈیڑھ سو ریال کے عوض حاصل کی تھی، چنانچہ اسے بنا استعمال کیے خالی کھینچنا مجھے قطعی گوارا نہ تھا۔ ویسے بھی میری اہلیہ عرق النساء (Sciatica) کے درد میں مبتلا تھیں، شرم و حیا اور ہمت کے سہارے وہ آدھا ادھورا راستہ ہی طے کر پاتیں اور آگے چل کر سارا امتحان میرا ہی ہونا تھا، چنانچہ کچھ شرافت اور کچھ ڈانٹ ڈپٹ کے امتزاج سے انہوں نے بالآخر یہ سواری قبول کر ہی لی۔ عبدالرشید سرشار حالسیڈار ویریناگ 7006146071