ادب
غزل...... از جگپریت سنگھ

قلمی نام : شررؔ اعجازی
بصد سامانِ رسوائی بکوئے یار پہنچے ہیں
لبوں پہ مہرِ خاموشی، دلِ خوں بار پہنچے ہیں
------------------------------------------
رخِ تاباں کی کلفت میں، شبِ ہجراں کی ظلمت میں
ہم اپنی جاں سے ہو کر برسرِ پیکار پہنچے ہیں
-------------------------------------------
ترے ہونٹوں کی صہبا کا تخیل رقص فرما تھا
اسی اک نشہِ پنہاں کے لیے سرشار پہنچے ہیں
---------------------------------------------
اگرچہ خاک میں مل کر نشاں اپنا مٹا بیٹھے
مگر ہم رفعتِ مصلوب کی دستار پہنچے ہیں
--------------------------------------------
سحر کی آرزو لے کر، تری پلکوں کے سائے سے
کئی عشاق اب بن کر نئے آثار پہنچے ہیں
--------------------------------------------
بجھا پائے گی کیا ظلمت ہمارے ضبط کے شعلے
شررؔ بن کر تری دہلیز پر ہم یار پہنچے ہیں
بحر: ہزج مثمن سالم ارکان: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن تقطیع: 1222 1222 1222 1222
شاعر: شررؔ اعجازی