مضامین
کیا اُردو مسلمانوں کی زبان ہے ؟

سابق ڈائریکٹر اکیڈمک جے اینڈ کے BOSE
تو صاف اور واضح جواب نفی میں ہے۔ یہ تاثر ہی غلط ہے کہ کوئی زبان کسی خاص مذہب سے جُڑی ہوئی ہے۔ انگریزی زبان تو بین الاقوامی زبان ہے۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کی مادری زبان عربی تھی لہٰذا قرآن حکیم عربی زبان میں ہی نازل ہوا کیونکہ اولین مخاطب عرب کے باشندے ہی تھے اور مشرکینِ مکہ کی مادری زبان عربی تھی اور دورِ جاہلیت کے امرؤالقیس اور طرفہ بن العبد عربی کے عظیم شعراء تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس طرح جرمنی کے گستاو ویل، برطانیہ کے ویلیم مُئر ، سکاٹش ایلفرڑ گیوم وغیرہ عربی زبان کے مانے ہوۓ علما ہیں باوجود کہ غیر مسلم ہیں۔ اسی طرح اگرچہ فارسی ایران کی قومی زبان ہے مگر رچارڈ نلسن فرائی ، ڈِک ڈیوِس، رام موہن راۓ، ایڈورڈ گرینویل براؤن فارسی کے بڑے اسکالر اور محقق تھے۔ اسی طرح اپنی کشمیری زبان بولنے والوں کی اکثریت گرچہ مسلمان ہیں مگر لل دید، روپہ بھوانی، اِرنِمال، پرکاش رام بھٹ ، کرشن جو رازدان، پنڈت گوند کول، پنڈت زندہ کول، ششی توشخانی ، رتن ناتھ شانت،دینا ناتھ نادم، موتی لال ساقی وغیرہ کشمیری زبان و ادب کے مایہ ناز شعراء اور ادباء ہیں۔
دراصل اس ناچیز کو اردو زبان کے حوالے سے کچھ عرض کرنا تھا۔ یہ ایک ایسی دلکش اور دل آویز زبان ہے جو ہندی ، عربی، فارسی اور ترکی زبانوں کی ملاپ سے پروان چڑھی ہے۔ یہ گنگا جمنی تہذیب کی عکاس ہے اور اس میں ہندو اور مسلم ثقافتوں کا امتزاج با آب و تاب موجود ہے۔ ایک طرف میر تقی میر، غالب، اقبال ، فیض وغیرہ جیسے شعراء اور ڈپٹی نزیر احمد، محمد حسین آزاد، ، سرسید، شبلی، حالی، مولانا آزاد ، رشید احمد صدیقی وغیرہ جیسے بےمثال ادباء تو دوسری طرف فراق گورکھپوری، برج نرائن چکبست، جگن ناتھ آزاد، دیا شنکر کول نسیم، آنند نرائن مُلا، برج موہن دتاتریا کیفی، ترلوک چند محروم، رام پرساد بِسمل، گوپی چند نارنگ، پنڈت ہری چند اختر ، منشی ہرگوپال تفنہ، پریم چند، رتن ناتھ سرشار، راجندر سنگھ بیدی، جوگندر پال، کرشن چندر وغیرہ اردو زبان و ادب کے چمکتے تارے ہیں۔ اگر بیچاری اردو زبان کو فقط مسلمانوں کی زبان تسلیم کیا جاۓ تو اس زبان کے غیر مسلم چمکتے تارے کس آسمان کو روشن کریں گے اور کیا انکی روشنی دائمی طور معدوم ہوجاۓ گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ آنجہانی مہاراجہ پرتاب سنگھ تھے جنہوں نے 1889میں اردو زبان کو جموں و کشمیر کی سرکاری زبان قرار دیا تھا ورنہ اس سے پہلے یہاں کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ محکمہ مال کا سارا ریکارڈ اردو زبان میں تھا مگر اس میں کچھ شک نہیں اسی محکمہ کے اہلکاروں خصوصاً پٹواری صاحبان نے اس خوبصورت زبان کا ستیاناس کیا اور اس طرح انتخاب وغیرہ تحریر کرتے ہیں کہ بقولِ غالب
"کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی"