مضامین
ڈرگ فری سماج! میں نشے میں ہوں

7006883587
لیفٹنٹ گورنر جموں کشمیر یوٹی منوج سنہا صاحب کو صدبار مرحبا ہزار بار آفرین کہ انہوں نےجموں کشمیر میں منشیات کی بڑھتی وبا کے خلاف فیصلہ کن جنگ چھیڑی ہوئی ہے ۔ یوٹی کے باشعور عوام اس جنگ میں اُن کے دوش بدوش کھڑے ہیں اور دلی خواہش رکھتے ہیں کہ آپ کی ولولہ انگیز قیادت میں ’’نشہ مکت کشمیر ‘‘کا عوام دوست پروگرام بتمام وکمال کامیابی کے زینے طے کرے ۔ جموں کشمیر کی تاریخ ایل جی صاحب کو اور چیزوں کے علاوہ خاص طور پر انتظامی شعبوں میں بدعنوانیوں کے خلاف پر وایکٹیو رول اور منشیات اسمگلروں کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کے حوالے سے فخراً یاد کرے گی ۔
افسوس کی بات ہے کہ اندھ کاری گن کلچر کےما بعد اب گزشتہ کئی برس سے ہماری نو خیز جوانیوں کو نشہ بازی کے جان لیوا زہر میں مست ومدہوش کیا جارہاہے ۔ یہ ایک منظم سازش ہے تا کہ’’ رشی وأر اور پیر وأر‘‘ کہلانے والا ہمارا وطن امن واستحکام کی برکات سے ہمیشہ تہی دامن رہے۔ ہزار ہزار شکر کہ منشیات کا زہر نئی نسل کے جسم وجان میں سرایت کر انے کے ذمہ دار بڑے بڑے راکھشس روز پولیس کے ہتھے چڑھ رہے ہیں ‘ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب پولیس اپنے مسلسل چھاپوں اور ناکوں سے اس دھندے میں ملوث مجرموں کی گردن قانون کی رسی سے ناپنے میں کامیاب نہیں پا رہی۔ بلاشبہ منشیات کے خلاف وسیع پیمانے پر جاری انسدادی ایکشن ہماری نئی نسل کے لئے بمنزلۂ آب ِ حیات ہے ۔ ہمارا بھی فرض بنتا ہے بہترین پولیسنگ سے جب ہمارے بچے اور بچیاں ڈرگس کے نرگ میں سر کے بل جانے سے بچائے جارہے ہوں تو اس کےلئے امن وقانون کے محافظوں کی کھلے دل سے سراہنا کی جائے ۔ حکام کی ڈرگ مخالف ہمہ گیرکاوشوں کا واحد ہدف یہ ہے کہ نوجوان نشہ بازی کے مایا جال میں پھنس جانے سےروکے جاسکیں تاکہ یہ نشےکے خمار میں اپنی زندگی اُجاڑنے کے مجرم بن جائیں نہ اپنے والدین کے اَرمانوں کا گلا گھونٹھنے والے اور نہ ہی سماج کو اخلاقی زوال سے دوچار کرنے میں بلا روک ٹوک آگے بڑھ سکیں۔ یہ بات تشریح کی محتاج نہیں اگر کوئی نو جوان چرس‘ گانجا ‘افیون اور دیگر نشہ آور چیزوں کی لت میں غرق ہوکر پولیس تھانوں کا ہسٹری شیٹر کہلائے ‘ گھر والوں کے ماتھے پر بدنامی کا کلنک اور سماج کی پیشانی پربے توقیری کا داغ لگا نے والا ہوجائے ‘ تو خودایسے بچے اوراس کے ماں باپ کے لئے اور کیا بدنصیبی ہوسکتی ہے ؟ بہر صورت نشہ مخالف جنگ کا ہراول دستہ جموں کشمیر پولیس ہو نے کی بنا پر اُمید کی گنجائش نکلتی ہے کہ جنگ میں جیت کاسہرا جموں کشمیر پولیس کے سر بندھے گا ‘ اور جموں کشمیر میں مکمل نشہ بندی کا نشانہ پایا جائے گا ‘مگر یاد رکھیں کہ اس جنگ کو محض پولیس کے ڈنڈے اور قانون کے خوف سے ہی مکمل طور نہیں جیتا جاسکتا جب تک کہ عوام الناس‘ والدین ‘ علما‘ دانش ور اور سماجی کارکن خلوصِ نیت کے ساتھ اس نیک مشن میں اپنا بھر پورا مدادی کردار نہیں نبھاتے اور متعلقہ حکام کویہ نیک انجام فریضہ ادا کرنے میں بلا جھجھک اپنا تعاون واشتراک پیش نہیں کرتے ۔
اس جنگ کے کثیر الجہت مقاصد ہیں‘ مثلاً منشیات کی وبا کو جموں کشمیر میں جڑسے اُکھاڑ پھینکنا‘ اس ناجائز دھندے میں ملوث مجرموں کو پکڑ پکڑ کر قرارر واقعی سزا دلانا‘ نشہ آور اشیا کی خرید وفروخت سے حاصل حرام کمائی پر بنائی گئیں جائدادیں ضبط کرنا اور نشہ بازی کے مضر اثرات کے خلاف رائے عامہ منظم کر کے لوگوں کو یہ آگہی دینا کہ اُن کا امن وسکون اور اُن کے بچوں کا تعمیری مستقبل ڈرگس فری زندگی سے ہی مشروط ہے ۔ والدین کے رگ وپے میں یہ احساس جاگزیں کرنا بھی اس جنگ کے اہداف میں شامل ہے کہ والدین اپنے لاڈلوں کو موج مستی کے لئے کھلا نہ چھوڑا کریں بلکہ ان کی اخلاقی تربیت کی طرف خصوصی توجہ دیں ‘ان کے دوستوں اور ہم جولیوں کے مزاج ‘ دلچسپیوں اور اُفتاد ِ طبع پر کڑی نظر رکھیں ‘ بچوں کےمعمولات و عادات کا متواتر جائزہ لیتے رہیں تاکہ منشیات فروشوں کا شیطانی جال ان پر کسی صورت اثر انداز نہ ہو پائے ۔ بالفاظ دیگر نشہ مکت کشمیر محض ایک نعرہ نہیں بلکہ سماج کے لئے اخلاقی تعمیر نو کا حامل ایک انقلاب آفرین کام ہے ۔اس کا لب ولباب یہی ہےکہ اس سرزمین کا اصل اثاثہ یعنی نوجوان پود نشہ بازی کی تباہ کن لعنت و آفت کے چنگل سے آزاد ہو ۔ انہی مثبت مقاصد کا پرچم لئے اَنٹی ڈرگ ڈرائیو سے موسوم رواں حکومتی پروگرام شد ومد سے جاری وساری ہے ۔ سچ پوچھئے اگرنشہ بندی کی یہ ہمہ گیر جنگ پوری سنجیدگی ‘ استقامت اور فعالیت کے ساتھ جاری رہتی ہے تو وہ وقت دور نہیں جب بہتر ین پولیسنگ کے سہارے جموں کشمیر میں برسوں پہلے جنم پائے سماجی انتشار کی باقیات کا خاتمہ ہوگا‘ اخلاقی بگاڑ کے ذمہ دار فسادی عناصر نیست ونابود ہوں گے‘ جرائم پیشہ لوگوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کی سرکوبی ہوگی ‘ عوام کو شرپسندی اور سماج دشمنی جیسی موذی بیماریوں سے نجات ملے گی ۔ اس سے ممکن ہے کہ اس سرزمین کی شان ِ رفتہ بحال ہو سکتی ہے ۔ بنابریں منشیات مخالف سرگرم مہم عوام کے لئے بیک وقت ایک اہم ویک اَپ کال بھی ہے‘ حال کو سنوارنے کا نیک فال اور مستقبل کی تعمیر کے لئے ایک جاندار مشن ہے ۔ لہٰذا شاید ہی اس پروگرام کی معقولیت وافادیت پر شاید ہی کسی سلیم الفطرت انسان کواختلاف ہوسکتا ہے۔
گزشتہ دس پندرہ روز سے ڈَرگ فری کشمیر کا طبل ِ جنگ بجا تو لگ بھگ تمام اضلاع میں دیکھا جارہاہےکہ پولیس غیر معمولی رفتار سے منشیات اسمگلروں کے تعاقب میں لگی ہے ‘ دھندے بازوں کی مسلسل پکڑ دھکڑ ہورہی ہے، اُن کے خلاف پے در پے پولیس ایف آئی درج ہورہے ہیں ِ‘ اسمگلروں کی غیرقانونی جائیدادوں کی ضبطیاں عمل میں لائی جارہی ہیں ۔ بہت ناسپاسی ہوگی اگر یوٹی کے تمام شہری منشیات کے خلاف زوردار انسدادی کارروائی پر ایل جی صاحب کا دل سےشکر یہ ادا نہ کریں کہ آپ نے منشیات کے سمِ قاتل کے خلاف ابھیان کی شروعات کر کے جموں کشمیر پر ایک بڑااحسان کیا ہے ۔ پولیس حکام بھی ا س ضمن میں مبارک کے حق دار ہے کہ انہوں نے منشیات کی قبیح بدعت اور منشیات فروشوں کا قلع قمع کر کے ہی دم لینے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ یہاں یہ لکھتا چلوں کہ یہاں کی نوخیز نسل کو نشے کی اندھیر نگری سے نکال باہر کرنے کے اس قابلِ ستائش َ مشن کی تکمیل میں لوگوں کو اپنا حصہ لازماً ڈالنا چاہیے ‘ انہیں عملی طور دکھانا ہوگا کہ یہ پوتر مشن اکیلے ایل جی صاحب ‘ ڈی جی پولیس اور انتظامی مشنری تک محدودنہیں بلکہ وطن کے تمام باشعور شہریوں کا مشترکہ درد ہے اور اخلاقی فریضہ ہے ۔ یقین مانئے کہ اس جنگ میں پولیس کی مکمل فتح سے نہ صرف ہماری جواں نسل کا بھلا ہو گا بلکہ اُن کی صلاحیتیں تعمیری خطوط پرپروان چڑ ھیں گی اور تاریخ کے سفر میں ہمیں کبھی چرب دست اور تر دماغ ہونے کا جو تمغہ ملا تھا ہے‘ وہ پھر سے ہمارے حال اور مستقبل کے تعلق سے ہمارے ماتھے کا جھومر بنارہے گا ۔ یہ جنگ اپنے منطقی انجام تک پہنچے تو بچوں کے خوش عنوان مستقبل کا خواب دیکھنے والے والدین کے تمام خواب شرمندہ ٔ تعبیر ہوں گے۔ شرط یہی ہے کہ ڈرگس کے قلع قمع کرانے کے انسان دوست پروگرام میں ہم سب کماحقہ اپناکنٹریبوشن دیں اوریہ چومکھی جنگ لڑنے ولے فرنٹ لائن سپاہیوں کا حوصلہ اپنی دعاؤں سے بھی بڑھائیں۔
منشیات کے شیطانی گورکھ دھندے نے ہمارے سماج کو کس حد تک اپنےآہنی پنجوں میں جکڑ اہوا ہے‘ اندسے کتنا کھوکھلا کیا اس کی ایک مثال اور کہانی ڈھونڈیئے توہزار مثالیں اور کہانیاں آپ کے رُوبرو جادوئی چراغ کے جن کی طرح حا ضر ہوں گی ۔ ایسی ہی ایک سنسنی خیز کہانی نشہ بازی کے شکنجے میں پھنسے کسی ڈاکٹر کے بارے میں سنی تو پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ گرچہ یہ بات بلا خوف ِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ ڈاکٹر کا سماجی مقام اونچا ‘ اخلاقی وزن بھاری بھرکم ‘ پیشہ مریضوں مسیحاصفت ہوتا ہے کہ ڈاکٹر دوا کی صورت میں شفا بانٹتاہے‘ مایوس دلوں کے لئے اُمید کا چاند تارا ہوتا ہے ‘ امراض کے کانٹوں کو صحت یابی کے گلدستوں میں بدل دیتا ہے‘ لیکن اگر خیر سے وہی ڈاکٹر ڈرگ اَڈکٹ ہو تو ہم اسے کل یُگ کے علاوہ اور کیا کہیں ‘ یہی تو قیامت کا حشر ہے۔ بلاشبہ مقام ِ شکر ہے کہ خرابی ٔ بسیار کے باوجود ڈاکٹری پیشے میں ابھی تک تقدس مآبی کا دم خم باقی ہے مگر استثنائی صورت ہی سہی مذکورہ مہاشئے بھی ڈاکٹروں کی قابل ِ احترام صف میں موجود ہے جس کے بارے میں معلوم ہوا کہ اچھے خاندانی پس منظر اور خداداد لیاقت کے باوصف وہ بری سنگت میں آکر منشیات کی تاریکیوں میں اتنا بھٹک گیا کہ دن رات نشے کے خمار میں دُھت رہنا اس کی زندگی کا شعار بنا ‘ اور اگر اس کی شریف النفس ڈاکٹر بیوی اپنے نشئی شوہر کی بری عادت پر ناراضگی جتاتی یا روکتی ٹوکتی تو یہ حضرت بگڑ کر اسےکھری کھوٹی بھی سناتا اور ہاتھ اُٹھاکر بھی اس کامنہ بند کرنا اپنا خدائی اختیار سمجھتا۔ حتیٰ کہ اپنی دو معصوم بیٹیوں کی مارپٹائی پر اُتر نے میں بھی اسے کوئی پس وپیش نہ ہوتا۔ کبھی ساس سسر نے عادت نما لعنت پر خفگی ظاہر کی تو ان کا بھی زدوکوب کیا ۔ تنگ آکر شرافت کی پتلی ڈاکٹرن نے حیوان صفت نشہ باز شوہر سے علحٰیدگی اختیار کی اور اب شاید معاملہ عدالت میں آچکا ہے ۔ اسی طرح ایک ذہین وفطین لڑکی اور دو بھائیوں کی اکلوتی خوب صورت بہن کے بارےمیں کانا پھوسی کے پیرائے میں پتہ چلا کہ اس کے شریف اور بااخلاق والدین شدید ترین ذہنی عذاب سے گزر رہے ہیں کیوں کہ اُن کی یہ بالغ عمر لاڈلی بیٹی جو کشمیر سے باہر بہت ہی شاندار طریقے پر تعلیم پارہی تھی‘ میرٹ میں یکتا اور ہونہاری میں مثال تھی‘ وہ کالج میں بری صحبت و نشہ باز ذہنیت والی سہیلیوں اور رُوم میٹس کے ذریعے بہت آسانی سےڈرگ اڈکشن کی سُولی چڑھی ‘ بہت جلدماں باپ کی ہمہ وقت نگرانی سے دور نشے کی عادی بن کر وہ کیا خاک پڑھائی لکھائی کرتی‘ قلم کتاب سے رشتہ ناطہ توڑ کر گھر سے آنےوالی پائی پائی اپنےنشے میں پھونکتی رہی ‘ حدیہ کہ بڑے لاڈ سے ماں دی ملی قیمتی ڈائمنڈانگوٹھی اور سونے کی چوڑیاں تک نشہ کی ایک پُڑیا کے لئے دُھواں کرگئی۔ کسی طرح کالج کی ایک صالح مزاج طالبہ نے چوری چھپے لڑکی کے ماں باپ کو فون پر یہ بری اطلاع دی مگراُس وقت بہت دیر ہوئی تھی ۔ والدین سینہ پیٹتے روتے بلکتے بچی کے ہاسٹل میں پہنچ گئے تو اُن پر یہ دیکھ کر ناگہانی آفت ٹوٹ گئی کہ لاڈلی بیٹی کمرے میں دوسری سہیلیوں کے ساتھ مدہوش پڑی ہے‘ کپڑے تارتارہیں‘ حال ہوش سے بے خبر‘ بس ایک زندہ لاش۔ میاں بیوی اپنی بے خبری پر کف ِافسو س ملتے رہے کہ رانی بٹیا تو منشیات کی دودھاری تلوار سے اپنی تکابوٹی کرچکی ہے ۔ کو ئی مزید تاخیر کئے بغیر انہوں نےواپسی کی ٹکٹ لے لی تاکہ اس کے بعد ایسی مزید رسوائیاں دیکھنا نہ پڑیں جو سماج میں اُن کی عزت کا شیشہ توڑ دیں۔ بچی نے پہلے گھر آنا نہ مانا مگر آخر اس کڑی شرط اور مضبوط وعدے پر طیارے میں قدم رکھا کہ گھر میں قید ہوناقبول ہوگا مگر زہر کی پُڑیا یعنی نشہ چونکہ اُ س کے لئے سانسوں سے زیادہ اہم ہے‘ اس لئےوالدین پابند ہوں گے کہ باقا عدگی کے ساتھ بیٹی کو منشیات فراہم کریں گے۔ اس کے بعد کیا ہوا اُس کاپتہ نہیں ۔ یہاں میں طوالت کے خوف سے اُردو افسانہ کے معمارِ اول منشی پریم چند کے افسانہ’’ کفن‘‘ کے دو اہم کرداروں ۔۔۔ مفلوک الحالی اور بھوک سے بدحال گھیسو( باپ ) اور مادھو( بیٹا)۔۔۔ کی نشہ بازی کی کہانی کاخلا صہ نہیں پیش کرسکتاکہ انہوں نے کس طرح دردِ زہ میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے والی بدھیا کے کفن دفن کے لئے چندے کوبھی نشہ میں اُڑاڈالا۔ نشہ بازی کے سلگتے موضوع پر قدرت اللہ شہاب ‘ سجاد حیدیلدرم ‘ سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کے فن پارے ہمیں بتاتے ہیں کہ انسانی تہذیب کے لئے نشہ بازی موت کا پیام بر ہے اور سماج کواس بدترین لعنت سے نجات دینے کے لئے انسدادی کارروائیوں اور اصلاحی تحاریک کی اشد ضرورت ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور آج اصلاح ِ ِاحوال کے ضمن میں’’ نشہ مکت کشمیر‘‘ کی سرکاری مہم ہم سب پر ایک اہم فریضہ اور ذمہ داری عائد کرتی ہے ۔