Ad
مضامین

نشہ مکت جموں و کشمیر، ایک اجتماعی ذمہ داری اور روشن مستقبل کی ضمانت۔

✍️ :۔ اظہر نصیر /   


انسداد منشیات کارکن

نشہ ایک خاموش زہر ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی زندگی کو ختم کر دیتا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کے خاندان، معاشرے اور پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ جب ایک نوجوان نشے کا شکار ہوتا ہے تو اس کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں، اس کی صلاحیتیں ضائع ہو جاتی ہیں، اور وہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نشہ ایک مہلک وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا مقابلہ ہر سطح پر کرنا ضروری ہے۔

آپ اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ کتنے ہی نوجوان اپنی تعلیم، اپنی صحت اور اپنے مستقبل کو نشے کی وجہ سے کھو رہے ہیں۔ ایک قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ جب یہی نوجوان کمزور پڑ جائیں تو قوم کی ترقی رک جاتی ہے۔ نشہ انسان کے دماغ پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ یہ سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان برائی کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔

نشے کے پھیلاؤ کی کئی وجوہات ہیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔ جہالت ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ جب انسان کے پاس علم نہیں ہوتا تو وہ آسانی سے غلط راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ بے روزگاری بھی نوجوانوں کو مایوسی کی طرف دھکیلتی ہے اور وہ غلط صحبت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ذہنی دباؤ اور مسائل سے فرار کی کوشش بھی نشے کی طرف لے جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی لاپرواہی بھی اس مسئلے کو بڑھاتی ہے کیونکہ جب معاشرہ خاموش رہتا ہے تو برائی کو بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔

اس وبا سے نمٹنے کے لیے تعلیم کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے اور اسے صحیح اور غلط میں فرق کرنا سکھاتی ہے۔ جب ایک نوجوان تعلیم یافتہ ہوتا ہے تو وہ نشے کے نقصانات کو بہتر طریقے سے سمجھتا ہے اور اس سے دور رہتا ہے۔ اسی لیے ہمیں یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ Say no to drugs, yes to education۔ یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی راستہ ہے جو نوجوانوں کو محفوظ مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔

گھر کا ماحول بھی اس حوالے سے بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور ان کی رہنمائی کریں۔ ایک مضبوط خاندانی نظام نوجوانوں کو غلط راستوں سے بچاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص نشے میں مبتلا ہو تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی مدد کی جائے اور اسے بحالی کی طرف لایا جائے۔

گورنمنٹ، سول انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ اس سلسلے میں قابل ستائش کام کر رہی ہیں۔ منشیات کے خلاف کارروائیاں تیز کی جا رہی ہیں اور عوام میں آگاہی پیدا کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں عزت مآب لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا صاحب کی جانب سے سو دن کی نشہ مکت جموں و کشمیر مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ یہ مہم جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف منشیات کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے بلکہ نوجوانوں کو ایک محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر اس مہم کو کامیاب بنائیں۔ ہر فرد کو اپنی سطح پر کوشش کرنی ہوگی۔ آپ اپنے گھر سے آغاز کریں، اپنے دوستوں کو آگاہ کریں، اپنے معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ اجتماعی کوشش ہی اس مسئلے کا حل ہے۔ جب پوری قوم ایک مقصد کے لیے کھڑی ہو جائے تو کوئی بھی چیلنج مشکل نہیں رہتا۔

یاد رکھیں کہ نشہ صرف ایک فرد کی تباہی نہیں بلکہ ایک قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر ہم نے آج اس کے خلاف قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اس لیے آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ تعلیم اور شعور کا راستہ اپنائیں اور نشے کو ہمیشہ کے لیے مسترد کریں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے اور یہی ایک مضبوط اور خوشحال قوم کی بنیاد ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!