ادب
انشائیہ: بہانہ بازی

بہانے محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر ہنر ہیں جس نے ہماری اجتماعی زندگی کو سہارا دے رکھا ہے۔ اگر بہانے نہ ہوتے تو نہ جانے کتنے لوگ اپنی عزتِ نفس کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتے۔ یوں سمجھیے کہ بہانہ ہماری تہذیب کا وہ ستون ہے جس پر ہماری روزمرہ زندگی بڑی شان سے کھڑی ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ محنت کیا کرتے تھے، مگر جیسے جیسے ترقی ہوئی، ہم نے محنت کو پسِ پشت ڈال کر بہانوں کو آگے بڑھا دیا۔ اب حالت یہ ہے کہ اگر کسی کو کام نہ آئے تو پریشانی نہیں ہوتی، البتہ اچھا بہانہ نہ آئے تو ضرور پریشانی لاحق ہو جاتی ہے۔ اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے نہ کسی یونیورسٹی کی ڈگری درکار ہے اور نہ کسی استاد کی باقاعدہ تربیت—یہ ہنر تو ہمارے ہاں گھٹی میں پڑا ہوتا ہے۔
سیاست دانوں کو ہی لیجیے۔ انتخابات کے دنوں میں وہ وعدوں کی ایسی فصل بوتے ہیں کہ عوام کو بہار کا گمان ہونے لگتا ہے، مگر جونہی نتائج آتے ہیں، وہی فصل بہانوں کے کھیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہر وعدہ ایک نئے بہانے کی بنیاد رکھتا ہے، اور یوں یہ سلسلہ اگلے انتخابات تک چلتا رہتا ہے۔ مذہبی و سماجی حلقے بھی اس نعمتِ غیر مترقبہ سے محروم نہیں۔ جب علم کم اور سوال زیادہ ہوں تو بہانہ بہترین ڈھال بن جاتا ہے۔ یوں ہر کمزوری کو “مصلحت” اور ہر غلطی کو “مجبوری” کا نام دے کر معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹا دیا جاتا ہے۔
تعلیمی اداروں کا حال تو اس سے بھی زیادہ دلکش ہے۔ استاد پڑھائیں یا نہ پڑھائیں، ایک معقول سا بہانہ جیب میں ضرور رکھتے ہیں۔ طلبہ بھی کسی سے کم نہیں—سبق یاد نہ ہو تو بہانہ، کام مکمل نہ ہو تو بہانہ، اور اگر امتحان میں ناکامی ہو جائے تو ایسا مدلل بہانہ پیش کرتے ہیں کہ سننے والا خود کو قصوروار محسوس کرنے لگے۔ کاہل افراد کے لیے بہانے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ وہ جادوئی چادر ہے جس کے نیچے وہ اپنی سستی کو چھپا لیتے ہیں۔ یوں وہ نہ صرف خود مطمئن رہتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ قصور حالات کا ہے، ان کا نہیں۔ طلبہ تو اس فن کے سچے علمبردار ہیں۔ تاخیر سے آنا ہو، غیر حاضری کو جائز ٹھہرانا ہو یا امتحان میں ناکامی کی توجیہ پیش کرنی ہو—ہر موقع کے لیے ایک نیا، تازہ اور دلکش بہانہ ان کے پاس تیار ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر بہانہ سازی کو باقاعدہ مضمون بنا دیا جائے تو ہمارے طلبہ امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوں۔
مگر تاریخ کا ایک عجیب پہلو یہ بھی ہے کہ جن قوموں نے ترقی کی، انہوں نے بہانوں کو ترک کیا۔ انہوں نے اپنی کوتاہیوں کا سامنا کیا، انہیں تسلیم کیا اور انہیں درست کرنے کی کوشش کی۔ ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے ہم غلطی کو درست کرنے کے بجائے اس کے لیے ایک نیا بہانہ تراش لیتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اس “عظیم ہنر” کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں؟ شاید نہیں—کیونکہ ہم نے اسے ضرورت سے زیادہ اپنایا ہے۔ مگر اگر ہم نے واقعی ترقی کرنی ہے تو ہمیں بہانوں کے اس سہارے کو چھوڑ کر حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ ورنہ ہم یونہی بہانے بناتے رہیں گے… اور ہماری حالت بھی ایک مستقل بہانہ بنی رہے گی۔