Ad
مضامین

نزولِ قرآن کا مقصد

✍️:. مفتی محمداشرف ملک 


قرآن انسانیت کے نام خدا کا آخری پیام،  رب چاہی زندگی گزارنے کیلئے ربانی ہدایات کا مجموعہ،  اور  رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے. 

سوچ سمجھ کر شعوری طور پر قرآن پاک سے اخذ و استفادہ کرکے قرآن کا مطلوب انسان بن کر عباد الرحمٰن میں شامل ہونا قرآن کا بنیادی تقاضا ہے. قرآن کریم سمجھے بغیر خدا کی معرفت،انسان کی حیثیت،  کائنات کی حقیقت،  ہدایات ربانی کا ادراک،  راہِ راست کا تعین،راہِ نجات پر گامزن ہونا اور منزلِ مقصود کی رسائی مشکل ہی نہیں،  ناممکن ہے. 

گر تو می خواہی مسلمان زیستن 

نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن 

قرآن کتابِ ہدایت ہے،اس سے ہدایات وصول کرکے نظر وفکر کا قبلہ درست کرنا، اس کے سانچے میں اعمال،اخلاق  اور روزمرہ معاملات ڈھالنا، عملی تفسیر بن کے قرآنی رنگ میں رنگنا،  یہ جب ہی  ممکن ہے جب انسان سرکی آنکھوں کے ساتھ ساتھ قلب وذہن کی آنکھیں بھی وا رکھے گا ـ قرآن کریم کو اگرچہ یہ اعزاز و شرف حاصل ہے کہ ساڑے چودہ سو سالہ تاریخی تسلسل سے دنیا میں سب  زیادہ پڑھی جانے والی کتاب "قرآن کریم "ہے. ـ 

تاریخ کے ہر دور میں امت کی عبقری شخصیات , نابغہ روزگار ماہرینِ قرآنیات نے قرآنی تفسیر وتفہیم میں  عمریں کھپائیں ، علومِ قران کے ہر گوشے کو  روزِ روشن کی طرح عیاں کیا ہے. دنیا کی ہر زبان میں قرآن فہمی کا آسان مواد مہیا کرکے ہر فردِ بشر کیلئے قرآن سے  راست تعلق جوڑنے کا موقع فراہم کیا. ـ تاہم  یہ حقیقت بھی جگ ظاہر ہے کہ قرآن خوانوں کی ایک بڑی تعداد،  بلکہ برِ صغیر کی غالب اکثریت  قرآن پر کتابِ ھدایت کی حیثیت سے ایمان رکھنے کے باوجود محض حصولِ ثواب کے لئے  صدیوں سے بے سوچے سمجھے پڑھتے آرہے ہیں ـ. 

سال بھر میں عموماً اور رمضان میں خصوصاً قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ھے لیکن بغیر سوچے سمجھے.ماہِ رمضان میں  مسلمانوں میں عبادات کا  جوش و جزبہ قابل دید ہوتا ھے .جس میں تلاوتِ قرآن کو  ایک خاص اہمیت حاصل ہوتی ھے. ہر ایک کو یہ فکر لاحق ہوجاتی  ھے کہ وہ اس مہینے میں کتنی بار قرآنِ کریم کو تلاوت کرکے ختم کرتا ہے۔ چونکہ ہم رمضان میں عبادات کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں اس لئے اگر ہم اس مہینے میں قرآن کو سمجھنے کا بھی اہتمام کرلیں تو زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔  قرآن کو جتنا سمجھیں گے اُتنا ہماری زندگی میں نکھار آتا چلا جائے گا۔ لیکن اس سمجھنے کے عمل میں ایک چیز رکاوٹ ہے اور وہ ہے قرآن کے بارے میں ہمارا تصور۔

برِصغیر پاک و ہند میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو جو چیز اُس کو سمجھنے میں سب سے زیادہ مشکل ہوتی ہے وہ ہے قرآن۔  اُس کی سب سے بڑی وجہ جو بنتی ہے وہ یہ کہ اُسے یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے اور یہ انسانوں کی فلاح کے لئے اُتاری گئ ہے۔ لیکن وہ کسی کو بھی اس کتاب کو اپنی فلاح کے لئے استعمال کرتے ہوئے نہیں دیکھتا۔ اس کے برخلاف وہ قرآن کو ان کاموں کے لئے دیکھتا ہے. 

قرآن کا تعویز بنا کر گلے میں ڈال لیا جاتا ہے

دلہن کو رخصت کرتے وقت اُس کے سر پر قرآن رکھا جاتا ہے

قرآن کے حروفِ مقطعات کی لوح بنا کر گھروں میں لٹکائی جاتی ہے

قرآن کی مختلف صورتوں کو فریم کرکے گھروں میں لٹکایا جاتا ہے

کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو اُس کے ثواب کی خاطر قرآن پڑھا جاتا ہے. 

 کیا قرآن ان میں سے کسی ایک بھی کام کے لئے اُتارا گیا ہے؟ 

مسئلہ اتنا ہی نہیں کہ عام مسلمان  قرآنِ پاک سمجھ نہیں پاتا.

لمحہ فکریہ تو یہ ھے :

ہر زبان میں تراجم و تفاسیر ہونے کے باوجود 

پڑھا لکھا طبقہ بھی ان پڑھوں کے طرح چند رٹی رٹائی سورتوں سے کام چلاتا ھے.

خوار از مہجوری قرآن شدی

شکوہ سنج گردش دوران شدی

تیری ذلت کا اصل سبب یہ ہے کہ تو نے قرآن کو چھوڑ دیا 

اور تو  زمانے کی گردش کے شکوے کرنے لگا ۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر

اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر

حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کے بارے میں بار بار فرماتا ہیں  :

وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۱۷﴾

اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟

هَـٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَاب (سورہ ابراہیم 52)

(یہ ایک اعلان ہے تمام انسانوں کے لئے تاکہ انھیں خبردار کیا جائے اس کے ذریعے سے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں وہی ہے معبودِ یکتا اور اس لئے  کہ عقل مند لوگ نصیحت  حاصل کریں  )

قرآن سب انسانوں کے لئے نصیحت ہے.

ایک نکتہ غور کرنے کا یہ بھی ہے کہ قرآنِ کریم کو تمام انسانوں کے لئے ایک اعلان کہا جا رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ قرآن ایک ایسی شکل میں اُتارا گیا ہے کہ ایک عام آدمی اس کو سمجھ سکے۔ اس نکتہ کو دوسری آیتوں میں کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا (سورہ الکہف آیت 1)

سب تعریف اللّہ ہی کے لئے ہے جس نے نازل فرمایا اپنے بندے پر یہ کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی  پیچیدگی .

اسی طرح سورہ الحدید کی سترہویں (17) آیت کا آخری حصہ

۔۔۔۔۔۔ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

بے شک کھول کھول کر بیان کردی ہیں ہم نے تمھارے لئے اپنی نشانیاں تاکہ تم عقل سے کام لو

سورہ القمر میں کچھ اس طرح ہے

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ (آیت 17)

اور بلاشبہ آسان بنادیا ہے ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے سو کیا ہے کوئ نصیحت قبول کرنے والا

وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا (سورہ الفرقان 73)

اور وہ لوگ جنھیں اگر نصیحت کی جاتی ہے اپنے رب کی آیات سناکر تو نہیں گرتے اُس پر بہرے اور اندھے بن کر ( بلکہ غور سے سنتے ہیں)

كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (سورہ ص آیت 29)

یہ کتاب جسے نازل کیا ہے ہم نے تمھاری طرف بڑی برکت والی ہے اور ( نازل کی ہے) اس غرض سے کہ غور و فکر کریں اس کی آیات پر اور نصیحت حاصل کریں (اِس سے) عقل و شعور رکھنے والے

سورہ ق کی آخری آیت میں بیان ہے

نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ (45)

ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ بنارہے ہیں اور نہیں ہو تم ان سے جبراً بات منوانے والے۔ سو تم نصیحت کرتے رہو قرآن سے ہر اُس شخص کو جو ڈرتا ہو میری ( عزاب کی) وعید سے

وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ( سورہ الزّاریات آیت 55)

اور نصیحت کرتے رہو اس لئے کہ نصیحت فائدہ پہنچاتی ہے اہلِ ایمان کو

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ ( سورہ التکویر آیت 27)

نہیں ہے قرآن مگر نصیحت سب اہلِ جہاں کے لئے

سورہ الغاشیة کی آیت 17 سے 22 میں اور زیادہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (17) وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ (18) وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ (19) وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ (20) فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ (21)لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ (22)

تو کیا نہیں دیکھتے یہ، اونٹ کو کہ کیسا پیدا کیا گیا ہے؟ (17) اور آسمان کو کہ کیسا بلند کیا گیا ؟(18) اور پہاڑوں کو کہ کس طرح جمائے گئے ہیں؟ (19) اور زمین کو کہ کس انداز میں بچھائ گئ ہے؟ (20) تو (اے نبی صلّی اللّلہ علیہ وسلّم) تم نصیحت کرتے رہو تم ہو بس نصیحت کرنے والے (21) نہیں ہو تم اُن پر کوئ جبر کرنے والے(22)

اس قسم کی بے شمار آیات قرآنِ پاک میں موجود ہیں . جن سے قرآن کریم کا مقصدِ نزول واضح ہوتاھے . کہ نزول قران کا مقصد انسانیت کی ہر معاملے میں رہنمائی اور راہِ اعتدال کا تعین ھے . جس صراطِ مستقیم پر گامزن ہو کے انسان منزلِ مقصود تک پہنچ کے دونوں جہان کی کامیابیوں سے سرفراز ہوسکتاھے . لیکن اس کیلے لازمی ہے کہ ہم قران کریم سوچ سمجھ کے پڑھے . اس میں تفکر اور تدبر کریں . اور اپنے دل و دماغ میں بسا کر اس کی عملی تفسیر بن جائے. 

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب

گِرہ کُشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشّاف

تو آئیے  رجوع الی القرآن کرتے ہیں!  زیادہ سے زیادہ وقت قرآن خوانی,  قرآن دانی اور قرآن فہمی میں گزارنے کا عہد کرتے ہیں. 

قرآن کے فوائد و ثمرات حتی المقدور سمیٹنے کی شعوری کوشش کرتے ہیں.   

مقدار کے بجائے معیار پر دھیان دیتے ہیں. 

ورنہ میدان محشر میں رب کی بارگاہ رسول اللہ کی شکایت کا سامنا کرنا پڑے گا. 

وَقَالَ الرَّسُوۡلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِى اتَّخَذُوۡا هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَهۡجُوۡرًا ۞

اور اس دن رسول علیہ السلام کہیں گے کہ اے میرے پروردگار میری  قوم نے اس قرآن کو بالکل نظر انداز کر رکھا تھا۔

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں

اللہ کرے کہ تجھ کو عطا جدّتِ کردار

(نشرِ مکرر)



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!