Ad
مضامین

اے ماہ ِ رمضان الوداع

✍️:. ش م احمد / سرینگر 


7006883587

  ہے بے قرارہر روزہ دار   

 دل غم زدہ سب نیم جاں 

نم دیدہ ہے سار اجہاں

اے ماہِ غفراں الوداع  

  صیام:

 اے بندہ ٔ خدا!یہ شاعرانہ نالہ وفریاد چہ مطلب دارد ؟ تمہاری آواز سوز وگداز میں ڈوبی ‘ آنکھیں آنسو ؤں سے تر‘ جسم پر کپکپاہٹ طاری‘ دل میں افسردگی کا ٹھاٹھیں مارتاہوا سمندرجیسےکوئی متاعِ عزیز کھوجانے کا رنج لگا ہو۔ یہ سب ٹھیک ہے ‘ تمہارے نالوں میں خلوص و بے ریائی اپنی جگہ مگر یہ نہ بھولنا کہ بلاشبہ روزوں کی برکت سےتیس دن تک سحر وافطار کا اہتمام ‘ باجماعت نمازوں کی ادائیگی‘ دعاؤں میں سرمستی ‘ قیامِ لیل کی لذت یابی‘ تلاوتِ قرآن کا تواتر ‘ خیرات وصدقات میں سبقت کا سلسلہ اب مدہم ہو رہاہے مگر میں صیام الکریم تمہاری زندگی سے کبھی دور ہوجاؤں‘ نہیں۔۔۔یہ صرف تمہارا مغالطہ ہے‘ میں تمہاری زندگی کا ہمسفر ہوں‘ بعداز زندگی قبر وحشر کے مراحل میں تمہارا ہم قدم ہوں‘ بشرطیکہ تم روزوں کی سیکھ کو اپنا حزر جان بنانے کا راستہ منتخب کرنے میں باذن اللہ کامیاب رہتے ہو۔ کیا تمہیں قرآن وحدیث میں کوئی ایسا اشارہ ملا یا کوئی الہامی سندیسہ ارسال ہوا کہ صیام الکریم کے ہاتھوں زندگیاں بدل دینےکی ساری کدوکاوش اُنتیس اورتیس کی گنتی میں قید ہے ؟ کسی سچے اللہ والے سے سنا کہ یک ماہی ضبطِ نفس کی پٹری پر ڈالنے کے بعد رمضان ہم سےجُدا ‘ ہم رمضان کی رحمتوں سے فارغ؟ میں پوچھتا ہوں کیا درگاہِ الہٰیہ سے مقبول کوئی ایسا روزہ دار بھی ہو سکتا ہے جس کی رگ وریشے میں بس کر میں اُس سے پل بھر جدا ہو جاؤں یا وہ مجھ سے منہ پھیر لے؟ تم نے کیسے فرض کرلیا کہ کسی حقیقی مومن ومسلم سے مصافحہ معانقہ کر کے میں نے گیارہ ماہی رخصت لی ؟ میرے سادہ سے سوال کا جواب لامحالہ نفی میں ہے ‘تو پھر یہ شوال کا چاند دیکھتے ہی منبر ومحراب سے میری قیاسی جدائی کی آوازیں کیوں گونج رہی ہیں ؟ تم لوگ میری مزعومہ مفارقت پر مجلس ِغم آراستہ کر نے کیوں بیٹھے ہو؟ تم عیدالفطر کی شکرانے والی خوشیاں مناؤ کہ تمہاری زندگی سے میں کہیں دور نہیں جا رہا ہوں؟ کہیں بھی نہیں ۔ ارے بھئی میں تو روزہ داروں کی رُوحوں میں تاحیات رہنے بسنے کےلئے آیا ہوں‘ میں اُن کے ہرعمل ہرقول سے ہرآن ٹپکتا ہوں ‘اُن کی سانسوں میں ہی بستا ہوں ‘ اُن کے شب وروز کی نیک عملی سے میں ہی مہکتا ہوں‘ اُن کے بلندیٔ کردار  سےمیں ہی زندہ رہتاہوں‘ اُن کی سچائیوں سے میری ہی رگ ِ حیات نشو ونما پاتی ہے ‘ اُن کے خلوص ومحبت کی گہرائی سے میری حقیقت ہی ظاہر ہوتی ہے ‘ اُن کی انصاف پسندی کے اندر میں ہی دکھائی دیتاہوں ‘ ان کی دیانت وامانت سے میں ہی حیات ِ نو پا تا ہوں ‘ اُن کی بے ریا نمازوں‘ قرآن خوانیوں‘ ہدایت طلبی کی دعاؤں سے میرے ہی وجود کا اظہار ہوتا ہے ‘ اُن کے درود وازکار میں انہماک سے میں ہی منعکس ہوتا ہوں‘ اُن کے خفیہ وعلانیہ خیرات و صدقات سے میری ہی قبولیت متشکل ہوتی ہے‘ اُ ن کے معاملاتِ زندگی میں کھرے پن سے میرے ہی تزکیاتی عمل کی کامیابی کااعلان ہوتاہے۔ اور تم ہو کہ اپنی ہی دُھن میں خیال کر بیٹھے ہو کہ میرا کام سال کے ایک مہینے کا کلینڈر اَدلنے بدلنے تک محدود ہے۔ نہیں ‘ ایساقطعاً نہیں۔ میں اور مخلص روزہ دار ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشگی کے الحاق اور دائمی بندھن میں بندھے ہوئے ہیں ‘ ہم ایک ہی سکے کے دو رُخ ‘ ایک ہی سفر کےراہی ‘ ایک ہی منزل کے مسافر ‘ ہمارا جینا ایک ہی مقصد سے مربوط ہے۔

    سنو! اگر تم نے خدا کی خوشنودی اور رسول ﷺ کی اطاعت وفرمان برداری کے لئے تیس دن کے روزے رکھ لئے تھے تو یقین مانو تم اللہ کے چہیتے بندے ہو‘ صیام تم سے راضی‘ تم صیام سے راضی‘ اب سال کے بقیہ گیارہ مہینوں میں تم قدم قدم اپنے ایمان وضمیر کو ہر چھوٹی بڑی آزمائش کے پل صراط پر‘ ہردوراہے پر ‘ طبیعت پر گراں گزرنےو الے ہر تلخ امتحان میں قبولیت ِروزہ کے طفیل کامیاب رہوگے ‘ تم ڈٹ کر نفسانی خواہشات اور سو پردوں میں چھپ چھپائےشیطان کو ہمیشہ پچھاڑتےر ہوگے ‘ ہر اُس فوری نفع کو دل کی مکمل آمادگی کے ساتھ ٹھکراتے رہو گے جو روزوں کی رُوح ا ور مقصدیت سے متصادم ہو‘ ہر اُس نقصان پر مجبوری کے عالم میں نہیں بلکہ تسلیم ورضا کے ساتھ لبیک کہو گے جو میرے ساتھ تمہاری غیرمشروط وفا کا بھرم ایک لمحہ بھی ٹوٹنے نہ دےگا۔ یہ جو تمہاری دنیا ہے نا ‘ اوروں کی نظر میں یہ محض عیش گاہ اور آرام گاہ ہے مگر روزہ دار کے لئے یہ ایک دارلامتحان ہے ‘ یہاں اس کا اپنی حیثیت کے مطابق آزمائشوں سے پالا پڑتا رہتا ہے ‘ اُسے مشکل حالات کے بھنور سے آمنا سامنا ہوتا رہتا ہے‘ کبھی اُس کے پسند یدہ خلوص بھرے کام کا توقع کے عین مطابق نتیجہ آتا ہے مگر کبھی غیرمتوقع طور اُلٹے نتائج سے اس کی سوچ اور گمان کے بتوں کو توڑتا ہے ۔ یہ گویا اس کے لئے خدائی پیغام ہوتا ہے کہ اے بندے تم بس اللہ کے فیصلوں کے روبرو سرتسلیم خم کیا کرو اور اپنے علم و فہم کے پندار سے منہ موڑے خدائی حکمتوں کے سامنے آمنا صدقنا کی روش اختیار کیا کرو۔ یہی تعلیمات تمہیں صیام الکریم کی برکات کے صدقےاور روزوں کی قبولیت کے وسیلے ملتی ہیں ۔

 ہاں ہاں‘ یہ بات بھی گرہ میں باند کے رکھ لینا کہ میری دادادہش کوئی اندھے کی بندر بانٹ نہیں بلکہ یہ سخت اصول وشرائط اور منضبط قواعد وضوابط سے بندھی ہوئی خدائی تقسیم ہے ۔ واقعی میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بعض کوتاہ نصیب نام نہاد روزہ داروں سے ناراض ہوں اور اللہ کے دربار میں شکوہ زن ہوں کہ ان کی زندگیاں سدھارنے کی اُمید سے اس بار بھی بادل نخواستہ دست کش ہو نا پڑا۔انہی لوگوں سے جدا ہوکر خدا کے حضور ان کے خلاف یہ فرد ِجرم عائد کرنے جارہا ہوں کہ بارالہٰا! یہ ہیں تمہارے وہ سرکش بندے جنہو ں نے اپنےتیس روزہ تربیت سے دن کے فاقوں اور رات کی تھکان بھری نمازوں سے کچھ بھی حاصل نہ کیا ‘ جو نہ جانے کس منطق کی بنا پر اس خود فریبی میں مبتلا رہے کہ ہم روزے سے ہیں ‘ جنہوں نے اس مبارک مہینے کے دوران صفائی نفس اور تزکیۂ مال کے ہر سنہرےموقع کو جانے انجانے گنوادیا‘ اصلاحِ ذات کی ہر کاوش کو بے دردی کے ساتھ ضائع کیا‘ اپنے ہاتھ اور زبان سے اوروں کو نقصان اور تکلیف پہنچاننے کی گناہ گارانہ عادت سے پرہیز نہ کیا ‘ اپنے عہدہ سے جڑی قوت ‘ اپنے بااختیارقلم کی فیصلہ کن طاقت اور اپنے منصبی اختیارات کو سائلین و بے نوا عوام کی خدمت کے بجائے ان کے خلاف نا انصافیوں میں استعمال کرنےکی اپنی دیرینہ روایت وعادت جاری رکھی ‘ زبان وبیان کو جھوٹ وفحش کاری کی تبلیغ وتشہیر میں متحرک رکھنے سے ایک بار بھی پیچھے مڑکر نہ دیکھا‘ اپنے ہمسائیوں ‘ رشتہ داروں ‘ دوست احباب اور ملکی عوام کے تئیں نیک نیتی اور احسان مندی کرنے سےجان بوجھ کر پرہیز کیا ‘ مذہبی عناد اور مسلکی انتشار کی باد ِ سموم پھیلانے کا دھندا روزُوں کی حالت میں بھی منبرومحراب سے جاری وساری رکھا ‘ سرکاری محصولات کی ادائیگی اور آئین و قانون کا دامن پکڑنے کے ذمہ دارانہ اسلوب ِ کار سے بہانے بنابناکر گریزکیا‘ ناجائز منافع خوری ‘ ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹی و مضر صحت چیزوں کی تجارت سے ایک بار بھی توبہ کی توفیق نہ پائی ‘ اپنے مخصوص شعبے میں لوٹ کھسوٹ کا شیطانی سلسلہ روزہ داری کے باوجود ترک نہ کیا ‘ رسومات ِ بد سماجی بدعات اور شادی بیاہ سے متعلق فضولیات کے غیر اسلامی افعال کو زمانے کا چلن بتا کر انہیں فروغ دینے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا ‘ زکوٰ ۃ وصدقات مستحق ومحتاج لوگوں میں شریعت کے مطابق تقسیم کرنے میں ادنیٰ سی پہل بھی نہ کی ‘ رشوت اور سود کا اپنا دل پسند کام سے ایک مرتبہ بھی خوف خدا سے ہاتھ نہ کھینچا‘ اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کرکئے بازار میں صارفین سے چیزوں کے منہ مانگا دام مانگنے کی بددیانتی کو اپنا تجارتی فن جان کر دھڑلے سے جاری رکھا ‘ مساجد میں بھیڑ بھاڑ بڑھانے کا کام تو خوب کیا مگر نماز کس اصل مقصد کے لئے نمازی کو تیار کرتی ہے ‘ اُسے نظروں سے ہمیشہ اوجھل ہی رکھا ‘ عبادت کو عادتاً معمول کی مشق سمجھ کر انہیں بے ذوق طریقے پر اداکرنے کی بری عادت نہ چھوڑی‘ جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا ترک نہ کیا ‘ اللہ کے حضور گڑاگڑا کر اپنے سابقہ گناہوں کی معافی تلافی کروائی نہ اپنے اعمال نامے میں گناہوں کا بوجھ ہٹانے میں توبہ و استغفار کی خدائی رعایت سے کوئی فائدہ اُٹھایا‘ والدین اور بھائی بہن کے ساتھ حُسن ِ سلوک کا رویہ اپنانے سےعدم دلچسپی دکھائی‘ اللہ کے حلال وحرام کی روشنی میں اپنی زندگی کی کمائیوں اور خرچہ جات کا کوئی جائزہ نہ لیا کہ آیا یہ سب شریعت کے دائرے میں آتے بھی ہیں یا نہیں ۔اس کے علی الرغم جہاں موقع موسم اوردستور پایا حرام خوریوں کے لئے جابجا اپنامنہ مارا۔ کیا ایسے نا عاقبت اندیش لوگوں کے لئے یہ فرمانِ رسول ﷺ چشم کشا نہیں کہ ایک شخص لمبا سفر کرکے غبارآلودہ پراگندہ حال آتاہے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاکر دعائیں مانگتا ہے: یارب یارب مگر حال یہ ہوتا ہے کہ روٹی اس کی حرام ‘ کپڑے اس کے حرام ‘ اور جسم اس کا حرام کی روٹی سے پلا بڑھا ۔ اب کس طرح ایسے شخص کی دعا قبول ہو۔( مسلم )  

 حقیقی روزہ داروں کو عبدالفطر کی مبارک قبول ہو ۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!