Ad
مضامین

عید...... افسانہ

✍️:. خورشید احمد خورشید


واگورہ بارہمولہ

عید کا چاند نظر آتے ہی پورے محلے میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ہر طرف رونق تھی، بازاروں میں چہل پہل، گھروں میں صفائی اور نئے کپڑوں کی تیاریاں۔ مگر اسی محلے کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا کچا مکان تھا، جہاں خوشی کی یہ روشنی پوری طرح نہیں پہنچ پائی تھی۔

اس گھر میں بیوہ زینب اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کے شوہر کو فوت ہوئے تین سال گزر چکے تھے۔ عید اس کے لیے خوشی نہیں بلکہ ایک امتحان بن کر آتی تھی۔ بچوں کی آنکھوں میں نئے کپڑوں اور میٹھی سویاں کھانے کی خواہش تھی، مگر زینب کے ہاتھ خالی تھے۔

دوسری طرف اسی محلے میں حاجی صاحب کا بڑا سا پکا گھر تھا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ان کے گھر عید کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ مہنگے کپڑے، طرح طرح کے پکوان، اور مہمانوں کی لمبی فہرست۔ لیکن اس سب کے باوجود ان کے دل میں ایک عجیب سی بےچینی تھی۔

ان کا بیٹا عارف، جو ابھی جوان ہوا تھا، اس بار عید کی تیاریوں کو دیکھ کر کچھ پریشان سا تھا۔ اس نے اپنے والد سے کہا:

"ابا جان، کیا عید صرف نئے کپڑے پہننے اور اچھا کھانا کھانے کا نام ہے؟"

حاجی صاحب نے مسکرا کر جواب دیا، "بیٹا، یہی تو خوشی کے دن ہوتے ہیں، اللہ نے ہمیں دیا ہے، تو ہمیں بھی خوش ہونا چاہیے۔"

عارف نے آہستہ سے کہا، "لیکن ابا، اگر ہمارے آس پاس کچھ لوگ بھوکے ہوں، تو کیا ہماری خوشی مکمل ہو سکتی ہے؟"

یہ بات سن کر حاجی صاحب خاموش ہو گئے، مگر ان کے دل پر اس بات کا زیادہ اثر نہ ہوا۔

عید کی صبح آئی۔ مسجد میں نماز ادا کی گئی۔ لوگ ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے، "عید مبارک" کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ مگر اسی وقت عارف کی نظر زینب کے بچوں پر پڑی، جو دور کھڑے لوگوں کو دیکھ رہے تھے۔ ان کے کپڑے پرانے تھے اور آنکھوں میں ایک عجیب سی حسرت تھی۔

عارف کا دل پسیج گیا۔ وہ فوراً گھر واپس آیا اور اپنی الماری کھولی۔ اس نے اپنے نئے کپڑے نکالے اور زینب کے گھر کی طرف چل پڑا۔

دروازہ کھٹکھٹایا۔ زینب نے دروازہ کھولا تو سامنے عارف کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔

"بیٹا، خیریت؟"

عارف نے مسکرا کر کہا، "خالہ، یہ کپڑے بچوں کے لیے ہیں... اور یہ کچھ پیسے بھی ہیں، تاکہ آپ عید منا سکیں۔"

زینب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ کچھ کہہ نہ سکی، بس دعا دینے لگی۔

اسی لمحے حاجی صاحب بھی وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا اور پھر زینب کی حالت پر نظر ڈالی۔ ان کے دل میں ایک چوٹ سی لگی۔ انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ وہ کتنے خودغرض ہو گئے تھے۔

انہوں نے فوراً اپنے نوکروں کو بلایا اور کہا، "گھر سے کھانے کے برتن اور کپڑے لاؤ۔ آج ہماری عید تب مکمل ہوگی جب یہ گھر بھی خوش ہوگا۔"

دیکھتے ہی دیکھتے پورا محلہ اس گھر کے باہر جمع ہو گیا۔ کچھ لوگ کھانا لائے، کچھ کپڑے، اور کچھ نے پیسے دیے۔ زینب کے گھر میں بھی عید کی خوشی اتر آئی۔

اسی دوران محلے کے دو افراد، جو ایک دوسرے سے برسوں سے ناراض تھے، اس منظر کو دیکھ کر ایک دوسرے کے قریب آئے۔ ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔

ایک نے کہا، "ہم نے کتنی چھوٹی باتوں پر دشمنی پال رکھی تھی..."

دوسرے نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا، "آج عید ہے، آؤ سب بھلا دیں۔"

اس دن محلے میں صرف عید نہیں منائی گئی، بلکہ دلوں سے حسد، بغض اور نفرت بھی ختم ہو گئی۔ محبت، ہمدردی اور بھائی چارے کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

حاجی صاحب نے شام کو عارف سے کہا، "بیٹا، آج تم نے مجھے عید کا اصل مطلب سکھایا ہے۔ عید نئے کپڑوں یا لذیذ کھانوں کا نام نہیں، بلکہ دلوں کو جوڑنے، غریبوں کی مدد کرنے اور محبت بانٹنے کا نام ہے۔"

عارف مسکرا دیا، "ابا، یہی تو اصل خوشی ہے۔"

اس دن کے بعد اس محلے میں عید کا مطلب بدل گیا۔ لوگ پہلے دوسروں کا خیال رکھتے، پھر اپنی خوشی مناتے۔ اور شاید یہی عید کا وہ اصل پیغام تھا، جو ہم سب بھول چکے تھے۔

کیونکہ عید وہ نہیں جو ہم خود کے لیے منائیں،

بلکہ وہ ہے جو ہم دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ بن کر لے آئیں۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!