Ad
مضامین

ماہ رمضان کی جدائی اور مومن کا دل

✍️:. پیر آزاد احمد شاہ


رمضان المبارک جب اپنے اختتام کی طرف بڑھتا ہے تو ایک سچے مومن کے دل میں ایک عجیب سی بے قراری جنم لیتی ہے۔ یہ صرف دنوں اور راتوں کے گزر جانے کا غم نہیں ہوتا بلکہ اس نورانی فضا کے چھن جانے کا احساس ہوتا ہے جس میں بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہوتا ہے جس میں دل نرم ہو جاتے ہیں، آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں، اور زبانیں ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتی ہیں۔ جب یہی کیفیت رخصت ہونے لگتی ہے تو مومن کا دل جیسے خاموشی سے رو پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس مہینے کی عظمت کو یوں بیان فرمایا: "شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ" (البقرہ: 185)۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا، جو ہدایت، روشنی اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے۔ اسی لیے رمضان میں مومن کا دل قرآن کے ساتھ ایک خاص تعلق محسوس کرتا ہے۔ تلاوت کی لذت، آیات پر غور و فکر، اور ان پر عمل کرنے کا جذبہ اس کے اندر ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔ مگر جب یہ مہینہ ختم ہونے لگتا ہے تو یہ اندیشہ دل کو گھیر لیتا ہے کہ کہیں ہم اس نور سے دوبارہ محروم نہ ہو جائیں۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "مَن صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِهِ" (صحیح بخاری)۔ یعنی جس نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یہ حدیث مومن کے لیے امید کا ایک دروازہ کھولتی ہے، مگر ساتھ ہی ایک فکر بھی پیدا کرتی ہے۔ رمضان کے اختتام پر وہ اپنے دل سے سوال کرتا ہے کہ کیا اس کے روزے واقعی اخلاص کے ساتھ تھے؟ کیا اس نے صرف بھوک اور پیاس برداشت کی یا اس کے دل میں تقویٰ بھی پیدا ہوا؟ یہی سوالات اس کے دل کو بے چین کرتے ہیں اور اس کی آنکھوں کو نم کر دیتے ہیں۔ رمضان کی راتیں خاص طور پر مومن کے لیے ایک خزانہ ہوتی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مَن قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِهِ" (صحیح بخاری)۔ یہ وہ راتیں ہوتی ہیں جن میں بندہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہوتا ہے، اس کی رحمتوں کو پکارتا ہے، اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔ سجدوں میں گرتے ہوئے جو آنسو بہتے ہیں، وہ دل کو ایک ایسا سکون دیتے ہیں جو دنیا کی کسی نعمت میں نہیں ملتا۔ مگر جب یہ راتیں ختم ہو جاتی ہیں تو دل میں ایک خلا سا پیدا ہو جاتا ہے، جیسے کوئی قیمتی چیز ہاتھ سے نکل گئی ہو۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ" (الحجر: 99) یعنی اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے۔ یہ آیت مومن کو یہ سبق دیتی ہے کہ عبادت صرف رمضان تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی کا مقصد ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ رمضان میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، وہ باقی دنوں میں برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ مومن رمضان کے جانے پر غمگین ہوتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اب اس کے لیے اصل امتحان شروع ہو رہا ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رمضان کی قدر کو خوب سمجھتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: “تم اس بات کی فکر کرو کہ تمہاری عبادت قبول ہوئی یا نہیں، اس سے زیادہ اس بات کی فکر نہ کرو کہ تم نے کتنی عبادت کی۔” یہی فکر رمضان کے اختتام پر مومن کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنی عبادات کی تعداد پر خوش نہیں ہوتا بلکہ ان کی قبولیت کے بارے میں پریشان رہتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ رمضان کے بعد چھ ماہ تک دعا کرتے تھے: “اے اللہ! ہم سے رمضان کو قبول فرما”، اور پھر اگلے چھ ماہ یہ دعا کرتے تھے: “اے اللہ! ہمیں آئندہ رمضان تک پہنچا دے۔” یہ طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کے دلوں میں رمضان کی کتنی اہمیت تھی۔ ان کے نزدیک رمضان کا ختم ہونا ایک عظیم نعمت کے چھن جانے کے برابر تھا۔ سلف صالحین کی زندگیوں میں بھی رمضان کی جدائی ایک گہرا اثر چھوڑتی تھی۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “مومن رمضان میں نیکیوں کی فصل بوتا ہے اور اس کے بعد اس کی حفاظت کرتا ہے، جبکہ منافق صرف دن گنتا ہے کہ کب رمضان ختم ہو۔” یہ قول ہمیں اپنے حال پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کس صف میں کھڑے ہیں۔ کیا ہم رمضان کے جانے پر خوش ہیں یا اس کے فراق میں غمگین؟ حضرت کعب الاحبار رحمہ اللہ کا قول ہے: “جو شخص رمضان میں نیک عمل کرے اور رمضان کے بعد بھی اس پر قائم رہے، یہ اس کی قبولیت کی علامت ہے، اور جو رمضان میں نیک عمل کرے مگر بعد میں چھوڑ دے، یہ رد ہونے کی نشانی ہے۔” یہ الفاظ مومن کے دل میں ایک خوف پیدا کرتے ہیں اور اسے اپنی حالت کا جائزہ لینے پر مجبور کرتے ہیں۔ رمضان کی جدائی کا غم دراصل ایمان کی علامت ہے۔ جو دل اس جدائی پر بے چین نہ ہو، اسے اپنے ایمان پر غور کرنا چاہیے۔ کیونکہ مومن کے لیے رمضان صرف عبادات کا مہینہ نہیں بلکہ ایک روحانی تربیت کا دور ہوتا ہے۔ اگر یہ تربیت ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہ لا سکے تو یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ جب عید کا چاند نظر آتا ہے تو ایک طرف خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے، مگر دوسری طرف دل کے کسی کونے میں ایک اداسی بھی چھپی ہوتی ہے۔ یہ اداسی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ہم نے رمضان کو دل سے محسوس کیا تھا۔ بعض سلف عید کے دن بھی روتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: “یہ خوشی کا دن ہے مگر ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری عبادت قبول ہوئی یا نہیں۔” رمضان ہمیں یہ سبق دے کر جاتا ہے کہ اللہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے میں اپنے رب کو پایا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف رمضان تک محدود ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم رمضان کے بعد بھی اپنی عبادات کو جاری رکھیں، اپنی نمازوں کی حفاظت کریں، قرآن سے اپنا تعلق قائم رکھیں، اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ" (البقرہ: 222) یعنی اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ رمضان دراصل توبہ کا مہینہ ہے، اور اس کا پیغام یہی ہے کہ بندہ اپنے رب کی طرف لوٹ آئے۔ اگر رمضان کے بعد بھی یہ رجوع باقی رہے تو یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔ مومن کا دل رمضان کے جانے پر اس لیے بھی روتا ہے کہ اسے اپنی کمزوریوں کا احساس ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ اس مہینے میں جتنا اللہ کے قریب ہوا، شاید باقی دنوں میں نہ ہو سکے۔ مگر یہی احساس اسے مزید کوشش کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ وہ اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! ہمیں استقامت عطا فرما، ہمیں اپنی اطاعت پر قائم رکھ، اور ہمیں دوبارہ رمضان کی برکتوں سے نواز۔ آخرکار رمضان رخصت ہو جاتا ہے، مگر اپنے پیچھے ایک پیغام چھوڑ جاتا ہے۔ یہ پیغام یہ ہے کہ زندگی کا مقصد صرف دنیاوی مصروفیات نہیں بلکہ اللہ کی عبادت ہے۔ اگر ہم نے اس پیغام کو سمجھ لیا اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھال لیا تو رمضان کی جدائی بھی ہمارے لیے ایک نئی شروعات بن سکتی ہے۔

مومن کا دل رمضان کے فراق میں اس لیے بھی تڑپتا ہے کہ اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید یہ اس کی زندگی کا آخری رمضان ہو۔ یہ سوچ اسے جھنجھوڑ دیتی ہے، اسے اپنے رب کے حضور جھکنے پر مجبور کرتی ہے، اور اسے اپنی زندگی کو سنوارنے کا موقع دیتی ہے۔ اگر یہ احساس ہمارے اندر بیدار ہو جائے تو یہی رمضان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ جب بندہ اس کیفیت کے ساتھ رمضان کو رخصت کرتا ہے تو درحقیقت رمضان اس سے جدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے دل میں بس جاتا ہے۔ اس کی نمازوں میں وہی خشوع باقی رہتا ہے، اس کی دعاؤں میں وہی عاجزی رہتی ہے، اور اس کی زندگی میں وہی نور جھلکتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو ایک مومن کو کامیاب بناتی ہے، اور یہی رمضان کا اصل مقصد ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!