مضامین
اسکولی اوقات کا ضیاع :غظیم خسارہ

یقیناً اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان کی تخلیق کائنات کی اصل رونق ہے، مگر یہ رونق اسی وقت حقیقی معنوں میں نکھر کر سامنے آتی ہے جب انسان تربیت یافتہ ہو۔ بصورتِ دیگر یہ تخلیق اپنی افادیت کھو بیٹھتی ہے اور اس سے وہ خیر و بھلائی حاصل نہیں ہوتی جس کی توقع کی جاتی ہے۔
اسی تربیت کے حصول کے لیے والدین اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل صرف کرتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخل کرواتے ہیں تاکہ وہ بہترین تعلیم و تربیت حاصل کر سکیں، کیونکہ طالبِ علمی کا زمانہ زندگی کا وہ سنہری دور ہوتا ہے جو سیکھنے، سنورنے اور شخصیت سازی کے لیے نہایت موزوں ہوتا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ قیمتی وقت نادانی یا لاپرواہی کی نذر ہو جائے تو نہ صرف والدین کی محنت ضائع ہوتی ہے بلکہ طالب علم کو خود بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
اسی حقیقت کو حضرت محمد ﷺ کے اس ارشاد سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے:
“دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکے میں رہتے ہیں: ایک صحت (تندرستی) اور دوسری فراغت (فارغ وقت)۔”
تعلیمی دور میں طلبہ کو جو فارغ وقت میسر آتا ہے، دراصل وہ ایک قیمتی نعمت ہے۔ اگر اس وقت کو علم حاصل کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور اخلاقی تربیت کے لیے استعمال نہ کیا جائے تو یہی وقت ضائع ہو کر ناکامی کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بہت سے طلبہ اسکول کے اوقات میں تعلیم کے بجائے سیر و تفریح کو ترجیح دیتے ہیں۔ کتابوں کے اوراق پلٹنے کے بجائے اسکول سے باہر جا کر تصاویر بنانا، کلاس میں بیٹھنے کے بجائے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں وقت گزارنا ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے۔
اسکول اوقات میں بے مقصد گھومنا نہ صرف نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ طالب علم کے مستقبل کے ساتھ ایک سنگین کھیل بھی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں طالب علم تدریسی عمل سے کٹ جاتا ہے، اسباق ادھورے رہ جاتے ہیں اور تعلیمی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔ یہی کمزوری آگے چل کر امتحانات میں ناکامی، خود اعتمادی میں کمی اور مایوسی کا سبب بنتی ہے۔ مزید برآں، اسکول سے باہر غیر ضروری گھومنا بعض اوقات بری صحبت اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کی طرف بھی لے جاتا ہے، جو کردار سازی کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔
یہ رویہ نہ صرف تعلیمی نقصان کا باعث ہے بلکہ اخلاقی گراوٹ کی علامت بھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ طلبہ اپنے وقت کی قدر کریں، والدین کی قربانیوں کو سمجھیں اور اس سنہری دور کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ آج کی محنت ہی کل کی کامیابی کی بنیاد رکھتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر طلبہ اپنے تعلیمی وقت کو سنجیدگی سے لیں، اسکول کے اوقات میں غیر ضروری گھومنے پھرنے سے اجتناب کریں اور علم کے حصول کو اپنی اولین ترجیح بنائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کو سنوار سکتے ہیں بلکہ معاشرے کی حقیقی رونق بھی بن سکتے ہیں۔