Ad
مضامین

فلسفہ قربانی اور دور حاضر کی بعض کوتاہیاں

✍️ :. مفتی محمد اشرف ملک 


سنن ابنِ ماجہ میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین

نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا:"يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟  یارسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟

نبی کریم ﷺ نے جواباً  فرمایا:"سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ"

یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ 

صحابہ کرام نے مزید استفسار کیا:"فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟

یا رسول اللہ! اس میں ہمارے لیے کیا اجر و ثواب  ہے؟

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ" ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی ۔

صحابہ نے پوچھا: اگر جانور اون والا ہو (مثلاً بھیڑ یا دنبہ جس کے بہت سے بال ہوتے ہیں)، تو کیا ہر بال کا ثواب ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اون کے ہر بال کے بدلے بھی نیکی عطا کی جائے گی۔ 

 اس روایت میں قربانی کی تاریخ ، تحریک، اہمیت اور افادیت کو جامع ترین انداز میں پیش کیاگیا ھے۔ جس کی تفصیلات قرآن و حدیث میں گوناگوں پس منظروں اور مختلف سیاق و سباق میں بیان کی گئی ھے۔ 

قربانی کی اِبتداء کے حوالے سےقرآن پاک یوں روشنی ڈالتاھے۔

واتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ م اِذْقَرَّ بَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ ۔

آپ ان کو آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دیجیے، جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی مقبول ہوگئی، اور دُوسرے کی قبول نہیں کی گئی۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسانیت کی تاریخ کے ساتھ ہی قربانیوں کی تاریخ و تحریک کا بھی آغاز ہوا ھے۔ 

قربانی کے دینی و دنیاوی فوائد ، اخلاقی تزکیہ و تربیت، شخصیت سازی  اور روحانی ترقی میں اہم کردار کرتی ھے،اسی  عظمت و اہمیت کی وجہ سے دیگر بنیادی عبادات کی طرح اس عظیم عبادت کو بھی ہر زمانے میں دین کا بنیادی شعار قرار دیا گیاہے ۔

 وَلِکُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَةِ الْاَنْعَامِ۔“(۱۲)

 ہم نے ہر اُمت کے لیے اس غرض سے قربانی کرنا مقرر کیا تھا کہ وہ ان چوپایوں کی قسم کے مخصوص جانوروں کو قربان کرتے وَقت اللہ کا نام لیا کریں، جو اللہ نے ان کو عطا کیے تھے۔

اِس آیت سے معلوم ہوا ھے کہ ہرقوم میں نسک اور قربانی رَکھی گئی، جس کا بنیادِی مقصد و ہدف خالق کائنات کی خوشنودی ، احکام الہٰی کی  اس جذبہ و عقیدے کے ساتھ

بجا آوری کہ سب کچھ اللہ کی عطا ہے اور اسی کی نام پر قربان ھے۔ 

سورة حج میں اس عظیم عمل کو شعار اللہ قرار دیکر اس

حقیقت ، حکمت اور فضیلت یوں  بیان کی گئی ہے۔  ہے:

 وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللہِ لَکُمْ فِیْھَا خَیْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَیْھَا صَوَآفَّ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُھَا فَکُلُوْا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ط کَذٰلِکَ سَخَّرْنٰھَا لَکُمْ لَعْلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ(۳۶) لَنْ یَّنَالَ اللہَ لُحُوْمُھَا وَلَا دِمَآؤُھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ط کَذٰلِکَ سَخَّرَھَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ ط وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ(۳۷)“․(۳)

اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اُونٹوں کو عبادتِ اِلٰہی کی نشانی اور یادگار مقرر کیا ہے، ان میں تمہارے لیے اور بھی فائدے ہیں، سو تم اُن کو نحر کرتے وقت قطار میں کھڑا کرکے اُن پر اللہ کا نام لیا کرو اور پھر جب وہ اپنے پہلو پر گر پڑیں تو اُن کے گوشت میں سے تم خود بھی کھانا چاہو تو کھاوٴ اور فقیر کو بھی کھلاوٴ، خواہ وہ صبر سے بیٹھنے والا ہو یا سوال کرتا پھرتا ہو، جس طرح ہم نے اِن جانوروں کی قربانی کا حال بیان کیا، اِسی طرح اُن کو تمہارا تابع دار بنایا؛ تاکہ تم شکر بجالاوٴ! اللہ تعالیٰ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا؛ بلکہ اس کے پاس تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے لیے اِس طرح مسخر کردِیا ہے؛ تاکہ تم اس احسان پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرو کہ اس نے تم کو قربانی کی صحیح راہ بتائی، اور اے پیغمبر! مخلصین کو خوش خبری سنا دیجیے۔ 

اِس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا عبادت ہونا حضرت آدَم علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور اس کی حقیقت و مقصد  اور اہمت ہرملت ومذہب میں مسلم رہی ھے۔ البتہ حضرت اِبراہیم علیہ السلام کی ہمہ جہت قربانیوں اور حضرت اِسماعیل علیہ السلام کی فداکاری و جانثاری نے  اس کی آن بان ، شان بڑھانے ،یادگار و زندہ جاوداں بنانے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا ھے ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات والا صفات عشقِ حقیقی، کامل اطاعت ،صبر و ثبات اور رضا بالقضاء کا استعارہ ہے۔ آپ کی پوری زندگی اللہ کی راہ میں عظیم قربانیوں سے عبارت ہے، جس میں محبوب ترین فرزند  اللہ کے حکم پر پیش کرنے کا بے مثال واقعہ تاریخِ انسانی کا سب سے روشن استعارہ بن گیا ھے۔ آپ نے ہر امتحان میں سرخرو ہو کر یہ ثابت کیا کہ حق کے خاطر دنیا کی ہر چیز قربان کی جا سکتی ہے۔

 قربانی قرآن و حدیث میں اسوۂ ابراہیمی کے طور پر ذکر کی گئی ہے اور اسی عظیم جذبے کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے ہر سال حج اور عیدِ قربان کا فلسفہ عملی شکل میں دہرایا جاتا ہے۔ آپ کی قربانی کے اس استعارے میں یہ پیغام پنہاں ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اپنے رب کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہے۔

ابراہیمی کردار کی حقانیت ،اور ملت ابرہیم کی پیروی میں کامیابی کا اعلان قرآن نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبانی اس طرح کروایا ھے۔

قُلۡ اِنَّنِىۡ هَدٰٮنِىۡ رَبِّىۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍۚ دِيۡنًا قِيَمًا مِّلَّةَ اِبۡرٰهِيۡمَ حَنِيۡفًا‌ ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ 

قُلۡ اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۞

لَا شَرِيۡكَ لَهٗ‌ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرۡتُ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ  ۔۔ سورۃ الأنعام

کہہ دو ، میرے رب نے میری رہنمائی ایک سیدھے رستے کی طرف فرما دی ہے، دین قیم ابراہیم کی ملت کی طرف جو یکسو تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔

کہہ دو میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم ملا ہے اور میں پہلا مسلم ہوں۔

احادیث میں قربانی کے بےشمار فضائل و فوائد بیان ہوئے ہیں ۔

حضرت عائشہ رَضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

 قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما عمل ابن آدم من عمل یوم النحر احب الی اللہ من اھراق الدم وانہ اتی یوم القیامة بقرونھا واشعارھا وظلافھا وان الدم لیقع من اللہ بمکان قبل ان یقع بالارض فطیبوا بھا نفسا“۔(مشکوٰة المصابیح)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اِبن آدم (اِنسان) نے قربانی کے دِن کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جو اللہ کے نزدِیک خون بہانے ( قربانی کرنے) سے زیادَہ پسندیدہ ہو، اور قیامت کے دِن وہ ذبح کیا ہوا جانور اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اورقربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے، لہٰذا تم اس کی وَجہ سے اپنے دِلوں کو خوش کرو ۔

حضرت اِبن عباس رضی اللہ عنہ سے رِوَایت ہے کہ،: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی یوم اضحیٰ: ما عمل آدم فی ھذا الیوم افضل من دم یھراق إلا أن یکون رحماً توصل ۔  ( الترغیب والترہیب)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسلم نے عید الاضحی کے دِن اِرشاد فرمایا: آج کے دِن کسی آدمی نے خون بہانے سے زیادَہ افضل عمل نہیں کیا، ہاں! اگر کسی رِشتہ دار کے ساتھ حسن سلوک اس سے بڑھ کر ہو تو ہو ۔

حضرت ابو سعید رَضی اللہ عنہ سے رِوَایت ہے کہ

: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا فاطمة! قومی إلی أضحیتک فاشھدیھا، فإن لک بأول قطرة تقطر من دمھا أن یغفرلک ما سلف من ذنوبک․ قالت: یا رسول اللہ! ألنا خاصة أھلَ البیت أو لنا وللمسلمین؟ قال: بل لنا وللمسلمین ۔( الترغیب والترہیب)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی بیٹی حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: اے فاطمہ! اُٹھو اور اپنی قربانی کے پاس رہو (یعنی اپنی قربانی کے ذبح ہوتے وقت قریب موجود رہو) کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے کے ساتھ ہی تمہارے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے، حضرت فاطمہ رَضی اللہ عنہا نے عرض کیا! اللہ کے رسول! یہ فضیلت ہم اہل بیت کے ساتھ مخصوص ہے یا عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے؟ آپ … نے فرمایا ہمارے لیے بھی ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی ۔

مالی وسعت اور گنجائش کے باوجود  جو مسلمان قربانی کرنے میں پس وپیش کرتاہے ،اس سے نبی اکرم نے سخت ناراضگی و بیزاری کا مظاہرہ فرمایا ھے۔

حضرت ابو ہریرہ رَضی اللہ عنہ سے رِوَایت ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من وجد سعة لان یضحی فلم یضح، فلایحضر مصلانا ۔۔  (الترغیب والترہیب)

 کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قربانی کرنے کی گنجائش رَکھتا ہو پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہمارِی عیدگاہ میں نہ آئے ۔

حدیث پاک کو دیکھتے ہوئے ہر صاحب استطاعت کو قربانی کی ادائیگی کا خصوصی خیال اور اہتمام کرنا چاہیے ۔ بہتر سے بہتر جانور کا انتخاب اور قربانی سے پہلے جانور کو خوب پال پوس کر مانوس کرنا چاہیے۔  ہوسکے تو خود جانور کو ذبح کرے یا گھر میں اپنے موجودگی میں ذبح کرائے۔ سنت خلیل اللہ  اور اسؤه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذہن میں مستحضر رکھ کر جانور کی صورت میں گویا اپنی خواہشات ،مال ومتاع ، اولاد اور  اپنی جان قربان کر رہا ہو۔

قربانی مالی عبادت ھے، مالی عبادات میں اگر چہ نیابت و وکالت  کی شرعاً گنجائش ھے۔ لیکن حتی الامکان بلا ضرورت دوسروں سے قربانی کرانے سے پرہیز ہی بہتر ھے ۔ 

کسی فرد یا ادارے کے ذریعہ کرانے سے اگر چہ قربانی کا وجوب

سر سے اتر جائے گا۔ لیکن گھر میں قربانی کرنے گوناگوں فوائد و برکات سے انسان محروم ہو جاتا ھے۔ 

گھر میں از خود قربانی کرنے میں کئی شرعی و تربیتی فوائد ہیں:

 شعائرِ اسلام کا برملا اظہار ہوتا ھے، خواتین اور بچوں میں دینی شعور پیدا ہوتا ہے، عملی تربیت ہوتی ھے ۔گھر میں اسلامی ماحول قائم ہوتا ہے، سنتوں کو اپنانے کی عملی مشق ہوتی  ہے،

 جب بچے گھر میں قربانی کا عمل دیکھتے ہیں، تو ان کے دلوں میں شعائرِ اسلام کی اہمیت اور ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔  جانور کی دیکھ بھال اور قربانی کے کاموں میں  سب افراد خانہ مل کر حصہ لیتے ہیں، جس سے آپسی محبت اور تعلقات میں خوشگوار تبدیلی آتی ہے۔

شکر گزاری کا احساس پیدا ہوتا ھے۔ اللہ کی  نعمتوں کا اعتراف اور اس کی راہ میں مال خرچ کرنے سے نفس کی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ 

نبی کریم ﷺ نے خود قربانی فرماتے تھے ۔ اپنے دست مبارک  سے جانور ذبح فرماتے  اور دعا پڑھتے تھے۔

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی میں خود دلچسپی لینا، سنت کے مطابق خود ذبح کرنا ،یا ذبح کے وقت حاضر رہ کے

 قربانی کے عمل میں شرکت کرنا اور قربانی کے آداب کا اہتمام کرنا افضل ترین عمل ہے. 

اصالتا قربانی کرنے سے گھر والوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو فائدہ  پہنچتا ھے، صلہ رحمی اور آپسی بھائی چارہ پروان چرھتاھے۔ اور معاشرے میں عملی دعوت اور  دین داری کا مثبت پیغام جاتاھے۔

 بعض اوقات بعض افراد کیلئے وکالتا قربانی کرانے کی واقعی مجبوری یا معقول وجہ ہوتی ھے، انہیں اپنے قرب وجوار کے معتبر و قابل اعتماد افراد و اداروں کے ہی خدمات حاصل کرنے چاہیے۔  

دور دراز کے غیر معتبر اداروں کے اشتہارات و سستی آفروں کے جانسوں سے بچنا چاہیے ۔ چند پیسے بچانے کیلیئے قربانی جیسے عظیم عمل کو داؤ پر  لگانا دانشمندی نہیں ھے۔  

موجودہ  گراں بازی و مہنگائی کے دور  میں جہاں پندرہ سو ،دو ہزار میں بطخ و مرغابیوں کا ملنا مشکل ھے، وہیں دو  تین ہزار میں قربانی کے حصوں کے اشتہارات اور

بعض علاقوں سے پندرہ سو روپیوں میں ایک حصہ کی پیشکش ، سوچنے اور مزید احتیاط برتنے کا متقاضی ھے۔

اگر ادارہ معتبر نہ ہو تو دھوکہ دہی کا خطرہ ، غیر معیاری جانور استعمال کرنے خدشہ، یاوقت پر قربانی نہ ہونے کا اندیشہ رہ سکتا ھے۔ ایک عظیم عبادت جب خود غرض عناصر کی بزنس و ذریعہ آمدنی بن جاتی تو اس میں تجارتی بدعنوانیوں اور خیانتوں کا در آنا بعید از قیاس نہیں ۔ 

بعض لوگ قربانی جانوروں کے بول و براز ،گوبروغیرہ اور  ذبح کے بعد کی آلائشوں سے گھر کی صفائی  متاثر ہونے کے ڈر سے وکالتا نظروں سے دور قربانی کرانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔

اگر وکالتا قربانی کا رجحان اسی رفتار سے بڑھتا گیا تو،عام بستیوں و محلوں میں قربانی کے حسین مناظر رفتہ رفتہ ماند پڑ جائیں گےاور نئی نسل قربانی کی روح و جذبے سے دور ہوجائے گی ۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!