مضامین
" شاہِ ہمدان قدس سرہ" کے منہجِ دعوت و تربیت کی چند جہتیں

✍️ :. ڈاکٹر شکیل شفائی
حضرت شاہِ ہمدان قدس سرہ ایک کامیاب داعی تھے - ان کی دعوت کی تاثیر اتنی گہری تھی کہ تقریباً پوری ایک قوم کا نظامِ فکر و عمل اور عقیدہ و نظریہ ہی بدل گیا -
وہ ایک عالم ، محدث ، فقیہہ ، صوفی اور مفکر تھے لیکن دعوت کی کامیابی اور تربیت کے گہرے نقوش قائم کرنے کے لیے اتنا کافی نہیں - اس کے لیے اول تو عالمی سطح کی ہر لمحہ وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کا علم ہونا ضروری ہے ، اشخاص و طبقات کی نفسیات سے واقف ہونا لازمی ہے - سیاسی بصیرت کا حامل ہونا لابدی ہے - اقتصادی معاملات سے آگہی کے بغیر چارہ نہیں - اس حقیقت کا ادراک ضروری ہے کہ قوموں کا ارتقاء ذوقِ عبادت و شوقِ بندگی کے ساتھ ساتھ تعلیمی ، اقتصادی اور سماجی اقدار کی بازیافت سے منوط و معلق ہوتا ہے -
شاہِ ہمدان قدس سرہ ان تمام اوصاف کے جامع تھے - انہوں نے کشمیر میں ورود کے بعد اپنی روحانی بصیرت سے سمجھ لیا کہ اس قوم کی دینی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اقتصادی لحاظ سے اسے خود کفیل بنانے کے اقدامات کیے جائیں - تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے - باہر سے ایسی صاحبِ علم شخصیات کو مدعو کیا جائے جو افراد کی ذہنی تربیت کرنے کے ماہر ہوں -
شاہِ ہمدان دعوت و تربیت کے ان مناہج کا گہرا شعور رکھتے تھے -
شاہِ ہمدان نے اپنے زمانے کے ربع مسکون کی سیاحت کی تھی - وہ اپنے زمانے کے ذہین ترین انسانوں سے ملے تھے ، ان سے استفادہ کیا تھا - وہ مدرسہ کی چہار دیواری اور خانقاہوں کے بند کمروں میں رہنے والے شخص کی طرح نہیں تھے جسے اپنی دنیا کی کوئی خبر نہ ہو - انہوں نے درویشوں سے لے کر بادشاہوں تک ، بازاروں سے لے کر شاہی ایوانوں تک ، مسجد ، مدرسہ اور خانقاہ سے لے کر میدانِ کارزار تک ہر شے کا گہرا مطالعہ و مشاہدہ کیا تھا -
شاہ ہمدان ہمارے مرشد و مربّی ہیں - انہوں نے ہمیں کیا سکھایا ؟ آئیے اس پر ایک نظر ڈالیں:
انہوں نے سکھایا کہ قوموں کی دعوت و تربیت کے پیشگی تقاضے اور شرائط کیا ہیں ؟
انہوں نے سکھایا کہ مدرسوں اور خانقاہوں کی اصل غرض و مقصد کیا ہے ؟
انہوں نے سکھایا کہ دعوت و تربیت کے لیے نفس ، مال و منال ، وطن اور اہل و عیال کی قربانی دینے کا جزم و حوصلہ کیا ہے ؟
انہوں نے سکھایا کہ انسانیت کی خدمت و بہبود کے لیے اپنی صلاحیتوں کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے ؟
انہوں نے ہمیں سکھایا کہ معاشرے کی حُسنِ تعمیر کے اقتضاءات کیا ہیں ؟
انہوں نے سکھایا کہ دعوت و تربیت میں حُسنِ عمل ، حُسنِ کردار اور استغنائے نفس کی کیا اہمیت ہوتی ہے ؟
انہوں نے سکھایا کہ زمانہ شناسی ایک داعی اور مربی کے لیے کتنی ضروری ہے ؟
انہوں نے سکھایا کہ مسلکی ہم آہنگی کیا ہوتی ہے ؟
انہوں نے سکھایا کہ دین کی بنیادی تعلیمات مسلکی جزئیات پر مقدم ہوتی ہیں -
انہوں نے سکھایا کہ قوموں کی ترقی میں تعلیمی اور اقتصادی تفوق کی کیا اہمیت ہوتی ہے ؟
انہوں نے سکھایا کہ بادشاہوں سے راہ و رسم کی حدود کیا ہوتی ہیں۔
انہوں نے سکھایا کہ مردانِ حق ہی معاشرے میں غلط سمت پر بہنے والے دینی اور اخلاقی دریاؤں کا رخ بدل سکتے ہیں -
علامہ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ان اشعار کو پڑھیے :
ہاتھ ہے اللہ کا بندہِ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں ، کار کُشا ، کار ساز
خاکی و نوری نہاد ، بندہِ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی ، اس کا دلِ بے نیاز
اس کی امیدیں قلیل ، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب ، اس کی نگاہ دل نواز
نرم دمِ گفتگو ، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو ، پاک دل و پاک باز
کشمیر کے تناظر میں ، میں نے جب بھی ان اشعار کو پڑھا تو سیدنا شاہِ ہمدان قدس سرہ کی پاکیزہ حیات تصور میں جلوہ نما ہوئی -
اگر ان اشعار کو انسانی خاکے میں ڈالا جائے تو مجھے یقین ہے کہ شاہِ ہمدان قدس سرہ کی ذات گرامی قدر تشکیل پائے گی -