مضامین
محبت کا دوسرا نام مرحوم شیخ محمد حسنؒ

محبت کا دوسرا نام مرحوم شیخ محمد حسنؒ ، 16 مئی 2026 کی رات نو بجے،کولگام ہسپتال سے ایک دل ہلا دینے والی خبر نے پوری فضا کو سوگوار کر دیا۔ہر دل عزیز،معروف عالمِ دین اور داعیِ حق،جناب شیخ محمد حسن صاحبؒ اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے۔یہ خبر سنتے ہی راقم کا دل ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔جذبات کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ زبان خاموش ہوگئی اور آنکھیں نم ہو گئیں۔اس غم کی شدت کا احساس نہ صرف راقم بلکہ ان کے ہر مُحب و عقیدت مند کو تھا۔اگلے دن صبح سویرے تاریگام کی بستی میں ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جو آنکھوں کو بھر لاتا تھا۔لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر امڈ پڑا تھا۔ہر آنکھ نم تھی،ہر چہرہ غم سے نہلا ہوا تھا،اور ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ایسا لگ رہا تھا جیسے پوری بستی سوگ میں ڈوب گئی ہو۔الفاظ اس منظر کی شدت بیان کرنے سے قاصر ہیں،ہر دل دکھ،محبت اور احترام کے جذبوں سے بھرا ہوا تھا۔اپنے جذبات کا کسی حد تک اظہار کرنے کیلیے راقم مولانا عامر عثمانیؒ کے کچھ اشعار کا سہارا لے رہا ہے۔
تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو
اس محفلِ غم میں آنے کی زحمت نہ اٹھاؤ رہنے دو
یہ سچ کہ سہانے ماضی کے لمحوں کو بھلانا کھیل نہیں
یہ سچ کہ بھڑکتے شعلوں سے دامن کو بچانا کھیل نہیں
رستے ہوئے دل کے زخموں کو دنیا سے چھپانا کھیل نہیں
اوراقِ نظر سے جلوؤں کی تحریر مٹانا کھیل نہیں
مرحوم شیخ محمد حسن صاحبؒ سے میری پہلی ملاقات 2004 میں ہوئی،جو آج بھی میرے دل میں تازہ اور روشن ہے۔اس وقت میں حسبِ معمول ماڈرن پبلک اسکول کی طرف سے تاریگام عیدگاہ میں عید کی نماز سے قبل قرآنِ کریم کی تلاوت کا فریضہ انجام دے رہا تھا۔جیسے ہی میں نے تلاوت مکمل کی،ایک پُرنور بزرگ شخصیت نے مجھے اپنی طرف اشارہ کر کے بُلایا۔وہ سفید ریشِ مبارک والے،سر پر قراقلی ٹوپی سجائے ہوئے،نُورانی چہرے والے بزرگ تھے۔جب میں ان کے قریب پہنچا تو انہوں نے محبت بھری نظر سے مجھے دیکھا،اپنے سینے سے میرے سر کو لگایا اور پیار سے میرے ماتھے کو چُوم لیا۔اس لمحے ان کی آنکھوں میں جو محبت تھی،وہ الفاظ سے بیان نہیں ہو سکتی۔یہ تھی ان سے میری پہلی ملاقات — ایک ایسی ملاقات جو محبت،شفقت اور برکت سے بھری ہوئی تھی۔
اس کے بعد مرحوم شیخ محمد حسن صاحبؒ سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔کبھی دینی مجالس میں تو کبھی ان کے گھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملتا رہا۔ان مجالس میں اکثر و بیشتر ان کے دروسِ قرآن،احادیثِ نبویؐ اور سیرتِ طیبہﷺ کے موضوعات پر سننے کا شرف حاصل ہوتا۔آہستہ آہستہ ان کے علم کی گہرائی اور وسعت کا اندازہ ہونے لگا۔قرآنِ کریم،علومِ حدیث،سیرتِ نبویؐ اور اسلامی تاریخ پر ان کی گرفت اتنی گہری اور جامع تھی کہ سننے والے کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ شیخ صاحبؒ کی سب سے بڑی مہارت کس میدان میں ہے۔علوم القرآن میں،علومِ الحدیث میں،سیرتِ طیبہ میں یا پھر اسلامی تاریخ کے ان گنت موتیوں کو سمونے میں — ہر موضوع پر ان کا بیان اتنا دلنشین،اتنا مستند اور اتنا پُرمغز ہوتا کہ سامع محوِ استفادہ ہو جاتا۔ شیخ محمد حسن صاحبؒ کی تقاریر و تبلیغ کا مرکز و محور بنیادی طور پر تین عظیم اصولوں کے گرد گھومتا تھا:انسان دوستی،خدا پرستی اور آخرت پسندی۔وہ ہمیشہ زور دیتے تھے کہ ہمیں تمام انسانوں کا،بلا لحاظِ مذہب و ملت،رنگ و نسل،عزت و احترام کرنا چاہیے۔وہ عبادات اور نیکیوں میں خلوصِ نیت اور للّٰہیت کی تلقین کرتے تھے اور بار بار فرماتے کہ دنیاوی نقصان کے اندیشے کے باوجود ہر معاملے میں آخرت کو ترجیح دینی چاہیے۔ان کی پوری زندگی انہی تین اصولوں کے گرد گردش کرتی رہی۔انہوں نے اقامتِ دین کو ایک عظیم فریضہ سمجھا اور اس راہ میں اپنی ساری زندگی وقف کر دی۔پوری شدّت اور استقامت کے ساتھ آخری سانس تک اس جدوجہد پر ڈٹے رہے۔اصل میں یہ سفر ان کی جوانی میں شروع ہوا جب انہوں نے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی دو اہم تصانیف —”اسلامی ریاست “ اور” تنقیحات “کا مطالعہ کیا۔ان دو کتابوں نے ان کے اندر ایک بے چینی پیدا کر دی،راتوں کی نیند اڑا دی اور بالآخر انہیں سرکاری نوکری(بحیثیتِ استاد) سے علیحدہ ہونے پر مجبور کر دیا۔اس کے بعد انہوں نے اپنی باقی پوری زندگی اللّٰہ کی رضا کے حصول اور اقامتِ دین کی راہ میں کھپا دی۔ شیخ محمد حسن صاحبؒ کا عملی کردار بھی ان کے علم کی طرح بلند و بالا تھا۔زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملے میں وہ تقویٰ اور پرہیزگاری کا دامن تھامے رہتے۔ہر آنے والے کا استقبال مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ کرتے اور الوداع کرتے ہوئے دعا دیتے۔خاص طور پر جب نوجوانوں میں دینی بیداری اور جوشِ عمل دیکھتے تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہتا۔اپنے سے بڑوں اور ہم عمر لوگوں کے ساتھ احترام اور ادب سے پیش آتے،جبکہ چھوٹوں کے ساتھ شفقت و محبت کا سلوک کرتے۔ان سے یہ خوبی سیکھنے کی تھی۔مجھے ان کی زندگی کی آخری دہائی کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا،کیونکہ مرحوم میرے پڑوسی بھی تھے اور ہم ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرتے تھے۔انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں وہ اعتدال و توازن کا نمونہ تھے۔افراط و تفریط سے ہمیشہ دور رہتے۔اپنے مخالفین کو جواب دینے میں کبھی وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔اپنے مقصد اور مشن پر پوری توجہ مرکوز رکھتے اور شور شرابے و خلفشار کو نظر انداز کر دیتے۔یہ ان کی نمایاں خوبیوں میں سے ایک تھی۔اللّٰہ کے فضل و کرم سے اسی اعتدال پسندی،استقامت اور حکمت کی بدولت شیخ صاحبؒ ایک بڑے عالمِ دین اور داعیِ حق کی حیثیت میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہے۔انکی پوری زندگی مختصر الفاظ میں سمیٹنے کے لیے علامہ اقبالؒ کے اس شعر کا انتخاب کرنا چاہوں گا:
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
شیخ محمد حسن صاحبؒ کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کے بعد میں نے انہیں صرف ایک عالمِ دین یا عابد ہی نہیں پایا،بلکہ ایک ہمدرد،مشیر،غمخوار،رہبر اور رول ماڈل کی شکل میں بھی ان کی شخصیت کو محسوس کیا۔ان کی شفقت،حکمت اور راہنمائی ہمیشہ ہمارے لیے مشعلِ راہ رہی۔شیخ صاحبؒ کا ہم سے جدا ہو جانا میرے لیے ایک ایسا دل زخمی کرنے والا صدمہ ہے جس کا غم وقت کے ساتھ شاید کم ہو،مٹے گا کبھی نہیں۔وہ اپنی علم،عمل اور شخصیت کے ساتھ ہمیشہ یاد آئیں گے۔میں شکستہ دل کے ساتھ دستِ دعا ہوں کہ اللّٰہ رب العزت مرحوم کی ساری دینی جدوجہد کو اپنی بارگاہِ قبول میں شرفِ قبولیت بخشے،اور اگر کوئی کمی کوتاہی رہی ہو تو اپنی لامتناہی رحمت سے معاف فرمائے۔اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ،شاگردوں اور تمام محبین کو اس جدائی کے غم میں صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین