مضامین
منشیات کے خلاف 100 روزہ مہم: ایک فیصلہ کن لمحہ، مگر اجتماعی بیداری ناگزیر

دودھ مرگ ترال کشمیر
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے منشیات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسے اجتماعی درد کی بازگشت ہے جو معاشرے کی رگوں میں خاموشی سے سرایت کر چکا ہے۔ اسمگلروں کے پاسپورٹ اور آدھار کارڈ منسوخ کرنے جیسے اقدامات اس عزم کا واضح اظہار ہیں کہ ریاست اب اس ناسور کے خاتمے کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہے، کیونکہ یہ مسئلہ اب قابو سے باہر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے نازک اور تشویشناک وقت میں سامنے آیا ہے جب منشیات فروشوں کی سرگرمیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ زہر خاموشی کے ساتھ نئی نسل کے ذہن و روح کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ گلی کوچوں سے لے کر تعلیمی اداروں تک، نشے کی موجودگی ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے، جہاں معصوم ذہن اندھیرے کی اس کھائی میں دھکیلے جا رہے ہیں جس کا انجام صرف تباہی ہے۔ ایسے حالات میں یہ اقدام محض حکومتی کارروائی نہیں بلکہ ایک سخت انتباہ ہے—ان عناصر کے لیے جو نوجوانوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں، اور اس معاشرے کے لیے بھی جو اب تک شاید اس خطرے کی شدت کو پوری طرح محسوس نہیں کر پایا۔وقت کا تقاضا ہے کہ اس جنگ کو سنجیدگی، مستقل مزاجی اور اجتماعی شعور کے ساتھ لڑا جائے منشیات کی لعنت کو جب ہم گہرائی سے دیکھتے ہیں تو اعداد و شمار ایک ہولناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ حالہ ایک تازہ اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیر میں تقریباً 5.4 لاکھ افراد اس لت کا شکار ہیں—یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ لاکھوں ٹوٹے خوابوں، اجڑے خاندانوں اور تاریک مستقبل کی کہانی ہے۔ ان میں سے 1.7 لاکھ افراد انجیکشن کے ذریعے نشہ کرتے ہیں، جو نہ صرف ان کی زندگیوں کو تیزی سے ختم کر رہا ہے بلکہ مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن رہا ہے۔ اسی طرح 1.4 لاکھ افراد بھنگ جیسے نشہ آور مادوں کے عادی ہیں، جو ذہنی و نفسیاتی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو ایک پیچیدہ منظر سامنے آتا ہے۔ 2019 میں 26 ہزار کلوگرام سے زائد منشیات ضبط کی گئیں، جبکہ 2023 میں یہ مقدار کم ہو کر تقریباً 11 ہزار کلوگرام رہ گئی۔ بظاہر یہ کمی ایک مثبت اشارہ معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آیا واقعی اسمگلنگ میں کمی آئی ہے یا پھر کارروائیوں کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ نشے کا رجحان اب روایتی منشیات تک محدود نہیں رہا۔ لاکھوں کی تعداد میں نشہ آور گولیاں، کیپسول اور کھانسی کی ادویات کی ضبطی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نوجوان نسل نئے اور خطرناک طریقوں سے اس دلدل میں پھنس رہے ہیں آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز کی جانب سے 2018 میں جاری کردہ “نیشنل ڈرگ ڈیپنڈنس ٹریٹمنٹ سروے” رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں اوپیئڈ استعمال کرنے والوں کی شرح قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ حقیقت اس بحران کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہے۔
بدقسمتی سے، بحالی اور علاج کی موجودہ سہولیات اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ چند بحالی مراکز، کمیونٹی انٹروینشن سینٹرز اور ڈی ایڈکشن کلینکس لاکھوں متاثرہ افراد کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں، جس کے باعث بے شمار افراد علاج سے محروم رہ جاتے ہیں اور اس دائرے سے باہر نہیں نکل پاتے۔ حکومت کی “زیرو ٹالرنس” پالیسی، منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائیاں اور ان کے شناختی دستاویزات کی منسوخی جیسے اقدامات یقیناً قابلِ تحسین ہیں لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے شروع کی گئی سو روزہ مہم اسی وقت حقیقی معنوں میں کامیاب ہو سکتی ہے جب اسے محض ایک سرکاری مہم کے بجائے اجتماعی ذمہ داری کے طور پر اپنایا جائے۔ اس جدوجہد میں ہر فرد کا کردار کلیدی ہونا چاہیے—چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو یہ مہم صرف انتظامیہ اور پولیس تک محدود نہ رہے بلکہ اسے معاشرے کے ہر گوشے تک پھیلانا ہوگا۔ مساجد کے منبروں سے شعور بیدار کیا جائے، تعلیمی اداروں میں طلبہ کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے، اور گھروں میں والدین اپنی اولاد کی رہنمائی اور نگرانی کو یقینی بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی تنظیمیں، اساتذہ، علما اور دانشور بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں تاکہ ایک ہم آہنگ اور مضبوط پیغام پورے معاشرے میں گونجے ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ مہم گلی گلی، کوچہ کوچہ تک پہنچے—شہروں سے لے کر دور دراز دیہی علاقوں تک اس کی بازگشت سنائی دے۔ ہر محلہ، ہر بستی اور ہر گھر اس جدوجہد کا حصہ بنے تاکہ منشیات کے لیے معاشرے میں کوئی جگہ باقی نہ رہے درحقیقت، جب تک عام آدمی خود اس جنگ کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اپنے کندھوں پر نہیں اٹھائے گا، تب تک کسی بھی مہم کے دیرپا نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ یہی اجتماعی شعور اور عملی اقدام اس مہم کو ایک عارضی کوشش سے نکال کر ایک مضبوط اور پائیدار تحریک میں بدل سکتا ہے آخرکار، یہ جنگ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ہے۔ اگر آج ہم نے سنجیدگی، اتحاد اور عملی اقدامات کے ساتھ اس ناسور کا مقابلہ نہ کیا تو آنے والا کل نہ صرف ہماری نوجوان نسل بلکہ پورے سماج کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔