مضامین
’’مناب۱۶۸‘‘ شجرہ ٔ طیبہ کے کتابی بستے

7006883587
اَنکل پہچانا ہمیں؟
آنٹی ہمیں پہچانا ؟
نہیں....؟ چلو اپنا تعارف کراتے ہیں۔
ہم ہیں شجرۂ طیبہ ایران کے شہید بچوں اور بچیوں کے ۱۶۵/ خون آلودہ بستے‘ ہمارے اندر اُن کی بے چین بہشتی روحیں پنہاں ہیں یہ روحیں تا قیامت ان کے ساتھ ہوئی کھلی ناانصافی پر مغموم و مسکوت رہیں گی۔ان پاک روحوں کا گلہ شکوہ نہیں کہ دنیا کے گرانڈیل سیاسی بہادروں نے اُن کی کتاب ِ زندگی کا چراغ کیوں گل کیا ‘ ان کے غم زدہ والدین اور اہل ِ خانہ کی دنیا کیوں اپنے لمحاتی جنگی کھیل میں اُجاڑ دی ‘ خود ان کی تمناؤں اور آرزؤں کا بے دری سے کیوں قتل کیوں کیا ۔ان واجب سوال ہیں مگران کی اہمیت ان سعید روحوں کے تمغۂ شہادت کے سامنے رتی بھر بھی نہیں۔ البتہ ہم ا س وجہ سے یہاں آ حاضر ہوئے تاکہ دنیا کے کٹھور دل حکمرانوں سے پوچھ سکیں کہ آخر معصوم بچے اور بچیاں تک اپنی دُشمنیوں کی بھینٹ کیوں چڑھاتے پھرتے ہو؟ تعلیم کدوں پر بم برسانے سے فوجی معرکہ سر کرنا کیاکوئی مردانگی ہوئی ؟ کیا معصوم طلبہ وطالبات کا حشر غزہ اور دیگر جنگ زدہ علاقوں کے معصوم بچوں کی طرح کر کے اپنی ڈراکیولائی انا کی تسکین سے دل خوش ہوتا ہے ؟ ہم پاک خون سے تر کتابی بستے یہی سوال لے کر ’’مناب۱۶۸ ‘‘ سے موسوم اس طیارےمیں ایران سے اُڑان پھر چکے ہیں۔ ہمارا کسی مذکراتی سیاست سےکوئی لینا دینا نہیں بلکہ دنیا بھر کے جابروں کا گریبان پکڑ کر یہ پوچھنے آئے ہیں کہ خداراان پھول چہروں کی معصوم تصاویر دیکھ کر بتاؤ کس جرم کی پاداش میں انہیں قتل کیا گیا ؟ ( بای ذنب قتلت )
اَنکل ! ہم انمول کتابی بستے ہیں ‘ہمارے اندر شہیدو مضروب بچوں کی خون آلودہ درسی کتابیں‘ لہو سے تر نوٹ بُکس‘ ریزہ ریزہ ہوئیں ننھی منی پنسلیں‘ ٹکڑوں میں بٹے شارپنر ‘ تشنگانِ فرات کی کہانیاں دہراتی واٹر بوتلیں‘ٹفن میں چورہ چورہ ہوئے بسکٹ اورچاکلیٹ۔۔۔ ہم ایک سو پانسٹھ معصوم بچوں کے ٹوٹے سپنوں کی کہانیاں ہیں‘ ہم شجرۂ طیبہ اسکول کے بہشتی اثاثے ہیں‘ ہم مرجھائی ہوئی کلیوں کی مسکانیں ہیں‘ ہم نغماتِ زندگی رَٹنے والی شہید بلبلیں ہیں‘ ہم گلشن ِ ہستی کی مری ہوئی کوئلیں ہیں‘ ہم جنت کے لہو لہاں ننھے منے شہزادے اور شہزادیوں کا ورثہ ہیں یعنی مناب ایران کے اسکول کی وہ جنت نشین تتلیاں ہیں جو قیامت خیز حالات وواقعات کے عینی گواہ ہیں ۔ ہم دنیا کے لئےان تتلیوں کا پیغام لائے ہیں کہ یہ جنگ وجدل اور خون خرابے کاسلسلہ فوراً بند ہو تاکہ مزید کلیاں مرجھائں نہ مزید باغ اُجڑ جائیں۔
ہاں ہم شاہدعادل ہیں کہ بےخوف دشمن نے ہماری نگاہوں کے سامنے اسکول کو اپنا نشانہ بناکر وہاں ایک قیامتِ صغریٰ بپاکی ۔۔۔ مت پوچھئےا س روز کیاہوا؟ ہم کیا کہیں‘ کن لفظوں میں دُکھ اور افسوس کی صدمہ خیز بپتا سنائیں‘ وہ ایک شورِ محشر تھا‘ کہاں سے وہ ہمت لائیں کہ اس محشر کی داستان سرائی کرسکیں ‘ ہماری زبانیں اُس قہرمان حملے کا دردوکرب بیان کرنے سےقاصر ہیں ۔ کون کہتا ہے یہ حملہ حادثاتی تھا‘ یہ سراسر مکر وفریب کی بات کہ دشمن کا مغالطہ تھا کہ یہ اسکول نہیں کوئی فوجی چھاؤنی ہے‘ اس لئے حملہ غلط اندازے اور مغالطہ آمیز ظن وتخمین کا شاخسانہ تھا۔ نہیں قطعاً نہیں ‘ یہ ایک سوچی سمجھی گھناؤنی سازش ‘انتہائی ذلیل حرکت ‘ وحشیانہ کارروائی ‘ قابل ِ دست اندازیٔ قانون جنگی جرم ہے مگر اندھی بہری گونگی دنیا میں کون مظلومین کی دلیل سننے والا ہے ‘ کدھردادرسی ہونے والی ہے ‘ کہاں عدل گستری ممکن ہے مگر پھر بھی ہم کتابی بستے باضمیر مشاہدین کے روبرو حقائق کے ایوان میں گواہی دیتے ہیں کہ۲۸ ؍فروری کی خنک صبح اسکول پر دشمن نے شجرہ ٔ طیبہ پر دیدہ ودانستہ ایک لزرہ خیز حملہ کرکے ایک اور المیہ اپنی جنگی تواریخ کے سپرد کیا ‘ یہ حملہ انتقام در انتقام کی ایک لامتناہی آگ بھڑکانے کی غرض سے ہو ا اور بس ۔ ا س روز چھوٹے بچوں کا پیارا پیارا شجرۂ طیبہ حسب ِسابقہ ایک لہلاتے گلشن کا منظر پیش کررہاتھا‘ ہر چیز معمول کے مطابق جاری تھی‘ طلبہ طالبات اساتذہ اور عملہ سب اپنے اپنے کام میں مشغول تھے کہ یکایک اسکول پر ایک ہلاکت آفرین مزائل داغا گیا‘ چشم زدن میں ہرجانب تباہی مچ گئی‘ تعلیم گاہ کے درودیوار خون میں لت پت ہوگئے ‘ پلک جھپکتے ہی بچوں اور بچیوں کی لاشیں چاروں اطراف بکھر گئیں ‘ کمپاؤنڈاور کلاسوں میں موجود تمام انسان یک بار خون میں نہلائے گئے‘ ہر طرف بربادی ہر سمت موت کا ننگا ناچ ‘ شہدا کی بے سدھ بدھ میتیں ‘ زخمیوں کی آ وبکا‘ کرب ناک مناظر ‘ مرثیہ کناں ماحول‘ نوحہ خواں فضا کہ عرش کے فرشتے لہو روئیں‘ فرش کے انسان سینہ پیٹیں۔ یہ مذموم حملہ دنیا کے لئے پیغام چھوڑ گیا کہ بھلے ہی طفولیت اور معصومیت جیسے الفاظ کی کمزوروں کی لغت میں ابھی تک کوئی مفہوم بچاہو مگر اندھی طاقت اور جنگی جنون کے سامنے ان کی کوئی قدر وقیمت نہیں۔ آپ ذرا ماضیٔ ٔقریب کی یاداشتوں کی پوٹلی کھول کر بتائیں کیا شجرۂ طیبہ کے چمنستان پر حملہ زن دل کے اندھے عقل کےدشمن جارح قوت کو کبھی غزہ کے بچوں کو بم اور بھوک سے مارنے پر ایک بار بھی جنگی قواعداور ضوابط کا کوئی پا س ولحاظ رہا ؟ چاہے شفاخانہ یا تعلیم گاہ یا معابد دیکھایا نہتے لوگوں کا بے ضرر جمگھٹا جو بھی نگاہوں کے سامنے پایا اپنے آتش وآہن کی غذا بنایا ‘ ایساکرتے ہوئے وہ صرف اپنے حربی ہدف کا پابند اور اپنے نشانہ بازی کا اسیر بنارہا۔کیا کبھی آپ نے دیکھا کہ اس کی سوچ کسی انصاف ترس یارحم کے کسی اصول وقاعدے سے متاثر ہوئی؟اس کی نگاہ میں عالمی قوانین کا ضخیم انبار‘ اخلاقی اقدار کی گردانیں‘ انسانی جذبات کی مجروحیت ‘مذمتی بیا نات کی تکرار‘ قراردادوں کےپلندے محض فضولیات اور تضیع اوقات کے قصے ہیں ۔
ہم کتابی بستے چشم دید گواہ ہیں کہ اس روز معمول کے مطابق سورج طلوع ہوا تو ماوؤں نے اپنے ہنستے مسکراتے تازہ دم لاڈلوں کی بلائیاں لیتے ہوئے گھروں سے وداع کیا ‘ روشن مستقبل کی اپنی قندیلوں کو اللہ حافظ کے وداعی کلمات کے ساتھ رخصت کرتے ہوئے تسلی تھی کہ یہ اسکول سے کچھ نیا سیکھ کر لوٹیں گے مگر یہ ننھے فرشتے لوٹے تو بے حس وحرکت لاشیں بنے یا زخموں سے چُور جسم وجان کےدرد کےساتھ ۔ ا س روز گھر سےیہ اُچھلتی کودتی معصوم روحیں اسکول کی بہشتی پناہ میں آئیں تو بے فکری کاعالم تھا‘ اساتذہ کا خوش نما خیرمقدم تھا‘ بچوں کی دل نواز بچگانہ شرار تیں اور طفلانہ حرکتیں تھیں ۔ کسی کے حاشیۂ گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کھلکھلاتی کلیوں کی زندگیاں چند ہی لمحات کی مہمان ہیں ‘ مدرسہ مقتل کی شکل اختیار کرنے والا ہے ‘ معصوم بچوں کی آنکھوں کے سامنے صبح صبح ہی شامِ غریباں کادردوغم رقصاں ہونے والا ہے‘ شجرہ ٔ طیبہ کے نازک اندام پھولوں پر خون تشنہ غول ِ بیابانی جنگی جنون میں بہک کر مزائل سےدھاوا بولنےوالا ہے کہ برسوں پہلے پشاور کے ایک آرمی سکول کی مانند یہ اسکول بھی کرب وبلا جیسی دہشت و وحشت کا اعادہ دیکھنےوالاہے اورعصری تاریخ میں ایک اورخون آشام لہو رنگ باب کا اضافہ ہو نےو الا ہے۔
ہم کتابی بستے جانتے ہیں کہ اس بزدلانہ حملے کی ایران کے اندر ایران کے باہر کافی مذمتیں ہوئیں ‘ لوگوں کے دل چھلنی ہوئے‘ انہوں نے اس المیےپر وندہامہ اور چھٹی سنگھ پورہ کی طرح بہت رویا ‘ ماتم منایا‘ سینہ کوبیاں کیں ‘ بڑے بڑوں نےنہتے بچوں پر اس ظالمانہ مزائل حملے کو جنگی قواعد کی کھلی خلاف ورزی قراردینے کی رسم پوری کی‘ انصاف پسند وں نے حملہ آوروں کو انسانیت کا دشمن جتلایا مگر ان مذمتوں ‘ ملامتوں اور واویلاؤں کا کیاحاصل؟ افسوس کہ حملہ آور نے دکھاوے کے لئے بھی کوئی ندامت وپشیمانی ظاہر نہ کی‘ اسے پل بھر بھی کوئی پچھتاوا نہ ہوا‘ کسی عالمی ادارے نے اسکولی بچوں کو مزائل کا لقمۂ تربنانے میں ملوث مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا نہ کیا؟ بس انسانی جذبات مجروح ہوئےاوردنیا بھر میں حسا س والدین کے دل پر رنج وملال کا داغ ثبت ہوا کہ ایک سو پانسٹھ گھرانوں کے وردیاں پہنے کم سن چشم وچراغ خونین قبائیں زیب ِ تن کر کے دنیا سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوئے اور اپنے پیچھے اپنے عزیز واقارب کے دلوں میں غم وصدمہ کا گہن مستقلاً لگایا۔ ہم کتابی بستےگواہ ہیں کہ موقع پر چند اساتذہ بھی جام ِ شہادت نوش کرگئے ‘ دیگر چھیانوے بچے اور بچیاں شدید طور زخم زخم ہوئے ۔ اس سانحہ پر کلیجے پھٹ گئے‘ جگرپاش پاش ہوئے ‘ دل پارہ پارہ ہوئے‘ خاص کرمعصوم بچوں کے والدین اور اقربا کی دُنیا لٹ گئی ‘ وہ جیتے جی اسی طرح مرگئے جیسے غزہ کے ہزاروں اسکولی بچوں کے والدین کا حال احوال تاریخ کے اندھے کنوئیں میں زندہ دفن ہے ۔ ہم شجرہ ٔ طیبہ کی لرزہ خیز رُوداد اور صد مہ انگیز لمحات کے گواہ تو ہوئے مگر غزہ المیےکا کوئی ایک گواہ بھی سوائے ہمالیہ جیسے ملبے کے نہیں بچا۔
ہم کتابی بستے گواہ ہیں کہ اسکول میں ا س روز الل ٹپ شدید زلزلہ آگیا‘ فضا میں ایک بہت ہی ہیبت ناک ارتعاش پیدا ہو ا‘ ہرشئے لرزاں تھی ‘ سب کچھ ہل گیا‘ شایدآسمان زمین پر دھڑام سے آگرا تھا کہ بچوں کے معصوم دل خوف سے دہل گئے ‘ یہ قیامت تھی ‘صدبار قیامت ‘ قہر برساتی قیامت ‘ جھلسادینے والی آگ کی قیامت‘ فلک بوس کالے دھوئیں کی قیامت‘ ایک ہی خوف ناک چنگاڑ سے سبھی کے اوسان خطا ہوئے ‘ بچوں کے دل کی دھڑکنیں رُک گئیں ‘ چیخ وپکار کی صدائیں سینے میں دب کر رہ گئیں ‘ چھلکتے آنسو آنکھوں کے سمندر میں چُپ کا کفن اوڑھے دفن ہوئے ‘ ممکن ہے وہ خوف وخطر کی ان شدید لمحات میں ابا اماں ‘بردا رخواہرکی آوازیں لگاکر چیختے چلاتے تاکہ غم اور خوف کی شدت کم ہو مگر ان معصومین کو یہ الفاظ زبان تک لانے کا موقع ہی نہ ملا۔ چاروں طرف سناٹا چھاگیا ‘ موت کی خاموشی سے سانج سویرے ہی اندھیرا چھاگیااور ایک ایسا ناقابل ِ یقین المیہ جنم پاگیا جو ہم کتابی بستوں کو یہ منت سماجت کرنےپر مجبور کررہا ہے کہ اے دنیا ئے جنگ کے بڑے بڑے جنگی سورماؤ!معصوم بچہ چاہے تل ابیب کا ہو یا طہران کا‘ غزہ کا ہویایوکرین کا ہو یاصومالیہ کا‘ کم ازکم انہیں اپنی انتقامی سیاست کی قربان گاہ کی بھینٹ نہ چڑھاؤ ‘ اسکولوں اور شفاخانوں پر بمباریاں کرکے ان سے اپنےسیف وسنان کی بھوک نہ مٹاؤ ۔ یہ ہماری مشترکہ اپیل ہے جنگ بازوں کے نام ‘ ہے کوئی سننے والا؟ ہے کوئی ہماری فریاد پر کان دھرنےو الا ؎
تاراج ہورہا ہے انسانیت کا گلشن
کچھ رحم کھاؤ لوگو بچوں کو اب بچاؤ