Ad
مضامین

گلوان پورہ (بڈگام) کا سانحہ اور ہماری اجتماعی بے حسی: ایک لمحۂ فکریہ

✍️ : اعجاز جعفر / سرینگر 


​کچھ حادثات اور جرائم ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک گہرا سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔ گلوان پورہ، بڈگام میں پیش آنے والا حالیہ دلخراش واقعہ—جہاں ایک بارہ سالہ معصوم بچی کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا—محض ایک جرم نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری سوسائٹی کے تمام ذی حس افراد کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ ہے۔ یہ ہولناک واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر ہماری نئی نسل، ہمارے نوجوان کس تباہی کی طرف جا رہے ہیں؟

​اگر ہم ٹھنڈے دل سے غور کریں تو اس بگاڑ کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ معاشرے کا ہر وہ طبقہ جو اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے منہ موڑ چکا ہے، وہ کہیں نہ کہیں اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔

​منبروں کی بے رخی اور علماء کا جمود

​معاشرے کی اصلاح میں سب سے پہلا اور بڑا کردار ہمارے  واعظین اور علماءِ دین کا تھا۔ مگر افسوس کہ آج ہمارے واعظین ہر جمعہ کو مسجدوں کے منبروں سے اخلاقی تربیت، کردار سازی اور فکرِ آخرت کو اجاگر کرنے کے بجائے مسلکی بحثوں اور فروعی اختلافات کی آگ بھڑکانے میں مصروف ہیں۔ علماءِ دین اپنے مہنگے اور پُرسکون "کمفرٹ زون"سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔ جب تک منبر و محراب سے معاشرتی برائیوں کے خلاف عملی اور مؤثر آواز نہیں اٹھے گی، تب تک سوسائٹی کا گراف یوں ہی گرتا رہے گا۔

​والدین کی غفلت اور دینی تعلیم سے دوری

​دوسرا بڑا المیہ والدین کا طرزِ عمل ہے۔ آج کے والدین اپنے بچوں کو دنیا کی تمام سکھ آسائشیں اور مہنگی ترین دنیوی تعلیم دلانے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں، لیکن جب بات دینی اور اخلاقی تعلیم کی آتی ہے تو ان کا رویہ معذرت خواہانہ ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی انہیں بچوں کو درسگاہ بھیجنے کی طرف توجہ دلائے، تو جواب ملتا ہے: "بچوں کو اسکول کا ہوم ورک کرنا ہوتا ہے، انہیں درسگاہ آنے کی فرصت کہاں!"

​یہاں مجھے قریباً دس سال پہلے کا ایک ذاتی واقعہ یاد آتا ہے۔ میں نے ایک گھر میں جا کر ایک بچے کو درسگاہ آنے کی دعوت دی، تو اس کے باپ نے صاف لفظوں میں تکبر کے ساتھ کہا: "میرا بچہ درسگاہ میں گندے لوگوں (غریب بچوں) کے ساتھ نہیں بیٹھے گا۔" لیکن قدرت کا نظام دیکھیے! محض ایک سال کے بعد وہی باپ میرے سامنے منت سماجت کر رہا تھا کہ "مہربانی کر کے میرے بچے کو درسگاہ لے جاؤ۔" کیوں؟ کیونکہ اس ایک سال کے عرصے میں اس لڑکے نے اخلاقی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے اپنے باپ کے ساتھ شدید بدتمیزی کی تھی اور بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ اس نے اپنے سگے باپ پر کلہاڑی سے وار کر دیا تھا۔ 

​قرآنِ کریم میں جہاں ایک طرف "وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا" (والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو) کا حکم دیا گیا ہے، وہیں والدین کو بھی یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ بچوں کی ایسی اسلامی تربیت کریں کہ جب باپ کوئی حکم دے، تو بچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرح سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے کہے: "يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ" (اے ابا جان! آپ وہ کر گزریے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے)۔

​جرم کی سزا اور خاندان کا سماجی بائیکاٹ

​یہ سچ ہے کہ اگر کوئی شخص جرم کرتا ہے تو اس کی سزا اس کے معصوم گھر والوں (ماں باپ، بہن بھائیوں) کو قانوناً نہیں دی جا سکتی۔ لیکن اخلاقی اور سماجی طور پر اس ہولناک جرم کا اثر اس کے پورے خاندان پر پڑتا ہے۔ وہ معصوم لوگ سوسائٹی میں کس منہ سے نکلیں گے؟ ان کی حالت تو یہ ہو جاتی ہے کہ وہ جینے پر موت کو ترجیح دینے لگتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کاش ہمیں موت ہی آ جاتی۔ ایک شخص کی آوارگی پورے خاندان کی عزت کو مٹی میں ملا دیتی ہے۔

​ ہماری ذمہ داریاں اور عملی لائحہ عمل

​اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض افسوس کرنے کے بجائے عملی قدم اٹھائیں۔ معاشرے کے تمام ذی حس اور معزز افراد کو آگے آنا ہوگا اور درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:

​آوارہ گردی پر نظر: ہمیں سڑکوں پر رات گئے تک آوارہ گھومنے والے لڑکوں کی بھیڑ پر کڑی نظر رکھنی ہوگی۔

​دکان داروں کو تنبیہ: محلے کے دکان داروں کو سخت تاکید کی جائے کہ وہ اپنی دکانوں پر نوجوانوں کا غیر ضروری ہجوم اور محفلیں جمع نہ ہونے دیں۔

​مساجد میں اصلاحی پروگرام: صرف رسمی خطبوں کے بجائے مساجد میں "اصلاحِ معاشرہ" کے عنوان سے خصوصی تربیتی اور فکری پروگرام منعقد کیے جائیں۔

​مضبوط بیت المال کا قیام: ہر محلے میں ایک فعال اور مضبوط بیت المال قائم کیا جائے تاکہ غریب لڑکے اور لڑکیوں کی شادیاں وقت پر ہو سکیں اور ایک ایسا مالی نظام بنے کہ کوئی بھی نوجوان معاشی تنگی کی وجہ سے غلط راستے پر چلنے پر مجبور نہ ہو۔

​روزگار کی فراہمی: بے روزگار نوجوانوں کو ہنر سکھانے اور روزگار فراہم کرنے میں صاحبِ ثروت لوگ بھرپور مدد کریں۔

​جب معاشرے کا ہر فرد کسی نہ کسی مثبت کام اور روزگار میں مصروف رہے گا، تو وہ خود بخود آوارہ گردی اور برائیوں سے بچا رہے گا۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی آنکھیں نہ کھولیں، تو گلوان پورہ جیسا سانحہ خدانخواستہ کسی کے بھی گھر دستک دے سکتا ہے۔ وقت پکار پکار کر کہہ رہا ہے: اپنے بچوں کو بچائیے، اپنے معاشرے کو بچائیے!



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!