مضامین
جناب ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب کی تحریر "عید کی نماز کا وقت" کا فقہی و اصولی جائزہ

جناب ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب کی تحریر "عید کی نماز کا وقت" کا فقہی و اصولی جائزہ: تعجیلِ اضحیٰ، وقتِ جواز اور وصفِ سنن و استحباب کے تناظر میں
گزشتہ دنوں راقم الحروف نے "عید الاضحیٰ کی نماز میں غیر ضروری تاخیر اور اوقافِ اسلامی بارہ مولہ کے طرزِ عمل پر ایک جائزہ" کے عنوان سے ایک تحریر سپرد قلم کی تھی، جس کا مقصود اصلی یہ واضح کرنا تھا کہ عید الاضحیٰ کی نماز میں تعجیل محض ایک انتظامی ترجیح یا وقتی مناسبت نہیں، بلکہ فقہاء امت، ائمۂ اسلاف اور محدثین کرام کی تصریحات کی روشنی میں ایک امر مستحب و مسنون ہے۔ اسی غرض سے متعدد فقہی و آثار نصوص نقل کی گئی تھیں، جن کا حاصل یہ تھا کہ اگرچہ نمازِ عیدین کے اصل وقت میں توسع و گنجائش موجود ہے، تاہم عید الفطر میں قدرے تاخیر اور عید الاضحیٰ میں تعجیل فقہاء امت کے نزدیک ایک ترجیحی، منصوص اور معمول بہ امر رہا ہے۔بعد ازاں اس موضوع پر ایک مضمون نظر سے گزرا، جس میں نمازِ عید کے وقتِ جواز، وسعتِ شریعت، عوامی سہولت، موسمی احوال اور بعض مصالحِ مرسلہ کی جہت سے گفتگو کی گئی ہے۔ بلاشبہ علمی مسائل میں سنجیدہ بحث و تمحیص باعثِ خیر ہے، تاہم بنظرِ غائر محسوس ہوا کہ اصل محلّ نزاع پوری طرح متعین نہ ہوسکا، جس کے باعث کلام کا رخ ایک دوسرے جہت کی طرف منتقل ہوگیا۔اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ مسئلہ کو اس کے صحیح فقہی اور اصولی تناظر میں سمجھنے کے لیے چند معروضات نہایت ادب، اور علمی دیانت کے ساتھ پیش کردی جائیں۔
۱۔اصل محلِّ نزاع کی تعیین:
سب سے پہلے یہ واضح رہنا چاہیے کہ راقم الحروف کی سابقہ تحریر میں ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا گیا تھا کہ اگر نمازِ عید الاضحیٰ صبح 9:00 یا 10:00 بجے ادا کی جائے تو وہ ناجائز، فاسد یا خارج از وقت ہوجاتی ہے، یا اس کا جواز محلِّ انکار ہے۔ نہ ہی یہ کہا گیا تھا کہ نمازِ عید کا وقت صرف اشراق کے ابتدائی لمحات تک محدود ہے۔بلکہ اصل مدعا صرف اس قدر تھا کہ عید الاضحیٰ کی نماز میں حتی الامکان تعجیل، سنتِ نبوی ﷺ، تعاملِ اسلاف اور تصریحاتِ فقہاء کی رو سے مستحب و اولیٰ ہے، لہٰذا بلا موجبِ شرعی غیر ضروری تاخیر، کم از کم خلافِ سنت اور خلافِ مزاجِ سنت محسوس ہوتی ہے۔یہی اصل محلِّ کلام تھا۔لیکن ڈاکٹر صاحب کے مضمون میں زیادہ تر گفتگو وقتِ جواز کے اثبات پر مرکوز رہی کہ نمازِ عید سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے سے زوال تک جائز ہے، اور زوال سے پہلے تک ادا کی جاسکتی ہے۔راقم کو اس کلیہ سے اصولاً کوئی اختلاف نہیں؛ کیونکہ نمازِ عید کا وقت بعد ارتفاع الشمس إلی الزوال ہونا کتبِ فقہ میں منصوص ہے۔ تاہم عرض یہ ہے کہ:ثبوت وقتِ الجواز، سقوط وصفِ الاستحباب کو مستلزم نہیں۔یعنی نمازِ عید کے جواز کا وقت زوال تک ممتد ہونا، اس امر کی نفی کو لازم نہیں کرتا کہ اول وقت میں تعجیل، سنت اور مستحب نہ ہو۔یہاں غالباً اصلِ مشروعیت اور وصفِ افضلیت کے مابین فرق پوری طرح مرعی نہ رکھا گیا۔کیونکہ فقہی اعتبار سے کسی عمل کا جائز ہونا اور اس کا افضل و مسنون ہونا دو الگ جہات ہیں، اور ان دونوں کو خلط ملط کرنا، محلِّ بحث کو غیر شعوری طور پر منتقل کردیتا ہے۔مثال کے طور پر:نمازِ ظہر کا وقت غروبِ آفتاب سے پہلے تک باقی رہتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اول وقت کی فضیلت منتفی ہوجائے۔اسی طرح فجر کی نماز کا وقت طلوعِ آفتاب تک باقی رہتا ہے، مگر اہل علم نے اول وقت کی فضیلت پر مستقل کلام کیا ہے۔بعینہٖ یہی معاملہ نمازِ عید کا بھی ہے۔لہٰذا اگر کوئی یہ کہے کہ "نمازِ عید زوال سے پہلے تک درست ہے" تو اس سے زیادہ سے زیادہ ثبوتِ جواز لازم آتا ہے، نفیِ سنن و استحباب نہیں۔
*۲۔تصریحاتِ فقہاءِ امت کا اصل محل:*
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا فقہاءِ امت نے صرف نمازِ عید کے وقتِ جواز پر کلام کیا ہے، یا اس کے ساتھ وقتِ استحباب و افضلیت بھی بیان فرمایا ہے؟کتبِ فقہ کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہاء نے دونوں پہلوؤں کو مستقل طور پر ذکر فرمایا ہے۔
چنانچہ علامہ طحطاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ويستحب تعجيل الإمام الصلاة في أول وقتها في الأضحى، وتأخيرها
قليلاً في الفطر۔یعنی عید الاضحیٰ میں اول وقت میں نماز ادا کرنا مستحب ہے، جبکہ عید الفطر میں کچھ تاخیر مستحب ہے۔
یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ عبارت میں في أول وقتها کی صراحت موجود ہے، جو اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ صرف جواز ہی مراد نہیں بلکہ اول وقت کی ترجیح بھی ملحوظ ہے۔
اسی طرح امام ابو حامد غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ويستحب تعجيل صلاة الأضحى لأجل الذبح، وتأخير صلاة الفطر لأجل تفريق صدقة الفطر قبلها، وهذه سنة رسول الله ﷺ
یہ عبارت نہایت اہم ہے؛ کیونکہ اس میں محض استحباب ہی نہیں بلکہ اس کی علت بھی بیان کردی گئی:لأجل الذبح
یعنی قربانی میں تعجیل کے لیے۔پس اگر تعجیل محض ایک اختیاری یا زمانی مناسبت ہوتی، تو فقہاء اس کے لیے مستقل علت ذکر نہ فرماتے۔
علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:يستحب تعجيل صلاة الأضحى ليتمكن الناس التعجيل بالأضحية یعنی نمازِ عید الاضحیٰ میں تعجیل اس لیے مستحب ہے تاکہ لوگ قربانی میں جلدی کرسکیں۔
یہی مضمون علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ نے بھی نقل فرمایا ويستحب تعجيلها لأجل ذبح القرابين
اسی طرح امام نووی رحمہ اللہ کا صریح کلام ہے:يستحب تعجيل صلاة الأضحى
اور علامہ ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ويستحب تعجيل صلاة الأضحى لتعجيل الأضاحي
(راقم نے اپنی گزشتہ تحریر میں ائمۂ فقہ، محدثین اور شراحِ حدیث کی دس (10) صریح عبارات پیش کی تھیں، جن میں واضح طور پر عید الاضحیٰ کی نماز میں تعجیل کو مستحب، مسنون اور موافقِ سنت قرار دیا گیا ہے۔ ان میں فقہاءِ احناف کے علاوہ دیگر ائمہ و محدثین کی تصریحات بھی شامل تھیں، لہٰذا اختصار کے پیشِ نظر ان تمام حوالہ جات کو یہاں دوبارہ نقل کرنے کے بجائے، ان کی تفصیل سابقہ تحریر میں بحوالہ ملاحظہ کی جاسکتی ہے، جہاں علامہ طحطاوی، امام غزالی، علامہ ابن قدامہ، بدر الدین عینی، ملا علی قاری، امام نووی، ابن نجیم حنفی، ابن رجب، امام مفلح اور دیگر اہلِ علم کی تصریحات ذکر کی جاچکی ہیں۔
لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1FsBp1CJbJ/
)
یہ تمام نصوص اس امر پر متواطئ ہیں کہ تعجیلِ اضحیٰ ایک امرِ ترجیحی اور منصوص ہے۔لہٰذا محض یہ ثابت کردینا کہ نمازِ عید زوال سے پہلے تک درست ہے، اس مدعا کے رد کو مستلزم نہیں کہ تعجیل مستحب و مسنون ہے۔بلکہ فقہی اصطلاح میں کہا جائے تو جواز کا ثبوت، ترجیح و افضلیت کی نفی کو مستلزم نہیں، جیسے رخصت کا وجود عزیمت کے سقوط کو لازم نہیں کرتا۔
*۳۔احادیثِ نبویہ اور ان کا صحیح محلِّ استدلال:*
مکرم ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں متعدد احادیث سے استدلال فرمایا، جن میں بالخصوص حضرت عبداللہ بن بسرؓ کی روایت کہ نمازِ عید کے اگلے دن تک مؤخر کیے جانے والی، حدیث قابلِ ذکر ہیں۔ تززاہم بنظرِ انصاف ان روایات کا اصل محلِّ استدلال وہ نہیں جو مضمون میں اختیار کیا گیا ہے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن بسرؓ کی روایت میں آتا ہے:
خرج عبد الله بن بسر صاحب رسول الله ﷺ مع الناس في يوم عيد فطر أو أضحى، فأنكر إبطاء الإمام، وقال: إنا كنا قد فرغنا ساعتنا هذه، وذلك حين التسبيح
(سنن أبي داود، سنن ابن ماجه)
یعنی حضرت عبداللہ بن بسرؓ عیدالفطر یا عیدالاضحیٰ کے دن لوگوں کے ساتھ نکلے، تو امام کے دیر سے آنے پر نکیر فرمائی اور ارشاد کیا:
ہم تو اس وقت تک نماز سے فارغ ہوچکے ہوتے تھے، اور یہ تسبیح (یعنی چاشت) کا وقت ہے۔
(تنبیہ: ڈاکٹر صاحب نے حضرت عبداللہ بن بسرؓ والی روایت کے تحت سنن ابن ماجہ: ۷۱۳۱ رقم فرمایا ہے، جبکہ بظاہر یہ سہوِ قلم معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ سنن ابن ماجہ میں کل احادیث تقریباً 4341 (بشمولِ مکررات) ہیں، لہٰذا اتنے نمبر تک احادیث پہنچتی ہی نہیں۔ روایت دراصل سنن ابن ماجہ (1317) میں وارد ہوئی ہے۔ غالباً یہ ارقام کی تقدیم و تاخیر غیر دانستہ طور پر واقع ہوئی ہوگی۔)
یہ روایت محلِّ نزاع میں نہایت واضح دلالت رکھتی ہے؛ کیونکہ اس میں صحابیٔ رسولؓ نے محض جوازِ وقت بیان نہیں فرمایا، بلکہ تاخیر پر اظہارِ استنکار کیا ہے۔اور اصولاً تاخیر پر نکیر، اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تعجیل ہی معروف، معمول بہ اور مقصود تھی۔لہٰذا یہ روایت درحقیقت تعجیلِ مسنون کے مؤقف کی مؤید ہے، نہ کہ اس کے خلاف۔اسی طرح رؤیتِ ہلال والی حدیث سے استدلال کیا گیا کہ چونکہ زوال کے بعد چاند کی خبر ملی تو رسول اللہ ﷺ نے اگلے دن نمازِ عید ادا فرمائی، لہٰذا نمازِ عید کا آخری وقت زوال ہے۔
عرض یہ ہے کہ:اس استدلال سے وقتِ جواز کا ثبوت تو حاصل ہوتا ہے، مگر نفیِ سنن و استحباب لازم نہیں آتی۔کیونکہ اس حدیث کا محل صرف یہ ہے کہ:بعد الزوال لا تُصلَّى صلاة العيد یعنی زوال کے بعد نمازِ عید نہیں ہوگی۔
لیکن اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ تعجيل صلاة الأضحى غير مستحب یہاں ایک اصولی مغالطہ واقع ہوا ہے، یعنی ایک عام تر مسئلہ (وقتِ جواز) سے ایک خاص تر مسئلہ (افضلیتِ وقت) کی نفی کا استدلال کیا گیا، حالانکہ یہ استدلال محلِّ نظر ہے۔کیونکہ فقہاء نے خود اسی حدیث کو قبول کرنے کے باوجود تعجیلِ اضحیٰ کو مستحب قرار دیا ہے۔اگر محض وقتِ جواز ہی اصل مقصود ہوتا، تو فقہاء تعجیل اور تأخیر کے مستقل ابواب قائم نہ فرماتے۔
*۴۔الدين يسر کا محل اور حدودِ استدلال*
ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں الدين يسر اور وما جعل عليكم في الدين من حرج سے استدلال فرمایا۔بلاشبہ یہ نصوص اپنی جگہ مسلم، برحق اور شریعت کے عمومی مزاج کی آئینہ دار ہیں، مگر ہر مقام پر ان کا انطباق یکساں نہیں ہوتا۔ اصولی اعتبار سے شریعت کا آسان ہونا اس امر کو مستلزم نہیں کہ سنتِ ثابتہ، شعائرِ منصوصہ یا اعمالِ مستحبہ کو عمومی سہولت، عرفِ حادث یا وقتی مناسبت کے نام پر بتدریج پسِ پشت ڈال دیا جائے؛ کیونکہ شرعی آسانی معتبر مشقت کے وقت ہوتی ہے، محض عادت، سہولت پسندی یا عمومی میلان کی بنیاد پر نہیں۔بلکہ صاف لفظوں میں عرض ہے کہ:الدين يسر کا ہرگز یہ مفہوم نہیں کہ سنن، مستحبات اور ہیئاتِ مسنونہ کو بتدریج ذبح کردیا جائے، اور پھر اس پر الدين يسر کا عنوان قائم کردیا جائے۔ورنہ بعینہٖ یہی استدلال دیگر شعائر میں بھی کیا جاسکتا ہے کہ : (ا )جماعت میں التزام دشوار ہے، لہٰذا انفرادی نماز کو اصل قرار دیا جائے-
( ب )اذکار و سنن میں وقت درکار ہے، لہٰذا ان سے صرفِ نظر کرلیا جائے۔
(ت) سننِ مؤکدہ کے التزام میں وقت اور مشقت محسوس ہوتی ہے، لہٰذا ان کو محض اختیاری ذوق پر محمول کردیا جائے
(ث) موجودہ زمانے میں داڑھی کو فیشن کے طور پر کاٹنا، کترنا یا فیشن ایبل انداز اختیار کرنا عوامی پسند بن چکا ہے، لہٰذا “الدين يسر” کے تحت اس میں توسع اختیار کرلی جائے؛ حالانکہ عرفِ حادث، حکمِ شرعی کے معارض نہیں ہوسکتا۔
(ج) چونکہ بعض لوگوں کو شرعی حجاب یا پردہ عرفِ جدید سے غیر مانوس محسوس ہوتا ہے، لہٰذا سہولت اور زمانے کے تقاضے کے نام پر اس میں تخفیف کردی جائے۔
حالانکہ شریعت کا مزاج یہ نہیں کہ رخصت کو اصل اور سنتِ راجحہ کو ثانوی بنادیا جائے .لہٰذا الدين يسر سے زیادہ سے زیادہ گنجائش اور رخصت ثابت ہوتی ہے، نہ کہ استحبابِ منصوص کی نفی۔اسی لیے فقہاءِ امت نے عید الاضحیٰ کے باب میں صراحت کے ساتھ:يستحب تعجيل صلاة الأضحى.لکھا، حالانکہ وہ سرد علاقوں، مختلف موسمی احوال اور عوامی تفاوت سے ناواقف نہ تھے۔اگر سردی، نمی، یا عمومی سہولت بذاتِ خود تعجیلِ مسنون کے سقوط کو مستلزم ہوتیں، تو فقہاء اس کا استثناء ضرور ذکر فرماتے۔
*٥۔تغیرِ فتویٰ اور اس کا صحیح محل*
اسی ضمن میں امام ابن القیم رحمہ اللہ کے اس اصول کا حوالہ دیا گیا کہ:تغير الفتوى بتغير الزمان والمكان والأحوال
یہ اصول اپنی جگہ مسلم ہے، مگر اس کے محل کو سمجھنا ضروری ہے۔کیونکہ: فتویٰ میں تغیر کا اصول، منصوص سنتوں میں تبدیلی کو لازم نہیں کرتا۔ورنہ ہر دور کا عرف و سہولت، مستقل شرعی معیار بن جائے گا۔اور اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ:
چونکہ بہت سے لوگ زکوٰۃ کے حساب، قربانی کے مسائل یا میراث کی تقسیم کو دشوار سمجھتے ہیں، لہٰذا سہولت کے نام پر ان کے شرعی ضوابط میں تخفیف کردی جائے۔
چونکہ جدید دور میں بینکنگ نظام سود پر قائم ہے، اور تجارت و ملازمت کے بہت سے امور اس سے وابستہ ہوچکے ہیں، لہٰذا زمانہ بدل گیا کے عنوان سے سود کی حرمت کو تخفیف پر محمول کردیا جائے؛ حالانکہ نصِّ قطعی کے مقابل یہ استدلال مردود ہے۔حالانکہ یہ التزام باطل ہے۔
حالانکہ ان تمام مثالوں میں ہر صاحبِ علم فوراً کہے گا کہ:
هذا ليس من تغير الفتوى، بل من تغيير الحكم
لہٰذا اگر عیدگاہ کے نظم، صف بندی، صوتی نظام، ٹریفک، سیکورٹی، یا انتظامی تدابیر میں زمانے کے لحاظ سے تبدیلی کی جائے تو یہ بلاشبہ تغیرِ فتویٰ یا تبدلِ وسائل کے باب سے ہوسکتا ہے؛ مگر عید الاضحیٰ میں جس تعجیل کو فقہاءِ امت نے بطورِ استحباب مستقل ذکر فرمایا ہو، اس کو عمومی سہولت کے عنوان سے تدریجاً پسِ پشت ڈال دینا، محلِّ تأمل ہے۔
ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا کہ:"آج کے حالات میں لوگوں کو سہولت ہو تو 10:00 یا 10:30 بجے نماز مقرر کی جائے۔"
زیادہ سے زیادہ جوازِ انتظامی کو ثابت کرسکتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہی سنت کے زیادہ موافق یا فقہی اعتبار سے مرجح عمل بھی ہے۔
*۶۔جواز اور رجحان میں خلط*
حقیقت یہ ہے کہ پورے مضمون میں بار بار ایک ہی اصولی خلط سامنے آتا ہے، اور وہ یہ کہ جواز کے ثابت ہونے کو سنن و استحباب کی نفی پر دلیل بنا لیا گیا۔حالانکہ فقہاء کے نزدیک کوئی چیز جائز ہونے کے باوجود مرجوح ہوسکتی ہے، اور کوئی چیز راجح ہونے کے باوجود واجب نہیں ہوتی۔لہٰذا اگر کوئی ادارہ یا مسجد صبح 9:00 یا 10:00 بجے نماز مقرر کرے تو اصل صحت و جواز محلِّ نزاع نہیں، لیکن یہ سوال بدستور قائم رہتا ہے کہ جب ائمۂ فقہ، محدثین اور شراحِ حدیث کی صریح تصریحات تعجیلِ اضحیٰ کے سنن و استحباب پر موجود ہیں، تو بلا عذر معتبر اس سنتِ منصوصہ سے عدول کو کس اصول پر ترجیح دی جائے؟ ۔
*۷۔موسمی احوال، تیاری، عرفِ عام اور مصلحت کا مسئلہ*
ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں وادی کشمیر کے موسمی تغیرات، سردی، نمی، عوامی احوال، عید کی تیاری، غسل، لباس، خوشبو اور عمومی سہولت کو بنیاد بنا کر عید کی نماز میں تاخیر کے جواز اور افضلیت کی طرف میلان ظاہر فرمایا ہے۔بلاشبہ مصالح معتبرہ اور عوامی سہولت شریعت میں ایک معتبر پہلو ہے، اور اہل افتاء نے اس کا انکار نہیں کیا تاہم یہاں ایک بنیادی اصول ملحوظ رہنا چاہیے کہ وہ مصلحت جو کسی صریح شرعی ترجیح کے بالمقابل آجائے، اسے مستقل اصل نہیں بنایا جاسکتا، الا یہ کہ کوئی عارضِ معتبر یا حاجتِ غالبہ موجود ہو۔چونکہ یہاں اصل بحث اصلِ جواز کی نہیں بلکہ وصفِ افضلیت و سنن استحباب کی ہے، اس لیے محض عمومی سہولت، انتظامی آسانی یا عرفِ حادث کو بنیاد بنا کر تعجیل منصوص کے سنن و استحباب کو عملاً معطل کردینا محلِّ تأمل ہے۔بالخصوص جبکہ فقہاء امت نے تعجیل کی علت خود منصوص فرمادی: لأجل الذبح۔ لتعجيل الأضاحي۔یعنی نماز میں تعجیل اس لیے سنن و مستحبات ہے کہ قربانی جلد انجام پائے۔اور ظاہر ہے کہعلت موجود ہو تو حکم بھی موجود رہتا ہے، اور جب علت زائل ہوجائے تو حکم بھی زائل ہوجاتا ہے۔چنانچہ جب قربانی کی علت بدستور قائم ہے تو اس کی خاطر تعجیل کی ترجیح بھی اصولاً باقی رہنی چاہیے، الا لعذر معتبر۔
*۸۔غسل، زینت اور تیاری کا استدلال*
یہ استدلال بھی پیش کیا گیا کہ اگر نماز جلدی رکھی جائے تو عوام کو غسل، لباس، خوشبو، تیاری اور زینت کا پورا موقع نہیں ملتا۔
عرض یہ ہے کہ یہ استدلال مناسبت عرفیہ کے درجے میں تو قابل فہم ہوسکتا ہے، مگر استدلال شرعی کے اعتبار سے محلِّ نظر ہے۔کیونکہ اولاً شریعت نے ان آداب کے حصول کے لیے تعجیل مسنون کو مؤخر کرنے کا حکم نہیں دیا۔ثانیاً ان مستحبات کا حصول نماز فجر سے قبل یا بعد میں بآسانی ممکن ہے۔ثالثاً اگر یہی اصول عام کرلیا جائے تو ہر عبادت میں سہولت کی بنیاد پر سنتِ راجحہ کو مؤخر کیا جاسکتا ہے۔حالانکہ معمولی دشواری سنتِ ثابتہ سے عدول کو لازم نہیں کرتی۔
*۹۔عرفِ حادث اور مزاجِ شریعت*
یہ کہنا کہ "موجودہ دور میں عوام کے احوال بدل چکے ہیں"
اپنی جگہ ایک جزوی حقیقت ہوسکتی ہے، مگر عرف اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب وہ کسی منصوص ترجیح یا مستقر فقہی مزاج کے معارض نہ ہو۔ورنہ ہر زمانہ اپنے مزاج کے مطابق سنتوں کی ہیئت بدلنے لگے گا۔اور یہی وہ امر ہے جس سے فقہاءِ امت نے ہمیشہ احتراز کیا۔یہاں یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ:فقہاء کرام نے تعجیل اضحیٰ کا سنن و استحباب صرف حجاز یا گرم علاقوں کے لیے نہیں لکھا، بلکہ اسے حکم مطلق کے طور پر ذکر فرمایا، حالانکہ ان کے ادوار میں بھی سرد، دشوار گزار اور مختلف موسمی خطے موجود تھے۔محترم ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا کہ"وادی کشمیر کے حالات مختلف ہیں"۔زیادہ سے زیادہ رخصت انتظامی کا سبب بن سکتا ہے، مگر اسے اصل مسنون کے بالمقابل ایک مستقل معیار بنانا محلِّ نظر ہے۔
حاصل بحث یہ ہے کہ اس مسئلہ میں دو الگ جہات کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے:
ایک:وقتِ جواز۔جس میں شریعت نے وسعت رکھی ہے، اور نمازِ عید زوال سے پہلے تک ادا کی جاسکتی ہے۔
اور دوسری:وقتِ استحباب و افضلیت۔جس میں فقہاء امت، محدثین اور شراح حدیث نے عید الاضحیٰ میں تعجیل کو سنت ،راجح، مستحب اور موافقِ مزاجِ سنت قرار دیا ہے۔
لہٰذا اگر کوئی ادارہ یا انتظامیہ کسی مصلحت کی بنا پر نسبتاً تاخیر سے نماز مقرر کرے، تو اس کے اصل جواز سے انکار مقصود نہیں؛ تاہم محض جواز کے ثابت ہونے سے کسی عمل کی ترجیح، افضلیت یا استحباب ساقط نہیں ہوجاتا۔ اور کسی امر کے جائز ہونے کا ثبوت، اس کے راجح اور افضل ہونے کی نفی کو لازم نہیں کرتا۔
اس لیے اصل سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ عید الاضحیٰ کی نماز کوئی یومیہ یا متکرر عبادت نہیں، بلکہ سال میں ایک مرتبہ ادا ہونے والا ایک عظیم شعارِ اسلامی ہے۔ جب اس ایک موقع پر بھی حتی الامکان سنتِ نبوی ﷺ، تعاملِ اسلاف اور ترجیحاتِ فقہاء کی رعایت نہ کی جائے، تو پھر اتباعِ سنت کا عملی مظہر کب سامنے آئے گا؟ نیز جب ائمۂ فقہ، محدثینِ کرام اور شراحِ حدیث کی متضافر تصریحات تعجیلِ اضحیٰ کے استحباب پر موجود ہیں، تو بلا موجبِ شرعی معتبر اس سنتِ منصوصہ سے تدریجاً اعراض کیوں؟شریعت کا مزاج یہ نہیں کہ جہاں وسعت ہو وہاں سنتِ راجحہ کو ترک کردیا جائے، بلکہ مزاجِ شریعت یہ ہے کہ رخصت اپنی جگہ، مگر عزیمت و افضلیت کی قدر بھی باقی رہے۔اسی لیے فقہاء امت نے جواز کے ابواب کے ساتھ مستحب، افضل اور اولیٰ کے ابواب بھی قائم فرمائے، تاکہ امت صرف درست اور جائز پر اکتفا نہ کرے، بلکہ حتی الامکان افضل اور موافقِ سنت کو اختیار کرے۔
فقط، واللہ أعلم بالصواب۔
(مزکوےبالا مضمون میں جو آرا اور تجاویز پیش کی گئی ہیں یہ خالص مضمون نگار کی اپنی ہیں انہیں ادارہ نوکِ قلم سے منسوب نہیں کی جانا چاہیے)