مضامین
کشمیر میں الرجی کے بڑھتے ہوۓ معاملات ، ایک سنگین صحتی مسئلہ۔

کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز میدانوں، خوشگوار موسم اور صاف فضا کے لیے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ بہار کا موسم وادی میں نئی زندگی لے کر آتا ہے۔ درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں، باغات کھل اٹھتے ہیں، اور ہر طرف ایک دلکش منظر دکھائی دیتا ہے۔ مگر اسی خوبصورتی کے پیچھے ایک ایسا مسئلہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے جو ہزاروں لوگوں کی صحت کو متاثر کر رہا ہے۔ کشمیر میں موسمی الرجی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ایک سنگین عوامی صحتی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔وادی بھر کے اسپتالوں اور کلینکوں میں ایسے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو پولن الرجی اور سانس کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ بچے، نوجوان اور بزرگ سب اس سے متاثر ہیں۔ بہت سے افراد کو مسلسل چھینکیں آنا، آنکھوں میں خارش، گلے میں جلن، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور جلدی الرجی جیسی شکایات لاحق ہو رہی ہیں۔ کئی خاندانوں کے لیے بہار کا موسم اب خوبصورتی کے بجائے بیماری اور پریشانی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق کشمیر میں پاپلر کے درختوں سے نکلنے والا سفید روئی نما پولن الرجی کی بڑی وجہ ہے۔ بہار کے موسم میں یہ پولن ہوا میں پھیل جاتا ہے اور گھروں، اسکولوں، بازاروں اور دفاتر تک پہنچ جاتا ہے۔ جن افراد کو پہلے سے دمہ یا سانس کی بیماریاں ہوتی ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال مزید خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ فضائی آلودگی، گرد و غبار اور بدلتے موسمی حالات نے بھی اس مسئلے کو بڑھا دیا ہے۔اکثر لوگ الرجی کی ابتدائی علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہی الرجی بعد میں سنگین بیماریوں کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ مسلسل پولن اور آلودہ فضا میں رہنے سے دائمی دمہ، سانس کی شدید بیماریاں، سینوس انفیکشن اور کمزور قوت مدافعت جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بچے اسکول جانے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں جبکہ بزرگ افراد کے لیے یہ مسئلہ مزید تکلیف دہ بن جاتا ہے۔عوام میں شعور کی کمی بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ بہت سے لوگ الرجی کے اسباب اور احتیاطی تدابیر سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ کچھ لوگ ماسک کے بغیر زیادہ دیر باہر رہتے ہیں جبکہ بعض لوگ بیماری بڑھنے تک ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے۔ دیہی علاقوں میں صورتحال اور بھی مشکل ہے جہاں صحتی سہولیات محدود ہیں اور آگاہی کی کمی زیادہ پائی جاتی ہے۔ماحولیاتی تبدیلیاں بھی الرجی کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ایک اہم وجہ ہیں۔ بے ہنگم تعمیرات، درختوں کی کٹائی، بڑھتی آلودگی اور موسم میں تبدیلی نے کشمیر کی فضا کو متاثر کیا ہے۔ خشک موسم کے باعث پولن اور گرد کے ذرات زیادہ دیر تک ہوا میں موجود رہتے ہیں، جس سے لوگوں کی بڑی تعداد متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے درختوں کے پھولنے کے اوقات کو بھی بدل دیا ہے، جس کے نتیجے میں الرجی کا موسم پہلے سے زیادہ طویل ہو گیا ہے۔اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں بھی اس کے اثرات واضح نظر آ رہے ہیں۔ بہت سے طلبہ الرجی کی وجہ سے پڑھائی پر پوری توجہ نہیں دے پاتے۔ بار بار بیماری کی وجہ سے حاضری متاثر ہوتی ہے اور تعلیمی کارکردگی کمزور پڑتی ہے۔ والدین مسلسل فکرمند رہتے ہیں کیونکہ ہر سال ان کے بچے انہی مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ کھیل کود اور بیرونی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے بچوں کو بھی سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ڈاکٹر حضرات لوگوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ باہر نکلتے وقت ماسک پہننا پولن سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تیز ہوا کے دوران کھڑکیاں بند رکھنا چاہیے تاکہ پولن گھروں کے اندر داخل نہ ہو۔ باہر سے واپس آنے کے بعد ہاتھ اور چہرہ دھونا اور کپڑے تبدیل کرنا بھی مفید ہے۔ ماہرین کے مطابق صبح اور شام کے اوقات میں پولن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس لیے غیر ضروری طور پر باہر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔گھروں کی صفائی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ قالین، پردوں اور فرنیچر میں جمع گرد الرجی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ مناسب صفائی اور صاف ستھرا ماحول صحت کے لیے بہتر ثابت ہوتا ہے۔ شدید الرجی کے مریضوں کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور بغیر مشورے کے ادویات استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ عوامی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کو الرجی کے خطرات اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جا سکے۔ اسپتالوں اور صحتی مراکز کو الرجی کے بڑھتے ہوئے کیسز سے نمٹنے کے لیے بہتر سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ فضائی معیار اور پولن کی صورتحال سے متعلق بروقت معلومات عوام تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ماہرین نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ رہائشی علاقوں میں ایسے درختوں کی بڑے پیمانے پر شجرکاری پر نظرثانی کی جائے جو زیادہ پولن پیدا کرتے ہیں۔ ماحولیاتی منصوبہ بندی کرتے وقت عوامی صحت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ کشمیر میں الرجی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سمجھنے اور اس کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔یہ مسئلہ صرف حکومت یا ڈاکٹروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین، اساتذہ، سماجی کارکنان اور صحتی ماہرین کو مل کر عوام میں شعور بیدار کرنا ہوگا۔ بچوں اور بزرگوں کی صحت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت احتیاط اور علاج سے بڑی مشکلات سے بچا جا سکتا ہے۔کشمیر نے ماضی میں کئی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ الرجی اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آ رہا ہے۔ جو مسئلہ پہلے صرف موسمی پریشانی سمجھا جاتا تھا، آج وہ ہزاروں خاندانوں کے لیے سنگین صحتی خطرہ بن چکا ہے۔ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات، شعور، احتیاط اور اجتماعی ذمہ داری وقت کی اہم ضرورت ہے۔بہار کا موسم کشمیر کے لوگوں کے لیے خوشی، تازگی اور خوبصورتی کی علامت ہونا چاہیے، بیماری اور خوف کی نہیں۔ اگر بروقت اقدامات کیے جائیں، عوام میں شعور پیدا کیا جائے اور ماحول کے تحفظ پر توجہ دی جائے تو الرجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ آنے والی نسلوں کی صحت اور بہتر مستقبل کے لیے آج سنجیدہ فیصلے کرنا ناگزیر ہیں۔