مضامین
منبر کی آواز اور کردار کی خاموشی

قوموں کی تقدیر صرف ایوانوں میں نہیں لکھی جاتی،وہ مسجد کے منبروں، مدرسوں کے کمروں اور اُن زبانوں سے بھی بنتی ہے جو لوگوں کو خدا کا راستہ دکھاتی ہیں۔
علماء ہمیشہ سے معاشرے کا اخلاقی چہرہ سمجھے جاتے رہے ہیں۔ لوگ ان کے الفاظ میں دین سنتے ہیں، ان کے انداز میں اسلام دیکھتے ہیں اور ان کے کردار سے راستہ لیتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ آج سب سے بڑا سوال عام لوگوں سے نہیں بلکہ انہی سے پوچھا جا رہا ہے جن کے ہاتھ میں رہنمائی کا چراغ ہے۔
کیا ہم وہی ہیں جو ہم منبر سے کہتے ہیں؟
یہ سوال تلخ ہے، مگر شاید اسی تلخی میں معاشرے کی اصلاح چھپی ہوئی ہے۔
ہم روز سنتے ہیں:
نماز قائم کرو.
جھوٹ سے بچو.
دنیا کی محبت چھوڑ دو.
اخلاق اپناؤ.
سادگی اختیار کرو.
مگر جب یہی باتیں کہنے والا خود نمود و نمائش، دنیا پرستی، فرقہ واریت یا کردار کی کمزوری میں مبتلا نظر آئے تو پھر الفاظ اپنا وزن کھو دیتے ہیں۔ کیونکہ قومیں صرف باتوں سے نہیں، کردار سے بدلتی ہیں۔قرآن مجید نے ایک ایسا سوال اٹھایا جو قیامت تک ہر داعی، ہر عالم اور ہر رہنما کا تعاقب کرے گا:
“تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو؟”(البقرہ: 44)
یہ آیت صرف ایک تنبیہ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے۔
ایسا آئینہ جس میں ہر وہ شخص اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے جو دوسروں کی اصلاح کی بات کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے کسی پیشے کو نشانہ نہیں بنایا، مگر علم والوں کی ذمہ داری ضرور بڑھا دی۔ کیونکہ ایک عام انسان کی لغزش صرف اس کی ذات تک رہتی ہے، جبکہ ایک عالم کی لغزش نسلوں کے اعتماد کو زخمی کر دیتی ہے۔
آج نوجوان دین سے نہیں بھاگ رہا.
وہ تضاد سے بھاگ رہا ہے۔
وہ اس منظر سے تھک چکا ہے جہاں:منبر پر عاجزی کی بات ہو مگر زندگی تکبر سے بھری ہو، اتحاد کا درس دیا جائے مگر نفرتیں بانٹی جائیں، سادگی کا وعظ ہو مگر دل دنیا کی چمک میں ڈوبا ہو. جب قول اور عمل کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے تو سب سے پہلے اعتماد مرتا ہے۔ اور جب اعتماد مر جائے تو نصیحتیں بھی اثر کھو دیتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں بے شمار ایسے علماء موجود ہیں جو خاموشی سے دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ جن کے چہروں پر اخلاص، جن کی زندگیوں میں سادگی اور جن کے کردار میں حقیقی اسلام جھلکتا ہے۔ وہی لوگ اس امت کی اصل امید ہیں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ چند چہروں کی غلطیاں پورے طبقے کو سوال بنا دیتی ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کے لیے ہے جسے اس کے علم نے فائدہ نہ دیا”
یہ الفاظ صرف خوف دلانے کے لیے نہیں بلکہ جھنجھوڑنے کے لیے ہیں۔ کیونکہ دین محض تقریر کا نام نہیں، بلکہ کردار کا نام ہے۔آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف دوسروں کو بدلنے کی کوشش کریں، بلکہ سب سے پہلے خود کو دیکھیں۔ کیونکہ قومیں اُس وقت نہیں بدلتی جب منبر صرف بولے. بلکہ اُس وقت بدلتی ہیں جب منبر بولنے کے ساتھ خود چل کر بھی دکھائے۔
اور جب عمل چھوڑ دے تو وہ سوال بن جاتا ہے۔