Ad
مضامین

جدت کی دوڑ میں مسلم دنیا کہاں کھڑی ہے؟

جدت کی دوڑ میں مسلم دنیا کہاں کھڑی ہے؟

صارف سے موجد بننے تک کا  سفر

✍🏼:. اِکز اِقبال/سہی پورہ قاضی آباد، کشمیر


ہم ایک عجیب زمانے میں جی رہے ہیں۔ دنیا ہماری جیب میں ہے۔ انگلی کے ایک لمس سے براعظم سمٹ آتے ہیں، ایک کلک پر کتابیں کھل جاتی ہیں، چند لفظ لکھیں تو مصنوعی ذہانت جواب دینے لگتی ہے، اور ایک چھوٹی سی اسکرین پر وہ سب کچھ موجود ہے جس کے لیے کبھی پوری زندگی سفر کرنا پڑتا تھا۔ مگر کبھی کبھی مجھے اس اسکرین سے نظریں ہٹا کر ایک سوال دیکھنے کو جی چاہتا ہے: ہم نے دنیا کو چھو تو لیا، مگر بنایا کیا؟

یہ سوال شاید ٹیکنالوجی سے زیادہ ہمارے مزاج کا سوال ہے۔ہم نئی ایپلی کیشن کا انتظار کرتے ہیں، جدید ترین موبائل خریدتے ہیں، مصنوعی ذہانت کے نئے کمالات دیکھ کر حیران ہوتے ہیں، سوشل میڈیا کے نئے رجحانات کے پیچھے چل پڑتے ہیں،مگر بہت کم رک کر یہ سوچتے ہیں کہ اس پوری چمکتی ہوئی دنیا کے پیچھے کتنی تحقیق، کتنے تجربے، کتنی ناکامیاں، کتنی بے خواب راتیں اور کتنے ذہن کام کر رہے ہیں۔ ہم ٹیکنالوجی کے بڑے صارف ضرور بن گئے ہیں۔ مگر کیا ہم اس کے خالق بھی بن رہے ہیں؟

یہ سوال کسی قوم کے خلاف فردِ جرم نہیں۔ یہ اپنے گریبان میں جھانکنے کی ایک کوشش ہے۔ مسلم دنیا میں صلاحیت کی کمی نہیں۔ ہمارے نوجوان دنیا کی بہترین جامعات، لیبارٹریوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اپنی قابلیت ثابت کر رہے ہیں۔ مسئلہ شاید افراد کا نہیں، ماحول کا ہے۔ ایک ذہین نوجوان کو صرف ذہانت نہیں چاہیے؛ اسے ایک ایسا معاشرہ بھی چاہیے جو اس کے سوال سے نہ گھبرائے، اس کے تجربے کو ناکامی نہ سمجھے، اس کی تحقیق کو وقت دے اور اس کے خواب کو سرمایہ، ادارہ اور موقع فراہم کرے۔

آج دنیا میں ٹیکنالوجی محض سہولت نہیں رہی۔ مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز، روبوٹکس، خلائی تحقیق اور سائبر سکیورٹی اب معیشت اور عالمی طاقت کے نئے ستون ہیں۔WIPO کے 2026 Global Innovation Index میں 139 معیشتوں کا جائزہ لیا گیا۔ متحدہ عرب امارات 25ویں، سعودی عرب 42ویں، ترکیہ 45ویں، قطر 47ویں، مراکش 54ویں، انڈونیشیا 55ویں، ایران 81ویں اور پاکستان 95ویں نمبر پر ہیں۔ یہ اعداد نہ مکمل فخر کا سبب ہیں، نہ مایوسی کا۔ یہ صرف اتنا بتاتے ہیں کہ راستہ موجود ہے۔ کچھ مسلم ممالک آگے بڑھ رہے ہیں، کچھ نے تحقیق، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ لیکن اصل سوال اب بھی وہی ہے: کیا ہم اپنے انسانی سرمائے کو تحقیق سے ایجاد، ایجاد سے صنعت اور صنعت سے عالمی اثر میں تبدیل کر پا رہے ہیں؟

ہماری تاریخ میں علم کبھی صرف کتابوں میں بند نہیں تھا۔ الخوارزمی نے اعداد کو نئی زبان دی، ابن الہیثم نے روشنی کو تجربے کی میز پر رکھا۔ ہمارے علمی مراکز میں سوال کرنا علم کی ابتدا سمجھا جاتا تھا۔ مگر شاید ہم نے اپنے ماضی کو یادگار بنا دیا اور اس کا مزاج بھلا دیا۔ ہم الخوارزمی کا نام لیتے ہیں، مگر اپنے بچے سے کہتے ہیں: سوال کم کرو، نصاب زیادہ پڑھو۔ ہم ابن الہیثم کا ذکر کرتے ہیں، مگر ہماری بہت سی لیبارٹریاں بچوں کے تجسس سے زیادہ امتحانی شیڈول کی منتظر رہتی ہیں۔

شاید ہمیں اپنے بچوں کے لئے  پوری تعلیمی سوچ بدل دینی چاہیے۔ ایک بچہ مصنوعی ذہانت استعمال کرے، یہ اچھی بات ہے۔ مگر وہ یہ بھی جاننے کی کوشش کرے کہ مصنوعی ذہانت کام کیسے کرتی ہے۔ وہ موبائل استعمال کرے، مگر کبھی یہ پوچھے کہ اس کے اندر موجود چِپ کیسے بنتی ہے۔ وہ روبوٹ دیکھے، مگر ایک دن اپنا چھوٹا سا روبوٹ بنانے کی کوشش کرے۔ وہ دنیا کی ایپلی کیشنز استعمال کرے، مگر اس کے اندر یہ خیال بھی پیدا ہو کہ میں بھی کچھ بنا سکتا ہوں۔ کیونکہ صارف دنیا کو استعمال کرتا ہے۔ مگر خالق دنیا میں کچھ شامل کرتا ہے۔

اور قومیں صرف اس وقت مضبوط نہیں ہوتیں جب ان کے پاس جدید ترین چیزیں موجود ہوں؛ وہ اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ ان چیزوں کو بنانے کا علم، ادارہ اور حوصلہ پیدا کر لیتی ہیں۔ ہمیں شاید اپنے نوجوانوں کو صرف نوکری کے لیے نہیں، تخلیق کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ انہیں صرف یہ نہیں سکھانا ہوگا کہ "کسی بڑی کمپنی میں کیسے کام کرنا ہے"، بلکہ کبھی یہ خواب بھی دینا ہوگا کہ "ایک دن اپنی کمپنی کیسے بنانی ہے۔" انہیں صرف یہ نہیں بتانا ہوگا کہ دنیا میں جگہ کیسے بنانی ہے؛ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ دنیا میں اپنی جگہ کیسے بنائی جاتی ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں ناکامی سے دوستی کرنا ہوگی۔ کیونکہ ہر ایجاد کے پیچھے کامیابیوں سے زیادہ ناکام تجربوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے۔ ہمیں کامیاب بچوں کی تصویریں بہت پسند ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپی ناکام کوششوں کی کہانی سننے کا حوصلہ کم ہے۔ علم جلدی نہیں اگتا۔ علم بیج ہے۔ اسے زمین چاہیے، پانی چاہیے، وقت چاہیے—اور انتظار چاہیے۔

شاید اسی لیے ایک اچھا اسکول صرف وہ نہیں جہاں بچے درست جواب دینا سیکھیں؛ اچھا اسکول وہ بھی ہے جہاں بچے درست سوال کرنا سیکھیں۔ ایک اچھا استاد صرف وہ نہیں جو نصاب مکمل کر دے؛ کبھی کبھی وہ استاد زیادہ بڑا ہوتا ہے جو کسی بچے کے عجیب سے سوال پر مسکرا کر کہے: "اچھا سوال ہے… آؤ، مل کر معلوم کرتے ہیں۔" شاید کسی قوم کا مستقبل اسی ایک جملے سے بدلنا شروع ہوتا ہے۔

ہمیں دوسروں سے آگے نکلنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں صرف پیچھے رہنے کی عادت چھوڑنی ہے۔ ہمیں کسی اور تہذیب کی نقل نہیں بننا۔ ہمیں اپنے اندر سوال کرنے، تحقیق کرنے، تجربہ کرنے اور تخلیق کرنے کی وہ روح دوبارہ پیدا کرنی ہے جو کبھی ہمارے علمی مزاج کا حصہ تھی۔ کیونکہ مستقبل کوئی تیار شدہ چیز نہیں جسے ہم بازار سے خرید کر گھر لے آئیں۔ مستقبل ایک خالی صفحہ ہے۔ اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف ماضی کے ستارے نہ دکھائیں۔ انہیں آسمان کا ایک خالی گوشہ بھی دکھائیں اور کہیں: "دیکھو… یہاں ابھی تمہارا ستارہ نہیں ہے۔ اگر چاہو تو اسے تم روشن کر سکتے ہو۔" شاید یہی صارف سے خالق تک کا پہلا قدم ہے۔ اور شاید آنے والی تاریخ ہم سے یہی پوچھے گی: ہم نے اپنے زمانے کی ٹیکنالوجی کتنی استعمال کی تھی—

یا اس زمانے کے مستقبل میں اپنا کتنا حصہ لکھا تھا؟

✍🏼 اِکز اِقبال ایک معلم، کالم نگار اور سماجی مبصر ہیں اور مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔

رابطہ: 7006857283

ای میل: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!