Ad
سفر نامہ

سفر محمود:..... قسط نمبر 22

✍️ :. ​عبد الرشید سرشارؔ


​مسجدِ جعرانہ مکہ مکرمہ کی حدودِ حرم سے باہر حلّ میں واقع ان برگزیدہ اور تاریخی مقامات میں سے ہے جہاں سے اہل مکہ اور وہاں مقیم زائرین عمرے کا احرام باندھتے ہیں۔ تاریخی اور فقہی دونوں اعتبار سے اس خطۂ مبارک کو خاص فضیلت حاصل ہے۔

​متعدد ائمہ و فقہاء (بالخصوص شوافع اور حنابلہ) کے نزدیک مکہ مکرمہ میں مقیم شخص کے لیے عمرے کا احرام باندھنے کے حوالے سے جعرانہ کا مقام تنعیم (مسجدِ عائشہؓ) سے بھی افضل مانا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ محسنِ انسانیت، سرکارِ دو عالم ﷺ نے خود یہاں سے احرام باندھ کر عمرہ ادا فرمایا تھا، جبکہ تنعیم سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو احرام باندھنے کا حکم دیا گیا تھا۔

​7 مئی 2026ء کو ہم نے عزیزیہ کی  رہائش گاہ سے مسجدِ جعرانہ کی زیارت اور عمرے کی نیت کا عزم کیا۔ ہمارے قافلے میں مستورات سمیت لگ بھگ درجن بھر زائرین شامل تھے۔ نمازِ مغرب کے بعد میں جامع بن محفوظ کے قریب واقع ایک بنگالی ہوٹل گیا، جہاں سے سادے ابلے ہوئے چاول اور سبزی کے پانچ پارسل پیک کروائے۔ ٹیکسیوں کا انتظام ہوا اور ہمارا قافلہ جعرانہ کی سمت روانہ ہو گیا۔

​ان دنوں حج کی تیاریاں پورے شباب پر تھیں۔ ٹیکسی ڈرائیور نے گاڑی کو منیٰ کی وسیع و عریض سڑکوں پر دوڑایا۔ وہ راستے میں خیموں کی طرف اشارہ کر کے بتاتا جاتا تھا کہ شاید آپ کا مکتب اسی جانب واقع ہوگا۔ خیموں کی وادی روشنیوں کے جلو میں جگمگا رہی تھی، جیسے نور کا کوئی سمندر بچھا دیا گیا ہو۔ عزیزیہ اور مکہ کی یہ شاہراہیں پہاڑوں کو چیرتی ہوئی درجنوں سرنگوں سے گزرتی ہیں۔ جب گاڑی سرنگ میں داخل ہوئی تو یوں محسوس ہوا کہ ہم کسی کرشماتی جہان سے گزر رہے ہوں۔ بلاشبہ مکہ معظمہ معجزاتی سرزمین ہے، اور میری جسارت کیا کہ اس لافانی سرزمین کے حسن کو الفاظ کی قبا پہنا سکوں!

​ کچھ دیر بعد ہم جعرانہ پہنچے۔ یہ مقام مسجدِ حرام سے شمال مشرق کی جانب تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر، حدودِ حرم سے باہر واقع ہے۔

​جب ہم  جعرانہ پہنچے تو رات کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ ڈرائیور نے گاڑی کشادہ پارکنگ میں کھڑی کی اور ہم سب نیچے اتر آئے۔ ہم چونکہ عزیزیہ سے ہی احرام زیب تن کر کے چلے تھے، اس لیے کوئی زائد سامان ساتھ نہ تھا۔ سب سے پہلے پارکنگ کی جانب ہم نے تسلی سے کھانا تناول کیا، تازہ دم ہوئے اور مسجد کی طرف قدم بڑھائے۔ چہار سو نظر دوڑائی تو  ہر زائر سفید احرام کی چادروں میں لپٹا دکھائی دے رہا تھا۔

​مسجد کے وسیع و عریض احاطے میں قدم رکھتے ہی ذہن کی اسکرین پر ماضی کے نقوش روشن ہونے لگے، اور دل آٹھ ہجری (630 عیسوی) کے اس مبارک دور میں جا پہنچا جب ​آٹھ سالہ فراق کے بعد مکہ فتح ہو چکا تھا اور کعبۃ اللہ کے بت پاش پاش کر دیے گئے تھے، لیکن وادیِ حنین میں بنو ہوازن اور بنو ثقیف ابھی تک سرکشی کے عالم میں تھے۔ چنانچہ خاتم النبیین ﷺ نے بارہ ہزار جانثاروں کی معیت میں ان کا محاصرہ کیا۔ اللہ کی نصرت ،محسن انسانیت کی قیادت اور مجاہدین کی ثابت قدمی سے فتح مبین نصیب ہوئی اور مالِ غنیمت کا عظیم ذخیرہ ہاتھ آیا۔

​سرکارِ دو عالم ﷺ نے سارا مالِ غنیمت اور قیدی اسی جعرانہ میں جمع کروائے اور طائف کی جانب پیش قدمی فرمائی۔ محاصرۂ طائف کے بعد آپ ﷺ واپس جعرانہ تشریف لائے اور تقریباً دو ہفتے یہاں قیام فرمایا۔ یہاں آپ ﷺ نے مالِ غنیمت نو مسلموں کی دلجوئی کے لیے تقسیم فرمایا۔

​جب بعض انصاری نوجوانوں کے دلوں میں وسوسہ گزرا کہ شاید اپنی قوم کو ترجیح دی گئی ہے، تو رحمتِ عالم ﷺ نے انصار کو ایک خیمے میں جمع فرمایا اور وہ تاریخی خطبہ ارشاد کیا جس کے جملے تاریخ میں آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ آپ ﷺ نے انصار کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: 

اے گروہِ انصار! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم رسول اللہ کو اپنے ہمراہ لے جاؤ؟

 اس پر انصار زار و قطار رونے لگے، یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں آنسوؤں سے تر ہو گئیں اور سب بیک زبان پکار اٹھے کہ ہم رسول اللہ کے حصے پر راضی اور خوش ہیں۔

​اس کے بعد ذوالقعدہ کی ایک پرسکون رات کو پیارے آقا ﷺ نے اسی مقام سے عمرے کا احرام باندھا،بارہ ہزار مجاہدین میں سے فقط چند گنتی کے  اصحاب اونٹوں پر سوار ہو کر مکہ تشریف لے گئے، طواف و سعی مکمل فرما کر راتوں رات واپس جعرانہ لوٹ آئے اور اگلی صبح یہاں سے مدینہ منورہ کے لیے رختِ سفر باندھا۔

​جس مقام پر کبھی خاتم النبیین ﷺ، بارہ ہزار مہاجرین و انصار، السابقون الاولون اور نو مسلم قریشی کے ساتھ تشریف فرما تھے، آج یہ گنہگار بھی فقیرانہ لباس دو ان سلی چادروں میں ملبوس اپنے رفقاء کے ساتھ کھڑا تھا۔

​عہدِ عثمانی میں یہاں ایک مختصر سی چار دیواری اور محراب پر مشتمل عمارت قائم تھی۔ بعد ازاں شاہ خالد کے دور میں اس کی جدید تعمیر ہوئی جس سے اس کا رقبہ 1200 مربع میٹر تک پہنچ گیا۔ شاہ فہد اور شاہ عبداللہ کے ادوار میں ہونے والی وسیع تر توسیع کے بعد مسجد کا بنیادی رقبہ 4,300 مربع میٹر تک پھیل چکا ہے، جبکہ بیرونی صحن، سروسز اور وسیع پارکنگ سمیت یہ رقبہ دسیوں ہزار مربع میٹر پر محیط ہے۔ مرکزی ہال میں قریباً 1,500 اور مجموعی کمپلیکس میں بیک وقت 4,000 سے زائد نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ نماز پڑھنے کا انتظام ہے۔

​میقات کی مناسبت سے یہاں لگ بھگ 300 غسل خانے اور وضو خانے بنائے گئے ہیں۔ صفائی کا یہ عالم کہ آئینے کی طرح چمک رہے تھے۔

 لاکھوں کے اژدھام میں اس قدر اعلیٰ نظم و ضبط اور صفائی دیکھ کر انسان بے ساختہ داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

​ہم عاجزی اور ندامت کے احساس کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے۔ ہر سو سفید چادروں میں ملبوس پروانے احرام کے نوافل ادا کر رہے تھے۔ ہم نے یہاں باجماعت نمازِ عشاء ادا کی، عمرے کی نیت اور دو رکعت نفل پڑھ کر لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے واپس ٹیکسیوں میں سوار ہو گئے۔

​محض آدھے گھنٹے کی مسافت میں ہم حرمِ مکی کے قریب پہنچ چکے تھے، جہاں گھڑیال کا بلند مینار (کلاک ٹاور) دور ہی سے ضیا بار نظر آ رہا تھا۔ زیرِ زمین پارکنگ میں ہم عجلت کے ساتھ اترے، کیونکہ وہاں ذرا سی تاخیر پر ڈرائیوروں کا بھاری چالان ہو جاتا ہے۔ ہم برقی زینوں کے ذریعے بابِ شاہ فہد  سے مسجدِ حرام میں داخل ہوئے۔ اس دروازے سے حرم شریف میں داخلے کا یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا۔

​سامنے کعبۃ اللہ کا پرشکوہ منظر تھا۔

 ہم حجرِ اسود کی سیدھ میں آئے، استلام کیا اور طواف میں شامل ہو گئے۔ ہجوم اس قدر تھا کہ کبھی بالشت بھر جگہ ملتی اور کبھی ایک قدم آگے بڑھتا۔ حجرِ اسود سے رکنِ عراقی، پھر رکنِ شامی، حطیم کے باہر سے ہوتے ہوئے رکنِ یمانی اور دوبارہ حجرِ اسود تک یوں یہ سات پرکیف چکر مکمل ہوئے۔

​مقامِ ابراہیم کے قریب تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، لہٰذا ذرا پیچھے ہٹ کر طواف کی دو رکعتیں ادا کیں، آبِ زمزم نوش کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی جانب بڑھ گئے۔ صفا و مروہ کی پرنور راہداریوں میں اپنے لیے اور دعاؤں کی درخواست کرنے والے تمام احباب کے لیے گڑگڑا کر دعائیں مانگیں۔ حلق کروایا، اور یوں رات کے آخری پہر شٹل بس کے ذریعے واپس عزیزیہ لوٹ آئے۔

​جس طرح سرورِ کائنات ﷺ نے چودہ صدیاں قبل اس وادی میں رات کی خاموشی اور سکون میں مٹھی بھر اصحاب کے ساتھ عمرے کا فریضہ انجام دیا تھا، آج ہم نے بھی رات کی تنہائی اور سکون میں، اسی پاکیزہ راستے پر چلتے ہوئے یہ سعادت حاصل کی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ آج پوری سرزمین روشنیوں کا بقعہ نور بنی ہوئی تھی اور جدید سہولیات نے اس سفر کو آسان بنا دیا تھا۔

​عبد الرشید سرشارؔ

حالسی ڈار، ویریناگ (کشمیر)

رابطہ: 7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!