سفر نامہ
سفرِ محمو:.... د قسط نمبر 23

تقویم کے اوراق پلٹ رہے ہیں، 28 ذی قعدہ 1447ھ، جمعۃ المبارک کا مبارک دن ہے 15 مئی 2026۔ فجر کی نماز تو حرم پاک کے پرنور سائے میں ادا ہو گئی، مگر واپسی کا سفر کسی کٹھن آزمائش سے کم نہ تھا۔ شٹل بسوں کے اڈوں پر انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا ۔جوان ہوں یا بوڑھے، خواتین ہوں یا معذور، سب کو بس میں سوار ہونے کے لیے کتنی مشقت اٹھانی پڑتی تھی یوں سمجھئے جیسے جوئے شیر لانا ہو۔
صبح سات بجے پیغام آیا کہ تپتی دھوپ اور شدید حجاج کی بھیڑ کے پیشِ نظر شٹل بسیں بند کی جا رہی ہیں، لہٰذا کوئی حاجی 7بجے کے بعد حرم کا رخ نہ کرے۔
مگر دل تو حرم کی گلیوں کا اسیر تھا۔ بھلا جمعہ کا دن ہو اور عاشق اپنے محبوب کی چوکھٹ پر نہ جائے؟
ہم نے پانچ پانچ ریال میں پرائیویٹ ٹیکسی پکڑی اور ابراہیم خلیل روڈ ہوتے ہوئے کبوتر چوک جا پہنچے۔اس امتحان میں ڈرائیور کا کردار قابل مبارکباد تھا۔
صبح کے دس بج رہے تھے، اوپر خیمہ تپا ہوا اور نیچے ماربل پر بیٹھنے کی جگہ مل گئی تھی۔ گرمی کی شدت اور تشنگی نے ایسا گھیرا کہ زبان پر تالُو سوکھنے لگے حلق خشک ہوگیا۔ نمازیوں کی پچھلی صفوں میں پانی تقسیم ہو رہا تھا، مگر جب تک ہم پہنچے، گاڑی خالی ہو چکی تھی ۔ بڑی مشکل سے ایک چھوٹی سی بوتل ہاتھ لگی۔ ٹھیک بارہ بجے حرم کے میناروں سے صدائے اذان گونجی، خطبہ سنا اور نماز ادا کی۔
واپسی پر راستے بند تھے، تین طرف کا چکر کاٹ کر اجیاد بس اڈے پہنچے۔ تپتی سڑک پر پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ میدانِ حشر میں لوگ کس طرح "العطش! العطش!" پکارتے ہوں گے۔ سامنے ایک جگہ پانی کی پیٹیاں آئیں تو میں نے پچیس تیس بوتلوں کا بنڈل اٹھا لیا اور پیاسے حجاج میں بانٹنا شروع کر دیا، چند لمحوں میں ہاتھ خالی ہو گئے مگر دل مطمئن تھا۔ عزیزیہ واپس پہنچ کر بھی آرام نصیب نہ ہوا کیونکہ جامع بن محفوظ کے قریب بنگالی ڈھابے پر کھڑے ہو کر قطار میں لگنا اور پانچ ساتھیوں کے لیے دوپہر کا کھانا لانا ابھی باقی تھا۔
19 مئی2026 کو
ہمارے محترم استاد نظیر احمد نجار صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کی سعادت کے لیے تشریف لائے تھے۔ دہلی سے پرواز بھرنے تک ان سے رابطہ رہا، اور جیسے ہی ان کی پرواز اتری، صبح سویرے ان کا فون آ گیا۔ لوکیشن ملتے ہی ہم ان کے ہوٹل پہنچے۔
وہ پرائیویٹ پیکیج پر آئے تھے، چنانچہ ان کے اور ہمارے انتظامات میں زمین و آسمان کا فرق تھا، مگر سفر کی تھکن یکساں تھی۔ وہ پچھلے بارہ چودہ گھنٹوں سے حالتِ احرام میں تھے اور ابھی عمرہ ادا کرنا باقی تھا۔ امن اور سلامتی کے اس شہر میں استادِ محترم کی زیارت ہوئی تو دل باغ باغ ہو گیا، اور یہ تعلق اور ملاقاتوں کا سلسلہ مناسک کے اختتام تک خوب خوب چلتا رہا۔
20 مئی عصر کی نماز حرم کے باہر اجیاد کے پاس کلاک ٹاور کے دائیں جانب کھلی سڑک پر ادا کی۔ نماز کے بعد برقی زینوں کے ذریعے مسجدِ حرام کی بالائی منزل پر گئے اور وہاں مغرب کی نماز ادا کی۔ ارادہ بنا کہ بابِ مروہ سے باہر نکل کر مولد النبی ﷺ، مسجدِ شجرہ، مسجدِ فتح اور مسجدِ جن کی زیارت کی جائے۔ ڈیڑھ گھنٹے کا وقت تھا، مروہ سے نکل کر غَزّہ تک پہنچے ہی تھے کہ واپسی کی فکر لاحق ہوئی۔ مروہ کا راستہ بند ملنے پر باب الفتح کی سمت نئی توسیعات میں عشاء کی نماز ادا کی۔ وہاں سے ہجرہ روڈ اور پھر اجیاد تک کا پیدل سفر... پاؤں چھلنی اور ٹانگیں شل ہو چکی تھیں، مگر دیارِ حبیب کے اس ہجوم میں ہر قدم ایک عبادت تھا۔
22 مئی عزیزیہ کا مسکن اور بن باز مسجد کی ہوا
ذی الحجہ کی پانچ تاریخ آن پہنچی۔ اب صرف شٹل بسیں ہی نہیں بلکہ پرائیویٹ ٹیکسیاں بھی بند کر دی گئیں، کیوں کہ دو دن بعد حج کا عظیم الشان فریضہ شروع ہو رہا تھا۔ گیارہ بجے جمعہ کے لیے جامع محمد بن محفوظ گیا تو صحن تک نمازیوں سے بھر چکا تھا اور دروازے بند تھے۔ مایوس لوٹا تو اپنے ساتھی حاجی ابراہیم صاحب سے ایک چھتری عاریتاً مانگ لی۔ ابراہیم صاحب کا ظرف کتنا بڑا تھا، ہلالِ احمر میں کام کرنے والے ان کے ایک عزیز روزانہ پھل، بسکٹ، جوس اور چھتریاں لاتے، اور ابراہیم صاحب وہ سب سامان کمرے کے ساتھیوں کے لیے لٹا دیتے، کبھی کنڈلی مار کر نہ بیٹھتے تھے۔
چھتری تان کر میں کنگ خالد روڈ پر الجامعہ اسٹریٹ کے چوک پر واقع "جامع شیخ عبد العزیز بن باز" کی طرف چل پڑا۔ جدید اسلامی فنِ تعمیر کا یہ حسین شاہکار پچیس ہزار نمازیوں کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی گنجائش رکھتا ہے۔ اندر بڑی بڑی اسکرینیں لگی ہوئی تھیں جن پر خطیب کا چہرہ اور آواز واضح تھی۔ لیکن راہ میں طوفانی ہوا ایسی چلی کہ مستعار لی ہوئی چھتری کا تیا پانچہ ہو گیا اور وہ آدھے راستے پر ہی دم توڑ بیٹھی۔
ام القریٰ یونیورسٹی کے پرانے کیمپس اور ہلالِ احمر مرکز کے قریب واقع اس نفیس مسجد میں اعلیٰ انتظامات تھے، بہترین ایئر کنڈیشنڈ ماحول، ٹھنڈا پانی اور جوتوں کے لیے شفاف تھیلیاں۔ دلجمعی سے جمعہ پڑھا اور ایک کلومیٹر پیدل چل کر واپس اپنے عزیزیہ کے مسکن پہنچ گیا۔
ہماری یہ رہائش گاہ کسی پرانے دیہات کی حویلی کا نقشہ پیش کرتی تھی۔ وسیع اور عریض کشادہ کمرے، لمبے برآمدے، مشترکہ غسل خانے اور ایک ہانپتا کانپتا، آخری سانسیں لیتا ہوا لفٹ سسٹم۔ مگر سچ پوچھیے تو یہ سادہ سی حویلی دل کو بے حد عزیز تھی ، یوں گمان ہوتا تھا جیسے ہم اپنے ہی گاؤں کی کسی بیٹھک میں بزرگوں اور یار دوستوں کی محفل سجائے وقت کی خوبصورتی کو سمیٹ رہے ہیں۔
عبد الرشید سرشار
حالسیڈار، ویری ناگ
رابطہ: 7006146071