جموں و کشمیر
خاتون JKAS افسر سے مبینہ بدسلوکی کا معاملہ، سینئر IAS افسر کمار راجیو رنجن کے خلاف 15 روزہ انکوائری کا حکم

وادی کشمیر مین گزشتہ روز ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بڑا ہنگامہ کھڑا یوگیا یے.. ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک آئی اے ایس آفسر خاتون جے کے اے ایس افسر کے ساتھ بدزبانی کرتے نظر آتا ہے .. جس پر جموں کشمیر کے سیاسی لیدران اور جے جے اے ایس افسران نے شدید برہمی کا اظہار کیا .. آور اب جموں کشمیر سرکار نے انکوائری کے احکامات جاری کر دئے ہیں...
دراصل سرینگر کے سول سیکریٹریٹ میں بدھ کے روز مشن یووا (لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ) کے جائزہ اجلاس کے دوران ایک سینئر آئی اے ایس افسر کی جانب سے خاتون جے کے اے ایس افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واقعے سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انتظامی حلقوں میں اس معاملے پر بحث چھڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ محکمہ کے انتظامی سیکریٹری اور سینئر آئی اے ایس افسر کمار راجیو رنجن جاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹر بینش وانی کے ساتھ سخت اور توہین آمیز زبان استعمال کرتے نظر آتے ہین اور اانہیں فوری طور پر معطل کرنے اور ملازمت سے برطرف کرنے کی ہدایت دی۔ ویڈیو مین جب اپنی بات بینش وانی رکھنے کی کوشش کرتی ہین تو اسی دوران کمار راجیو رنجن انکی بات ٹوک کر انکے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہیں ...
ویڈیو میں سینئر افسر کو خاتون افسر سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، ’’تم انتہائی گھٹیا ہو، میں تم سے ہمیشہ اسی طرح بات کر سکتا ہوں‘‘ اور ’’ بے وقوف میں تمہارا باس ہوں، ‘‘
تاہم جب بینش وانی نے اس زبان پر اعتراض کیا تو کمار راجیو رنجن نے اجلاس میں موجود حکام کو ہدایت دی کہ فوری طور پر ان کی معطلی کا حکم تیار کیا جائے، اس میں ان کے ریمارکس بھی درج کیے جائیں اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کو ملازمت سے برطرفی کے لیے خط لکھا جائے۔ اس کے علاوہ خاتون افسر کو اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت بھی دی گئی۔
ادھر محکمہ روزگار گاندربل میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات بلقیس وانی نے روزنامہ دی ہندو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چھٹی پر تھیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے گھر سے اجلاس میں شرکت کی۔ان کے مطابق، سینئر افسران کو خواتین کی عزت و وقار کا خیال رکھنا چاہیے۔......
.............
واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) افسران نے خاتون افسر کی مبینہ تذلیل اور بدزبانی کی مذمت کرتے ہوئے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔......... اور آج کام چھوڑ ہرتال پر رہے..
دوسری طرف سے جموں کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبد اللہ سے لے کر دیگر سیاسی لیدران اور سیول سوسائٹی نے جم.کر اسکی مذمت کی....
وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں سینئر آئی اے ایس افسر کا رویہ ان کے عہدے کے معیار کے مطابق نہیں تھا، جبکہ جونیئر جے کے اے ایس افسر کو دھمکیاں دینا معاملے کو مزید سنگین بناتا ہے۔ انہوں نے چیف سیکریٹری سے معاملہ اٹھاتے ہوئے ہدایت دی کہ خاتون افسر کے خلاف انتقامی کارروائی نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے۔......
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ اور توہین آمیز رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کو فوری طور پر مرکزی حکومتِ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے متعلقہ افسر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہیے، جو پہلے ہی غیر قانونی اسلحہ لائسنس جاری کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی آئی اے ایس آفسر کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خاتون افسر نے پُرسکون رہتے ہوئے اپنی عزتِ نفس کا دفاع کیا، جبکہ سینئر افسر نے ان کے کیریئر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔.....
دوسری طرف سے اب جموں و کشمیر حکومت کے لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی سیکریٹری کمار راجیو رنجن، کے خلاف جے کے اے ایس افسر بینش وانی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے میں تفصیلی انکوائری کا حکم جاری کیا ہے۔کمشنر و سیکریٹری برائے محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ کو اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کے لیے انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔
حکمنامے میں انکوائری افسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکم جاری ہونے کی تاریخ سے 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کریں۔
کمار راجیو رنجن کے طرزِ عمل سے متعلق ماضی میں بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ، تقریباً 2015 کے دوران ضلع کپواڑہ کے ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے ان کے دور میں بھی مبینہ طور پر سخت رویے اور اختیارات کے استعمال سے متعلق الزامات سامنے آئے تھے۔ وہیں اُس وقت کے رکنِ پارلیمان مظفر حسین بیگ نے بھی کپواڑہ میں ترقیاتی کاموں سے متعلق سوالات اٹھانے پر رنجن کے مبینہ نامناسب رویے کی شکایت کی تھی۔
یہ بھی بتاتے چلیں کہ کمار راجیو رنجن کو بعد میں جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر بندوق کے لائسنس جاری کرنے کے معاملے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے گرفتار کیا تھا۔ انہیں آمدنی سے زائد اثاثوں کے معاملے میں بھی تحقیقات کا سامنا رہا ہے۔