Ad
مضامین

ایڈوکیٹ عارف خان کی جدائی : سارے شہر کو ویران کر گئی

✍️:. جاوید احمد خان 


آج کا دور مادی ترقی کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے، مگر اخلاقی پستی اور قدروں کی پامالی نے معاشرے کو بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا کی چکاچوند اور بزرگوں کے ادب سے عاری ہجوم میں جب عارف افضل خان جیسے تعلیم یافتہ، باحیا اور خوش اخلاق نوجوان کا ذکر آتا تھا تو دل کو اطمینان ہوتا تھا کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ ان کا اچانک انتقال اس اداس معاشرے کو مزید سوگوار کر گیا۔

کنڈی کا علاقہ، جو اپنی پسماندگی کے باوجود غیرت اور روایات کے لیے پہچانا جاتا ہے، آج ایک ایسے سپوت سے محروم ہو گیا ہے جس کی اس مٹی کو اشد ضرورت تھی۔ ایسے دور میں جب والدین اولاد کی تربیت کے حوالے سے فکرمند ہیں اور نوجوانوں کی اصلاح کے لیے مختلف پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، وہاں عارف افضل خان مرحوم خود ایک عملی مثال تھے۔ محدود وسائل کے باوجود وکالت جیسے معزز پیشے تک پہنچنا اور پھر بھی عجز و انکسار کو قائم رکھنا ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ وہ اپنے علاقے کے لیے ایک قیمتی اثاثہ تھے۔

جوان بیٹے اور بھائی کی جدائی ایسا صدمہ ہے جو باپ کی کمر توڑ دیتا ہے اور بھائیوں کے حوصلے بکھیر دیتا ہے۔ عارف افضل خان کا انتقال ان کے والد محترم محمد افضل خان صاحب، والدہ ماجدہ، اور بھائیوں ماسٹر طارق احمد خان، اسرار خان اور یاسر خان کے لیے ناقابل بیان دکھ ہے۔ باپ کے لیے جوان بیٹے کا جنازہ اٹھانا زندگی کا سب سے اذیت ناک لمحہ ہوتا ہے۔ بھائیوں کے لیے بازو کا ٹوٹ جانا اور بہنوں کے لیے سہارے کا چھن جانا ایسی محرومی ہے جو عمر بھر ساتھ رہتی ہے۔

بقول شاعر

عجیب کرب کا لمحہ ہے پتر کی رخصت

پہاڑ ٹوٹتا ہے جب جوان مرتا ہے

اس کٹھن گھڑی میں رسول اللہ ﷺ کی بشارتیں اہل خانہ کے لیے تسلی کا ذریعہ ہیں۔ حدیث قدسی میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی مومن بندے کی پیاری چیز کو دنیا سے اٹھا لیتا ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو اس کے لیے جنت کے سوا کوئی بدلہ نہیں۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جب بندے کا بچہ وفات پا جاتا ہے اور وہ انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں بیت الحمد تعمیر فرماتا ہے۔

دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے۔ یہاں ہر نفس نے لوٹ جانا ہے۔ بقول شاعر نازاں نہ ہو خرد پہ، نہ ہو مست مئے پندار دو دن کی ہے بہار، نہ ہو اتنے بے قرار دنیا کا حال خواب کی مانند ہے جس کا ذکر رہ جاتا ہے، وجود نہیں رہتا. 

ایک اور شعر اس کیفیت کی عکاسی کرتا ہے کہ

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

آج جب معاشرہ اخلاقی بحران سے دوچار ہے، وہاں تعلیم یافتہ، باکردار اور نرم گفتار نوجوان کا اٹھ جانا پورے کنڈے اور راجپورہ کا نقصان ہے۔ عارف افضل خان کی زندگی اس بات کا ثبوت تھی کہ اصل کامیابی عہدوں میں نہیں بلکہ کردار اور لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں ہے۔

خوش نصیب ہیں وہ والدین جن کی تربیت سے ایسے صالح نوجوان پروان چڑھتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ سات افراد کو قیامت کے دن عرش کا سایہ نصیب ہوگا، ان میں وہ نوجوان بھی شامل ہے جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا ہو۔

راجپورہ کی مٹی آج ایک ہیرا اپنے دامن میں سمیٹ رہی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، قبر کو جنت کا باغ بنائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین 



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!