Ad
مضامین

کھوکھلے رشتے، ملی خاک میں محبت!

✍️ :. ش م احمد / سرینگر 


7006883587

ہندوستان کی فلم انڈسٹری میں بھلے ہی اپنے زمانے کے مشہوراداکار  وپیش کار گرودت اب قصۂ پارینہ ہوں مگر پھر بھی وہ فلمی صنعت کو مضبوط ثقافتی شناخت دینے میں ایک لیجنڈ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے فلمی دنیا کو چند ناقابل ِ فراموش فلمیں دیں، ممبئی کی جادو نگر ی سے فن ِآذری میں اپنی بے پناہ مہارت کا لوہا سالہاسال منواتے رہے ‘ سنیماشائقین کے دلوں پر راج کیا‘ خوب پیسہ کمایا اور سنیما ٹوگرافی کے نت نئے تجربوں پر خوب لٹایا‘ عشق وعاشقی میں ناکامی کے چرچوں میں بھی رہے۔ذاتی زندگی میں ایک ناکام وتلخ کام انسان کا فسانہ اپنے پیچھے چھوڑکر دنیا سے کوچ کرگئے۔ آج زمانے کی دُھول میں وہ ایک بھولی بسری یاد ہیں‘ نئی نسل کو شاید ہی اُن کی تخلیقی صلاحیت اور اداکارانہ ہنر سے شناسائی ہوگی ‘ تاہم دہائیاں گزرنے کے باوجود اُن کے بعض انمول فلمی نغمے آج بھی اُ ن کے چاہنے والوں کے دل میں اُنہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ خاص کر اُن کی معرکتۂ الآرا فلم ’’چودھویں کا چاند ‘‘ کا ایک گانا جسے گلوکار محمد رفیع صاحب نے اپنی سحر انگیز آواز سےچارچاند لگادئے تھے‘آپ اس نغمے کو تنہائی میں گنگنایئے تو اس کی تازگی سے وجد بھی آتا ہے اور عشق ِمجازی کی چار دن کی چاندنی پھراندھیری رات والی ہر پُردرد کہانی پر رونا بھی آتا ہے۔ نغمے کے بول  ؎

 ملی خاک میں محبت جلا دل کا آشیانہ

جو تھی آج تک حقیقت وہی بن گئی فسانہ

      اس فلمی شعر کے اندر ہیرو اپنی ناکام محبت کا نوحہ سناتا ہے یا اپنے  بگڑےمقدر کےچکر پر آنسو بہاتا ہے‘ میرے لئے اس میں دلچسپی کا کوئی سامان نہیں ‘ وہ قصہ ٔطولانی گئے دور میں سنیماہال میں بیٹھے شائقین کے تین گھنٹہ طویل تفریحی سفر کے لئے باعث کشش ہوسکتا تھا‘ البتہ آج جب میں فلمی نغمہ کی ان دردبھری آہوں کاعکس وقت کے کنواس پر پھیلاتاہوں تواس کے آئینے میں عصرِرواں میں انسانی رشتوں کی کھوکھلاہٹ ‘ ظاہر و باطن کے تضادات اور زمانے کےتھیئٹر میں روز روز تلخ وشرین واقعات کی ایک ایسی فلم قدم قدم نظروں کےسامنے گھومتی ہے کہ جو بتاتی ہے کہ مادہ پرستی کےخُم خانے میں ٹھوس حقیقت اور دائمی سچ بھی بک سکتی ہے ‘ وقت کی گردش میں ہر جھوٹ حقیقت بن کر پیش ہوسکتی ہے اور ہر حقیقت فسانہ بن بھاپ کی مانند فضائے بسیط میں تحلیل ہوکر رہ سکتی ہے ۔ آپ بھی اس شعر کے لفظوں کا ظاہری چھکااُٹھاکر اگراندر جھانکنے کی زحمت گوارہ کریں گے تو صاف نظر آئے گاکہ اس  کے اندر ہزارہا کہانیوں کی ایک دنیابسی ہوئی ہے ۔ سچ پوچھئے تویہ شعر اس کل یُگ کا مرثیہ ہے جو اخلاقاً انسان کے خالی پن دکھاتا ہے ۔ یہ چیز آج گرودت کےزمانے سے کچھ زیادہ تیکھے انداز میں یہ اپنی معنویت اور صداقت منواتی ہے ۔

   دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کیا ہم آج انسانی معاشرے میں بہت زیادہ تلخ انداز میں حقیقتوں کو افسانہ بنتا نہیں دیکھتے ؟ کیا ہم خلوص و محبت کے گلشن ہائے رنگا رنگ کو خاک ہوتا ہوا نہیں پاتے ؟ کیا رات دن جھوٹ اور مکر وفریب کی کارستانیاں ہمارا تعاقب نہیں کرتیں؟ کیا  کیااخلاقی اوصاف اور ادب وتہذیب کےقدروں کی ٹوٹ پھوٹ سے ہرشئے سراب اور ہر چیز دجل وفریب میں ڈھلتی نظرنہیں آتی ؟   میرا وجدان کہتا ہے کہ ہر سلیم العقل انسان کے پاس ان سادہ سےسوالات کا جواب اثبات میں ہوگا ۔اس لئے میری نگاہ میں یہ فلمی شعر زمانے کی اخلاقی بربادیوں پر سو فی صد منطبق ہوتا ہے اور ہمارے مادہ پرستانہ کردار پر من وعن صادق آتاہے ۔ کیا کسی کو ا س امرواقع سےانکار کی مجال ہوسکتی ہے کہ اس وقت مادہ پرستی اور حُب ِ دنیا اُلوہیت وربوبیت کے اعلیٰ منصب پر براجمان ہے کہ اس کے سامنے بڑے بڑوں کے سر ادب سے جھکتے ہیں اوراس کی بارگاہ میں جس کسی کو اپنی جبین کامیابی سے رگڑنے کا ہنر آیاوہ من کی مرادیں پاگیا ۔ ظاہرہے جب زندگیوں میں خدا کی جگہ مادیت کاصنم لینے لگے تو مادہ پرست ا نسان کے لئے رُوحانی سودو بہبود بےکار وبےفائدہ ‘ اخلاق فالتو شئے‘ سچ اور جھوٹ کاتصادم مد ِفضول‘ شرافت اور وفا داری عضوئے معطل ہو جاتی ہے۔ ان حقیقتوں کا زندگی میں پھر کوئی مطلب نہیں رہےتوپھر جسم وجان کی راحتیں،شب وروز کی آسائشیں، حلا ل وحرام کی بندشیں لایعنی اورمادی منفعتوں کا حصول‘ سُود شراب منشیات رشوت جوابازی بدکاری دغابازی ہر کبیرہ صغیرہ گناہ سے مال وزَر کارس نچوڑنا ‘ ہر عیب کو قبولنا ہر خوبی کو لتاڑنااور جہاں مطلب پرستی کا بت خانہ نظرآئے ‘وہاں سجدہ ریزی کرنا ۔ ا س مادیت کاپجاری مادہ پرست ایک فردہو یا پوری تہذیب‘ اس کا مطمح ِ نظر صرف دنیا کا عیش وآرام اورلالچ کے اندھے کنویں کے گردگھومتا ہے‘ پھرتو کعبے کی مجاورت بھی بے لوث خدمت نہیں بلکہ خالص تجارت ہوجاتی ہے ‘ کاشی کی سیوا بھی ایشور کی ایچھا نہیں اپنے مطلب کی پوجا بن جاتی ہے‘ پھر تو تمام رشتے ناطے‘ دوستیاں تعلق داریاں ‘ دشمنیاں رقابتیں ‘ اپنائیت اجنبیت کا سارا پیمانہ ایک ہی نکتے پر مرکوز ہوتا ہے ۔۔۔مطلب کی پرستش خودغرضی کا طواف ۔۔ ۔   یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ لمحہ ٔ موجود میں امیری اور غریبی کی کڑوی تقسیم کے باوجود چاروں طرف مادی ترقیاں اپنی نصف النہار پرہیں ‘ ان کے زیراثر انسانی رہن سہن کا طریقہ اورمعیار ِزندگی دونوں کم ازکم مادیت کے پرستاروں کی نگاہ میں رُوبہ ترقی ہیں۔ بنا بریں ہم سامانِ تعیش کی فراوانی میں لوگوں کو لذت کوشی کےسمندر میں ڈوبا ہواپاتے ہیں‘ جفاکشی اور محنت سے جی چرانے والے آرام طلب انسانوں کے گورکھ دھندوں کا کھیل دیکھتے ہیں ‘ بلامحنت دینار ودرہم کمانے کی بھوک لاکھ مٹائے بھی نہیں مٹتی دیکھتے ہیں ‘ استحصال کی فریب کاریاں معمولاتِ زندگی بنتی دیکھتے ہیں‘ جدیدسے جدیدتر سہولیات کے حصول کی اندھی دوڑ میں لگ بھگ سبھی لوگ اندھادُھند شامل پاتے ہیں ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسانی طبیعت کو للچانےوالی ہر چیز جدت کے رزق وبرق لباس میں اورفوری فوائد کی قبا میں چھپ کر انسانی ضمیر کو لالچ اور ہوس کاپھندا خود اپنے گلے میں ڈلوانے میں کامیاب ہوتی ہے ۔ نتیجہ یہ کہ روپےپیسے کی ریل پیل میں چاروں طرف محلات کوٹھیاں مالز اور پلازوں کی تعمیر کے قطب مینار کھڑے ہورہے ہیں‘ گاڑیوں کے نئے نئے قیمتی ماڈلز سے سڑکوں پر امیری کی دھونس جمانے کارواج عام ہورہا ہے۔یہ ساری مہربانیاں مادی تہذیب کے وہ کڑوےثمرات ہیں جن کی موجودگی میں محبت وفا آدمیت فرسودہ اور بےکار تصورات لگتے ہیں ۔ اس بے ضمیر اندھی تہذیب نے انسان کو کس قدر بہلاپھسلاکر کس طرح قعر مذلت میں گرایا ہے‘ آئیے اس کی ایک جھلک ایک سچی کہانی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں ۔ واضح رہے کہانی میں قانونی بندشوں اور اخلاقی قواعد کے پیش نظر نام بدل دئے گئے ہیں ۔ ملی خاک میں محبت کا ایک نیا نمونہ ملاحظہ ہو۔

 خلیل ایک خوب صورت خوب سیرت آئی ٹی ا سپیشلسٹ ہے ۔اس کے والدین سنہ ۶۲ میں برصغیر سے ایک بہترمستقبل کا خواب لئے  انگلینڈ جاپہنچتے ہیں۔ محنت شاقہ اُٹھاکر وہ گوروں کے دیس میں دونوں میاں بیوی اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر اچھا کیرئیر بناتے ہیں ۔ اُن میں بہت جلدکرایے کے مکان کے بجائے ذاتی گھر خریدنے کی مالی وسعت پیداہوتی ہے ‘ایک پاش کالونی میں گھرلے کر وہاں منتقل ہوتے ہیں۔ اللہ انہیں دو نہایت خوب صورت بچیاں اور ایک لڑکا عطاکرتا ہے ۔بچوں کو مروجہ نصابی تعلیم دلانے کے علاوہ ماں باپ ان کی دینی تربیت کے لئے بھی معقول انتظام کرتے ہیں تاکہ وہ علم اورسائنس کی روشنی سے فیض یاب ہوں مگر تہذیب مغرب کی بعض معیوب چیزوں مثلاً منشیات، جنس زدگی، غلط صحبت اور اخلاقی بگاڑ کی ہوا انہیں نہ لگے ۔بچے بھی اپنے ماں باپ کی سیکھ اور خانوادے کی روایات کا پاس ولحاظ کرتے ہوئے تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی شعور‘ اخلاقی اچھائیاں اور سماجی وتہذیبی اقدار کے خاصے پابند ہو جاتے ہیں ۔ دن گزرنے کےساتھ آخربچیوں کی شادیاں رچانے کا وقت آن پڑتاہے ‘ والدین ان کے ایک سے بڑھ کرایک رشتہ طے کرنے میں بفضل تعالیٰ کامیاب رہتے ہیں۔ ان کا نکاح انگلستان میں برصغیر سے ہجرت کر آئے نیک عمل لڑکوں سے ہوتا ہے۔ خلیل بھی پڑھائی کے بعد کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اچھے مشاہرے پر ملازمت اختیار کرتا ہے۔ کمپنی خلیل کی خداداد قابلیت اور خوش اخلاقی کےاعتراف میں اسے ترقی پہ ترقی سے نوازتی ہے ‘ یہاں تک کہ اپنی اچھی کمائی سے ایک پینٹری خریدتاہے ۔ اب اس کی زندگی کا فیصلہ کن لینے مرحلہ آتا ہے تو والدین خلیل کو غیر مشروط آزادی دیتے ہیں کہ اسے پورا اختیار ہے کہ جہاں مرضی اپنی پسند کی شادی کرے‘مگر فرماں بردار بیٹے کی طرح وہ والدین سے صاف ساتھ کہتا ہے کہ شادی کے معاملے میں نہ میری کوئی ذاتی پسند ہے نہ کوئی مرضی‘ آپ ابو امی جہاں چاہیں خود اپنے من موافق رشتہ تلاشیں۔ والدین کو کمیونٹی میں بہت تلاش کے بعد بھی خلیل جیسے اطاعت شعار اوروفادار بیٹے کی ہم مزاج بہو نہیں ملتی‘ اخیر پر عام ٹرینڈ کے مطابق برصغیر سےکوئی خوب سیرت قبول صورت بہو لانے کے حق میں مشورہ ہوتاہے تو پورا کنبہ خلیل اور اس کی بہنیں چھٹیوں کے دوران حور جیسی بہو کی تلاش میں برصغیر میں اپنے رشتہ داروں کے یہاں ڈیرا ڈالتا ہے ۔ کئی اچھے گھرانے ر شتے کی پیشکش کرتے ہیں مگر کسی بھی آفر پر نگاہ ِ انتخاب نہیں جمتی ۔ بسیار کھوج کرید کے بعد تقدیر کا خاموش قلم اپنا اٹل فیصلہ لکھ ڈالتا ہے ۔ باصرہ نامی ایک انتہائی غریب گھرانے کی نیم خواندہ مگر چاند جیسی بیٹی کے والدین سے بات پکی ہوجاتی ہے ۔ ایسی شکل وشباہت والی نازک اندام لڑکی کے حسن وجمال پر شاید فرشتے بھی رشک کرتے۔ والدین اور دو نوںبہنوں کی پسند باصرہ کے انتخاب پر مجتمع ہوجاتی ہے تو خلیل بھی آمنا صدقنا کرکے تقدیر کے اَن دیکھے سفر پر خوشی خوشی نکلتاہے۔ لڑکی والوں کو لگتا ہے کہ انگلینڈ سے آئے یہ لوگ ملائکہ نما انسان ہیں جب شادی بیاہ کے تمام اخراجات خلیل کے والدین باصرار اپنے ذمہ لیتے ہیں تاکہ غریب کنبے پرکوئی مالی بوجھ نہ پڑے ۔ چونکہ کھاتے پیتے گھرانے کا اکلوتا لاڈلا ہونے کے علاوہ کنبہ انسانیت اور ہمدردی کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے‘ اس لئے نکاح خوانی سے لے کررخصتی تک ہر چیز کے اخراجات انتہائی رازدارانہ طریقے پر اُٹھا نے کے اس دیندارانہ اور مہذب طرزعمل پر لڑکی والےپھولے نہیں سماتے ۔ باصرہ کے گھروالوں سے کوئی گفٹ لینے کے بجائے خلیل کے والدین پورے خاندان کے لئے متحدہ عرب امارت سے گفٹ پیکس لا لاکر انہیں ہنستے مسکراتے دیتے ہیں۔آخر وہ دن ہی آجاتاہے جب باصرہ روروکر گھروالوں سے وداع لیتی ہے اور انگلینڈ جاپہنچتی ہے ۔ یہاں سسرال والےاس کی ناز برداری میں کوئی کمی یاکسرنہیں چھوڑتے ۔ خلیل کچھ دن بعد ڈیوٹی جوائین کرتاہے ۔ زندگی خوب مزتےسے گزرتی ہے ۔ کچھ دن بعد باصرہ خلیل سے کہتی ہے کہ گھر میں دن بھر بیٹھے بٹھائے اُکتاجاتی ہوں ‘ بہتر رہے گا اگر میں کوئی کام کروں۔ خلیل اور اس کے والدین باصرہ کی خوشی کے لئے اس خیال کی فواً حامی بھرتےہیں مگر سوال یہ ہے کہ بھلا ایک میٹرک پاس لڑکی کو انگلستان میں آخر کون سا جاب مل سکتا ۔ خلیل جوں توں اسے اپنی کمپنی میں چھوٹی موٹی کلرکی کاکام دلاتاہے۔ یہیں سے کہانی کارُخ بدل جاتاہے۔ کمپنی کے گورے طلاق یافتہ سنگل چیف باس کی نظر باصرہ نامی بلا پر پڑتے ہی اس کے ہوش اُڑجاتے ہیں ‘ نیت میں فتورآجاتاہے اور شیطانیت کا غلبہ ہوتا ہے۔وہ خلیل کو کچھ دن بعد دوستانہ اندازمیں سجھاؤ دیتا ہے کہ اس  ٹیلنٹ والی لڑکی کو میرے آفس ٹیم میں شامل ہوناچاہیے‘ کچھ سیکھے گی تو تم بھی کیا یادکر وگے ۔ خلیل سادگی کےساتھ ہاں میں ہاں ملاتاہے۔اب تک باصرہ صرف خلیل کی آغوشِ محبت ‘ روپیہ پیسہ اور گھرانے کی بے ریا عزت پر اکتفا کئے ہوتی ہے مگر جونہی چیف باس یعنی کمپنی کامالک قربیتیں پیداکرکےاس کے ساتھ اپنا بہت ساراوقت گزارتاہے تو باصرہ کو بہت جلد پاور اور پیسے کی لت پڑجاتی ہے۔ وہ دودوہاتھوں پیسہ لوٹ کر میکہ والوں کو بھیجتی جاتی ہے۔ خلیل کو کچھ کچھ شک گزرتاہے مگر حُسن ِ ظن سے کچھ زیادہ کام لے کرہرشک کو ذہن سے جھٹکتا ہے ۔ آخر چیف باس اس اَدھ پڑھ خاتون کو منٹو کے ’’اُلٹی شلوار‘‘ کے کردار میں رنگ کر جب بیک جنبش قلم اسے خلیل کی باس بنا ڈالتا ہے تو خلیل کا شک یقین میں بدل جاتاہے کہ باصرہ ا س کے ساتھ بے وفائی کے شیطانی سفر پر بہت آگے نکل چکی ہے ۔ خلیل ٹوٹ کررہ جاتاہے‘ سارا گھرانہ کف ِافسوس ملنے لگتاہے کہ جس کیچڑ کو ہم نے کنول سمجھ کر فیملی کے پھولدان میں آنکھوں سے سجایا‘وہ آخر اپنی کیچڑ والی اوقات پر آ ہی گیا ۔ تہذیب وادب کے دلداہ گھرانے میں روز لڑائی جھگڑوں سے گھر کا سکون وقرار چھن جاتاہے ۔ حد یہ کہ باصرہ باس سے مل کر خلیل کو نوکری سے بھی نکلوادیتی ہے ‘ یہ چیز گھر پر آفت بن کر ٹوٹ جاتی ہے‘ غصے کی آگ اوردُکھ کا دھواں گھرانے کو نیم جان کرکے چھوڑدیتا ہے ۔ حدیہ کہ باصرہ آنکھیں بند کرکے گورے باس کے اپارٹمنٹ میں منتقل ہوجاتی ہے ۔ خلیل  زہر کا گھونٹ پی جاتاہے ‘ طلاق دینے کے بجائے اُسے واپس اپنے مائکہ  پلٹ جانے پر کسی طرح بظاہر آمادہ کرتاہے تاکہ بدنامی کا کلنک اسے مزید برباد کرکے نہ چھوڑے۔ باصرہ کی ٹکٹ نکال کر خلیل خود اُسے طیارے میں بٹھاتا ہے اور بوجھل قدموں سے گھر روانہ ہوتاہے۔ باصرہ برصغیر کیا جاتی‘ طیارے سے اُترکروہ گورے باس کے پاس جاپہنچتی ہے اور آگے کی کارروائی کا اس سے مشورہ طلب کرتی ہے ۔  کم بخت گورا اُسےپٹی پڑھاتا ہے کہ تم خلیل پر ڈومیسٹک وائلنس اور نان نفقہ کا مقدمہ دائرکرو ‘پھر میرے پاس آؤ‘ زندگی کا اصل مزا تب دیکھنا ۔ باصرہ اس ابلیسی مشورے پر خلیل کو کور ٹ کچہری کے چکر میں ایسے پھنسادیتی ہے کہ اُس بچارے کو اپنی پینٹری نیلام کرکے عدالتی اخراجات ‘نان نفقہ کا بھاری بھرکم خرچہ‘ بے روزگاری کی مار بر داشت کرناپڑتی ہے ‘اس پر مستزاد یہ کہ والدین کے خلوص ودیانت بھرے وجود پر اُن کے ناکردہ گناہوں کا غم دیکھ کر وہ رات دن اپنی بری تقدیر پر روتاہے ۔ باصرہ سے اُکتا کر بہت جلد گورا  چیف باس اُسے یہ کہہ کر نوکری سے برطرف کرتاہے جب تو خلیل جیسے شریف اور مخلص شوہر کودغا دے سکتی ہے ‘میں کس کھیت کی مولی ہوں‘ مجھے جب تک رکھیل کی ضرورت تھی تمہیں رکھ لیا ‘اب میں کہیں اور منہ ماروں گا ۔’’ جیساکروگے ویسا بھروگے‘‘ کے مصداق باصرہ کو کارخانہ ٔ قدرت سے بھی سزا ملتی ہے کہ مائکہ والے اسے خلیل جیسےفرشتے سے بے وفائی کرکے اپنا رشتہ ناطہ توڑنے پر واپس اپنے یہاں قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!