مضامین
ترال کو ضلع کا درجہ کیوں ضروری؟ عوامی مطالبہ اور زمینی حقائق

ترال کے ساتھ یہ ناانصافی کب تک؟ ترال کو ضلع کا درجہ ملنا چاہیے: تاریخ، ثقافت، معیشت اور عوامی حقوق کا لازمی تقاضا
ترال جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کی ایک اہم تحصیل ہے جو اپنی جغرافیائی وسعت، قدرتی حسن اور تاریخی عظمت کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔ بلند و بالا پہاڑ، گھنے جنگلات، بہتے چشمے اور دلکش جھیلیں اس خطے کو قدرت کا حسین شاہکار بناتی ہیں۔ مگر افسوس کہ اتنی اہمیت رکھنے کے باوجود ترال آج بھی انتظامی لحاظ سے وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جس کا وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ترال کے ساتھ یہ ناانصافی کب تک جاری رہے گی۔
ترال کی جغرافیائی وسعت اور آبادی اسے ضلع کے درجے کا ایک مضبوط امیدوار بناتی ہے۔ یہ تحصیل درجنوں دیہات پر مشتمل ہے جہاں ایک بڑی آبادی آباد ہے جو بنیادی سہولیات کے لیے ترستی ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق ترال میں ایک لاکھ سے زائد آبادی تقریباً 60 سے زائد دیہات میں پھیلی ہوئی ہے، جو ایک مضبوط اور مؤثر انتظامی ڈھانچے کی متقاضی ہے۔ موجودہ انتظامی نظام اس وسیع علاقے کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ خاص طور پر ترال کے دور افتادہ علاقے آج بھی مناسب سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور بنیادی انفراسٹرکچر سے محروم ہیں، جس کے باعث مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بارشوں اور برفباری کے دوران کئی علاقے مکمل طور پر منقطع ہو جاتے ہیں، اور مریضوں، طلبہ اور عام شہریوں کو معمولی کاموں کے لیے بھی طویل فاصلے طے کرنے پڑتے ہیں، جو ان کے لیے ایک مستقل اذیت بن چکا ہے۔
صحت کے شعبے کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ اگرچہ یہاں سب ڈسٹرکٹ اسپتال اور چند پرائمری ہیلتھ سینٹرز موجود ہیں مگر ان میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ماہر ڈاکٹروں، جدید آلات اور ایمرجنسی سروسز کی کمی کے باعث مریضوں کو اکثر پلوامہ یا سری نگر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ہنگامی حالات میں یہ تاخیر کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن جاتی ہے۔ کیا ترال کے عوام کو معیاری صحت سہولیات فراہم کرنا ان کا بنیادی حق نہیں۔
تعلیم کے میدان میں بھی ترال کی اہمیت کسی سے کم نہیں۔ یہاں سینکڑوں سرکاری اسکول، متعدد نجی تعلیمی ادارے، ایک ڈگری کالج، اسلامی اورینٹل کالج اور ایک آئی ٹی آئی موجود ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کو ہنر اور روزگار کے مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ایک منظم اور مؤثر تعلیمی نظام کے لیے ضلع کا درجہ نہایت ضروری ہے تاکہ تعلیمی ترقی کو مزید وسعت دی جا سکے۔
معاشی اعتبار سے ترال ایک زرخیز اور امکانات سے بھرپور خطہ ہے۔ یہاں کی زمین زراعت، باغبانی اور ڈیری فارمنگ کے لیے نہایت موزوں ہے۔ سیب، اخروٹ اور دیگر پھلوں کی پیداوار مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تاہم بنیادی ڈھانچے کی کمزوری، سڑکوں کی خستہ حالی اور مارکیٹ تک رسائی کی کمی کے باعث یہ صلاحیت مکمل طور پر بروئے کار نہیں آ رہی۔ اگر ترال کو ضلع کا درجہ دیا جائے تو نہ صرف انفراسٹرکچر بہتر ہوگا بلکہ مقامی تاجروں اور کسانوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
سیاحت کے حوالے سے بھی ترال بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ ناگ بیاران کے سرسبز پہاڑ، تارسر اور مارسر جیسی خوبصورت جھیلیں، آرپال چشمہ اور دیگر قدرتی مقامات سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ بوگماد اور وستورون کے پہاڑی سلسلے ٹریکنگ اور کیمپنگ کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ اگر ان مقامات کو مناسب سہولیات اور تشہیر فراہم کی جائے تو ترال نہ صرف کشمیر بلکہ پورے ملک کا ایک اہم سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔
تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے بھی ترال کی اہمیت ناقابل تردید ہے۔ گفکرال کے آثار قدیمہ اس خطے کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کے گواہ ہیں۔ اسی طرح صوفی بزرگوں کے مزارات، خانقاہیں اور قدیم عبادت گاہیں اس علاقے کی روحانی عظمت کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ ورثہ نہ صرف مقامی شناخت کا حصہ ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر بھی متعارف کروایا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس کی حفاظت اور ترقی پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترال کے عوام کو طویل عرصے سے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ بنیادی سہولیات کی کمی، انتظامی بے توجہی اور سیاسی ترجیحات کے فقدان نے اس علاقے کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عوامی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک تاریخی اور ثقافتی ورثے کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔
دوسری جان ضلع کے قیام کے حوالے سے بعض دیگر علاقوں کی جانب سے بھی دعوے کیے جاتے ہیں مگر ترال کا معاملہ اپنی جگہ زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ اس کی بڑی آبادی، وسیع جغرافیہ، تعلیمی و معاشی ڈھانچہ اور تاریخی اہمیت اسے ایک مکمل ضلع بننے کے لیے موزوں بناتے ہیں۔ فیصلے جذبات یا دباؤ کے تحت نہیں بلکہ حقائق اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔
عوامی سطح پر بھی ترال کو ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ اونتی پورہ اور ترال کے درمیان ضلع کے معاملے پر بھی بحث جاری ہے۔ آونتی پورہ والے کہتے ہیں کہ ہمیں ضلع چاہیے مگر میری رائے میں ترال ضلع کا مستحق ہے کیونکہ اس کی جغرافیائی وسعت، آبادی، تاریخی، تعلیمی اور معاشی اہمیت سب سے زیادہ واضح ہیں۔ انتظامیہ کی توجہ صرف سیاسی دباؤ یا کمزور موقف پر نہیں بلکہ حقیقی ضرورت اور عوامی مطالبے پر مبنی ہونی چاہیے۔
مقامی لوگوں کی رائے اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کئی افراد جیسے شاہ منظور صاحب، آغا صاحب، شاکر حسین صاحب، تنویر شاہ، شوکت علی، عمار شوکت، خاکسار عبدالرشید، گوہر صاحب، عاقب بشیر اور خلیل صاحب نے ترال کو ضلع کے درجے کی حمایت کی۔ یہ عوامی مطالبہ صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی ضرورت اور خطے کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہے۔
اگر ترال کو ضلع کا درجہ دے دیا جائے تو اس کے مثبت اثرات فوری طور پر ظاہر ہوں گے۔ انتظامی نظام مزید مؤثر ہوگا، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری آئے گی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کا جال بچھایا جائے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ سیاحت کو فروغ ملے گا اور مقامی معیشت مضبوط ہوگی۔ سب سے بڑھ کر، عوام کو یہ احساس ہوگا کہ ان کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ترال کو ضلع کا درجہ دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا ہے۔ یہ اس خطے کی تاریخ، ثقافت، قدرتی وسائل اور عوامی خواہشات کا احترام ہوگا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ترال کے ساتھ ہونے والی اس دیرینہ ناانصافی کا خاتمہ کیا جائے اور اسے وہ مقام دیا جائے جس کا وہ حقیقی حقدار ہے۔
مضمون نگار
محمد عرفات وانی
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر
9622881110
wania6817@gmail.com