Ad
مضامین

مُنی ایران میں! مُنا دبئی میں!

✍️:. ش م احمد / سرینگر 


7006883587

   دنیا کےآٹھ عشاریہ تین ارب ( ایک اوراندازے کے مطاق سوا چھ ارب ) انسان چاہےجغرافیائی اعتبار سے ایک دوسرے سےہزارہا کلومیٹر دور ہوں‘ اُنہیں آپس میں جدا رکھنے کے ذمہ دار وسیع سمندر اور گہرے دریا ہوں‘ فلک بوس پہاڑ وں کی دیواریں ہوں‘ ایمیزون یا گانگو بیسن جیسے گھنے برساتی جنگلات ہوں‘ دندناتے پھرتے وحشی جانوروں کا خوف ہو‘ ڈراؤنے ریگستانوں کے شہرِ خموشاں ہوں‘ صحرا ؤں کا ہیبت ناک سناٹے ہوں ‘ رنگ نسل زبان ذات پات مذہب و ثقافت کی سرحد پر لڑی جا نے والی ہولناک جنگوں کی گرم بازاریاں ہوں ‘ غریبی اور امیری میں منقسم قوموں کی سرد وگرم لڑائی جھگڑے ہوں ‘ ان سارے موانع کے باجود نوع ِ انسانی ایک ہی زمینی فرش پر فروکش اور ایک ہی آسمانی چھت کے نیچے رہن سہن کے سبب ایک ہی مکان کی مکین ‘ ایک ہی کنبہ‘ ایک ہی آفاقی گاؤں کے رہائشی ہیں ‘ ان کا غم اور خوشی بھی ایک ہے۔ اس یکتائی کی وجہ سےان کا جینا اور مرنا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون واشتراک کا مرہون ِ منت ہے ۔ ہماری دنیا انہی معنوں میں گلوبل ولیج یا آفاقی گاؤں کہلاتی ہے اور اس  ناقابل ِ تردیدحقیقت کے حوالے سے ماضی ٔ قریب میں پہلے سونامی نے پھر عالمی کووڈ۔۱۹ نے ہماری آنکھیں کھول دیں۔ اس دنیا میں جنگ وامن‘ موسمی تغیرات‘ وبائی بیماریاں‘معاشی خوش حالیاں‘ غربت کی محرومیاں‘ سیاسی انقلابات‘ اقتصادی بحران‘ نظریاتی تفرقات اورسماجی اونچ نیچ کے اچھے بُرے اثرات نہ چاہتے ہوئے بھی پکے پھل کی مانند ہر قوم ہر ملک ہر خطے کی جھولی میں اپنی باری پرگرتے رہتے ہیں ۔

 رنج وملال غم مرے کچھ کم نہ تھے مگر

 اپنے کئی آلام سب دے کر چلے گئے

  اپنے انفرادی مسائل اور مصائب سے نبرد آزما ہونا تو قابل ِ فہم ہے مگر اغیار کے رنج وآلام کے بھاری بوجھ بھی ہم پر بن بلائے مہمان کی طرح لادے جائیں تو کتنی بے مروتی کی بات ہوگی۔ کیا کریں ہم جس دنیا میں سانسیں لے رہے ہیں ‘اس کا دستور یہی ہے کہ کرتا کوئی اور‘ بھرتا ہےکوئی اور ۔ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ رواں جنگ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے ۔     

  بہرصورت اس وقت جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا گیارہواں دن چل رہاہے۔ ایران میں کیا کیا تباہیاں مچ رہی ہیں اور اپنا بدلہ چکانے کے لئے تہران اسرائیل اور آس پاس  کی عرب دنیا میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملوں سے کیا قہر برسا رہاہے ‘ ان کی تفصیلات جان کر رونگھٹے کھڑے ہورہے ہیں ۔ اب تو بات جوہری تنصیبات کو بھی  ہدف بنانے کی چل رہی ہے ۔ الامان والحفیظ ۔ اُدھر یہ سب ہورہاہے ‘ اَدھر دنیا ئے انسانیت خواہی نہ خواہی اس جنگ کے ابتدائی بُرےاثرات کی کڑوی کسیلی فصل کاٹنے کے دہانے پر کشاں کشاں پہنچ چکی ہے۔ یہ خوف ناک جنگ اپنے ساتھ عالمی امن اور علاقائی سلامتی کے لئے توقع سے بھی زیادہ نحوست آمیز نتائج ومضرات سبھی براعظموں میں بانٹ رہی ہے‘ عالمی اقتصادیات کی شہ رگ پر جنگ کا دبا ؤ کس قدر بڑھ رہاہےاس کا اندازہ سٹاک ایکسچنج کی مسلسل شدید مندی اور مارکیٹ کریش سے کیا جاسکتا ہے ‘ مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے خام تیل کی قیمت فی بیرل سو ڈالر سےمتجاوز ہوچکاہے ‘ سرمایہ کاری ٹھپ ہے اور بین الاقوامی تجارت و صنعت کو دھچکے پہ دھچکے لگ ر ہے ہیں۔ اب رہے ہم عام خام آدمی ‘ ہمارا جنگ شروع کر نے میں کوئی رول ہے نہ اسے ختم کرنے والی موثر عالمی قوتوں کے یہاں ہمارا مفادکسی قطار وشمار میں ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہماری پوزیشن محض یہ ہوسکتی ہے کہ بس دیکھتے رہیں کون سا سانڈ کس کی پیٹ میں اپنا سینگ ٹھونس رہا ہے ۔ خیر انسانی دنیا کے لئے تباہ کن معاشی وسماجی اثرات ونتائج سے بھرپور اس نئےمحاربے پر ہم جتنا چاہیں اپنا کف ِ افسوس مل لیں‘ اس کے علاوہ ہم اور کچھ نہیں کرسکتے۔ البتہ اس جنگ کی قیمت ہمیں مختلف پیرائیوں میں ادا کرنی  ہی کرنی ہوگی ۔اس میں دورائے نہیں ۔ ہماری اوقات ہی کیا‘ ِ عالمی امن وسکون کا ضامن بین الاقوامی ادارہ یعنی اقوام متحدہ بھی محاربین کو جنگ وانہدام سے روکنے میں بے دست وپا نظر آرہا ہے۔ لہٰذا یہ تلخ حقیقت ہم ضرور ذہن نشین کر لیں کہ بڑے بڑوں کی حربی دنگل کی کاری ضرب دیر سویر ہم پر پڑنے والی ہے ‘ اور ہمیشہ کی طرح ہم ہی وہ غیر متعلقہ لوگ ہوں گے جن سے اس جنگ کاتاوان ِ جنگ دیر سویر وصولا جائے گا ۔ سچ تو یہ کہ عام آدمی سے یہ تاوان وصولنا شروع  بھی کیا جاچکا ہے ۔ چونکہ جنگ زدہ ایران نے چین اور رُوس کے بغیر تمام ملکوں کے لئے آبنائے ہر مز پر مکمل ناکہ بندی کر دی ہے یعنی گیس اور پٹرول لئے بحری جہازوں کے لئے ہرمز کی سمندری گزرگاہ سے آمدورفت بند ہونےکا مطلب ہے جنگ کے نقصانات کا دھواں  اب ہماری رسوئیوں اور کارگاہوں میں گھسنا شروع ہوچکاہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل پر ایرانی پابندی کے پہلو بہ پہلو ایران میں گزشتہ دنوں ملک کی سب سے بڑی اوئیل ریفائنری پر اسرائیل نے اپنا تباہ کن مزائل داغا‘ اس سے ملک میں تیل کی پیداواری صلاحیت چوپٹ ہوچکی ہے ۔ بدلے میں تہران نے مشرق وسطیٰ میں تیل پیدا کرنے والے عرب ملکوں کی اوئیل ریفائنریوں پر شیدید بمباریاں کرکے ان ملکوں میں تیل کی پیداواری صلاحیت کو قریب قرین مفلوج کرڈالا ہے ۔ اس طرح کی جنگی مہم بازیوں سے پٹرول بیرل کی قیمت آسمان کو چھو لے تو اچھنبے کی بات نہیں ۔ ان شدید حملوں اور ہرمز کی گزرگاہ پر بحری تجارت کی نقل وحرکت پرپابندیاں بشمول امریکہ یورپ اور ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں ۔ یہ اس امر کا کھلا اعلان ہے کہ ہرمز کی ناکہ بندی سے تہران نےعالمی تجارت وصنعت کا مستقبل جنگ کے خاتمے تک تاریک سے تاریک بنانے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ یہ ایک تشویش ناک صورت حال ہے اورا س بات کی متقاضی ہے کہ اگر جنگ بندی کے لئے کوئی فرنٹ یا بیک چنل ثالثی کا فوری بندوبست نہ ہوا تو بات رسوئی گیس کے نرخوں میں اضافے ‘ پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں بڑھوتری اور ان اشایہ ٔ ضروریہ کی قلت تک محدود نہ رہے گی بلکہ نقصانات کی آگ اور خساروں کا دُھواں تیسری عالمی جنگ پر باضابطہ طور منتج ہوسکتا ہے۔ پھر تو ہر چیز کا خدا ہی حافظ ہے ۔ 

ہمارے یہاں رسوئی گیس کی قیمت فی سلنڈر ساٹھ روپے بڑھایا جانا بین ا لسطور ایک چتاؤنی ہے کہ اگر جنگ بند نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں یہاں مہنگائی کی دھاراور بےروزگاری کی مار مزید تیز ہونےکا اندیشہ ہے ۔ پٹرول کے دام تادم ِ تحریر نہیں بڑھائے گئے مگر گیس سلنڈر کی قیمت بڑھنے کا معاملہ پیش آیندہ صورت حال کی ایک ہلکی سی جھلک دکھاتی ہے ۔یہ جھلک صارفین کے لئے انتہائی مایوس کن اور صدمہ خیز ہے ۔ بایں ہمہ عالمی رائے عامہ اس حقیقت کی آئینہ داری کرنےمیں کوئی بخل نہیں کرتا کہ ہر دنیا کاحساس دل انسان چاہے وہ ایرانی ہو ‘ امریکی ہو‘ اسرائیلی ہو‘ مڈل ایسٹ کا عام شہری ہو یا میدانِ جنگ سے ہزاروں میل دور ہم جیسا عام خام ہو ‘ ہر کوئی بصدق ِ دل چاہتا ہے کہ شرق الاوسط میں جاری جنگ و جارحیت کا سلسلہ ہر حال میں رُک جائے ‘ آتش ِجنگ میں جھلس رہا خطہ اندھادُھند جانی نقصانات اور مالی بربادیوں سے فوری نجات پائے ‘ ایران ‘امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جو بھی نزاعات واختلافات ہوں ‘ انہیں سلجھانے کے لئے وہ میدان ِ جنگ میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے بجائے کسی مذاکراتی اور مفاہمتی ایجنڈے پر متفق ہوجائیں ‘ یہ تینوں ملک مل کر جنگ کے عنوان سے جو ناقابل ِبرداشت کہانیاں جریدۂ عالم کی پیشانی پر دُکھ اور افسوس کی سیاہی سے لکھتے جارہے ہیں‘ اس کی جو بھاری قیمت وہ براہ راست خود ادا کرر ہے ہیں یا بلواسطہ طور دنیا کی دیگر بے قصور قومی ادا کر نے جار ہی ہیں‘ یہ سلسلہ فی الفور امن وصلح کی کاوشوں سے روکا جائے۔ ممکنہ گفت وشنید کی میز پر تینوں ملکوں کولانے والے امن پسند قوتیں اگر کہیں موجود ہیں تو انہیں اس پہاڑ نما سوال سے بھی اپنا سر ٹکرانا پڑے گا کہ ا یران جب امریکہ کے ساتھ مکالمہ آرائی میں جوہری طاقت کو رول بیک کرنے کے معاہدے پر قریب قریب اتفاق کرچکا تھا تو اسرائیل نے تہران پر جنگ کیوں تھوپ دی ‘ دونوں نے ملک کے قد آور رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے اپنے اہل خانہ سمیت جام ِشہادت نوش کرواکے حالات کو کس مقصد کے تحت اس موڑ پر لاکھڑا کیا گیا کہ آگے اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہاہے ۔ان مغز ماریوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں دیرپا اور مستقل قیامِ امن کے لئے تینوں ملک اگرکھلے دل اور دماغ سے آمنا صدقنا کریں تو فبہا ۔

 گلوبل ولیج میں شامل اکائی وادیٔ کشمیر کوایک محلے سے زیادہ حیثیت نہیں ‘ البتہ کشمیریوں نے اپنی تردماغی اور چرب دستی کی فطری چھاپ آفاقی گاؤں میں مختلف چلینجوں کے باوجود ضرور ڈال دی اور اپنا وجود منوایا۔ یہاں نوے کے پُرآشوب دور میں تعلیم وتعلم کا سلسلہ اندھیر نگری کی بھینٹ چڑھ گیا تھا‘ چراغ بجھ گئے تھے ‘روشنیاں ماند پڑی تھیں ‘ تاریکیاں بڑھ گئی تھیں‘ اند ھیاروں کی کارستانیاں بڑھ جانے اور زندگی کے سوتے خشک ہوجانے سے لوگوں میں احساسِ زیاں بھی پیدا ہوا تھا۔ اُن پیچیدہ حالات میں باشعور اور فہمیدہ والدین نے زمینیں اور املاک بیچ کر یا بنک سے قرضے اُٹھاکر اپنے بچوں اور بچیوں کو بیرونِ کشمیر دیگر ریاستوں بلکہ ملک سے باہر تعلیمی تشنگی دور کرنے کے لئے جو ق درجوق بھیج دیا۔ یہ ٹرینڈ اب بھی جاری ہے۔ دلی ‘ ہریانہ ‘پنجاب سے لے کر ممبئی اور حیدرآباد تک کشمیری طلبہ وطالبات نے اپنی ہونہاری کا سکہ جمادیا اور پھر بنگلہ دیش‘ چین ‘ نیپال ‘سری لنکا‘ پولینڈ‘ یوکرین ‘ ماسکو‘ آسٹریلیا‘انگلینڈ اور یورپ کے دیگر ممالک میں جاکر اپنے تعلیمی کیرئر کی تعمیر باضابطہ جاری رکھی اور دنیا میں اپنے ملک سمیت خلیجی ممالک  اور یورپ میں ملازمتیں حاصل کیں۔ آج کی تاریخ میں کشمیری نوجوانوں کی ایک معتدبہ تعداد خلیج میں مختلف ممالک میں شان سے جاب کررہی ہے اور آذوقہ امن و اطمینان اور وقار سےکے ساتھ کمارہی ہے ۔ اس  وقت کشمیری سماج میں یہ ایک عام سی بات ہے کہ کسی گھرانے کا مُنا دلی میں اور کسی کا دبئی میں جاب کر رہاہے اور کسی خانوادے کی مُنی ایران اور کسی کی توران میں پڑھ رہی ہے ‘لیکن کچھ عرصہ سےنامساعدحالات کاجن شاید بوتل پھرسے باہر آکر ان مُناؤں اور مُنیوں کا تعاقب کرنا نہیں چھوڑ رہا ۔ چنانچہ چار سال پہلے یوکرین میں‘ پھرسری لنکا‘ اس کے بعدنیپال میں‘ اب ایران میں جنگ وجدل اور سیاسی اتھل پتھل کے بیچ کشمیری طلبہ وطالبات کو مشکلات اور مصائب سے پالا پڑا رہا ۔ اب ایران کے گرداب میں پھنسے ان طلبہ وطالبات کے لئے غیر یقینی جنگی صورت حال سوہانِ روح بنی ہوئی ہے ‘ دوم  والدین کے لئے یہ مشکل گھڑیاں مصیبت اور ذہنی تعذیب میں گزرہی ہیں‘اس سچویشن کو بیان کرنے کا حق شاید ہی میرا حقیر قلم ادا کرسکتا ہے ۔ کشمیر میں وہ گھرانے ان دنوں خاص کر بے چینی اور بے سکونی کے تھپیڑے محسوس کر رہے ہیں جن کے بچے ایران ‘ دبئی اور دیگر عرب ممالک میں موجود ہیں۔ حکومت ِہند جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے سبھی لوگوں کے لئے تمام ممکنہ سہولیات بہم پہنچانے کی وعدہ بندہے۔ البتہ ہمیں ان حکومتی کاوشوں کی کامیابی کے لئے صیام کی ان مبارک گھڑیوں میں تمام اہل وطن سمیت وہاں کے مقامی باشندوں کے لئے بھی امن و عافیت کی دعائیں کرنی چاہیں ۔علاوہ  ہم دست بدعا ہوکر یہ التجائیں اللہ کے حضور کرنے میں کوئی بخل نہ کریں کہ دنیا کو یہ فہم‘ شعور اور سمجھ عطاہو کہ جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل کی کاشت کاری اور المیوں کی سیرابی کا دوسرا نام ہے ۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!