مضامین
اعتکاف۔ اصل متاع کی تلاش

✍️:. الشیخ عبد الماجد الکشمیری
ایک بار ایک جلیلُ القدر بادشاہ نے اپنے دو خاص ندیموں کو طلب کیا؛ وہ دونوں قربِ دربار کے خوگر، مگر مزاج میں ایک مشرق و مغرب تھے: ایک دور اندیش، دوسرا لذت اندیش؛ ایک کی نگاہ انجام پر، دوسرے کی زبان ہر وقت ذائقے کے تعاقب میں۔
بادشاہ نے کہا:
“میرے ایک نہایت وسیع خزانے کا دروازہ تمہارے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ مدت بس چند روز کی ہے۔ جو شخص اندر جا کر جتنا سمیٹ سکتا ہو، سمیٹ لے؛ جو چاہے ہاتھ سے اُٹھائے، جو چاہے گاڑیوں پر لدوائے، جو چاہے اپنے گھر منتقل کرے۔ شرط فقط یہ ہے کہ مدت محدود ہے؛ ساعت گزری تو فرصت بھی گزری۔ پھر نہ در کھلے گا، نہ عرض سنی جائے گی، نہ حسرت کی فریاد کا کوئی مصرف ہوگا۔”
یہ سننا تھا کہ پہلا شخص، جو عقل کو زادِ راہ اور فرصت کو غنیمت جانتا تھا، ادب سے جھکا، اندر گیا، ایک نگاہ دائیں ڈالی، ایک بائیں، اور سمجھ گیا کہ یہاں اصل متاع کیا ہے: صندوق ہائے زر، سبیکۂ سیم، جواہرِ آبدار، اور وہ نادر اشیا جن سے بعد کی زندگی سنور سکتی تھی۔ چنانچہ اس نے نہ دیواروں کے نقش میں وقت کھپایا، نہ خوشبوؤں کے تعاقب میں سانس گنوائے، نہ نازک بحثوں میں عقل اٹکائی۔ فوراً باہر نکلا، مزدور بلائے، گاڑیاں منگوائیں، بوریاں کھلوائیں، صندوق اٹھوائے، اور پھر بھر بھر کر وہی متاع منتقل کرنے لگا جس سے گھر بھی آباد ہو اور کل بھی۔
مگر دوسرا صاحب!
اللہ اللہ، کیا طبعِ رنگیں پائی تھی! اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک گوشے میں نایاب پھل سجے ہیں؛ کہیں انجیر ایسی کہ جیسے شکر نے صورت باندھ لی ہو، کہیں انگور ایسے کہ گویا موتی شاخوں پر آگئے ہوں، کہیں انار کہ دانے نہیں، یاقوت کے ٹکڑے ہوں۔
بس حضور وہیں جم گئے!
کہیں چکھا، کہیں چبایا، کہیں دانت آزمائے، کہیں زبان کو مصروفِ شکر گزاری کیا۔اور اس شکر گزاری کا حال یہ تھا کہ پیٹ کی راہ کھلی رہی، مگر صندوقوں کی راہ بند!پھر آگے بڑھے تو چند خدام و کنیزکان سے سامنا ہوا۔ اب اصل کام تو تھا متاع سمیٹنا، مگر موصوف نے وہاں ایک اور دریا بہا دیا:
کس تھال میں پھل زیادہ شیریں ہے؟
کس کمرے کی روشنی زیادہ دلکش ہے؟
کس پردے کا رنگ شاہانہ ہے؟
کس نے پہلے کس کی طرف دیکھا؟
کس جملے میں تعریض تھی اور کس میں تلویح؟
اور پھر ایسی بحث چھیڑی کہ نہ اس کا سرا ہاتھ آئے، نہ کنارا۔
ایک کہتا: “یہ تو محض آرائش ہے۔”
وہ فرماتے: “جناب، آرائش بھی متاع ہی کی ایک شاخ ہے!”
دوسرا عرض کرتا: “مگر اصل خزانہ تو ادھر ہے۔”
تو جواب آتا: “بھئی، حسنِ ترتیب کو بھی کچھ سمجھیے، یہ بھی کم سرمایہ نہیں!”
یوں وہ موصوف قشر کو مغز اور سایہ کو آفتاب سمجھتے رہے۔
ادھر گھڑی کی سوئیاں اپنا فرض نبھاتی رہیں، اُدھر حضرت ہر بے فائدہ مشغلے کو فائدہ ثابت کرنے میں لگے رہے۔
جب کبھی کسی نے کہا: “حضور! سونا چاندی بھی کچھ اٹھا لیجیے!”
تو بولے: “ارے ابھی کیا جلدی ہے؟ پہلے ذرا یہ طعامِ لطیف ختم ہو، پھر ان مسائلِ دقیقہ کا فیصلہ ہوجائے، پھر دیکھیں گے!”
اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ساعت آپہنچی جس کے بعد “کاش” کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
مدت ختم ہوئی۔ دروازے بند ہوئے۔
ایک باہر نکلا تو اس کے پیچھے گاڑیوں کی قطار تھی؛
دوسرا نکلا تو اس کے ساتھ صرف ڈکار، چند بے نتیجہ بحثوں کی گرد، اور ہاتھ میں ایک آدھ پھل کا چھلکا!
پہلے شخص نے کچھ دنوں بعد انہی خزانوں سے اپنا گھر سنوارا، مہینوں کا خرچ نکالا، آسودگی پائی، اور لوگوں نے کہا: “یہ وہ شخص ہے جس نے فرصت کی نبض پہچانی اور موقع کی زلف پکڑ لی۔”
اور دوسرا؟
سو پہلے دن تو پیٹ بھرے ہونے کا غرور رہا، مگر جب وہ عارضی لذت ہضم ہو گئی اور بحثوں کی بھاپ بھی ہوا ہو گئی، تب معلوم ہوا کہ جسے سرمایہ سمجھا تھا وہ تو ناشتۂ احساس بھی نہ تھا۔
بھوک نے دروازہ کھٹکھٹایا، حاجت نے آستین پکڑی، اور حسرت نے کان میں کہا:
“اے حضرتِ ذوق! اگر اس وقت ایک گاڑی بھی اصل خزانے کی بھر لیتے، تو آج زبان کو اپنے فیصلوں کی وکالت نہ کرنی پڑتی!”
یہ حکایت سن کر ایک صاحبِ دل نے فرمایا:
“اعتکاف بھی کچھ ایسا ہی شاہی اعلان ہے۔
چند دن کا درِ خاص کھلتا ہے؛
سامانِ قربت، خزائنِ مغفرت، جواہرِ دعا، سکّۂ ذکر، اور سونے چاندی سے بڑھ کر قبولیت کی دولت سامنے رکھی جاتی ہے۔
اب کوئی تو وہ ہے جو اندر جا کر تلاوت، دعا، استغفار، محاسبہ، ذکر، گریہ، توجہ اور اصلاحِ باطن کے صندوق بھر لیتا ہے؛
اور کوئی وہ بھی ہے جو مسجد میں آ کر کبھی افطار کے ذائقوں میں، کبھی تکیے کی نرمی میں، کبھی اِدھر کی بات اُدھر اور اُدھر کی اِدھر میں، کبھی ایسی بحثوں میں جن کا نہ دنیا میں وزن نہ آخرت میں نرخ، اپنا وقت یوں صرف کرتا ہے جیسے مدت لامحدود ہو اور فرصت ہمیشگی کی لونڈی!”
حالاں کہ اعتکاف کے یہ دن کھجوروں کے ذائقے ناپنے کے لیے نہیں،
بلکہ تقدیر کے خزانے سمیٹنے کے لیے ہیں۔
یہ ساعتیں اس لیے نہیں ملتیں کہ آدمی مسجد کی دیواروں کے اندر دنیا کی محفل دوبارہ آباد کر لے؛
بلکہ اس لیے کہ کچھ دیر کے لیے دنیا کو دروازے پر بٹھا کر دل کو رب کے حضور تنہا کر دے۔
ہاں، کھانا کھائیے، آرام بھی کیجیے، ضرورت کی بات بھی کہیے؛ شریعت نے رہبانیت نہیں سکھائی۔
مگر صاحب!
کہیں ایسا نہ ہو کہ دسترخوان یاد رہ جائے اور دستِ دعا بھول جائے،
نیند پوری ہو جائے اور ندامت ادھوری رہ جائے،
گفتگو کے پھول تو بہت چن لیے جائیں مگر مغفرت کے پھل شاخ ہی پر رہ جائیں۔
پس معتکف کے لیے دانائی یہی ہے کہ جب بادشاہِ حقیقی نے فرمایا ہے:
“آؤ، چند روز میرے گھر میں ٹھہرو، اور جتنا سمیٹ سکتے ہو سمیٹ لو”
تو پھر عقل مند وہی ہے جو اصل پنجی لے،
یعنی: توبہ، ذکر، دعا، قرآن، فکرِ آخرت، اصلاحِ نفس، اور شبِ قدر کی تلاش۔
ورنہ مدت گزر جائے گی، چاند رات آجائے گی، لوگ مبارک باد دیں گے،
اور کوئی دل ہی دل میں کہہ رہا ہوگا:
“ہم تو مسجد میں رہے، مگر شاید اعتکاف ہم میں نہ رہا!”
25 رمضان المبارک 1447