Ad
مضامین

ماہِ صیام : رحمتوں کا موسم بہار

✍️:. مفتی محمد اشرف ملک 


روزوں کی ایمیت و فضیلت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ھے کہ قصرِ اسلام جن اساسی پانچ ارکان پر قائم ھے, روزہ ان میں سے ایک اہم ترین رکنِ رکین ھے. کسی چیز کا رکن ہونا ہی اس کی فضیلت , اہمیت اور افادیت کا جامع عنوان ہوتا ھے . اسی ہمہ جہت وہمہ گیر اہمیت کے پیشِ نظر امتِ مسلمہ پر روزہ فرض قرار دیا گیا ھے . 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورہ بقرہ , 183)

اے مسلمانو! تم پر اسی طرح روزہ فرض کیاگیا ھے, جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیاگیا تھا ,توقع ھے کہ تمہاری اندر صفتِ تقویٰ پیدا ہوجائے. 

روزہ روحانی امراض کیلیے صدیوں کا آزمودہ تاریخی نسخۂ شفاء ھے. اس یک ماہی تربیتی کورس سے قلوب و اذھان کی تطہیر ,نفسِ امّارہ کا تزکیہ , افکار و اقدار میں اعتدال اور اخلاق وکردار میں نکھار آتا ھے .  روزہ دار تقویٰ کے حفاظتی حصار میں داخل ہوکے نفس و شیطان کی فریب کاری کا آسانی سے دفاع کرپاتا ھے. الصيام جُنّۃ (بخاری )روزہ ڈھال ھے . 

روزوں کے گوناگوں فوائد اور دور رس اثرات کے بنیاد پر اس کا اجر وثواب بھی لامحدود رکھاگیا ھے"

الصوم لی وانا اجزی بہ (بخاری) روزہ میرے لیے ھے میں ہی اس کا اجر دوں گا . 

روزہ دار جب فلسفہ صیام ,مقاصد و اغراض کے فہم و ادراک کی روشنی میں ایمان و احتساب کی نیت سے فاقہ کشی کے آڑ میں ضبطِ نفس کی مشق کرتا ھے تو اس کے صحیفۂ اعمال میں سے گناہوں کی سیاہی دھل جاتی ھے .  عن أبي هريرة : أن رسول الله ﷺ قال: مَن قام رمضان إيمانًا واحتسابًا غُفر له ما تقدَّم من ذنبه. (متَّفق عليه.)

جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے . 

حقیقی روزہ یہ ھے کہ صائم کی زبان , آنکھ ,کان  دیگر حواس اور اعضاح وجوارح روزی کے رنگ میں مکمل رنگ جائیں, ان سے صادر ہونے والے اقوال و افعال اور تمام تر معاملات پر روزوں کی گہری چھاپ دکھائی دی جائے . 

فإذا كان يوم صوم احدكم، فلا يرفث يومئذ ولا يسخب، فإن سابه احد او قاتله، فليقل: إني امرؤ صائم . (بخاری)

 جب تم میں سے کسی کا روزہ تو فحش گوئی نہ کرے, اور نہ شور و غل کرے۔ اگر کوئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے: میں روزہ دار ہوں. ( لڑنا بھڑنا میرا کام نہیں )

جو شخص فلسفہ صوم کا شعور حاصل کیے بغیر خود و نوش اور جنسی تعلقات سے اجتناب پر اکتفاء کرتاھے اور روز مرہ معاملات خواہشات کی اقتداء میں انجام دیتے ہوئے شرعی حدود و قیود کو روندھتا چلاجاتا ھے ,اسے بھوک و پیاس کی شدید تکلیف کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا . 

من لم يدَعْ قولَ الزُّورِ والعملَ بِهِ ، فليسَ للَّهِ حاجةٌ بأن يدَعَ طعامَهُ وشرابَهُ.

(ترمذی ) 

جس نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا ہی نا چھوڑا تو اس کا کھانا پینا چھڑانے دینے کی اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں . 

روزوں سے ضبطِ نفس کا سلیقہ اور شب و روز کے معمولات میں نظم پیدا ہوتا ھے . نیند قربان کرکے سحری کے وقت اٹھنا , دن بھر بھوکا پیاسا رہنا , فرائض کا خصوصی اہتمام ,نوافل کی کثرت , ذکر و تلاوت , اوراد و وظائف اور دیر رات تک تراویح میں انہماک .ان معمولات سے جفاکشی ,صبر واستقامت , مواسات اور خیر سگالی کا جزبہ پروان چڑھتا ھے.

هو شهر الصبر وهو شهر المواساة. ( بیہقی) یہ مبارک مہینہ صبر ومواسات کا مہینہ ھے . 

ماہ صیام رحمتوں کا موسم بہار ھے ,جس میں نیکیوں کا حصول آسان اور قیمت گراں ہوتی ھے اور گناہوں کے مواقع محدود بلکہ مسدود ہوجاتے ہیں . 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر میں صحابہ کرام کے سامنے ایک خطبہ دیا ,جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ : لوگو تمہارے اوپر ایک مبارک مہینہ سایہ فگن ہونے والا ھے , جس میں ایک رات (شبِ قدر) ایسی ھے جو ہزار مہینوں سے بہتر ھے. اس ماہ کے روزے خدائے تعالیٰ نے فرض فرمائے اور راتوں میں نوافل( تراویح )کا اضافہ فرمایا . اس مہینے میں نفلی عبادت فرض کے برابر اور فرض ستّر فرائض کے برابر ہوجاتا ھے. یہ صبر کا مہینہ ھے. اور صبر کا بدلہ جنت ھے .یہ غمخواری کا مہینہ ھے. اس میں مؤمن کی روزی بڑھادی جاتی ھے. . اس کا پہلا عشرہ رحمت , دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے خلاصی کا زمانہ ھے اور اس میں سرکش جنات مقید کئے جاتے ہیں .

احادیث میں روزوں کے بے شمار فضائل ,فوائد اور برکات بیان کیے گیے ہیں .خوش نصیب ھے وہ مسلمان جو رمضان کی قدر دانی کرکے رحمتوں ,برکتوں اور بخششوں سے اپنا دامن بھر لے . اور وہ شخص انتہائی محروم القسمت اور بدنصیب ھے جن کی زندگی میں یہ مبارک مہینہ بھی مثبت تبدیلیوں کا موجب نا بنیں .



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!