Ad
مضامین

استاد: قوم کا معمار اور ایک مقدس ذمہ داری

✍️:. تجمل قادری 


tqadri87@gmail.com

"اگر ایک ڈاکٹر غلطی کرے تو ایک جان جاتی ہے، اگر ایک انجینئر غلطی کرے تو ایک عمارت گر سکتی ہے، مگر اگر ایک استاد غفلت کرے تو پوری نسل متاثر ہو سکتی ہے۔"

استاد کا پیشہ پیغمبرانہ پیشہ ہے۔ یہ صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک عظیم مشن ہے۔ جب کسی انسان کو اس پیشے کی اصل عظمت اور ذمہ داری کا احساس ہو جاتا ہے تو وہ بے چین ہو جاتا ہے۔ اسے یہ فکر ستانے لگتی ہے کہ اس کے ہاتھوں میں آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کی ایک بات، ایک عمل اور ایک رویہ کسی بچے کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ استاد قوم کا معمار ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسا کاریگر ہے جو انسانی ذہنوں کو تراش کر انہیں علم، شعور اور اخلاق کی روشنی سے منور کرتا ہے۔ استاد صرف کتابوں کے اسباق نہیں پڑھاتا بلکہ دلوں میں امید، کردار اور انسانیت کے بیج بوتا ہے۔ وہ بچوں کو صرف پڑھنا لکھنا نہیں سکھاتا بلکہ انہیں اچھا انسان بننے کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔

استاد کے اوصاف اور کردار، اس کا صبر و تحمل، اس کا لہجہ اور اس کا چال چلن مثبت اور قابلِ اعتماد ہونا چاہیے۔ کیونکہ استاد دراصل ایک ایسی نسل کی تربیت کر رہا ہوتا ہے جو کل کو معاشرے کی قیادت کرے گی۔ اگر اس تربیت میں کوئی کوتاہی رہ جائے تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری قوم اس کی قیمت ادا کرتی ہے۔

بچے صرف کتابوں سے نہیں سیکھتے۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھتے ہیں۔ وہ اپنے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں اور سب سے زیادہ اپنے استاد کی نقل کرتے ہیں۔ استاد کا ہر لفظ، ہر انداز اور ہر عمل بچوں کے ذہن و دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کا کردار بے حد اہم اور حساس ہوتا ہے۔

بچوں کی تربیت میں والدین، سماج اور استاد تینوں کا کردار اہم ہوتا ہے، مگر استاد کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ کیونکہ بچہ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ استاد کے ساتھ گزارتا ہے اور اسی دوران اس کی شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔

ایک سچا استاد اپنے فرائض کو صرف ملازمت سمجھ کر ادا نہیں کرتا بلکہ اسے ایک عبادت سمجھتا ہے۔ وہ وقت کی پابندی کرتا ہے، مقررہ وقت پر اسکول پہنچتا ہے اور پوری لگن کے ساتھ اپنی کلاس لیتا ہے۔ وہ کلاس روم میں صرف حاضری پوری کرنے کے لیے نہیں جاتا بلکہ اپنے طلبہ کے ذہنوں میں علم کی روشنی پیدا کرنے کے لیے جاتا ہے۔

وقت کی پابندی بھی ایک اچھے استاد کی بنیادی خصوصیت ہونی چاہیے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ مقررہ وقت پر اسکول پہنچے اور اپنی کلاسیں وقت پر لے۔ کلاس روم میں پورا وقت دینا اور پوری توجہ کے ساتھ طلبہ کو پڑھانا ایک استاد کی اہم ذمہ داری ہے۔ جب استاد خود وقت کی قدر کرے گا تو طلبہ بھی نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کی اہمیت کو سمجھیں گے۔

ایک ذمہ دار استاد کو چاہیے کہ وہ کلاس میں جانے سے پہلے اپنے سبق کی مناسب تیاری کرے تاکہ تدریس مؤثر اور منظم ہو۔ منصوبہ بندی کے ساتھ پڑھانے سے طلبہ کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اور تعلیمی عمل زیادہ نتیجہ خیز ہو جاتا ہے۔

ایک استاد کو ہمیشہ انوویٹو اور دور اندیش ہونا چاہیے۔ اس کی نظر صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے دنیا کے بدلتے حالات سے بھی باخبر رہنا چاہیے۔ نئی ایجادات، نئی سائنسی کھوج اور موجودہ عالمی حالات سے آگاہی ایک استاد کے لیے بے حد ضروری ہے۔ جب استاد خود علم کے نئے دروازوں سے واقف ہوگا تو وہ اپنے طلبہ کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق سوچنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کی ترغیب دے سکے گا۔ ایک باشعور اور جدید فکر رکھنے والا استاد ہی اپنے طلبہ کو زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

 اسی طرح استاد کو چاہیے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ ادا کرے۔

اساتذہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ طلبہ کے ساتھ نرم اور شائستہ لہجہ اختیار کریں۔ محبت اور احترام کے ساتھ کی گئی گفتگو بچوں کے دل جیت لیتی ہے اور ان میں سیکھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ ایک استاد کے چند حوصلہ افزا الفاظ کسی بچے کی زندگی میں امید اور اعتماد پیدا کر سکتے ہیں۔

اسی طرح استاد کو چاہیے کہ وہ سادہ، مہذب اور باوقار لباس اختیار کرے۔ استاد اور استانی دونوں کا انداز اور لباس ایسا ہونا چاہیے جو سنجیدگی اور وقار کی عکاسی کرے، کیونکہ طلبہ اپنے اساتذہ کو اپنا نمونہ سمجھتے ہیں اور اکثر انہی کی نقل کرتے ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ استاد کا پیشہ صرف علم دینے کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ اگر استاد اپنے کردار کو بلند رکھے، وقت کی پابندی اختیار کرے اور اپنی ذمہ داریوں کو اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ ادا کرے تو وہ ایک ایسی نسل تیار کر سکتا ہے جو علم، اخلاق اور شعور سے مالا مال ہو۔ درحقیقت ایک مخلص استاد ہی ایک روشن اور مہذب معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!