مضامین
کہ آئینہ دھندلا ہے

قوموں کی تعمیر ہو یا ان کی تباہی—اس کا سب سے بڑا راز تعلیم میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہی تعلیم ایک نسل کے ذہن کو جِلا بخشتی ہے، اسے سوچنے کا سلیقہ دیتی ہے اور وقت کے بدلتے تقاضوں کے مطابق ڈھالتی ہے۔ ہمارے بچے صرف ہمارے گھروں کی رونق نہیں بلکہ ہمارے کل کی امید ہیں، اور انہیں بہتر تعلیم دینا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔
مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کو اب بھی وہ مقام نہیں مل سکا جس کی وہ مستحق ہے۔ والدین مصروفیات کا بہانہ بنا کر اپنی ذمہ داری ہلکی کر لیتے ہیں، اساتذہ نظام کو موردِ الزام ٹھہرا کر خود کو الگ کر لیتے ہیں، اور ذمہ دار ادارے اکثر ترجیحات کی فہرست میں تعلیم کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ ادھر موبائل اور انٹرنیٹ نے بچوں کو اس قدر اپنی گرفت میں لے لیا ہے کہ کتاب سے ان کا رشتہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم سب اپنی اپنی جگہ درست ہیں—مگر مجموعی طور پر کچھ بنیادی طور پر غلط ہو رہا ہے۔
حال ہی میں وزیرِ تعلیم سکینہ اتو کا ایک بیان سامنے آیا، جس میں پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کی اہلیت پر سوال اٹھایا گیا۔ اس بیان نے ایک نئی بحث کو جنم دیا.
ہمارے یہاں ہزاروں نوجوان ایسے ہیں جو محدود مواقع کے باوجود اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں۔ ان میں سے کئی اپنی پڑھائی بھی جاری رکھتے ہیں، اور ساتھ ساتھ بچوں کو سنوارنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ان کی تنخواہیں کم ہیں، سہولیات محدود ہیں، مگر پھر بھی وہ اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔
کیا ان سب کو ایک ہی نظر سے دیکھنا مناسب ہے؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پرائیویٹ اسکول کشمیر کے تعلیمی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔ بہت سے والدین، جن میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں، اپنے بچوں کو انہی اداروں میں بھیجتے ہیں۔ اگر واقعی معیار اتنا کمزور ہوتا، تو یہ اعتماد پیدا ہی نہ ہوتا۔
تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں۔
ایک استاد کی اصل پہچان اس کی محنت، اس کے رویے اور اس کے اثر سے ہوتی ہے۔
یقیناً معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے—چاہے وہ سرکاری اسکول ہوں یا نجی—مگر یہ کام تنقید سے نہیں، اصلاح سے ہوگا۔
شاید ہمیں اس بحث کو محض تنقید تک محدود رکھنے کے حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ہو یا نجی، دونوں تعلیمی نظام ایک ہی مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ خامیاں دونوں طرف موجود ہیں، مگر ان کا حل الزام تراشی نہیں بلکہ بہتری کی سنجیدہ کوششوں میں پوشیدہ ہے۔ اساتذہ کی تربیت، اداروں کی نگرانی اور ایک مثبت ماحول—یہی وہ عوامل ہیں جو تعلیم کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قوموں کے مستقبل کا فیصلہ ایوانوں میں ہونے والی بحثوں سے نہیں، بلکہ کلاس روم میں بیٹھے ایک بچے کی آنکھوں کی چمک سے ہوتا ہے۔ اگر اس کی کتاب خالی ہے، اس کا ذہن الجھا ہوا ہے یا اس کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں، تو یہ صرف ایک بچے کا نقصان نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی ناکامی ہے۔
تعلیم کو بچانا دراصل اپنے کل کو بچانا ہے۔
اور وہ کل انہی ننھے ہاتھوں میں ہے… جو آج بھی ہماری توجہ، ہماری رہنمائی اور ہماری ذمہ داری کے منتظر ہیں۔بجائے اسے اصلاح کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مسئلے کو سمجھیں اور مل کر حل تلاش کریں۔
اساتذہ کی تربیت بہتر بنائی جائے،
اداروں کی نگرانی مضبوط ہو،
اور سب سے اہم، اساتذہ کی عزت کا خیال رکھا جائے۔
کیونکہ ایک استاد صرف نصاب نہیں پڑھاتا،
وہ ایک معاشرہ تیار کرتا ہے۔
تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں آواز نہیں، انداز بدلنے کی ضرورت ہے۔
مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں۔
رابطہ: 7006857283
ای میل: ikkzikbal@gmail.com