Ad
مضامین

دنیامستقل جنگ بندی کی متمنی

✍️ :. ش م احمد / سری نگر 


7006883587

جنگ وظلمت خوف ودہشت ختم ہو

  ساکناں ِ ارض کی ہر ہر مصیبت ختم ہو

 امن وچیں کی سانس لینے دو ہمیں 

 خون ِناحق پر مبنی فتح ونصرت ختم ہو 

      ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط شدہ جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے ۔ اس تباہ کن جنگ کو روکنے کے لئے اگرچہ تین ہفتے تک کہیں سے کوئی سنجیدہ اور ٹھوس کوشش نظر نہ آئی لیکن گزشتہ کل امریکی صدرٹرمپ نے پانچ روزہ عارضی جنگ بندی کا اعلان کرکے دنیا کو ایک اچھا پیغام دیا بشرطیکہ اُن کی پیش کش کوئی جنگی اسٹرٹیجی نہ ہو بلکہ خلوصِ قلب اور خلش ِضمیر کی آئینہ دار ہو۔اس اچانک اعلان سے  ذرا دیرقبل دنیا فکروتشویش میں مبتلاتھی کہ ٹرمپ نے ایران کو آبنائےہرمز پر تجارتی قافلوں پر عائد بندش کو ہٹانے کے لئے جو ۴۸ ؍گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ تہران کا وہ حشر کیا جائے گا کہ اس کے ہوش وحواس اُڑ جائیں گے ۔ ایران نےامریکی دھمکی کو پرکاہ ِ کی حیثیت بھی نہ دی ‘اُلٹا امریکہ کو جوابی دھمکی دی کہ اس کاایسا کچومر نکالاجائے گا کہ چھٹی کادُودھ یاد آجائے ۔ دنیا تذبذب میں تھی کہ نہ جانے اب کون سی آفت خطے پر ٹوٹنے والی ہے مگر عین وقت پر  ٹرمپ نے عارضی ’’امن‘‘ کا اعلان کردیا ۔ اُن کے ٹرتھ سوشل پریہ  بیان گویاجھلستی گرمی میں تازہ ہو اکا پہلا جھونکا تھا جس نے خطے میں جنگ وجدل کے خاتمے کا پہلا قابلِ اعتبار اشارہ دیا۔صدر نے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ’’ مذاکرات‘‘ کے نتیجے میں پانچ روزہ عارضی جنگ بندی فوری طور نافذالعمل ہورہی ہے۔ درپردہ’’ امن مذاکرات‘‘ کس بیک چینل کی وساطت سے ہوئے اور اگر بالفرض آگے مذاکرات میں پیش رفت کا سلسلہ ٹوٹ جاتاہے‘ تو کیا عارضی جنگ بندی کے بعد محاذِ جنگ پھر سے میزائلوں اور ڈرونوں کو انسانی لہو کے ایند ھن پر گرمایاجائے گا ۔ فی الحا ل اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ۔ پانچ روزہ جنگ بندی اس عمومی تاثر پر مہر تصدیق ثبت کر رہی ہے کہ امریکی صدر غیر متوقع ایرانی مزاحمت اور جنگ کی طوالت سےواشنگٹن کی معیشت تباہی اور جنگ کے برق رفتار عالمی مضمرات سے خاصےپر یشاں ہیں اور کسی نہ کسی بہانے جنگ سے پنڈ چھڑانے کے لئے مورچہ زنی سے واپس مڑنے کے لئے کوشاہیں ۔ معاملہ جو بھی ہو بہر کیف عارضی جنگ بندی دنیائے انسانیت کے لئے واقعی راحت واطمینان کا خوش کن پیغام ہے ‘ علی الخصوص جنگی یلغاروں کی شدیدمار سہتے ایرانیوں اوراسرا ئیلیوں کے لئے یہ سکون کاسانس لینے کی موجب ہو گی ۔اس میں دورائے نہیں کہ تہران میں سوئلین ہلاکتوں کا گراف تیزی سے بڑھ رہاہے ‘ انسانی بستیاں اُجڑ رہی ہیں‘ لاکھوں لوگ بے خانماں ہوکر دربدر پھر رہے ہیں‘ دفاتر خاکستر ہورہے ہیں اور اسرائیل میں بھی چین کی بانسریاں نہیں بج رہیں ۔ دریں اثنا اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسف نے اپنی تازہ رپورٹ منظر عام پرلائی ہے ‘ اس کے مطابق تادم تحریر تہران میں ۲۰۶ ؍ بچے‘ لبنان میں ۱۱۸؍ بچے ‘ ۴؍ اسرائیل بچےاور ۱؍ بچہ کویت میں جان بحق  ہوایا عمر بھر کے لئے معذور ۔ دستیاب اعداد وشمار کے مطابق پورے خطے میں روزانہ ۷۸؍ بچے جان کی بازی ہارجاتے ہیں اور اگر خوف ناک جنگ نے مزیدطول کھینچا تو خدشہ ہے کہ متاثرہ خطہ نئے غزہ کی شکل و صورت اختیار کرے گا۔ ایران کی بہادری وعزم وہمت بے مثال ہے ‘ان کی قربانیوں کا دوستوں اور دشمنوں کو اعتراف ہے مگر اس ملک میں چپہ چپہ پر موجود قوم کی معاشی خوش حالی کا ضامن انفراسٹرکچر بے دریغ تباہیوں کی نذر کیا جارہاہے ‘ وہاں جنگ کی آگ میں پھنسے لوگوں کی دل دہلانے والی سرگزشتیں متواتررقم ہورہی ہیں‘  ساتھ ہی ساتھ ایک جنگی حکمت عملی کے طور تہران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری تجارت کی بندش سے پوری دنیا میں تیل اور گیس کا بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کئے جارہاہے ۔ اس سے عالمی معیشت کا لگ بھگ جنازہ اُٹھ رہاہے۔ اس لئے بھی رواں جنگ کی کوکھ سے پیدا ہونے والے دنیا بھر میں معاشی بحران کی ہیبت ناکیاں تقاضا کرتی ہیں کہ جنگ کو فی الفور ہرسطح پر منقطع ہوا ور طرفین اپنے اندرمذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی اخلاقی جرأت پیدا کریں ۔افسوس کہ ابھی تک اقوام متحدہ اس ضمن میں کوئی نتیجہ خیز پہل کر نے سے قاصر رہا ‘ جب کہ عالمی برادری کو یہ فکر لاحق ہونے کے باوجود کہ جنگ کی آگ دنیا میں ہرملک کی معیشت کو بھسم کر کے رکھے گی ‘ پھر بھی مصالحت کاری کی کوئی کوشش نہ ہوتی ہوئی نظر نہ آئی۔ کتنا بہتر ہوتا اگر امام ِ کعبہ‘ پاپائے اعظم ‘ دلائی لامہ‘ شنکر اَچاریہ‘ اعلیٰ ترین یہودی ربی مشترکہ طور جنگ میں ملوث فریقین کو جنگ بندی کی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں فہمائش کرتے۔

 حق یہ ہے کہ جب یہ جنگ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کو مذاکرات کا جھانسہ دے کر شروع کی تھی تو یہ ایک طرح کاوشواس گھات تھا۔ تاہم اُس وقت ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ ایران ان کے خلاف بے جگری کے ساتھ لڑے گا اور آخری دم تک لڑے گا۔ شایدسی آئی اےاور موساد کو بھی یہ پیش بینی نہ تھی کہ تباہ کن محاربہ انسانیت کی گردن کس کس عنوان سے مروڑے گا اور جنگ کا جہنم ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اپنی لپٹوں میں اسرائیل کی خفیہ اور علانیہ مددگار علاقائی مملکتوں کو لاکروہاں کاروبارِ زندگی ٹھپ بھی کرےگا اور ان کی معیشتوں کوجنگی نحوستوں کی بھینٹ چڑھائے گا ۔ آج کی تاریخ میں آبنائے ہر مز کے ذریعے سمندری تجارت کے قافلوں پر پابندی دنیا بھر میںگھر کی رسوئیوں سے لے کر عالمی معیشت تک پھیلی ہر چیز کو جنگی اثرات کی لپیٹ میں لا چکی ہے۔ ہم ایسے عام آدمی جنگ کے شعلوں سے بھلے ہی ہزاروں کلومیٹردور ہوں مگر ٹورازم کی تباہی‘ کیٹرنگ انڈسٹری کی بندش‘ غذائی اجناس کے لئے درکارکھادیں بنانے والی فیکٹریوں کی تالہ بندی ‘ فضائی کمپنیوں کے مسلسل مالی خسارے ‘ نوکریوں اور ملازمتوں سے چھٹنی جیسے مسائل جب ہمارے دروازے پر بھی دستک دیں تو یہ گویا جنگ کا تاوان عام آدمیوں سے وصولنا ہوگا ۔سٹاک مارکیٹ مسلسل کریش ہونے سے الگ سے سرمایہ کاروں کی عمر بھر کی پونجیاں منٹوں میں مسلسل ڈوب رہی ہیں ۔ المختصر رواں جنگ دنیائے ہست وبود کو غیر یقینیت اور اقتصادی کرائسس کی بھینٹ چڑھا یا ہوا ہے اور عام آدمی کو ناکردہ گناہوں کی سزا دی جارہی ہے۔ 

ایران پر جنگ مسلط کرنے کا گناہ ہمیشہ پندارِغرور میں رہنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سر لیا ۔ اگرانہوں نے یہ سوچ کر جنگ شروع کی تھی کہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ‘ اُن کے دست ِراست فوجی قائدین اور حکومتی اکابرین کو بدرجہ ٔ شہادت پہنچاکر دوچار روز کے اندر تہران واشنگٹن کے سامنے ہاتھ اُوپر کرے گا ‘ ملک میں رژیم چینج کا اُن کا خیالی عمل پایہ ٔ تکمیل تک پہنچےگا ‘ایران میں اپنے کسی پٹھو کی تاجپوشی کروا کے وینزویلا کی کہانی کا تہر ان میں اعادہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہوگا ‘ تو یہ اُن کی بھول تھی۔ ایران کی ناقابل ِ یقین قوتِ مزاحمت ‘عزم وہمت اور جوابی حملوں کے تواتر نے ٹرمپ کا سارا پلان چوپٹ کردیا اور جنگ طوالت کھینچ کر امریکہ اور اسرائیل کے طاقت ور حکمرانوں کی نیندیں اُڑا ئے جا رہی ہے‘ جب کہ ایران بالفعل اُن کے لئے ٹیڑھی کھیر ثابت ہورہاہے ۔ ٹرمپ ا یران کا محاذِ جنگ فتح کر سکے نہ یہاں کے ذخائرتیل کو مال ِ غنیمت کی طرح سمیٹ سکے ‘ نہ امریکی فوجی تسلط کاپرچم تہران میں لہراکر آٹھ چھ ماہ بعد ہونے والے اپنے یہاں ملکی انتخابی معرکے میں ممکنہ جیت اپنے نام کروا نے کی پوزیشن میں ہیں‘ اُلٹا ایک جانب اُن کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آرہاہے‘ لوگ باگ اُن کے جنگ ِایران کی معنویت پر سوال اُٹھارہے ہیں اور دوسری جانب ایرانی مزاحمت کو اپنے دو ایک طمانچوں سے توڑنے کے بارے میں اُن کی خام خیالیاں ایک ایک کرکے ہو ا میں تحلیل ہورہی ہیں ۔ 

  اس میں دورائے نہیں کہ جنگ زدہ ایرا ن کے علاوہ اسرائیلی عوام اور مشرق وسطیٰ میں غیر متعلقہ لوگ بھی جنگی تباہ کاریوں اور بربادیوں کے براہ ِراست تختۂ مشق بنے ہوئے ہیں ۔ ہمیں متاثرہ خطے کے عوام سے فرداًفرداً انسانی بنیادوں پر ہمدردی ہونی چاہیے کیونکہ یہی کم نصیب لوگ ا س وقت حملوں اور جوابی حملوں کے سبب جان ومال کا نقصان اُٹھا رہے ہیں ۔ جنگ کا ڈراپ سین کیا ہوگا ‘اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا‘ البتہ یہ پیش گوئیاں ہورہی ہیں کہ بالآخر ایران اپنی تاریخ کے سب سے الم ناک باب سے گزرتے ہوئے بہادری سے کامیابی کی اونچائیاں چھولےگا ‘ جب کہ گریٹر اسرائیل کا خواب دھرے کا دھرا رہے گا ۔ امریکہ کو اس بار بھی جنگِ ویت نام اور جنگ ِافغانستان کی طرح ایران سے خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا۔

  بایں ہمہ رواں جنگ کا جو کچھ بھی نتیجہ برآمد ہو بہر حال یہ ایک آفاقی اصول ہے کہ جنگ کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ اس کی کوکھ سے فاتح اور مفتوح دونوں کے لئے فقط المیے اور دُکھ جنم پاتے ہیں ‘اس سے لاشیں گرتی ہیں ‘ یتیموں اور لاچاروں کی فوج پیدا ہوتی ہے ‘ زخمیوں کے آنسوؤں اور معذروں کی آہوں کے صدمات نصیب ہوتے ہیں‘ بستیاں ویران ہوتی ہیں قبرستان آباد ہوتے ہیں‘ کارخانے مقفل اوربازار سنسان پڑتے ہیں‘ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے قوموں اور ملکوں کے مابین صدیوں نفرتیں ، تلخیاں اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں جو صرف مسائل ومصائب اور شکوک وشبہات کی کاشت کاری کا سبب بنتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب جانتے بھی قومیں صلح سمجھوتوں سے کیوں کتراتی ہیں ؟افہام وتفہیم کے بجائے جنگ کے جہنم زار میں کیوں کودتی ہیں؟ اپنوں اور غیروں کی تباہیوں اور ویرانیوں کو فتحِ مبین سے کیوں موسوم کرتی ہیں ؟ جب کہ ہر انسان کوپیدائشی طور یہ اعزاز ملا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے ۔ اُسےدنیا میں اعلیٰ وارفع اخلاقی مقاصد کی تکمیل اور انسانیت کی خدمت گزاری کے بھیجا گیا ہے ۔ انسان کے لئے یہ دستارِ فضیلت اور خداداد شرف بے مطلب شئے نہیں بلکہ انسان پراس برتری کے شایان ِ شا ن چوبیسوں گھنٹے کچھ بنیادی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں۔ یہ ذمہ داریاں اُسے تاعمر بعض اہم اور ناقابل ِ التوا فرائض کی کھونٹوں سے باندھتی ہیں۔ جب تلک وہ بغیر کسی حیل وحجت کے اپنی ذمہ داریاںنبھاتا رہے اور انصاف کی شاہراہ پر قدم بڑھاتا ر ہے‘ وہ اشرف المخلوقات ‘ رشک ِ ملائکہ‘ انسانیت کا مجسمہ ‘ خیرو بھلائی کا پیکر اور دنیا کا کامیاب انسان ہونے کا رُتبہ پاتار ہےگا ‘ جونہی وہ ان ذمہ داریوں سے غفلت برتے‘ ان کی ادائیگی میں پہلو تہی کرے ‘ان سے جی چرائے تو اشرف المخلوقات کےاعلیٰ مقام سے اس کی تنزلی یقینی طور واقع ہوتی ہے ۔ جنگ وجدل‘ بدامنی اور تخریب کاری اسی تنزلی کی بدترین شکلیں ہوتی ہیں ۔بہر کیف زمین اس دورِ ظلمت میں بھی مجموعی طورقدسی روحوں اور نیک نہاد انسانوں سے خالی نہیں ۔ زمانہ ٔ اخیر یا کل یُگ ہونے کے باوجود آج بھی انسانوں کی اکثریت اچھی اور مفید کارگزاریاں انجام دے رہی ہے‘ انسانوں کی اکثریت کی بھلائیوں کا کوئی شمار نہیں‘ یہی دردمنددل رکھنے والے ابن آدم ہیں جو انسانی دنیا کو تکالیف اور پریشانیوں کے چنگل سے نکال باہر کر نے میں اپنی شمع ِنیم شب جلانے میں کوئی کسر نہیں اُٹھاتے ‘ جو سائنس وٹیکنالوجی کے معرکے سر کرتے ہیں تاکہ رُوئے زمین سے نا خواندگی ‘بھوک‘ بیماری اور افلاس کا خاتمہ ہو ‘ انسان امن وآشتی کی بانہوں میں میٹھی نیند سوئے‘ انسانیت کی مشعل کو روشن ر ہے ۔ اسی خوش طبع اکثریت کی آواز ہے کہ مغربی ایشیا کی جنگ مستقلاً بند ہو ‘ تینوں متحارب قوتیں افہام وتفہیم اور مصالحت کی میز پر کھلے دماغ سے بیٹھیں اور صدق دلی سےایک دوسرے کو جیو اور جینے دو کی ضمانت دیں ‘خاص کر ایران کو مظلوم وبے گناہ ہونے کے باوجود قلبی وسعت کے ساتھ امن و مفاہمت کی ایسی شرائط صلح صفائی کے ضمن میں عائد کرنی چاہیے جو اس کے وقار اور اُصولی موقف کے عین مطابق ہوں۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!