Ad
مضامین

خاک سےا فلاک تک

✍️ :. ش م احمد / سرینگر 


7006883587

کشمکش ِ حیات کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ایک سائنسی اصول ہے ۔ ماہر حیاتیات ڈارؤن نے بقائے حیات کےاس آفاقی سچ کو ’’اوریجن آف سپیسیز‘‘ میں سائنسی تجربات اور عینی مشاہدات کی روشنی میں واضح کیا اور بتایا کہ حشرات الارض سے لے کر اشرف المخلوقات کہلانے والے انسان تک سب کشمکش ِ زندگانی میں آخری سانس تک مصروف رہتے ہیں۔ موت کی آخری ہچکی سے کسی بھی ذی حیات کایہ مستقل کام بند ہو جائے تو وہ مشت ِخاک کی صورت میں ڈھلتا ہے ۔ کشمکش ِحیات کی یہ کہانی اَربوں انسانوں میں قدرِ مشترک ہے ۔اسی کہانی کا ایک سنہری ورق بھارت کے سپوت اور گیارہویں راشٹر پتی مرحوم اے پی جے عبدا لکلام کی زندگی سے عبارت ہے۔ اپنی کشمکش بھری کہانی کو انہوں نے خود نوشتہ سوانح عمری میں کماحقہ ‘بیان کیا ہے ۔ آپ نےاپنی قابل ِ صد ستائش سادہ زندگی کی رُوداد‘ اپنے خواب اور خواہشیں اور ملک وقوم کی بھلائی کے لئے اپنے فخریہ سائنسی کنٹربیوشن کا رازوں سے پردہ اٹھایاتودنیا کو میزائل مین آف انڈیا کے حال احوال کا تھورا بہت پتہ چلا۔ ’’اُڑان‘‘ کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ رامیشور تامل ناڈو میں پیدا ہونے والے یہ سادھارن شخص اپنے منہ میں کوئی سونے کا چمچ لئے پیدا نہ ہوئے بلکہ وزیراعظم نریندر مودی کی مانند ایک غریب گھرانے کے چشم وچراغ تھے ۔ بچپن میں ہی پائلٹ بننے کے شوق نے اُن کے ارادوں کی اونچی اُڑان کا پتہ دیا۔ مضبوط ارادےاوراَنتھک اُڑان کے لئے اُن  کے پاس تعلیم ‘ ذہانت اور محنت کے سہارے آگے بڑھنے کا خداداد جذبہ تھاجس نے آپ کو ڈیا آر ڈی او اور اسرو جیسے اہم ترین قومی اداروں کی قیادت پر مامور ہونے میں مدددی ۔ یہیں سے آپ  نےملک کو اَگنی اور پرتھوی میزائلوں کی دفاعی حصار سے نوازا ۔ قدرت نے بہت پہلے آپ کو عدیم المثال صلاحیتوں ‘ شوق ‘ ولولہ اور جذب ِ دروں کے گنج ہائے گرانمایہ دے کر ایک تاریخ ساز شخصیت کے قالب میں ڈھالنے کا فیصلہ لیا تھا‘ مگراس فیصلے کو زمین پر اُتارنے کے لئے آپ نے بھی جہادِ زندگانی کا جوکھم اُٹھایا ‘ محنت کے اینٹ گارے پر اپنی علمی قابلیت کی تعمیر کی ‘ نہ کبھی تقدیر کا بہانہ بنا کر عمل سے  غافل ہوئے‘ نہ جہد مسلسل کے بغیر دیار ِ عشق میں اپنا مقام آپ پیدا کر نے کے لئے کسی شارٹ کٹ میں پناہ لی ‘ تب جاکر دنیا کو بتاپائے کہ کامیابی کے لئے حالات کی عدم موافقت سے نہیں ڈرناچاہیے بلکہ مضبوط عزم وارادہ اور آنکھوں میں ایک اچھا قابل ِ عمل خواب اور تعلیم کے افلاک میں اونچی پرواز کا جوش و جنون چاہیے ۔ میری نگاہ میں موصوف کی درخشندہ زندگی اس شعر کی جیتی جاگتی تصویر ہے ؎

 عزم ِ راسخ شوق ِ کامل سعیٔ پیہم کی قسم 

 یہ خیال ِ خام ہے تیرا کہ منزل دور ہے

 لوگوں کو ’’اڑان ‘‘ سے ہی معلوم ہوا کہ دنیائے سائنس و ٹیکنالوجی کا یہ عظیم المرتبت شہسوار غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھےمگر انہوں نے غربت وناآسودگی کو پل بھر بھی قلم وقرطاس سے نتیجہ خیز تعلق میں آڑے نہ آ نے دیا‘ آہنی عزم اور فولادی ارادے کے بل پر تہیہ کیا کہ پڑھائی لکھائی کا شوق ناساز گار حالات کے باوجود پروان چڑھا ئے رکھناہے ‘ تعلیم گاہ سے اپنا اَٹوٹ رشتہ زندہ وپائندہ  بنانا ہے ‘ کچھ اچھا بننے اور کچھ الگ سے کرنے کی اُمنگ اور ایک اچھوتا خواب آنکھوں میں سجائے رکھنا ہے۔ا پنے تعلیمی سفر میں میزائل مین آف انڈیا نے تعلیمی مصارف پورا کرنے کے لئے اخباری ہاکر کا معمولی کام تک پورےانہماک سے کیا‘ اور غورطلب ہے ایک بار بھی کاتبِ تقدیر سے گلہ نہ کیا کہ اے خالق ارض وسما اگر ایک ہاتھ بندے کواتنی عمدہ صلاحیتوں سے نواز اہے ‘ دوسرے ہاتھ وسائل کی کم یابی کیوں میرے سر تھوپ دی ؟ نہیں‘ انہوں نے بخوبی سمجھا تھا کہ یہ دنیا دارالا متحان ہے ‘ یہاں شکوہ اور جواب ِ شکوہ سننے سنانےسے حالات نہیں بدلتے بلکہ زندگی کی ناموافق ہواؤں کا مقابلہ سعی و عمل کے چراغ مسلسل جلانے ‘راتوں کی نیند اوردن کا آرام تج دینے سے ہی حالات میں بدلاؤ ممکن ہو سکتاہے ‘ شر ط یہ ہے کہ آپ اپنے اونچے خوابوں کی خاک ِ ارجمند کو کبھی سرد نہ ہونے دیں‘ تعلیم کی تشنگی اور جستجو کی آنچ متواتر بڑھاتے رہیں‘ اس راہ کی تمام مشکلوں‘ کلفتوں اور آزمائشوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہیں‘ ایساکیا تودیر سویر قاضی ٔ تقدیر خود آپ سے بزبان ِ حال پوچھوائے گا ’’بتا تیری رضا کیا ہے‘‘  

       مرحوم اے پی جےعبدالکلام کی مثالی زندگی کے تناظر میں جب میں برسوں پرانی ہندی سپر ہٹ فلم ’’تارےزمین پر‘‘ کی کہانی آج یاد کرتاہوں تو  ’’اڑان‘‘اورا س فلم کے تھیم میں ایک معنوی ربط  دکھائی دیتا ہے ۔ بے شک’’اُڑان‘‘ کوئی فسانہ نگاری نہیں بلکہ ایک اہم ترین بلند پایہ شخصیت کی نجی وعوامی زندگی اور زندگی کے حقیقی تجربات کا مرقع اور نچوڑ ہے ‘ جب کہ ’’تارے زمین پر ‘‘ محض داستانوی اہمیت کا حامل ایک نصیحت آموز فن پارہ ہے ‘ ہاں دونوں میں میرے لئے کشمکش ِحیات کی انسپائریشنل اسٹوریاں ہیں۔ عامر خان نے اپنے فن کی خوبیوں سے فلمی کہانی میں جان ڈال دی اور بتا یا کہ ہر وہ انسان جو زمین پر جنم لیتا ہے‘اپنے ساتھ لامحالہ صلاحیتوں اور قابلیتوں کا خزانہ کارخانہ  ٔ قدرت سے مفت میں لاتا ہے۔ زندگی کے سفر میں انہیں بروئے کار لانے والا کوئی جوہر شناس اُستاد ملے تو پتھر سے ہیرا تراشا جاسکتا ہے۔ فلم میں شائقین کے لئے ایک بہترین پیغام تھا کہ بظاہر قابلیتوں سے محروم انسان کے اندر چھپے باکمال انسان کو کھنگا لنا ‘ اپنے شوقِ تجسس اور ذوقِ تزئین کے دم پر لعل و جواہر تلاشنا‘ انسانی قلب کو منزل آشنا بنانا آسان ہے بشرطیکہ استاد کے ہاتھ میں بحیثیت  تعلیم وتدریس کی شمع ِفروزاں رہے‘ اس کے رگ وپے میں بے انتہا ہنر اور خلوص بھرا ہو‘ وہ اپنے ہرمتعلم کے ساتھ بھلا کرنے کا ایک نیک جذبہ وافر مقدارمیں رکھتا ہو۔ یہ اہم چیزیں استاد کے اندر موجود ہوں تو چاہے راستہ اوبڑ کھا بڑ دکھائی پڑے اور منزل دشوار و صبر آزما لگے‘ طلبہ کی زندگیاں بدل دینے میں کامیابی آپ کے قدم چوم لے گی ۔ ویسے بھی عام حالات میں جب من میں آہنی عزم ‘ آنکھ میں یقین کی بصارت ‘ دل میں خوش اُمیدی کا خزینہ ‘ ذہن میں تخلیق واختراع کا مادہ بدرجہ ٔ اتم موجودہو تو قدرت ایسے ماہر اُستاد کے ہاتھوں کرامات کرواتی ہے ۔

    میرے خیال میں ہاں کشمکش ِزندگانی کے حوالے سے ایک ایسی کہانی قارئین کے نذر کرنامناسب رہے گا جو میری اس خامہ فرسائی کی مقصدیت دوبالا کرے گی ۔ کہانی سنئے :

    یہ ملک کا ایک جانا پہچانا پرائیوٹ اسکول ہے  جہاں ڈونیشن سے لے کر مہنگی ماہانہ فیس تک ہرشئے عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس کی شہرت دور دورتک پھیلی ہوئی ہے ۔ ہل اسٹیشن اس کامحل وقوع‘ چاروں اطراف میں انتہائی دیدہ زیب مناظر ‘ ہر طرف ہریالی ‘ سر سبز وشاداب پہاڑی کا فطری منظراسکول کے حسن وجمال کی دوچند کردیتا ہے کہ یوں لگے جیسے یہ کوئی تعلیم گاہ نہیں بلکہ پانچ ستارہ سیاحتی ریزاٹ ہو۔ ہائی اسکول کا مین گیٹ بہت چوڑا اوربہت اونچا ہے‘ سب سےاُوپراسکول کانام انتہائی دلکش موٹے حروف میں کندہ ہے‘ عمارتیں عالی شان‘ سڑکیں امریکہ اور برطانیہ کی سڑکوں سے مماثل‘ روح پرور خاموشی اور سکوت کا سماں۔ نوعمر بچے اور بچیاں اپنی قیمتی جدید گاڑیوں میں آتے جاتے دیکھئے تو مرعوبیت میں مزید اضافہ ہوگا ‘ نجی گاڑیوں کے باوردی ذاتی ڈرائیور نہایت ادب سے بچوں کے لئے کھڑکیاں کھولتے ہیں اور جب بچے نیچے اُترتے ہیں تو لگے کہ یہ طلبہ وطالبات نہیں بلکہ باوردی کم سن شاہی مہمان ہیں‘ وردی جاذبِ نظر‘ اسکول بیگ بالکل نئے تازےجیسے ابھی بازار سے خرید لائے ہوں‘ جوتوں کی چمک دمک بچوں کے رکھ رکھاؤ اور اسکول کے ڈسپلن کی گواہ ہے ۔ بچے اور بچیاں اپنی ہی دُنیا میں مست ہنستےمسکراتے قیمتی موبائلوں سمیت اندر جارہے ہیں ۔ یہاں بچوں کا ایڈمیشن لینا متوسط طبقے کے بھی بس کا روگ نہیں ‘ اس کے دروازے صرف بڑے بڑے امیر زادوں اور امیرزادیوں کے لئے کھلے ہیں ۔ بایں ہمہ اسکول میں نہ جانے قدرت کو اپنا کیاکرشمہ دکھانا مقصود ہوتا ہے کہ یہاں فٹ پاتھ پر جنمے ایک کم سن بچے۔۔۔ انیل ۔۔۔ کو صفائی کرمچاری کا جاب ملتا ہے ۔انیل اپنے ماں باپ سے مکمل طور بے خبرہے۔ لیبر لا سے پوچھئے تو معصوم انیل کو اسکول میں جاب ملنا ناقابل ِ فہم لگتا ہے مگر قدرت کے کھیل چونکہ نرالے ہوتے ہیں ‘ ممکن ہے کسی نے ترس کھاکر انیل کو یہ کام د لایا ہو۔ اپنے کام کو انیل پوری دیانت داری سے انجام دیتا ہے ؛ پھٹے پرانےمیلے کچیلے کپڑے ‘ بے ترتیب کھردُرے لمبے بال ‘ ہاتھوں میں چھالے ‘ چال ڈھال پر غربت کی موٹی تہیں‘ ہونٹوں پر مایوسی کی زرد پرتیں مگر آنکھوں میں ایک انوکھی چمک۔ چاروں پہر ہاتھ میں جاڑو پونچھا لئے انیل اپنے ہم عمر امیرزاد بچوں کو تعلیم پاتے ہوئے بہ نگاہِ حسرت دیکھتاہے ‘ اُن کی انگریزی گفتگوئیں ، گڈ مارننگ اور گڈ بائی سے وہ بہت جلد مانوس ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کمال جرأت سے کسی چھوٹے بچے کو گڈ مارننگ کہنے کی زبان میں ہمت مجتمع کرتا ہے مگر کبھی جوابی سلام نہیں پاتا۔ بچے اسے شان ِ بے نیازی سے نظر انداز کرتے ہیں جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ ہو ۔ کبھی کبھار شرارتی بچے انیل کی تذلیل کے لئے کلاس میں جان بوجھ کر کھانے کی چیز یں گراکر چلاتے ہیں : سوئیپر سوئیپر کُیک‘ کلین دی فلور‘ کم آن ‘ فاسٹ۔ انیل تیز قدموں آکر فرش پونچھا مارتاہے تو بچے اس کا مضحکہ اُڑاتے ہوئے نفرت اور تکبر پر اُتر آتے ہیں ۔ انیل کی آنکھوں کا پیمانہ چھلکتا توجاتا ہے مگر خاموشی کا کفن اوڑھے وہ اُن کے درمیان بُت بنارہتا ہے۔انیل اپنے فٹ پاتھ سے اب ایک تنگ وتارجگی جھونپڑی کوکرایہ پر لےچکا ہے ‘ وہاں بہت ہی مدہم بجلی میں روز اسکول سے اپنے ساتھ لائے پرانے ہندی اخبارات کی ورق گردانی میں گھنٹوں گم ہوجاتا ہے۔ یہ اس کا معمول بناہے ۔ہندی کی سدھ بدھ اُسے جگی جھونپڑی میں بے آسرا بچوں کے لئے سوشل ورک کر نے والی ایک مخلص لڑکی آشادیدی سے ملتی ہے ۔ دیدی اس کے اندر ہندی کی اتنی سوجھ بوجھ پیدا کرتی ہے کہ انیل کو ہندی اخباروں کی لت پڑجاتی ہے ۔اس کے علاوہ  انیل بار بار بوسیدہ دیوار پر لگے ٹوٹے پھوٹے پرانےشیشے کے سامنے گڈ مارننگ گڈ بائی اور دوسرے سنے سنائے انگریزی جملوں کو ادا کرنے کی مشق کرکے دل پر لگی کئی چوٹوں پر پھاہا رکھتا ہے۔ 

 اس کہانی میں قدرت کا کھیل بھی خاموشی سے جاری رہتاہے ۔ اتفاق سے دو ایک سال بعد اسکول اپنے قیام کا پچیسواں سالانہ دن منانے میں ہمہ تن مشغول ہوتا ہے ۔ اسکول کے ادھیڑ عمر والے منتظم اعلیٰ مسٹر مہیش ٹیچروں اور بچوں کو سالانہ فنکشن شیایان ِ شان انداز میں منانے کی ذمہ داریاں سونپ دیتے ہیں ۔ بڑے پیمانے پر تیاریاں شروع کی جاتی ہے ۔ تقریب میں چیف منسٹر اور دوسرے وی آئی پی مہمانوں کی آؤ بھگت کے لئے ہر چیز کا انتظام شاندار طریقے سے کیا جاتا ہے ‘ پروگراموں کی ریہرسل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی‘ طلبہ وطالبات کے ڈانس میوزک سے لے کر ڈرامہ اسکٹس اور تقاریر تک ہر چیز کی نوک پلک  باریک بینی سے دُرست کرنے کے لئے جنگی پیمانے پر کام ہوتاہے تاکہ اسکول کا اونچانام بنارہے۔ مہیش جی تیاریاں دیکھ کر اطمینان کی سانس لیتا ہے مگر دفعتاً اُسے یہ پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ فنکشن ادھوری رہے گی اگر ملک کی قومی بھاشا ہندی زبان میں کم ازکم ایک آدھ تقریر پروگرام شامل نہ کی جائے ۔ یہ حفظ ماتقدم کے طور ناگزیر تھا تاکہ کسی کو اسکول پر انگلی اُٹھانے کا موقع نہ ملے کہ انگریزی میں خوب ہے مگر اپنی سنسکرتی اور قومی زبان سے بالکل نابلد ۔ یہ چیزمیڈیا میں نیوز بنی تو اسکول کی ناک کٹ جائے گی‘ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ ر ہیں گے۔ مہیش جی نے کئی بچوں کو ٹھیٹھ ہندی میں بھاشن دینے  سامنے لاتا ہے مگر کسی سے ایسی متاثر کن تقریر ممکن ہی نہیں ہوتی ۔ میٹنگ ہال میں اس بارے میں بہت ساری لاحاصل بحث ہوتی ہے ‘ مایوسی اور فکرمندی کے سوا کسی کے پاس مسئلے کاحل نہیں سوجھتا۔انیل ایک کونے میں اپنا گیلا پونچھا فرش پر پھیرتے ہوئے یہ سارا ماجرا سر جھکائے چپ چاپ دیکھتا ہے۔ یکایک اس کےاندر جرأت کی زوردار کرنٹ دوڑتی ہے ‘ وہ بنا سوچے سمجھے آہستگی کے ساتھ مہیش جی سے پوچھ بیٹھتا ہے : سر !یدی میں ہندی بھاشن دینے کا پریاس کروں تو؟ ہال میں سنا ٹا چھاجاتا ہے‘تمام ٹیچر اور بچے اسے حقارت کی نظر سے دیکھتےہیں ‘ یہ منہ اور مسور کی دال مگر مہیش جی کی آنکھوں میں وشواس اور اُمید کی چمک دوڑتی ہے ۔ 

’’تم ہندی پڑھنا لکھنا جانتے ہو؟‘‘

 ’’یس سر‘ آشادیدی کی کرپا سے‘‘

انیل کو مہیش جی فوراً اسٹیج پر بلاتا ہے ، انیل ہاتھوں میں جھاڑو لئے ہانپتے کانپتے ہاتھوں اسٹیج پر آتا ہے۔ پرنسپل انیل کا جھاڑو اپنے ہاتھ میں لے کر اُسے مائک کے سامنے لاکھڑا کرتاہے‘ انیل کے جسم پر کپکپاہٹ ‘ زبان میں لکنت ‘ ٹانگوں میں تھر تھری دیکھ کر سبھی لوگ مہیش جی کے گھٹیا انتخاب پر زیر ِلب مسکراتے ہیں ۔ انیل جذباتی ہوکر آنسو ہوں کی گرم دھارا سے اپنا چہرہ تر کر تاہےتو مہیش اس کے شانے تھپتھپاتے ہوئے بولتا ہے ’بچے ڈرومت ‘ حوصلہ رکھو‘ بولو بیٹا ہندی بھاشا کی ہمارے دیش میں کتنی ضرورت ہے ؟ انیل کی زبان رُک جاتی ہے‘  سانسیں تھم جاتی ہیں ‘ دماغ ماؤف ہو جاتا ہے مگر اچانک آشا دیدی کے حوصلے اور اپنے سپنوں کی مٹھاس اس کی معصوم زبان پر فی البدیہہ ہندی بھاشا پر اونچے وچاروں کا باڑھ لاتی ہے ‘ پانچ منٹ تک خود اسے بھی معلوم نہیں پڑتا کہ وہ ملک کے کس اہم اسکول کے اسٹیج پر بولتا ہے ۔ قدرت کے آشیرواد سے پورا ہال اس کی باتیں سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہوتا ہے‘ دل کو چھونے والی اس کی شعلہ بیانی کے اختتام پر تالیوں کی گونج اور انیل کے آنسوؤں میں تادیر ربط ہی نہیں لوٹتا ہے ۔ پروگرام کا فائنل دن آجاتاہے تو انیل کے کمزور بدن پر اسکول کی وردی زیب ِ تن کی جاتی ہے‘ اس کے بال سجائے سنوارے جاتےہیں ‘وہ پہلے سے زیادہ اعتماد اور یقین کے ساتھ سات منٹ تک ہندی بھا شا کے حق میں ایسا بھاشن دیتا ہے کہ وزیراعلیٰ سے لے کر تمام دوسرے اہم لوگ کھڑے ہوکرا ُسے دادِ تحسین دیتے ہیں۔ تقریر ختم ہوتی ہے تو مہیش جی اسٹیج پر آکر اپنے آنسو پونچھتے ہوئے حاضرین کے سامنے ہاتھ جوڑ ے انیل سے معافی مانگتا ہے 

’’ انیل اس اسکول میں ایک چمکتا ہیرا تھا جسے ہم نے دُھول سے کم تر سمجھ کر ہمیشہ نظر انداز کیا ‘لیکن اب سے انیل تم ہمارے اسکول کے صفائی کرمچاری نہیں بلکہ سٹار سٹوڈنٹ ہو۔ تمہارےسکول کا خرچہ اسکول اپنے ذمہ لیتا ہے‘ انیل ہم تمہیں پڑھائیں لکھائیں گے۔۔۔ لیڈیر اینڈ جنٹل مین! یہ ہونہار لڑکا اب جگی جھونپڑی میں نہیں بلکہ اسکول کے ہاسٹل میں رہےگا۔ انیل نے آنسو پونچھتے ہوئے  فوراًمہیش جی سے کہا سر! کرپیا آشادیدی کو اندر بلایئے ‘ وہ گیٹ کے باہر میری منتظر ہے‘ میں اُسے آپ سب کا یہ پیار اور دُلار دکھانا چاہتا ہوں۔ آشادیدی کو فوراًاندر بلایا جاتا ہے تو اپنی محنت کا ثمرہ انیل کی کامیابی صورت میں دیکھ کر وہ بھیگی پلکوں کے ساتھ اسٹیج پر آجاتی ہے اور بھیاکہہ کر انیل کو سگی بہن کی طرح گلے لگاتی ہے۔ ہال تالیوں سے گونج اُٹھتا ہے۔

 پندرہ سال بعد اسکول میں اسی طرح کے ایک اور سالانہ فنکشن میں انیل کو امریکہ کی کئی کمپنیوں کے سی ای او کی حیثیت سے بطور مہمان خصوصی شریک ہو نے کے لئے بلایا جا تا ہے۔وہ اپنی تقریر دلپذیر میں اعلان کرتا ہے کہ میری طرح فٹ پاتھ پر رہنے بسنے والے پچاس بچوں کی عمربھر کفالت اور اسکولنگ کا خرچہ اُٹھاکر میں روشنی کےاس سفر کا قرضہ چکانا چاہتا ہوں۔ میری پیش کش قبول کیجئے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!