Ad
افسانہ

خاموش ہاتھوں کا قرض.... افسانہ

✍️ :. محمد عرفات وانی 


جمعہ کی صبح گلزار پور کے گاؤں پر ایک غیر معمولی خاموشی کے ساتھ اتری تھی۔ سورج ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا مگر اس کی سنہری کرنیں مسجد کے سفید گنبد کو یوں چھو رہی تھیں جیسے کسی زخم پر مرہم رکھا جا رہا ہو۔ فضا میں اذان کی آواز پھیل رہی تھی مگر آج اس میں ایک عجیب سی نمی شامل تھی۔ لوگ مسجد کی طرف بڑھ رہے تھے مگر ان کے قدموں میں وہ ہلکاپن نہیں تھا جو عام دنوں میں ہوتا ہے۔ ہر چہرے پر ایک سوال، ایک فکر، ایک انجانی سی گھبراہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی جیسے سب کو معلوم ہو کہ آج کچھ ایسا ہونے والا ہے جو دلوں کو ہلا دے گا۔

نماز کے بعد جب امام صاحب مولانا حامد قاسمی منبر پر کھڑے ہوئے تو ان کے چہرے کی سنجیدگی نے پہلے ہی لمحے سب کو خاموش کر دیا۔ ان کی آواز میں معمول کی نرمی تھی مگر آج اس میں ایک بوجھ بھی تھا جیسے ہر لفظ دل سے نکل کر لبوں تک پہنچنے میں وقت لے رہا ہو۔ بھائیوں انہوں نے آہستہ سے کہا....ہمارے گاؤں کے سلیم احمد کی بیٹی آمنہ زندگی کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ دل کا آپریشن ہے… اور اس کے لیے بیس لاکھ روپے درکار ہیں۔ وقت کم ہے… اور شاید ہمارے فیصلے اس کی سانسوں کا فیصلہ کریں گے۔ مسجد میں ایک لمحے کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی ایسی خاموشی جس میں ہر دل اپنی اپنی جنگ لڑ رہا تھا۔

سلیم احمد مسجد کے ایک ستون کے سائے میں کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن کی گہری لکیریں تھیں جیسے وقت نے اس پر اپنی سختی ثبت کر دی ہو۔ اس کے ہاتھ آپس میں جڑے ہوئے تھے اور انگلیاں بار بار ایک دوسرے کو دبا رہی تھیں جیسے وہ خود کو ٹوٹنے سے بچا رہا ہو۔ اس کے قریب زمین پر بیٹھی اس کی بارہ سالہ بیٹی آمنہ تھی۔۔کمزور، زرد چہرہ مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی زندگی باقی تھی۔ اس کی ماں رخسانہ خاموش بیٹھی تھی، اس کے ہونٹ ہل رہے تھے مگر آواز نہیں نکل رہی تھی جیسے دعائیں بھی آج لفظوں کی محتاج ہو گئی ہوں۔

چندہ شروع ہوا تو ایک خاموش سی ہلچل پیدا ہوئی۔ غلام رسول جو خود ایک مزدور تھا، آگے بڑھا اور اپنی جیب سے پچاس روپے نکال کر رکھ دیے۔ اس کے بعد فاروق مستری نے سو روپے دیے پھر زاہد دکاندار نے پانچ سو۔ ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق دے رہا تھا مگر ہر نوٹ کے ساتھ ایک ادھورا سا احساس جڑا تھا کہ کاش میں اور دے سکتا… مسجد میں موجود نوجوان ریحان یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ کھڑا تھا چوہدری شاہد ملک ایک ایسا شخص جس کی دولت کے قصے زبان زد عام تھے۔ مگر جب اس کی باری آئی تو اس نے خاموشی سے صرف سو روپے ڈالے۔ ریحان کے دل میں ایک لمحے کے لیے سوال اٹھا مگر وہ اسے خاموشی میں دفن کر گیا۔

وقت گزرتا گیا مگر صندوق میں جمع ہونے والی رقم آمنہ کی زندگی کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ سلیم کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ وہ اچانک دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا جیسے اس کے اندر کا سارا بوجھ اب اسے سنبھالنے کے قابل نہ رہا ہو۔ آمنہ نے آہستہ سے اپنے باپ کا ہاتھ تھاما اور دھیمی آواز میں کہا...ابا… آپ پریشان نہ ہوں… میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔ یہ جملہ سادہ تھا مگر اس میں ایک ایسا یقین تھا جو سلیم کے ٹوٹتے ہوئے دل کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس لمحے مسجد کی فضا میں ایک ایسا درد پھیل گیا جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں تھا۔

نماز کے بعد لوگ آہستہ آہستہ مسجد سے نکلنے لگے۔ کچھ نے سلیم کے کندھے پر ہاتھ رکھا، کچھ نے دعائیں دیں مگر سب کے قدموں میں ایک خاموش بوجھ تھا۔ ریحان بھی باہر نکل آیا مگر اس کا دل بے چین تھا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو چوہدری شاہد ملک دوبارہ مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ ان کے قدم آہستہ تھے جیسے وہ کسی اندرونی کشمکش سے گزر رہے ہوں۔ وہ صندوق کے قریب رکے، ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں اور پھر جیب سے ایک موٹا سا لفافہ نکال کر نہایت خاموشی سے اندر رکھ دیا۔ اس لمحے ان کے چہرے پر نہ کوئی فخر تھا نہ کوئی اظہار صرف ایک گہرا سکون جیسے وہ کسی پرانے بوجھ سے آزاد ہو گئے ہوں۔

شام ڈھلنے لگی تو مسجد کے منتظمین اشفاق صاحب اور زاہد صاحب نے صندوق کھولا۔ نوٹ گنے جانے لگے اور پھر اچانک دونوں کے ہاتھ رک گئے۔ ایک لفافہ۔ بھاری، خاموش، اور پراسرار۔ جب اسے کھولا گیا تو اندر دس لاکھ روپے تھے۔ ساتھ ایک چھوٹا سا کاغذ رکھا تھا جس پر سادہ لفظوں میں لکھا تھا کہ یہ اس قرض کی واپسی ہے جو کبھی مجھ پر خاموشی سے ادا کیا گیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو تکتے رہ گئے۔ مسجد کی فضا میں حیرت پھیل گئی مگر دینے والا کہیں نظر نہیں آیا۔

اگلے دن ریحان نے چوہدری شاہد ملک کو ڈھونڈ نکالا۔ اس کے دل میں وہی سوال تھا جو رات بھر اسے سونے نہیں دے رہا تھا۔ جب اس نے ان سے پوچھا تو وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر آہستہ سے مسکرائے...ایک ایسی مسکراہٹ جس میں ماضی کی دھندلی یادیں چھپی ہوئی تھیں۔ بیٹا…انہوں نے دھیرے سے کہا، آج سے بیس سال پہلے میں بھی اسی مسجد میں کھڑا تھا۔ میرے پاس کچھ نہیں تھا… میری ماں زندگی اور موت کی دہلیز پر کھڑی تھیں اور میں ٹوٹ چکا تھا۔ تب کسی نے بغیر نام کے میری مدد کی تھی۔ میں آج تک نہیں جانتا وہ کون تھا… مگر میں جانتا ہوں کہ وہ صرف ایک انسان نہیں تھا، وہ اللہ کی رحمت تھی۔

انہوں نے گہری سانس لی جیسے کسی پرانے زخم کو چھو لیا ہو اور پھر کہا کہ آج میں نے صرف وہی قرض واپس کیا ہے۔ اصل دینے والا میں نہیں ہوں… میں تو صرف ایک وسیلہ ہوں۔ اصل دینے والا ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے بغیر نظر آئے۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی نہ فخر، نہ غرور بلکہ ایک خاموش شکر۔

چند ہفتوں بعد آمنہ کا آپریشن کامیاب ہو گیا۔ گاؤں میں خوشی کی ایک نرم سی لہر دوڑ گئی۔ سلیم احمد مسجد کے صحن میں بیٹھا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر اس بار یہ آنسو بے بسی کے نہیں تھے بلکہ شکر کے تھے۔ آمنہ آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہی تھی اور اس کی مسکراہٹ اب پہلے سے زیادہ روشن تھی۔ لوگ اس معجزے کا چرچا کرتے رہے مگر دینے والا اپنی نیکی کے ساتھ اسی خاموشی میں لوٹ گیا جہاں سے وہ آیا تھا۔

رات کو ریحان چھت پر بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ ستارے خاموشی سے روشن تھے، جیسے وہ ان ہاتھوں کی گواہی دے رہے ہوں جو دکھائی نہیں دیتے، اور اس کے دل میں ایک ایسا سکون اتر رہا تھا جو الفاظ سے زیادہ معنی رکھتا تھا۔ اسے یوں لگا جیسے اس نے زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت کو چھو لیا ہو....یہ کہ کچھ ہاتھ ایسے ہوتے ہیں جو دیتے ضرور ہیں مگر دکھائی نہیں دیتے۔ وہ نہ نام چاہتے ہیں نہ پہچان… وہ صرف دلوں کو جوڑنے آتے ہیں اور خاموشی سے واپس چلے جاتے ہیں۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں کہا کہ شاید سب سے بڑی نیکی وہ ہوتی ہے جو انسان نہیں کرتا بلکہ اس کے ذریعے کروائی جاتی ہے۔

افسانہ نگار 

محمد عرفات وانی 

کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر 

9622881110

wania6817@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!