افسانہ
قربانی کا اصل رنگ...... افسانچہ

عیدِ قرباں آنے والی تھی۔ بازاروں میں رونق بڑھ چکی تھی۔ کہیں بکرے سجائے جا رہے تھے، کہیں بچے اُن کے گلے میں رنگین پھول ڈال کر خوش ہو رہے تھے۔ ہر طرف ایک شور تھا، ایک چہل پہل، مگر اس شور میں اخلاص کی آواز بہت مدھم ہو چکی تھی۔
سلمان بھی اس بار ایک مہنگا جانور خریدنے کی فکر میں تھا۔ وہ بار بار اپنے دوستوں سے کہتا، “اس دفعہ ایسا دنبہ لوں گا کہ پورے محلے میں چرچا ہوگا۔”
اُس کی بوڑھی ماں خاموشی سے یہ سب سنتی رہتی۔ ایک دن اُس نے نرمی سے کہا، “بیٹا… قربانی جانور کی قیمت سے نہیں، نیت کی سچائی سے قبول ہوتی ہے۔”
سلمان مسکرا کر بولا، “امی، زمانہ بدل گیا ہے۔ اب لوگ سب کچھ دیکھتے ہیں۔”
ماں نے آہستہ سے جواب دیا، “ہاں بیٹا… لوگ دیکھتے ہیں، مگر اللہ دل دیکھتا ہے۔”
عید سے ایک دن پہلے سلمان ایک بہت خوبصورت اور قیمتی دنبہ لے آیا۔ محلے والے تعریفیں کرنے لگے۔ سلمان کے چہرے پر فخر نمایاں تھا۔
اسی رات بجلی چلی گئی۔ گرمی زیادہ تھی، سلمان گھر کی چھت پر چلا گیا۔ وہاں اُس نے سامنے والے غریب پڑوسی یوسف کو دیکھا۔ یوسف کے پاس صرف ایک چھوٹا سا بکرا تھا۔ اُس کے بچے اُس کے ساتھ کھیل رہے تھے اور یوسف اُنہیں سمجھا رہا تھا:
“بچو! قربانی دکھاوے کے لیے نہیں ہوتی۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرنے کا جذبہ دکھایا تھا۔ اللہ کو گوشت نہیں، دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
پھر سلمان نے دیکھا کہ یوسف کی بیوی پرانی چادروں کو سی رہی تھی تاکہ عید کے دن بچے اچھے لگیں۔ گھر میں غربت تھی، مگر سکون بھی تھا۔ آنکھوں میں شکر تھا، دل میں اخلاص تھا۔
سلمان دیر تک اُنہیں دیکھتا رہا۔ اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اُس نے قربانی کو ایک نمائش بنا دیا تھا۔
صبحِ عید جب جانور ذبح ہونے لگا تو سلمان کی آنکھیں نم تھیں۔ اُس نے خاموشی سے دعا مانگی: “یا اللہ! اس بار میری قربانی نہیں… میری نیت قبول فرما۔ میرے دل سے ریا نکال دے۔”
قربانی کے بعد اُس نے گوشت کا بڑا حصہ اُن لوگوں میں بانٹ دیا جن کے گھروں میں شاید مہینوں سے گوشت نہیں پکا تھا۔ اُس دن پہلی بار اُسے دل میں عجیب سا سکون محسوس ہوا۔
شام کو اُس کی ماں نے مسکرا کر پوچھا، “بیٹا، آج اتنے خاموش کیوں ہو؟”
سلمان نے دھیرے سے کہا، “امی… آج سمجھ آیا کہ قربانی جانور کی نہیں، انسان کے غرور کی ہوتی ہے… اور اخلاص وہ خوشبو ہے جو صرف اللہ محسوس کرتا ہے۔”