مضامین
شادی، دعوت اور ناراضگیاں - کشمیری سماج کا ایک فکری تضاد

کشمیر میں شادی بیاہ کو خوشی، برکت اور سماجی ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہی خوشی اکثر ناراضگیوں، شکووں اور دل آزاریوں میں بدل جاتی ہے۔ کسی شادی میں دعوت نہ ملنا بعض لوگوں کے لیے ایسا مسئلہ بن جاتا ہے جیسے ان کی عزت نفس مجروح ہو گئی ہو، حالانکہ بسا اوقات اس کے پیچھے نہ کوئی بدنیتی ہوتی ہے اور نہ ہی بے اعتنائی، بلکہ محض محدود وسائل اور مجبوریوں کا معاملہ ہوتا ہے۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ہمارا سماج زبانی طور پر فضول خرچی، اسراف اور نمود و نمائش کے خلاف بڑے بڑے دعوے کرتا ہے۔ مجالس میں اسلامی تعلیمات کے حوالے دیے جاتے ہیں، سادگی کی تلقین کی جاتی ہے، مگر جب خود کی باری آتی ہے تو یہی لوگ چاہتے ہیں کہ ہر تقریب میں انہیں بلاوا ضرور ملے، چاہے میزبان کو قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے۔اسلام نے شادی کو آسان اور سادہ رکھنے پر زور دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے کم خرچ نکاح کو بابرکت قرار دیا اور قرآن کریم میں اسراف سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ہم نے شادی کو ایک سماجی امتحان بنا دیا ہے، جہاں دعوت نامہ تعلقات ناپنے کا پیمانہ بن چکا ہے۔اصل مسئلہ دعوت نہ ملنا نہیں، بلکہ ہماری سوچ ہے۔ ہم اپنی توقعات کو دوسروں کی استطاعت پر فوقیت دیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر گھر کے حالات مختلف ہوتے ہیں، ہر باپ کی جیب ایک جیسی نہیں ہوتی اور ہر خاندان بڑے اجتماعات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سادگی کا درس ہر محفل میں عام ہےدعوت نہ ملے تو دل میں کہرام ہے قرض میں ڈوبے باپ کی حالت نہ پوچھیےبس پلیٹ کی کمی پر ہم کو الزام ہے دین آسان تھا، رسموں نے بوجھ بنا دیاخوشیوں کو بھی مقابلے کا نام دے دیایہ رویّہ نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ سماجی ناانصافی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ اگر ہم واقعی فضول خرچی کے خلاف ہیں تو ہمیں عمل کے میدان میں اترنا ہوگا۔ دوسروں کو ان کی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور کرنا کسی بھی طور درست نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دعوت نہ ملنے پر ناراض ہونے کے بجائے نیت اور حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ شادی خوشی بانٹنے کا موقع ہے، شکایتیں جمع کرنے کا نہیں۔ اگر ہم نے اپنے رویّے درست نہ کیے تو سادگی کے تمام دعوے محض الفاظ بن کر رہ جائیں گے۔