مضامین
کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ ایک نئی سیاسی بیداری؟

کہتے ہیں کہ ہر نسل اپنے وقت کا ایک بوجھ اٹھاتی ہے۔ کچھ نسلوں کے حصے میں جنگیں آتی ہیں، کچھ کے حصے میں تعمیر، اور کچھ نسلیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں اپنے خوابوں کے ملبے پر چلنا پڑتا ہے۔
15 مئی کو سپریم کورٹ آف انڈیا کی ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے ایک تبصرے میں بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ سے تشبیہ دیا ۔ یہ الفاظ بظاہر ایک سرسری ریمارکس تھے، مگر ان کی بازگشت سوشل میڈیا کی دیواروں سے ٹکرا کر ایک ایسے سیاسی و سماجی مکالمے میں تبدیل ہوگئی جس نے ہندوستان کے لاکھوں نوجوانوں کے اندر چھپی ہوئی بے چینی، محرومی اور مستقبل سے متعلق خدشات کو اچانک منظرِ عام پر لے آیا۔ جو بات ایک جملے سے شروع ہوئی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک پوری نسل کے احساسات، سوالات اور خاموش احتجاج کی علامت بنتی چلی گئی۔
یہ وہ نسل ہے جس کے ہاتھوں میں ڈگریاں ہیں مگر روزگار نہیں۔ یہ وہ نسل ہے جس کے پاس علم ہے مگر یقین نہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو خواب تو بہت دیکھتی ہے مگر خوابوں تک جانے والے راستے اکثر بند پاتی ہے۔اور پھر چند روز قبل ہندوستان کی ڈیجیٹل فضا میں ایک عجیب سا نام گونجا — ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘۔
پہلی نظر میں یہ نام مزاح معلوم ہوا۔ کسی نے اسے نوجوانوں کی شرارت سمجھا، کسی نے سوشل میڈیا کا وقتی شور۔ کچھ لوگوں نے ہنس کر نظر انداز کردیا، گویا یہ بھی ان ہزاروں رجحانات میں سے ایک ہو جو آتے ہیں، چند دن شور مچاتے ہیں اور پھر خاموشی میں گم ہوجاتے ہیں۔
مگر شاید ہم سب اس کہانی کے اصل متن کو پڑھنے سے رہ گئے۔ کیونکہ یہ کہانی کاکروچ کی نہیں۔ یہ کہانی ایک نسل کی ہے۔ وہ نسل جو پہلی بار اپنے زخموں کو طنز کے پیرہن میں سجا کر بول رہی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ ہمیں ایک دلچسپ حقیقت بتاتا ہے۔ معاشرے ہمیشہ اپنی نوجوان نسل کو دیر سے سمجھتے ہیں۔ ہر دور میں نوجوانوں کو جذباتی، غیر سنجیدہ، باغی اور ناپختہ قرار دیا گیا، مگر وقت نے یہی ثابت کیا کہ کل کے یہی ’’ناسمجھ‘‘ لوگ تاریخ کے نئے باب لکھتے ہیں۔
آج کی جنریشن زی ( Generation Z)بھی شاید اسی مقام پر کھڑی ہے۔ یہ نسل روایتی نسلوں سے مختلف ہے۔ یہ کتاب اور اسکرین کے سنگم پر پیدا ہوئی۔ اس نے دنیا کو فاصلے سے نہیں بلکہ اپنی ہتھیلی پر دیکھا۔ اس نے معلومات کو لائبریریوں سے نکال کر جیبوں میں رکھ لیا۔ یہ نسل صرف نصاب نہیں پڑھتی، یہ زمانہ پڑھتی ہے۔ یہ آئین پر گفتگو کرتے ہے۔ حقوق کی بات کرتے ہے۔ جمہوریت، نمائندگی، انصاف اور اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ نوجوان سیاست سے بے خبر ہیں، شاید اب حقیقت نہیں رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ نوجوان جاگ چکے ہیں، مگر ہمارے ادارے اب بھی انہیں سویا ہوا سمجھ رہے ہیں۔
’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کی غیر معمولی مقبولیت کو محض سوشل میڈیا کا معجزہ سمجھ لینا شاید سادہ لوحی ہوگی۔ اس کے پیچھے برسوں کی خاموش مایوسیاں، جمع شدہ اضطراب اور ٹوٹتی ہوئی امیدیں موجود ہیں۔
ہماری تہذیب میں تعلیم کو ہمیشہ نجات کا درجہ حاصل رہا ہے۔ کتنے باپوں نے زمینیں بیچ دیں۔ کتنی ماؤں نے اپنی خواہشات دفن کردیں۔ کتنے گھروں کے چراغ رات بھر روشن رہے تاکہ بچے مستقبل روشن کرسکیں۔ سب کو یقین تھا کہ تعلیم ایک دن استحکام، عزت اور وقار کا دروازہ کھولے گی۔ مگر آج ایک عجیب منظر سامنے ہے۔
نوجوان پڑھتے ہیں۔ امتحان دیتے ہیں۔ تیاری کرتے ہیں۔انتظار کرتے ہیں۔ پھر نتائج کا انتظار۔ بھرتیوں کا انتظار۔ امتحانات کی منسوخی۔ بیپر لیک۔ اور پھر ازسرِ نو وہی سفر۔ یہ صرف بے روزگاری نہیں۔ یہ امید کے ٹوٹنے کا دکھ ہے۔ انسان غربت سے کم ٹوٹتا ہے، ٹوٹی ہوئی امید سے زیادہ۔
سیاست کی زبان میں اسے Relative Deprivation کہا جاتا ہے — یعنی جب خواب حقیقت سے بڑے ہوجائیں اور حقیقت ان خوابوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردے۔ شاید یہی کیفیت آج کے نوجوان کے اندر چل رہی ہے۔ اس کے پاس ڈگری ہے مگر راستہ نہیں۔مہارت ہے مگر موقع نہیں۔ صلاحیت ہے مگر یقین نہیں۔ اور جب ایک نسل خود کو مسلسل نظر انداز ہوتا محسوس کرے تو وہ اظہار کے نئے راستے تلاش کرتی ہے۔ شاید اسی لیے طنز نے احتجاج کی شکل اختیار کرلی۔
یہاں ایک سوال بہت اہم ہے۔
آخر کاکروچ ہی کیوں؟
کاکروچ ایک عجیب علامت ہے۔ لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں۔ اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ زندہ رہتا ہے۔ ہر اندھیرے میں۔ ہر مشکل میں۔ ہر ماحول میں۔ شاید نوجوانوں نے خود کو اسی استعارے میں دیکھا۔ نظر انداز کیے گئے۔تمسخر کا نشانہ بنائے گئے۔ مگر پھر بھی موجود۔ پھر بھی قائم۔ پھر بھی مٹائے نہ جاسکنے والے۔
اس تحریک نے ایک اور خاموش حقیقت کو بھی بے نقاب کیا ہے — اور وہ ہے سیاسی تنہائی۔ آج کے نوجوان محسوس کرتے ہیں کہ فیصلے ان کے بارے میں تو کیے جاتے ہیں، مگر ان کے ساتھ نہیں۔ تعلیمی پالیسیاں انہیں متاثر کرتی ہیں۔ معاشی بحران ان کے مستقبل کو بدل دیتے ہیں۔ روزگار کی کمی ان کی زندگیاں محدود کردیتی ہے۔ مگر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی آواز ایوانوں تک نہیں پہنچتی۔ اور جہاں نمائندگی کمزور ہوجائے، وہاں تحریکیں جنم لیتی ہیں۔
جہاں خاموشی لمبی ہوجائے، وہاں سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اور جہاں سوال بڑھ جائیں، وہاں تبدیلی دروازہ کھٹکھٹانے لگتی ہے۔ تاہم اس ساری تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ غصہ راستہ دکھا سکتا ہے، منزل نہیں۔ ناراضی آواز بن سکتی ہے، نظام نہیں۔ تحریکیں اگر فکر میں نہ ڈھلیں تو وقتی شور بن جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کی یہ بیداری شعور، نظم اور تعمیری سوچ کے ساتھ آگے بڑھے۔ کیونکہ تاریخ صرف احتجاج کرنے والوں کو یاد نہیں رکھتی، بلکہ تعمیر کرنے والوں کو بھی یاد رکھتی ہے۔
آج ہندوستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ملینئیلز اور جنریشن زی اس ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ ہیں۔ انہیں نظر انداز کرنا اب آسان نہیں رہا۔ ان کا مذاق اڑانا شاید خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اور انہیں سن لینا شاید دانشمندی ہوگی۔ کیونکہ یہ نسل اقتدار نہیں مانگ رہی۔ یہ شاید صرف وقار مانگ رہی ہے۔ یہ حکومت نہیں چاہتی۔ یہ شاید صرف سنا جانا چاہتی ہے۔
اور اگر ایک پوری نسل طنز کا سہارا لے کر خود کو ’’کاکروچ‘‘ کہنے لگے تو مسئلہ ان کے الفاظ میں نہیں، شاید ہمارے رویوں میں تلاش کرنا چاہیے۔ ممکن ہے یہ تحریک کل ختم ہوجائے۔ ممکن ہے یہ صرف ایک ڈیجیٹل لہر ثابت ہو۔ مگر ایک حقیقت اب واضح ہے۔
یہ نسل جاگ چکی ہے۔
یہ سوال پوچھ رہی ہے۔
یہ حساب مانگ رہی ہے۔
اور اب خاموش رہنے پر آمادہ نہیں۔
وقت شاید ہمیں ایک خاموش پیغام دے رہا ہے: قومیں صرف عمارتوں، شاہراہوں اور منصوبوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں اپنے نوجوانوں کے خوابوں سے بنتی ہیں۔ اور جب خواب تھکنے لگیں تو معاشروں کو رک کر سوچنا پڑتا ہے۔ شاید ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کا اصل پیغام بھی یہی ہے۔ یہ کاکروچوں کی کہانی نہیں۔ یہ خوابوں کے تھک جانے کی کہانی ہے۔ اور خواب جب تھک جائیں تو معاشروں کو جاگ جانا چاہیے۔
مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں۔
رابطہ: 7006857283
ای میل: ikkzikbal@gmail.com