Ad
سفر نامہ

سفرِ محمود..... (قسط نمبر 21)

✍️ :. ​عبدالرشید سرشارؔ


​مکہ مکرمہ کی پرنور فضاؤں میں قیام پذیر ہوئے دو ہفتے بیت چکے تھے۔ حج کا مبارک موسم قریب تھا اور اب اس عظیم فریضے کی ادائیگی میں فقط ایک عشرہ باقی رہ گیا تھا۔ حرم مکی اور ارد گرد کے تمام مقدس مقامات کی باری باری حاضری نصیب ہو چکی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ مکہ معظمہ کا ذرہ ذرہ اور ایک ایک وادی بقعۂ نور ہے، کیوں نہ ہو کہ اس سرزمین پر خلیلِ اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، ذبیح اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور تاجدارِ نبوت، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے مقدّس قدم پڑے ہیں۔

​کعبۃ اللہ کی دلنواز حاضری، پنج وقتہ باجماعت نمازیں، دنیا کے کونے کونے سے آئے خوش بخت پروانوں کے طواف، استلام اور سعی کے روح پرور مناظر دیدنی تھے۔ مگر اب جیسے جیسے ایامِ حج قریب آ رہے تھے، زائرین اور حجاج کا بے پناہ اژدھام بڑھتا جا رہا تھا۔ ہجوم کے باعث کعبہ شریف کے اندرونی حصوں اور مطاف میں جانے کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا۔ دل میں اشتیاق جاگا کہ اس فرصت کو غنیمت جان کر وادیٔ طائف کی زیارت کی جائے۔

​طائف، مکہ مکرمہ سے جنوب کی جانب تقریباً 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مکہ کی جھلساتی گرمی اور پینتالیس ڈگری 45°C سے اوپر کے درجہ حرارت میں طائف کی وادی بادِ نسیم کا وہ خوشگوار جھونکا ثابت ہوئی جس نے روح تک کو تر و تازہ کر دیا۔ معتدل ہوائیں، گلاب کے مہکتے باغات، مرطوب فضا اور کبھی دھوپ تو کبھی رم جھم بارش کا برسات جیسا سماں یہ ہے طائف کا دلکش و پرکیف روپ

​مگر طائف کی اس سرسبز وادی میں قدم رکھتے ہی ذہن کے اسکرین پر تاریخ کا وہ دردناک باب گھوم گیا جب نبوت کے دسویں سال، شوال المکرم کے مہینے میں محسنِ انسانیت، رحمتِ دوعالم ﷺ اپنے جاں نثار رفیق حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل، سنگلاخ چٹانوں اور دشوار گزار پہاڑی راستوں پر پیدل چلتے ہوئے تین دن بعد یہاں پہنچے تھے۔ مکہ کے حالات جب انتہائی ناسازگار اور دل شکن ہو چکے تھے، تو آپ ﷺ اُمید کی ایک کرن لیے طائف تشریف لائے تھے۔

​طائف کے تین سردار عبد یالیل، مسعود اور حبیب جو رتبۂ نبوت کی عظمت سے بالکل نابلد تھے نے نہ تو کوئی خیرمقدم کیا اور نہ ہی مہمان نوازی کا حق ادا کیا، بلکہ انتہائی بدزبانی اور سفاکی پر اُتر آئے۔ آسمان نے وہ دلدوز منظر بھی دیکھا جب ان شقی القلب لوگوں نے شہر کے اوباش اور شریر لونڈوں کو جمع کر کے گلیوں میں دو رویہ قطاریں بنا دیں۔ ان ظالموں نے سرورِ کونین ﷺ پر پتھروں کی ایسی بارش کی کہ آپ ﷺ کے پائے نازنین لہولہان ہو گئے۔ خونِ مبارک رس رس کر نعلین مبارک میں جم گیا، جس سے نعلین اقدس قدموں سے پیوست ہو گئیں۔ جب زخموں کی تاب نہ لا کر آپ ﷺ بیٹھ جاتے، تو وہ سنگدل بازو پکڑ کر دوبارہ کھڑا کر دیتے اور جیسے ہی چلنے لگتے، تالیاں اور سیٹیاں بجا کر گالیاں بکتے ہوئے دوبارہ پتھراؤ شروع کر دیتے۔

​زخموں سے چور، رحمتِ مجسم ﷺ نے عتبہ بن ربیعہ نامی ایک شخص کے انگور کے باغ میں پناہ لی۔ دل دہلا دینے والے اس منظر نے عتبہ کے دل پر بھی کچھ اثر کیا اور اس نے نینوا کے رہنے والے اپنے عیسائی غلام عدّاس کے ہاتھ ایک رکابی میں انگور کا خوشہ آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔

​آج صدیوں بعد جب ہم نے اس تاریخی باغ کی زیارت کی تو وقت کا ورق الٹ چکا تھا۔ نہ طائف کے وہ متکبر سردار رہے اور نہ ہی ان کا ظلم و ستم۔ آج اس تاریخی مقام کی زیارت کے لیے دس ریال کا ٹکٹ مقرر ہے، مگر ایک عاشقِ رسول زائر کے لیے یہ دس ریال کیا معنی رکھتے ہیں، وہ تو اس خاک پر اپنی جان اور دل و جگر قربان کرنے پر تیار رہتا ہے۔

​اسی باغ کے قریب 'مسجد عدّاس' واقع ہے، جہاں عتبہ کے غلام نے جب آپ ﷺ کے دستِ مبارک میں رکابی پیش کی تو محسنِ انسانیت ﷺ نے "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھ کر انگور تناول فرمائے۔ عدّاس اس مبارک جملے اور آپ کے اخلاق سے ایسا متاثر ہوا کہ جھک کر دستِ اقدس کو بوسہ دیا اور فوراً کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔

​المنشاہ کے علاقے میں 'مسجد الکوع' (یا مسجد النبی) ایک قدیم اور چھوٹی سی عمارت کی صورت میں قائم ہے۔ روایت ہے کہ اوباشوں کی سنگ باری سے شدید زخمی ہونے کے بعد حضور اکرم ﷺ نے اسی مقام پر ایک چٹان سے اپنی کہنی مبارک کا سہارا لے کر ٹیک لگائی تھی۔ بعد کے ادوار میں عثمانی ترکوں نے اس مقام پر یادگار کے طور پر مسجد تعمیر کروائی۔ عام طور پر اس مسجد پر تالا لگا رہتا ہے اور اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

​اس مسجد کے بالکل سامنے، سڑک کے دوسری طرف تقریباً سو میٹر کی دوری پر ایک اور قدیم عمارت 'مسجد علی' واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آٹھ ہجری میں غزوۂ حنین کے بعد جب طائف کا محاصرہ کیا گیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اسی مقام پر پڑاؤ ڈالا تھا عثمانیوں نے اس مقام پر بھی ایک مینار والی خوبصورت مسجد تعمیر کروائی۔ مسجد النبی جس پہاڑی کے دامن میں ہے، اس کے سرخ پتھر اور خطرناک ڈھلوان پر ٹکی ہوئی چٹانیں ایسی دکھائی دیتی ہیں گویا ابھی نیچے آن گریں گی۔ روایات میں ملتا ہے کہ کفار نے پہاڑ کے اوپر سے آپ ﷺ پر ایک بھاری چٹان لڑھکائی تھی مگر وہ حکمِ الٰہی سے معجزانہ طور پر وہیں تھم گئی تھی۔

​پھر تاریخ کی ورق گردانی دیکھیے کہ نبوت کے دسویں سال آپ ﷺ پر ظلم ڈھانے والا وہی مغرور سردار عبد یالیل، 9 ہجری میں ایک وفد کے ہمراہ مدینہ منورہ حاضر ہوتا ہے اور اسی محسنِ عالم ﷺ کے سامنے باادب رعیت بن کر کلمۂ توحید پڑھتا ہے جنہیں بارہ سال پہلے طائف کی گلیوں میں ستایا گیا تھا۔ یہ فتحِ مبین اور اخلاقِ نبوی کا ایسا اعجاز ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔

​طائف شہر میں سب سے عظیم الشان اور مرکزی مسجد  حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے نام سے منسوب ہے۔ پندرہ ہزار مربع میٹر پر پھیلی ہوئی اس دیدہ زیب مسجد میں بیک وقت آٹھ ہزار نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں اور اس کے فرش پر قیمتی قالین بچھے ہیں۔ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور بنو امیہ کے مابین خلافت کی کشمکش شروع ہوئی، تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے غیر جانبداری اختیار کرتے ہوئے مکہ سے طائف ہجرت فرمائی اور یہیں سکونت اختیار کی۔ 68 ہجری میں آپ کا وصال ہوا اور طائف ہی کے قبرستان میں آپ کی تدفین ہوئی۔ ہم نے اس پُرشکوہ مسجد میں کچھ نوافل ادا کیے۔ کچھ دیر پہلے ہی یہاں موسلادھار بارش ہوئی تھی، جس سے گلیاں پانی سے بھر گئی تھیں اور بنگالی خدام صفائی میں جتے ہوئے تھے۔ فضا میں خنکی بڑھ گئی تھی، تب احساس ہوا کہ طائف کی زیارت پر آتے ہوئے آدمی کے پاس ہلکی جیکٹ یا گرم سویٹر ضرور ہونا چاہیے، خواہ موسم گرما کا ہی کیوں نہ ہو۔

​طائف کو 'مدینۃ الورود' گلابوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر اپنی دلکش وادیوں، معتدل آب و ہوا اور تفریحی مقامات کے باعث دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کا پہاڑی مقام 'الہدا' ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا خاص مرکز ہے۔ شہر کا قدیم بازار 'سوق البلد' خوشبوؤں کا گہوارہ ہے، جہاں عرقِ گلاب، خالص شہد، عمدہ کھجوریں، بخور، عطر اور عبائے باآسانی ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوقِ عکاظ اور سوقِ فواکہ بھی مشہور تجارتی مراکز ہیں۔ برصغیر کے زائرین عام طور پر سڑک کنارے ریڑھی والوں سے سوغاتیں اور ضرورت کا سامان خریدتے نظر آتے ہیں۔

​مغرب سے کچھ دیر پہلے ہم طائف کی وادی کو الوداع کہہ کر مکہ واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں میقات 'قرن المنازل' (السیل الکبیر) آتا ہے، جہاں سے بیرونی زائرین (آفاقی) کے لیے احرام باندھنا شرعی حکم ہے۔ یہ ایک وسیع و عریض اسلامی مرکز ہے جو پچاس ہزار مربع میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی مرکزی مسجد کا ہال تقریباً 2600 مربع میٹر کا ہے جس میں بیک وقت دس ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ غسل خانوں، وضو اور گاڑیوں کی پارکنگ کے انتہائی منظم اور کشادہ انتظامات ہیں۔ ٹھنڈے موسم میں ہم نے یہاں غسل کیا، احرام کی سفید چادریں زیب تن کیں، عمرے کی نیت باندھی اور لبیک اللّٰہم لبیک کی روح پرور صداؤں کے ساتھ حرم پاک کی طرف روانہ ہوئے۔

​قرن المنازل سے حرم شریف کی دوری تقریباً 55 کلومیٹر ہے۔ ہمارا ڈرائیور، جو ایک پاکستانی تھا، سفر کے دوران کچھ کھنچا کھنچا سا دکھائی دے رہا تھا۔ احرام باندھتے وقت ہم نے اپنے تمام ملبوسات گاڑی میں ہی اس کے سپرد کر دیے تھے، جن میں اکثر ساتھیوں کی نقدی، قیمتی سامان اور موبائل فونز بھی تھے۔ طے یہ ہوا تھا کہ عمرے سے فراغت کے بعد وہی ڈرائیور ہمیں عزیزیہ کی رہائش گاہ تک چھوڑے گا۔

​حرم پاک پہنچ کر ہم نے بفضلِ خدا والہانہ انداز میں عمرہ مکمل کیا۔ رات کے تقریباً ایک بجے جب ہم فارغ ہو کر باہر نکلے اور ڈرائیور سے رابطہ کرنا چاہا تو اس کا موبائل بند ملا۔ ہر طرف سناٹا اور بے بسی تھی۔ مجبوراً ہم شٹل بس کے ذریعے اپنی قیام گاہ عزیزیہ پہنچ گئے۔ سبھی احباب کے چہروں پر تفکرات کی پرچھائیاں تھیں، مگر کوئی بھی کھل کر یہ نہ کہہ پاتا تھا کہ کپڑوں کے ساتھ اس کی کتنی رقم اور امانت ڈرائیور کے پاس رہ گئی ہے۔

​اگلے دن صبح گیارہ بجے تک بھی ڈرائیور کا نمبر بند رہا۔ دلوں میں طرح طرح کے وسوسے سر اٹھا رہے تھے۔ اسی دوران معلوم ہوا کہ اس نے کسی دوسرے ڈرائیور کے فون سے ایک مختصر پیغام بھیجا تھا۔ ہم نے حکمتِ عملی سے اسی دوسرے ڈرائیور کا سراغ لگایا اور اس کے ذریعے اپنے ڈرائیور سے رابطہ کرایا۔ جب اسے صاف باور کرایا گیا کہ اگر سامان نہ ملا تو معاملہ فوری طور پر سعودی پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا، تو وہ سخت قوانین کے خوف سے فوراً ہوش میں آگیا۔

​تھوڑی ہی دیر میں وہ ہانپتا کانپتا ہوٹل کے استقبالیہ پر پہنچا، گزشتہ رات کے رویے پر معذرت چاہی اور بتایا کہ اس نے رات کو ہی سارا سامان ہوٹل انتظامیہ کے حوالے کر دیا تھا اور باقاعدہ ثبوت کے طور پر اس کی ویڈیو بھی محفوظ رکھی تھی۔ استقبالیہ پر جا کر جب ہم نے سامان کی جانچ پڑتال کی تو اللہ کے فضل و کرم سے ایک ایک ریال اور تمام اشیاء بالکل محفوظ برآمد ہوئیں۔ ہم نے بارگاہِ خداوندی میں سجدۂ شکر ادا کیا کہ سعودی عرب کے کڑے اور کھرے قوانین کی برکت سے ہماری محنت کی کمائی اور امانتیں ضائع ہونے سے بال بال بچ گئیں۔

حالسی ڈار، ویری ناگ (کشمیر)

رابطہ: 7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!