Ad
مضامین

کشمیر کے اہلِ قلم اور کھوتے ہوئے پلیٹ فارم

✍️ : سحران مسرور


کشمیر ہمیشہ سے علم، ادب، شاعری اور فن کی سرزمین رہی ہے۔ یہاں ایسے بے شمار مصنفین، شعراء، ادیب اور فنکار موجود ہیں جو اپنی صلاحیتوں سے معاشرے کو کچھ دینا چاہتے ہیں، مگر افسوس کہ آج ہمارے اہلِ قلم کے لیے مناسب اور مستقل پلیٹ فارم کم ہوتے جا رہے ہیں۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی تحریریں سوشل میڈیا تک محدود کر دیتے ہیں۔ محفلیں چند لوگوں تک رہ جاتی ہیں، نئے لکھنے والوں کو مواقع کم ملتے ہیں اور باصلاحیت نوجوان اکثر مناسب رہنمائی اور حوصلہ افزائی نہ ملنے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر میں ادب کے لیے ایسے پلیٹ فارم قائم کیے جائیں جہاں مصنفین، شعراء، افسانہ نگار، محققین اور نوجوان تخلیق کار ایک دوسرے سے جڑ سکیں، اپنی تخلیقات پیش کر سکیں اور نئی نسل تک اپنی آواز پہنچا سکیں۔

یہ کسی ایک شخص یا ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم آج اپنے قلم کاروں کے لیے جگہ نہیں بنائیں گے تو آنے والی نسلیں اپنی ادبی میراث سے دور ہوتی جائیں گی۔

کشمیر کو صرف خاموش قارئین نہیں، فعال قلم کار اور ان کے لیے مضبوط پلیٹ فارم بھی چاہییں۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!