سفر نامہ
سفرِ محمود..... (قسط نمبر 24)

23 مئی 2026ء، بروز ہفتہ 6 ذوالحجہ
عزیزیہ کی رہائش گاہ میں روزمرہ کا معمول جاری تھا کہ حج انسپکٹر منظور صاحب، حج کمیٹی آف انڈیا کے عہدیداران اور بھارتی حجاج کے لیے خدمات پر مامور کمپنی ’اثراء الخیر‘ کے کارندے تشریف لائے۔ انہوں نے کمرہ بہ کمرہ جا کر مِنیٰ کے مکتب کارڈ تقسیم کیے۔ ہمارا مکتب نمبر 22 تھا جو روٹ نمبر 68 کے بائیں جانب واقع تھا۔
تقریباً چھ ماہ تک آن لائن اور دو مرتبہ رُو برو تربیتی نشستوں سے فیض یاب ہوئے تھے، سیرت اور فقہ کی نصف درجن مستند کتابوں کی ورق گردانی بھی کی تھی، حتٰی کہ کچھ ہی دن قبل مشاعرِ مقدسہ کی زیارت بھی کر آئے تھے مگر سچ پوچھیے تو جب بھی اصل ایامِ حج کا تصور ابھرتا دل دہل سا جاتا اور دھڑکنیں تیز ہونے لگتیں۔
انسپکٹر صاحب نے تاکید کی کہ احرام کے دو صاف ستھرے جوڑے، ایک جوڑا معمول کا لباس، تولیہ، پانی کی بوتل، ضروری سامان، روزمرہ کی ادویات، خشک میوہ جات، اذکار و وظائف کے پمفلٹ، مصحفِ شریف، اور ہوائی چپل کا ایک زائد جوڑا ہلکے سے پٹھو بیگ میں سلیقے سے سمیٹ لیا جائے۔
خدا خدا کر کے وہ ساعتِ جلیلہ اور باوقار دن آن پہنچا جس کی حسرت میں زندگی بھر کی پونجی، ایک ایک پیسہ جوڑ کر لٹائی تھی اور جس کی روحانی و جسمانی تیاری میں مہینوں گھلتے رہے تھے۔
25 مئی 2026ء 8 ذوالحجہ کا آغاز
ہوا، رات کا پچھلا پہر سسکیاں لے رہا تھا اور فضا میں ایک پاکیزہ خنکی تھی۔ ہم نے غسل کیا، سلیقے سے تہجد پڑھا اور فانی دنیا کی عام پوشاک اتار کر دو بے سلی سفید چادروں پر مشتمل کفن نما احرام زیب تن کیا۔ خود کو سنبھالا، دوسرے رفقا کو احرام کی چادریں درست کرنے میں مدد دی، حج کی نیت کی اور قلب کی گہرائیوں سے بلند آہنگ لبیک کی صدا بلند کی
’’لبیک اللّٰہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک...‘‘
صبح کے تین بج چکے تھے۔ عزیزیہ کی بلڈنگ کے باہر گنی چنی بسیں تیار کھڑی تھیں۔ پچاس پچاس کی تعداد میں مرد و خواتین حجاج سوار ہوئے اور نم دیدہ آنکھوں کے ساتھ قافلہ مِنیٰ کی سمت روانہ ہو گیا۔
مِنیٰ خیموں کا بحرِ بیکراں اور تاریخ کا گہوارہ
مِنیٰ کیا ہے؟
تاحدِ نگاہ اور تخیل کی سرحدوں سے بھی پرے پھیلا خیموں کا ایک سفید سمندر، عقبہ سے شروع ہو کر مزدلفہ کی سرحد تک لمبائی پانچ چھ کلومیٹر اور چوڑائی شمالاً و جنوباً لگ بھگ دو کلومیٹر پر محیط ایک وسیع وادی۔ مِنیٰ کے لغوی معنی ’بہنے‘ کے ہیں ،چونکہ ایامِ حج میں یہاں قربانیوں کا خون بہایا جاتا ہے، اس لیے یہ خطہ مِنیٰ کہلایا۔ یہ حرم کی حدود میں مسجدِ حرام سے مشرق کی جانب قریباً سات کلومیٹر دور واقع ہے، جہاں حجاجِ کرام آٹھ، دس، گیارہ، بارہ اور بعض تیرہ ذوالحجہ تک قیام پذیر رہتے ہیں۔
اس مٹی کی تقدیس بھی نرالی ہے۔ یہیں خلیل اللہؑ نے ابلیس کو کنکریوں سے سنگسار کیا تھا، یہیں ذبیح اللہ حضرت اسماعیلؑ کے فدیے میں جنت کا مینڈھا ذبح ہوا، مِنیٰ ہی کے پہاڑوں کے دامن میں فخرِ کونینﷺ نے انصارِ مدینہ سے بیعتِ عقبہ اولیٰ و ثانیہ لی ، یہیں سورۃ النصر اور سورۃ المرسلات کا نزول ہوا اور حجۃ الوداع کے موقع پر حبیبِ خداﷺ نے قیام فرما کر قربانیاں پیش کیں۔
صبح کے چار بجے ہم مکتب نمبر 22 کے خیمہ نمبر ایک میں داخل ہوئے۔ پو پھٹنے کو تھی اور فجر کا وقت قریب تھا۔ کسی نے اذان دی اور خیمے ہی میں باجماعت نمازِ فجر ادا کی گئی۔ سنتِ مطہرہ کے مطابق تو 8 ذوالحجہ کو زوالِ آفتاب کے بعد یہاں آنا بنتا تھا، مگر لاکھوں کے اژدھام کی انتظامی مجبوریوں کے تحت قافلے پہلے ہی اتار دیے گئے۔
سامان کے لیے کوئی خاص انتظام نہ تھا۔ ہر حاجی کے حصے میں محض ڈیڑھ فٹ چوڑی اور چھ فٹ لمبی زمین آئی تھی۔ یہی ننھی سی بساط آرام گاہ بھی تھی، جائے نماز بھی، تلاوت کا گوشہ بھی اور طعام و شراب کی جگہ بھی۔
سخت تپش اور حبس کے عالم میں دیو قامت پنکھے قیامت کا شور مچاتے تھے، سینکڑوں حجاج باہم محوِ گفتگو تھے اور کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ ڈیڑھ ضرب چھ کی وہ زمین انسان کو جیتے جی عالمِ برزخ اور تنگ قبر کی یاد دلا رہی تھی۔
سماجی حیوان کو قبر کی وسعتوں سے روشناس کرایا جا رہا تھا اور لبوں پر بے ساختہ ہائے وائے مچل رہی تھی۔
یہ رہائش دراصل خیموں کی ایک لامتناہی زنجیر تھی۔ دو رویہ قطاریں، ایک قطار میں پچیس اور بالمقابل دوسری قطار میں پچیس ، یوں پچاس نفوس کا مشترکہ مسکن ایک خیمہ کہلاتا تھا، جس کے بعد بغیر کسی پردے یا دیوار کے ایسے ہی دس پندرہ خیمے باہم جڑے ہوئے تھے۔ خیمے سے ذرا پہلے راشن کا ایک گودام تھا، سیدھ میں ڈسپنسری اور استقبالیہ میں کچن یا رسوئی تھی جہاں سینکڑوں حجاج کا کھانا پکتا تھا۔
وسط میں رفعِ حاجت اور غسل کے لیے ایک کمپلیکس تھا، جس میں کل ملا کر چالیس مرد و زن بیک وقت ضروریات سے فارغ ہو سکتے تھے۔ سینکڑوں کی آبادی کے سامنے یہ انتظام آٹے میں نمک کے برابر تھا۔ وہاں ہر گھڑی طویل قطاریں ایستادہ رہتیں۔ عزیزیہ میں تو خیر ہوٹلوں اور مسجدِ حرام کے شاندار طہارت خانوں کی بدولت گزربسر ہو جاتی تھی، مگر مِنیٰ میں روٹی تو وافر تھی لیکن بیت الخلاؤں کی نایابی نے روح کو آزمائش میں ڈال رکھا تھا۔
اسی اثنا میں بزرگ حاجی عبدالسلام ٹھوکرصاحب نے ایک لرزہ خیز آنکھوں دیکھا واقعہ سنایا،وہ وضو کے لیے گئے تو حسبِ معمول دو رویہ لمبی قطار لگی تھی۔ صوبہ بہار یا جھارکھنڈ کے ایک کمزور حاجی صاحب ضبط کی آخری حدیں پار کر چکے تھے، کوئی اپنی باری چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا تو بے اختیاری میں گھڑگھڑاہٹ کے ساتھ ان کا پیشاب نکل پڑا۔ نہ صرف ان کا اپنا احرام ناپاک ہوا بلکہ پاس کھڑے پانچ چھ حجاج کے احرام بھی آلودہ ہو گئے۔ وہ درمند یا تو شرم کے مارے یا بیماری کی تاب نہ لا کر غش کھا کر گر پڑا۔ قطار والوں نے گھن کھا کر چہرے دوسری طرف پھیر لیے۔ کچھ نیک بندوں نے آگے بڑھ کر اسے کسی میت کی طرح سنبھالا، پاک صاف کیا اور سہارا دے کر ڈسپنسری پہنچایا۔
احقر نے مِنیٰ کے ایام میں کھانے پینے میں بلا کا پرہیز برتا۔ ایک شب تہجد کے وقت بیدار ہوا، واش رومز کے آگے وہی لامتناہی صفیں تھیں۔ میں نے خاموشی سے فریج سے دو بوتلیں نکالیں، بول و براز کی حاجت نہ تھی، چنانچہ محض چار سو ملی لیٹر پانی سے سنت کے مطابق وضو کیا اور مصلے پر آ گیا۔ دوپہر کو ظہر کے وقت اچانک خیال گزرا کہ صبح سے طہارت خانے کا رخ ہی نہیں کیا، حالانکہ طلب اس وقت بھی نہ تھی یہ بس قدرت کا خصوصی فضل تھا۔
صبح آٹھ بجے اثراء الخیر والوں نے ناشتہ دیا۔ ہمہ مقصدی گدے لپیٹ دیے گئے۔ دو بے سلی چادروں میں بیٹھے بیٹھے دم سادھنا پڑتا تھا کہ کہیں ستر نہ کھل جائے، سر میں خارش ہوتی تو ہاتھ اس ڈر سے ٹھٹک کر رک جاتے کہ مبادا کوئی بال گر پڑے اور دم واجب ہو جائے۔ خیموں کے بیچ راہداریوں میں بچھی مصنوعی گھاس کی چٹائیاں دوپہر کی تپش میں تنور کی طرح دہک رہی تھیں۔ ریگزین کے پردے ذرا سرکتے تو باہر سے لو کے تھپیڑے اندر لپکتے۔
چائے کے بڑے بڑے نلکے دار ڈرم نصب تھے اور کیفیت یہ تھی کہ گویا گھونٹ بھرنا بھی مناسکِ حج کا کوئی لازمی جزو بن چکا ہو!
سیب بانٹے جاتے تو ذخیرہ اندوزی شروع ہو جاتی، بسکٹ، دال، روٹی ہر شے پر وہی طمع کا سماں! الہٰی، یہ حرص صرف ہمارے ہم وطنوں کا خاصہ تھی یا اقوامِ عالم کی بھی یہی حالت تھی؟ قدرت اللہ شہاب بقیدِ حیات ہوتے تو اپنے افسانے ’نفسانے‘ کی طرز پر ایک اور شاہکار صفحۂ قرطاس پر منتقل کر دیتے۔ تلبیہ برائے نام تھی، گپ شپ کا بازار گرم تھا، اللہ کی مقدس نگری میں فرشتوں کے شانہ بشانہ انسان کا ازلی دشمن بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت سرگرمِ عمل تھا۔
ہم نے ظہر اور عصر کی نمازیں وقت پر باجماعت پڑھیں۔ بارہمولہ کے جواں سال حاجی طاہر رشید صاحب نے ان چھ دنوں میں اکثر امامت کے فرائض سنبھالے، اور جب وہ موجود نہ ہوتے تو امامت کا یہ بارِ گراں احقر کے ناتواں کندھوں پر آ پڑتا۔
عصر کے قریب میں نے اہلیہ کی خیریت جاننے کے لیے زنانہ کیمپ کا رخ کیا۔ میرا معمول تھا کہ پردے کے کنارے کھڑے ہو کر ہلکی سی کھانسی یا مخصوص آواز دیتا تاکہ وہ باہر نکل آئیں اور احوال معلوم ہو سکے۔ لیکن صد حیف کہ بہت سے مرد حجاج اس حیا کے قائل نہ تھے وہ نسوانی خیموں میں یوں آلتی پالتی مار کر بے تکلف گھس بیٹھتے گویا وہ بھی پردہ دار خواتین ہی کا حصہ ہوں ’غضِ بصر‘ کا قرآنی فلسفہ کہیں گرد آلود ہو چکا تھا۔حالانکہ احرام کے دوران ستر ڈھانپ کر رکھنا بھی ایک فن ہے۔
قریب کوئی مسجد نہ تھی، ایک کلومیٹر کے فاصلے پر مسجدِ کویتی ضرور تھی مگر وہاں جانا نہ ہو سکا۔ عصر بعد میں خیمے کے حبس سے نکل کر روٹ 68 کے فلائی اوور (کُبْریٰ) پر چڑھ گیا۔ دور دور تک سفید خیموں کے سوا کچھ نہ تھا۔ خیموں کے اندر آگ جلانا سخت منع تھا اور حجاج کے کھانے پینے کے اخراجات حج کمیٹی پہلے ہی وصول کر چکی تھی، لہٰذا نفوسِ امارہ آبِ زمزم کی طرح شکم پروری میں مدہوش تھے۔
تھوڑی دیر کی چہل قدمی کے بعد جونہی اپنے خیمے میں واپس لوٹا، فضا میں ایک اعلان گونج رہا تھا،
’’مغرب کے بعد کھانا کھاتے ہی سب حجاج میدانِ عرفات کا رختِ سفر باندھ لیں!‘‘
حالسیڈار ویریناگ
7006146071