بین الاقوامی
96 فیصد مسلمان آبادی والے آذربائیجان میں حجاب پر پابندی کیوں؟

آذربائیجان میں حجاب پہننے والی طالبات کو اسکولوں میں داخلے سے روکے جانے اور حجاب پہننے والی اساتذہ پر پابندیوں کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں طالبات کو اسکولوں میں داخلے سے روکے جانے کے بعد اپنی اساتذہ سے گلے ملتے اور روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا، سوشل میڈیا پر مہم چلائی اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ اس دوران درجنوں افراد کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
آذربائیجان کی وزارتِ داخلہ نے 12 اکتوبر کو اعلان کیا کہ اسکولوں کے یونیفارم سے متعلق قواعد پر عمل درآمد کے دوران پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
آذربائیجان: شیعہ مسلم اکثریتی ملک
آذربائیجان مغربی ایشیا اور مشرقی یورپ کے سنگم پر واقع ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، جس کی آبادی ایک کروڑ سے زائد ہے۔ ملک کی تقریباً 96 فیصد آبادی مسلمان ہے، جن میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے، جبکہ سنی مسلمان بھی ملک کی آبادی کا ایک اہم حصہ ہیں۔
تاہم، آذربائیجان ایک سیکولر ریاست ہے، جہاں ریاستی نظام اور تعلیمی اداروں میں مذہب کے کردار سے متعلق قوانین اور ضوابط نافذ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایک طرف ایران جیسے شیعہ اکثریتی مسلم ملک میں عوامی مقامات پر خواتین کے لیے حجاب پہننا لازمی ہے، تو دوسری طرف آذربائیجان کے بعض اسکولوں میں حجاب پہننے والی طالبات کو داخلے سے روکنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
اسکولوں میں حجاب پر پابندی کا تنازع کیا ہے؟
آذربائیجان میں اسکولوں کے لباس سے متعلق قواعد کے تحت حجاب پہننے والی طالبات کو کلاس رومز میں داخلے سے روکے جانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ بعض اسکولوں میں حجاب پہننے والی اساتذہ کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تاہم، ترمیم شدہ قواعد میں ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کرنے والے طلبہ کو کلاسوں سے معطل کرنے کی سزا واضح طور پر الگ سے درج نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود بعض اسکولوں میں حجاب پہننے والی طالبات کو داخلے سے روکے جانے کی ویڈیوز منظرِ عام پر آئی ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیکولر اصولوں کے مطابق یکساں لباس کا نظام ہونا چاہیے۔ دوسری جانب پابندی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حجاب پہننا ایک ذاتی اور مذہبی انتخاب ہے اور اس کی بنیاد پر کسی طالبہ کو تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
حجاب سے تعلیم کا عمل کیسے متاثر ہوتا ہے؟
آذربائیجان کی اپوزیشن جماعتیں اور مذہبی تنظیمیں صدر الہام علییف کی حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حجاب پہننے سے کلاس روم میں تعلیم حاصل کرنے کا عمل کس طرح متاثر ہوتا ہے اور لباس کے انتخاب کی بنیاد پر طالبات کو تعلیم سے محروم کیوں کیا جائے؟
مخالفین اس بات کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ آذربائیجان کا آئین ملک کو ایک سیکولر ریاست قرار دینے کے ساتھ مذہبی آزادی کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مذہبی لباس کے انتخاب پر پابندیوں کی قانونی اور آئینی بنیاد کیا ہے۔
قید صحافی کی بھوک ہڑتال کا اعلان
دوسری جانب آذربائیجان میں حجاب سے متعلق نئے قواعد کے خلاف قید صحافی پولاد اسلانوف نے بھی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، اسلانوف کو 2020 میں غداری کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی اور وہ 16 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔