مضامین
رمضان المبارک اور ہماری سماجی ذمہ داریاں

رمضان کا مبارک مہینہ چل رہا ہے — رحمتوں کا نزول، مغفرت کی بارش اور برکتوں کی نرم دھوپ لیے۔ یہ صرف تقویم کا ایک مہینہ نہیں، یہ دلوں کی مرمت گاہ ہے۔ یہ وہ موسم ہے جب بندہ اپنے رب سے دوبارہ تعارف کرتا ہے۔ جب نفس کی سرکشی کو لگام دی جاتی ہے اور روح کی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم رمضان کو صرف "کھانے پینے سے پرہیز" تک محدود کرچکے ہیں؟
ہم میں سے اکثر کے لیے روزہ سحری سے افطاری تک بھوک اور پیاس کا نام ہے۔ مگر اصل روزہ آنکھوں کا بھی ہے، زبان کا بھی، انگلیوں کا بھی — اور نیتوں کا بھی۔ یہ مہینہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بڑی بڑی اصلاح کا مہینہ ہے۔ وہ باتیں جنہیں ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں:
"یہ تو چھوٹی سی بات ہے!
سحری، افطاری اور اسٹیٹس کی دوڑ
ہماری سوسائٹی کی ذہنی تربیت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اگر سحری کے وقت واٹس ایپ پر آن لائن نہ ہوں یا افطاری کی تصویر اسٹیٹس پر نہ لگائیں تو گویا روزہ مشکوک ہو جاتا ہے۔یہ کیسا معیار ہے؟
افطار کے لمحے میں جب دعا قبولیت کے دہانے پر کھڑی ہو، ہم کیمرے کا اینگل درست کر رہے ہوتے ہیں۔ جب سحری کے چند قیمتی منٹ باقی ہوں، ہم لائکس اور ویوز کی گنتی کر رہے ہوتے ہیں۔یاد رکھیے، عبادت کا حسن خاموشی میں ہے، نمائش میں نہیں۔
اسکرین ٹائم کم کریں، سجدے کا وقت بڑھائیں
اگرچہ ہم فحش مواد سے بچتے ہیں، مگر بلا ضرورت موبائل کا استعمال بھی دل کی خشوع کو متاثر کرتا ہے۔
سچ یہ ہے کہ ہم فیسبک اور انسٹاگرام کو مسلمان بنانے نہیں آئے۔ بہتر یہ ہے کہ اپنے آپ کو بچا لیں۔ اسکرین ٹائم کم کریں تاکہ دل کی اسکرین صاف رہے۔ رمضان عبادت کی رفتار تیز کرنے کا مہینہ ہے، نہ کہ ڈیجیٹل مصروفیات بڑھانے کا۔
افطار: تکلفات یا سادگی؟
افطار کے نام پر دسترخوانوں کی نمائش بڑھتی جا رہی ہے۔ صبح سے شام تک گفتگو کا موضوع یہی:
"کیا لائیں؟ کیا پکائیں؟ کیا کھائیں؟"
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ روزے کا مقصد پیٹ کو بھرنا نہیں، نفس کو جھکانا ہے؟ رسولِ کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کا طریقہ ہمارے سامنے ہے۔سادہ کھجور، پانی یا چند لقمے — مگر دل شکر سے لبریز۔
آج ہمیں دوبارہ اسی سادگی کی طرف لوٹنا ہوگا۔ کیونکہ زیادہ کھانا تراویح میں سستی اور عبادت میں بے دلی پیدا کرتا ہے۔ اعتدال ہی اصل زینت ہے۔
دسترخوان کی تصویر یا کسی کا ٹوٹتا دل؟
افطاری کی تصویر اسٹیٹس پر لگانے سے پہلے ایک لمحہ ٹھہریے۔ ہر گھر کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ آپ کی ایک تصویر کسی کی محرومی کو چبھ سکتی ہے۔ نيکی وہی ہے جس میں کسی کا دل نہ ٹوٹے۔
مسجد: شور کی مجلس یا ذکر کی محفل؟
افطار سے چند منٹ پہلے مساجد میں کیسا ماحول ہوتا ہے؟
کیا ہم ذکر میں مشغول ہوتے ہیں یا گپ شپ میں؟ کیا ہم دعاؤں میں ڈوبے ہوتے ہیں یا گھڑی دیکھنے میں مصروف؟
رمضان میں مسجدوں میں ایسے چہرے بھی نظر آتے ہیں جو سال بھر دکھائی نہیں دیتے۔ خدارا! ان پر تحقیر کی نظر نہ ڈالیں۔ اگر کوئی رمضان کے وسیلے سے واپس آیا ہے تو اسے گلے لگائیں، نہ کہ دل میں طنز بسائیں۔ ممکن ہے اس کی ایک سچی توبہ ہماری سال بھر کی عبادتوں پر سبقت لے جائے۔
خواتین کا احترام اور گھریلو تعاون
گھر کی خواتین سحری اور افطاری کی تیاری میں مصروف رہتی ہیں۔ کیا ہم نے کبھی ان کا ہاتھ بٹایا؟ کیا کبھی شکریہ ادا کیا؟ واللہ! چند پلیٹیں اٹھا لینے سے مردانگی کم نہیں ہوتی، بلکہ انسانیت بڑھتی ہے۔ رمضان خدمت کا مہینہ ہے — گھر سے آغاز کیجیے۔
ہمسائے اور مستحقین
افطار پارٹیوں کی رونق اپنی جگہ، مگر اصل فضیلت وہاں ہے جہاں کوئی مستحق خاموشی سے روزہ کھول رہا ہو۔
اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔ کوئی مزدور، کوئی راہگیر، کوئی یتیم — شاید آپ کے انتظار میں ہو۔ رمضان ہمیں بانٹنا سکھاتا ہے، جمع کرنا نہیں۔
دکاندار اور دیانت
ماہِ رمضان میں قیمتیں بڑھا دینا کیسا انصاف ہے؟
یہ مہینہ نفع بڑھانے کا نہیں، اجر بڑھانے کا ہے۔ کم منافع میں زیادہ برکت ہوتی ہے۔ اور جو لوگ دن بھر محنت کر کے گھر چلاتے ہیں، ان سے چند روپے پر بحث کرنا کیسا رمضان؟
بچوں کی تربیت
بچوں میں رمضان کا شوق پیدا کیجیے۔ انہیں روزے کی حکمت، صبر کا مفہوم اور دعا کی طاقت سمجھائیے۔
رمضان کردار سازی کی تجربہ گاہ ہے۔ آج کے بچے ہی کل کا معاشرہ ہیں۔
تہجد: چند منٹ کی راز داری
سحری سے پہلے چند لمحے تہجد کے لیے اٹھ جائیں۔
تہجد وہ عبادت ہے جو بندے کو رب کے قریب کر دیتی ہے۔ یہ خاموش آنسوؤں کی عبادت ہے، جو اکثر تقدیریں بدل دیتی ہے۔
کچھ نیکیاں خفیہ بھی رکھیں
رمضان میں ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ مگر کچھ نیکیاں ایسی بھی کریں جن کا گواہ صرف اللہ ہو۔
کوئی خفیہ صدقہ، کوئی پوشیدہ دعا، کوئی خاموش آنسو۔
یہ وہ سرمایہ ہے جو قیامت کے دن کام آئے گا۔
ممکن ہے یہ رمضان آپ کی زندگی میں وہ سکون لے آئے جس کی آپ کو مدتوں سے تلاش تھی۔ ممکن ہے اس مہینے میں رب آپ کی تقدیر کے بند دروازے کھول دے۔ ممکن ہے یہی رمضان آپ کی روح کی مرمت کر دے۔ رمضان کو صرف کیلنڈر کا مہینہ نہ بنائیں، اسے اپنی زندگی کا موڑ بنائیں۔
اللہ کرے یہ بابرکت مہینہ ہمارے جسم، روح اور اخلاق کو ایسا سنوار دے کہ سارا سال رمضان کی خوشبو ہمارے کردار سے آتی رہے۔اس رمضان آپ کو وہ سب نصیب ہو جس کی آپ کو امید ہے۔ آمین۔
مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں۔
رابطہ: 7006857283
ای میل: ikkzikbal@gmail.com