افسانہ
اندھی عقل کا اۤسیب۔۔۔۔۔۔۔افسانہ

اکنگام،انت ناگ
موبائل نمبر:9419041002
" یہ کون سا وقت ہے آفس سے لوٹ آنے کا؟ کیا تم نے پورے آفس کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ رات کے آٹھ بجنے کو ہیں اور صاحب اب آفس تشریف لا رہے ہیں۔اگر آفس سے اتنا ہی لگاؤ تھا تو پھر شادی ہی کیوں کی تھی۔ہائے رے میری پھوٹی قسمت"
" ارے جانی۔۔۔ ہم ٹھہرے سرکاری نوکر۔۔ ہم تھوڑی سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔ بس چند دنوں کی بات ہے۔آپ نے تو آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔سب خیریت تو ہے"
" مجھے جانی کہنا بند کرو۔۔ آپ کو لومڑی کا لبادہ اوڑھے ہوئے شرم نہیں آتی۔۔ اپنی بیوی بچوں کا خیال رکھنا آپ کا فرض ہے اور آپ ہیں کہ گھر کے حالات سے بے خبر، اپنی دھن میں مست۔۔۔ پتہ بھی ہے کہ آپ کی ننھی سی گڑیا کن حالات سے گزر رہی ہیں۔۔۔ ۔۔۔؟"
" کیا ہوا میری گڑیا کو۔۔ خدارا آپ ادھر اُدھر کی ہانکنا بند کرو اور سیدھے سیدھے جواب دو"
" آپ کو کتنی بار منع کیا تھا کہ آپ صحن میں یہ پیڑ پودے لگانا بند کرو۔۔ دیکھو آج سے دو سال پہلے آپ نے ہی صحن کے کونے میں وہ دیودار کا پودا لگایا تھا۔ دو سال میں ہی دیکھو کتنا بڑا ہو گیا اور آج اسی پیڑ کے سائے میں جن پل رہے ہیں اور ہماری بیٹی اب آسیب زدہ ہے"
" کیا۔۔ کیا کہا۔۔ آسیب زدہ؟ کیا ہماری گڑیا پر کسی جن کا سایہ ہے"
" ہاں۔۔ ہاں بالکل صحیح سنا آپ نے۔۔ آپ اپنے کاموں میں مصروف رہو۔۔ آپ کو فرق ہی کیا پڑتا ہے"
" دیکھو جانی میں ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا۔۔ آپ نے یہ سب کس سے اور کب سنا ، ذرا وضاحت بھی کریں"
" آج میں پڑوس میں مقیم پیر بابا کے گھر گئی تھیں اور ساتھ میں گڑیا بھی تھی۔ جیسے ہی ہم پیر بابا کے کمرے میں داخل ہوئے وہاں لوبان کا دھنواں اتنا گہرا تھا کہ پیر بابا کا چہرہ دھندلا دکھائی دے رہا تھا اور اس دھنویں میں پیر بابا کی آنکھیں آگ کے انگاروں کی طرح چمک رہی تھیں۔۔ اس نے گڑیا کو اپنے پاس بلایا اور اس کے سر پہ اپنا ہاتھ رکھا۔۔پیر بابا نا معلعوم زبان میں کچھ بڑ بڑانے لگا اور گڑیا کے چہرے پر زور زور سے پھونک مارنے لگا۔۔ گڑیا ایک دم سے چونک گئی اور بے ہوش ہو گئی۔ پھر گڑیا اور پیر بابا کے درمیان گفتگو بھی ہوئی:
پیر بابا: بیٹا آپ کا نام کیا ہے۔۔۔؟
گڑیا: میرا نام شکور ہے۔
پیر بابا: شکور کہاں رہتے ہو؟
گڑیا: میں ان کے صحن میں دیودار کے درخت کے سائے میں رہتا ہوں۔
پیر بابا: اس بچی نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔۔۔؟
گڑیا: یہ میرا نجی معاملہ ہے آپ اس میں دخل اندازی دینا بند کریں پیر بابا۔
پیر بابا: دیکھو شکور۔۔ یہ میری اپنی بچی ہے اور تم اس پر قابض ہو۔۔ تم کو حضرت سلیمان کا واسطہ۔۔۔۔۔ اس ننھی سی گڑیا کے جسم سے ہمیشہ کے لیے دفع ہو جاؤ۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔
گڑیا: آپ نے حضرت سلیمان کا واسطہ دیا۔ میں آج ہی گڑیا کو آزاد کرتا ہوں۔۔ ہاں ان سے کہہ دینا کہ شام کو دیودار کے درخت کے پاس ایک سیر پکا ہوا گوشت رکھیں۔
میں یہ سارا منظر دیکھ کر سکتے میں آگئی۔ مجھے اپنی بیٹی سے بے حد پیار ہے۔ اس کی حالت دیکھ کر میرے دل و جگر کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ اور میں زارو قطار رونے لگی۔ پیر بابا نے میری کافی دل جوئی کی اور کہا کہ اب فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میرے ہاتھ میں صرف تین سو روپے تھے اور پیر بابا نے کہا کہ اپنے شوہر سے کہہ دینا کہ باقی کی رقم شام تک روانہ کریں"
" او خدایا۔۔۔ مجھے معاف کرنا۔۔ میں آپ دونوں کا قصور وار ہوں۔۔ میں اس پیڑ کو کاٹ دوں گا۔۔ اور ہاں یہ لو سات سو روپے کل علی الصبح پیر بابا کو دیتے آنا اور ان سے یہ بھی کہنا کہ آپ نے ہم پر ایک احسان کیا ہے"
میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میری بیٹی کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اب میں آفس میں گڑیا کے خیالوں میں غوطہ زن رہتا۔ مجھے اپنی بیٹی اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ میں نے چند دن بعد اس پیڑ کو کاٹنا چاہا لیکن میری پیاری گڑیا نے مجھے پیڑ کاٹنے سے روک دیا اور کہا کہ وہ اب بالکل ٹھیک ہے۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ساتھ میں پیر بابا کو دعائیں دیتا رہا۔ پیر بابا گویا اب میرے لیے ایک رول ماڈل تھے۔ میں ان کی کافی عزت کرنے لگا۔ حالانکہ لوگوں میں یہ چہ میگوئیاں تھیں کہ چند سال پہلے وہ ایک ہولناک جرم کے سلسلے میں کال کوٹھری میں اپنی مردانگی کی قیمت چکا کر آیا تھا لیکن اپنی بیٹی کی خاطر میں یہ سب کچھ بھول چکا تھا۔۔
اب ہر اتوار کو جانی اور گڑیا پیر بابا کے گھر چلی جاتیں اور نزرانے دے کر لوٹ آتے۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک ماہ تک چلتا رہا۔۔ میں نے بھی اب راحت کی سانس لی۔
ایک دن میں آفس سے لوٹ کر شام کا کھانا کھا رہا تھا۔ میں نے دیکھا جانی اور گڑیا آپس میں ہنس رہی تھیں۔ میں نے وجہ دریافت کی تو وہ زور زور سے ہنسنے لگیں۔ جب میں نے اصرار کیا تو جانی نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور کہا:
" پلیز آپ غصہ مت کرنا۔۔ آپ کی یہ گڑیا ہے نا۔۔ بالکل آپ پر گئی ہیں۔۔ مان لو یہ بھی ایک لومڑی ہی ہے۔۔ یاد ہے جب اس دن ہم پیر بابا کے گھر گئے تھے اور وہ آسیب والی کہانی__"
" ہاں۔۔۔ ہاں مجھے یاد ہے۔۔۔ پر ہوا کیا؟"
" آپ کی گڑیا نے دراصل ڈرامہ کیا تھا۔۔ اور آج اس نے حقیقت واضح کر دی"
میں چونک گیا۔۔ میں نے پیار سے گڑیا کی پیٹھ تھپتھپائی اور کہا:
" بیٹا سچ سچ بولو اس دن کیا ہوا تھا"
گڑیا نے نہایت عاجزی سے جواب دیا"
" بابا۔۔ اس دن جب پیر بابا نے مجھے اپنے پاس بلایا تو میں کافی زیادہ ڈر گئی تھی۔۔ جیسے ہی اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تو میں نے بے ہوش ہونے کا ڈرامہ کیا اور جب اس نے مجھ سے میرا نام پوچھا تو میں نے اپنے ہم جماعت شکور کا نام بولا۔۔ اور اس کے آگے جو بھی میں نے کہا وہ دراصل میں نے فون میں دیکھا تھا۔۔ بابا میں آسیب زدہ بالکل بھی نہیں ہوں۔۔۔ اور پھر جب آپ نے بھی پیر بابا کو پیسے دیے تو میں آپ سے سچائی کہنے سے ڈر گئی مجھے معاف کرنا بابا"
ہا ہا ہا ۔۔۔۔ ارے میری جان۔۔ میں تو پہلے سے ہی جانتا تھا کہ وہ ایک نمبر فراڈ ہے۔ پر یہ سب میں نے جانی کے کہنے پر کیا۔۔ ایک ماہ میں کم سے کم دو ہزار روپے کا چونا لگ گیا۔۔۔۔۔ اور ہاں دو ہزار کی قربانی دیکر گھر کا سکون خرید لینا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے!