مضامین
عظمت قرآن اور ماہ رمضان

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ یہ کتاب ہدایت، رحمت اور نجات کا سرچشمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ماہ رمضان میں نازل فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ۔
ماہ رمضان کو دیگر مہینوں پر فضیلت حاصل ہے۔ اس کی اصل وجہ نزول قرآن ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں انسان اپنے رب کے کلام سے مضبوط تعلق قائم کرتا ہے۔ روزہ انسان کے ظاہر اور باطن کو پاک کرتا ہے۔ قرآن دل کی اصلاح کرتا ہے۔ جب یہ دونوں جمع ہوتے ہیں تو انسان کی زندگی بدل جاتی ہے۔
قرآن انسان کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ عدل، تقویٰ اور صبر کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دور فرمایا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں قرآن کی تلاوت اور فہم کی خاص اہمیت ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا میں نے اسے دن میں کھانے پینے سے روکا۔ قرآن کہے گا میں نے اسے رات میں سونے سے روکا۔ پس دونوں اس کے حق میں سفارش کریں گے۔
لیلۃ القدر اسی مہینے میں ہے۔ قرآن نے اسے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا۔ یہ وہ رات ہے جس میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔ جو شخص اس رات کو ایمان اور احتساب کے ساتھ پاتا ہے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان کو صرف بھوک اور پیاس تک محدود نہ رکھیں۔ ہم قرآن کو پڑھیں۔ اس کو سمجھیں۔ اس پر عمل کریں۔ اپنے گھروں میں قرآن کی آواز بلند کریں۔ اپنی اولاد کو اس سے جوڑیں۔
قرآن اور رمضان کا تعلق ابدی ہے۔ اگر ہم اس تعلق کو مضبوط کرلیں تو ہماری دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی کامیاب ہوگی۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ یہی حقیقی فلاح ہے۔