مضامین
سعد اکبر کریری۔غربت کی آغوش سے اٹھنے والی کریری کی ایک روحانی بازگشت۔

شاعران محلہ کریری ضلع بارہمولہ کی پُرسکون فضا میں ایک ایسا شاعر سانس لے رہا ہے جس کے اشعار کاغذ پر نہیں بلکہ حافظے اور دل کی گہرائیوں میں محفوظ ہیں۔محمد اکبر بٹ جو ادبی دنیا میں اپنے قلمی نام سعد اکبر سے معروف ہیں 1980 ء میں کریری میں پیدا ہوئے۔غربت کی سختیوں کے باعث وہ باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کر سکے مگر قدرت نے انہیں ایسی فطری شاعرانہ صلاحیت عطا کی جس نے انہیں شمالی کشمیر کے ایک منفرد صوفی شاعر کے طور پر نمایاں کر دیا۔
سعد اکبر کا بچپن معاشی تنگ دستی میں گزرا۔حالات نے انہیں مکتب و مدرسہ سے دور رکھا مگر ربِ کریم نے ان کے دل کو معرفت کی روشنی سے منور کر دیا۔ محض تیرہ برس کی عمر میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا۔وہ لکھ نہیں سکتے مگر ان کے دل میں جو اشعار اترتے ہیں وہ حافظے میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی قوتِ حافظہ عطا کی ہے، جس کی بدولت وہ سینکڑوں کشمیری صوفی غزلیں زبانی یاد رکھتے ہیں۔
ان کی شاعری میں تصوف کی خوشبو،عشقِ حقیقی کی تپش،انسان دوستی کا پیغام اور امن و اخوت کی دعوت نمایاں ہے۔ان کے اشعار انسان کو باطن کی پاکیزگی،عاجزی،محبت اور خالقِ کائنات کی یاد کی طرف مائل کرتے ہیں۔وہ تصنع سے پاک اور خلوص سے لبریز انداز میں اپنا کلام پیش کرتے ہیں۔ان کے الفاظ سادہ ضرور ہوتے ہیں مگر معنویت میں گہرے اور اثر میں دیرپا۔ان کے کلام کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔
یارس چھا لگان یارء سنزو پوشہ ژنجو ستی
دارس یہ منصورپان کھولے نورہ ڈنجو ستی
ژھیتہ کتہ گژھ ہے نار عشقن آبہ کترو ستی
نتہ کتہ شودہے ولر پوزتھ ڈونی کنجو ستی
ان اشعار میں عشقِ الٰہی کی شدت،باطنی انکشاف اور روحانی وارفتگی کی کیفیت نمایاں ہے۔ان کا تخیل کلاسیکی صوفی روایت سے جڑا ہوا ہے مگر اس کی جڑیں کشمیر کی مٹی میں پیوست ہیں۔
طویل عرصے تک سعد اکبر کا فن گمنامی کے اندھیروں میں رہا۔کریری میں اپنی علیل والدہ کے ساتھ نہایت سادہ اور کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہوئے بھی انہوں نے شکوہ زبان پر نہیں لایا۔صبر اور شکر ان کی زندگی کا سرمایہ ہیں۔ان کی ذاتی محرومیاں ہی ان کی شاعری کو مزید سوز اور صداقت عطا کرتی ہیں۔
ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر نے سب سے پہلے اس بے لوث اور باصلاحیت صوفی شاعر کو پہچانا اور انہیں ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔یہ اعترافِ فن محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک خاموش خزانے کی دریافت تھی۔اس اقدام نے اس بات کو ثابت کیا کہ اصل جوہر کسی سند یا ڈگری کا محتاج نہیں ہوتا۔
سعد اکبر کی داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی تخلیقی قوت اداروں کی محتاج نہیں ہوتی۔کبھی کبھی بڑے چراغ چھوٹے گھروں میں جلتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادبی و ثقافتی ادارے آگے بڑھ کر ایسے نابغۂ روزگار افراد کی سرپرستی کریں،ان کے کلام کو قلم بند کریں،ریکارڈ کریں اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنائیں۔
سعد اکبر اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں کہ اگرچہ وہ اسکول نہ جا سکے مگر ان کا دل ایک روحانی درسگاہ بن گیا۔اگرچہ ان کے ہاتھ میں قلم نہیں مگر ان کے اشعار دلوں پر رقم ہو جاتے ہیں۔ان کی عزت افزائی دراصل کشمیر کی صوفی روایت،محبت اور امن کے پیغام کی عزت افزائی ہے۔